سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 23

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 23
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 23

  

حجاز کی سرحد پر مصر کے امیر البحر لولونے حاضری کی سعادت حاصل کی اور ریجینا لڈ کی شکست فاش کی خبر سنائی اور اس کے ناپاک لشکر کے قیدی پیش کئے جن میں بڑے بڑے نائٹ شہسوار اور پادری شامل تھے۔ انہیں رکاب میں لے کر وہ کرک کا قصہ پاک کرنے چلا ۔ شہر پناہ کے نیچے خیموں کے ساتھ ساتھ سولیاں بھی کھڑی کیں اور فصیل سے جھانکتی ہوئی ان گنت آنکھوں کے سامنے ریجینالڈ کے گرفتار لشکر کو پھانسی پر چڑھا دیا۔ کرک کے قلعے کا استحکام دور دور تک مشہور تھا جو شہر کے مغرب میں پہاڑ کی طرح کھڑا تھا اور خود شہر ایک زبردست شہر پناہ کی حفاظت میں تھا۔لیکن مصیاف اور حلب جس کے فتراک میں پڑے ہوں اسے کیا خوف دلا سکتا تھا ۔ حکم دیا کہ بڑی بڑی کیارہ منجنیقیں شہر پناہ کے ایک گوشے پر سنگ بار ہوں۔ دوپہر کے بعد خبر آئی ہے کہ فصیل نے لشکر کو سلام کر کے راستہ دے دیا۔ اس نے جاتے ہی جاتے شہر لے لیا لیکن دشمن نے بھاگتے بھاگتے چالیس گزر گہری خندق کا وہ پل توڑ دیا جو قلعہ کا واحد راستہ تھا۔

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 22

سارے شہر کے ہتھیار بندگرفتار ہوئے۔ سارا شہر جوریجینا لڈ کی شادی کی خوشی میں بھڑ کیلے کپڑے پہنے ، شراب میں مست داد عیش دے رہا تھا، بدحواس ہو کر قدموں پر گرپڑا اور وہ اس عظیم الشان برج کے نیچے آگیا جو خندق کے اس پار کی دیواروں کے تکون پر سراٹھائے کھڑ اتھا۔ اور اس کی گاتھک وضع کی کھڑکیوں کے دھندلے رنگین شیشے تیروں اور پتھروں کی مار سے چور چور ہو گئے تھے ۔ فرمانروا ئے کیفانورالدین جس نے اس لڑائی میں بڑے بڑے کام کئے تھے گھوڑا اڑاتا آیا ااور اپنے رسالے کو حکم دیا کہ قیدیوں کی مدد سے شہر کے مکانات ڈھا کر خندق کو پاٹ دیا جائے۔ پھر گھر وندوں کی طرح پتھر کے مکان گرنے لگے اور قلعے پر دھاوے کا انتظام ہونے لگا۔ برجوں پر منجنیقیں ماہر تیرا ندازوں کی طرح سنگ باری کرنے لگیں اور ان کے کنگرے اور محرابیں اور حاشیے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے۔ اور نعرہ زن فوج کے ممہمے سے شہر کانپنے لگا کہ ریجینا لڈ کی بیوی اور شاہ یروشلم کا بھائی چمڑے کے سرخ موزے اور سرخ ریشمی قباپہنے سفید جھنڈا اڑاتا ننگے سرخالی نیام پہنے آہستہ آہستہ گھوڑے کو دھکیلتا آیا۔ اور اس خندق کے اس پار کھڑا ہو گیا۔ اجازت ملتے ہی خندق اتر کر آیا اور رکاب کو بوسہ دے کر درخواست کی۔

”میں بادشاہ یروشلم کا بھائی اