سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 24

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 24
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 24

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بنسل پر کمک کی فوجوں کی سلامی لی اور لشکر کا جائزہ لیا۔ بارہ ہزار سوار مشرق کے سب سے بڑے سپہ سالار کی رفاقت میں جان دینے کو تیار تھے ۔ قراول نے خبر دی کہ صفور یہ کے مقام پر دو ہزار نائٹ (ان میں اسکوئر، بکتر بردار‘اور خدمت گار جو خود بھی سپاہی ہیں شامل نہیں کئے گئے۔ چودہ ہزار ترکوپول اور اٹھارہ ہزار پیدل جمع ہیں اور طربیہ سے آنے والے لشکر کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس نے لشکر کی سرداریاں تقسیم کیں۔ نورالدین امیر کیفا کو طلایہ ، جلال الدین امیر مار دین کو عقب، برادر زادے تقی الدین کو میمنہ اور کوکبری کو میسرہ دے کر قلب کو بنفس نفیس سنبھال کر جمعہ کی نماز پڑھی اور سلام پھیر کر طبل جنگ بجوادیا ۔ عین الجبل کے تمام عیسائی مورچے تہس نہس کرتا اخوانہ پہنچ کر قرادلوں کا انتظار کیا۔ مطمئن ہو کر رودِار دن جر صیدا سے عبور کیااور تاج الملوک کو دو ہزار سوار دے کر حکم دیا کہ طربیہ سے نکلنے والے لشکر کو تباہ کر دے اور خود کفر سبت کی طرف مڑ گیا۔ دوسرے دن اطلاع آئی کہ تاج الملوک نے طبریہ کو معہ اس کے لشکر کے پھونک دیا۔ قراولوں نے گزارش کی کہ عیسائی بڑھتے آرہے ہیں ۔ اس نے لشکر کو چڑھا کر حطین کی بلند سطح پر پھیلا دیا جس کی پشت پر سیدھی ڈھلان کے نیچے گہری جھیل تھی۔ داہنی سمت پتھریلے بنجر علاقے اور بائیں جانب وہ تمام لبریز جھیلیں اور شاداب باغ تھے جن تک افرنجی تلوار ہلائے بغیر نہیں پہنچ سکتے تھے۔ اس نازک مقام پر بوڑھا تجربہ کار سپاہی کو کبری اپنے سالاروں کے ساتھ حاضر ہوا اور بولا۔

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 23 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’جنگ کا فیصلہ تلواریں نہیں تقدیر یں کرتی ہیں۔ اگر تقدیر نے یاوری نہ کی تو ہم سلطان سے کہاں ملیں گے۔‘‘

’’حوضِ کوثر کے کنارے ۔ ‘‘

بوڑھے سردار نے اپنا بھاری عمامہ اس کی رکاب پر جھکا یا اور سوار ہو کر اپنے لشکر میں چلا گیا۔ پھر اس نے لوہے کی کڑیوں کی زرہ پر کفن پہنا ۔ وہ طربوش سر پر رکھا جس پر فدائی کے خنجر کا داغ تھا اور اس گھوڑے پر سوار ہوا جو مشرق و مغرب کا سنگم تھا اور جس کی جست و خیز نے یورپ کی دارالحکومتوں میں صفِ ماتم بچھا دی تھی۔ اور اپنے زرد جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو کر جائزہ لیا۔ اب ہلتی ہوئی کمان کی طرح عیسائی لشکر نظر آنے لگا تھا۔ داہنے ہاتھ پر ریمنڈ وائی طرابلس طبقہ الوادیہ کے سرخ پوش نائٹوں کے جلو میں آرہا تھا۔ ان کے مجلی بکتر پر سورج کی کرنیں تڑپ رہی تھیں۔ بائیں ہاتھ پر یروشلم کا سپہ سالار ہمفری ہاسپٹلرز کے شہسواروں کے آگے آگے بڑھ رہا تھا اور سامنے صلیب مقدس کے سائے میں شاہ یروشلم بالڈون کے چاروں طرف ٹمپلرز کے مشہور شمشیر زن تکونی ڈھالیں سینے پر اٹھائے آرہے تھے۔ ان کی پشت پر لوہے میں جکڑے ہوئے پیدل سپاہی آہنی نیزوں کو بیچ سے پکڑ کر فولادی مجسموں کی طرح ، رینگ رہے تھے۔ ابھی اس نے حملے کے اشارے میں اپنے خاص زرد علم کو حرکت بھی نہ دی تھی کہ نورالدین طلایہ کو عقب میں لے کر اڑا اور ریمنڈ پر گرپڑا اور اس کے قریب کھڑے شہزادے ملک الظاہر کے منہ سے چیخ نکل گئی۔ اس نے گھوم کر ملک الظاہر کی تلوار کی سیدھ میں دیکھا کہ اس کا جواں سال اور تجربہ کار بھتیجا تقی الدین اپنے سواروں کو حرکت دے چکا ہے اور بائیں ہاتھ میں سفید گھوڑے کی راسیں لئے داہنے ہاتھ میں تلوار علم کئے کفتان کے دامن اڑاتا عقاب کی طرح دشمن پر جا رہا ہے۔ اس نے گھوڑے کو پیچھے دھکیلا۔ ایک علم دار کو جو زردعلم پکڑے اپنے آقا کا منہ دیکھ رہا تھا۔ اشارہ کیا۔ اسے جنبش ہوتے ہی باجے گرجنے لگے اور کوکبری نے بھی اپنے لشکر کو حرکت دی ۔ اب مسیحی باجوں کی کھنک اس کے سر پر پہنچ گئی اور جنگ مغلوبہ کا آغاز ہونے لگا۔ اس نے بھی ابلق کو چھیڑا اور تین میل لمبی تیڑھی قطار میں لڑتے ہوئے لشکر کے ایک ایک بازو ایک ایک مورچے پر پہنچا جہاں مدافعت میں شدت محسوس کی وہاں اپنے مملوکوں کے ساتھ لڑا اور دشمن کو دھکیل کر الٹے پیروں واپس ہوا اور دوسرے مرکز کی خیریت لینے چلا۔ شام تک وہ انہیں مار سیا تک دھکیل لے گیا۔ باجوں کی مخصوص دھنیں بجوا کر علموں کو سیدھا کھڑا کر کے لشکر کو واپسی کا حکم دیا۔ سلامت افواج کی صفیں باندھ کر مغرب کی نماز پڑھائی اور اس وقت تک جانماز پر بیٹھا رہا جب تک عشاء کا وقت نہ آگیا۔ پھر اپنے خیمے میں اپنے سپہ سالاروں کو طلب کیا۔ غنیم کی قیام گاہ گھیر لینے کی تاکید کی اور حکم دیا کہ جب تک اجازت نہ ملے اپنے غضب کو سنبھالے رکھو اور واضح کیا کہ یہ لڑائی بیت المقدس کی لڑائی ہے جو حطین میں لڑی جارہی ہے ۔ اس کی اہمیت کو سمجھو اور پوری دانائی اور دلیری سے حالات کا مقابلہ کرو۔ پھر ایک ہزار اونٹ تیروں اور سات سو اونٹ ہتھیاروں سے لدے ہوئے تقسیم کئے اور خدا کی عبادت میں صبح کا انتظار کرنے لگا۔

صبح کی پہلی کرن پھوٹتے ہی اس نے خفیہ احکام کے ذریعہ مار سیاء کے عیسائی لشکر گاہ کے چاروں طرف کھڑی ہوئی خشک جھاڑیوں میں آگ لگوا دی اور غنیم بھڑوں کی طرح چھتوں سے نکل نکل کر صف بستہ ہو گیا اور دھوپ نکلتے نکلتے اس کے لائق سپہ سالار اپنے اپنے مقامات پر متعین ہو گئے۔ دشمن گرامی سے بے قرار ہو کر جلد سے جلد حملے کیلئے آگے بڑھنے لگا اور وہ اپنے لشکر کو سمیٹتا پیچھے دبتا چلا آیا یہاں تک کہ افرنجی صفیں ٹوٹ گئیں اور سورج کی کرنوں کے نیزے آگ برسانے لگے اور باجوں اور نعروں سے زمین و آسمان دہلنے لگے۔ اب اس نے اپنے سبز جھنڈے کو حرکت دی اور اس کی کمان کے ساتھ دس ہزار کمانیں کڑکنے لگیں اور دشمن کے سینکڑوں سوار پیدل ہو گئے۔ نائٹ اور شہسوار دست بدست جنگ کے لئے لپکنے لگے لیکن وہ انہیں تیروں کی باڑھ پر رکھے رہا۔ یہاں تک کہ کئی ہزار تیراڑتے ہوئے سانپوں کی طرح دشمن کو ڈس چکے تھے۔ تب اس نے زرد جھنڈے کو جنبش دی اور فیصلہ کن لڑائی کے لئے باجے بجوا دیئے اور اپنے خاص برداروں کے ساتھ دشمن پر تن واحد کی طرح چلا اور اپنے نقشے کے مطابق تھوڑی دیر لڑکر جب دشمن کے آہن پوش سواروں کا دباؤ پڑا تو پیچھے ہٹ گیا۔ جب غنیم کی صفیں بے ترتیب ہو چکیں تو پلٹ کر ان کو اپنے نرغے میں لے لیا اورجنگ مغلوبہ شروع ہو گئی۔ اس مقام پر ملاحظہ کیا کہ تقی الدین کا لشکر اسے اس کے محافظ سواروں کے ساتھ تین سونائٹوں اور ریمنڈ کے جھنڈوں اور خاص برداروں کے حلقے میں چھوڑ کر پیچھے ہٹ رہا ہے ۔ وہ انتہائی غیظ و غضب کے عالم میں پہنچا اور للکار کر کہا:

’’دشمن پر اس کا دروغ ثابت کر دو۔‘‘

اس کی آواز سن کر اور یلغار دیکھ کر سپاہ نے پلٹ کر حملہ کیا اور صفوں کی صفیں الٹ دیں اور نائٹوں کا حلقہ توڑ کر تقی الدین کے ساتھ دشمن کے قلب میں گھس گئے اور اب اس نے ابلق اڑا کر سارے میدان کا جائزہ لیا اور حکم بھیج کر ان مملوکوں کو طلب کیا جنہوں نے آج کی لڑائی کے لئے سبز کفن پہنے تھے اور خود اور بکتر اور ڈھالیں پھینک دی تھیں اور میدان سے الگ سلطان کے حکم کا انتظار کر رہے تھے ۔ اب وہ سفید گھوڑوں پر سوار شانوں پر سیاہ بال اور سینے پر سیاہ داڑھی اڑاتے ، دونوں ہاتھوں میں تلواریں علم کئے گھوڑے کی راسیں کمر میں باندھے فرشتوں کی طرح نازل ہوئے۔ یروشلم کے سپہ سالار نے انہیں جان دے کر روکنا چاہا لیکن نہ روک سکا اور وہ اس کی رکاب میں آکر جنگ سلطانی لڑنے لگے اور ایک ایک گردن کی ایک ایک ہزار گردن سے حساب کرنے لگے۔ پھر وہ سرخ خیمہ نظر آیا جس کے چاروں طرف صلیبی جھنڈے کے سائے میں بالڈون اور ریجینالڈ سیکڑوں آہن پوش نائٹوں کے ساتھ پروان وار لڑ رہے تھے۔ اس نے تو ران شاہ کو حکم دیا کہ اس خیمہ کی طنا بیں کاٹ دو اور فتح کے باجے بجوا دو۔ اس بارگاہ کے گرتے ہی سلطانی لشکر کے تنگ گھیرے میں کھڑے ہوئے بادشاہوں اور نائٹوں اور پادریوں نے ہتھیار پھینک دیئے۔ ان کی گرفتار ی کا حکم دے کر خون سے لال میدان میں اپنے جھنڈے کی جانماز بنائی اور سجدے میں گر پڑا۔(جاری ہے)

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 25 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فاتح بیت المقدس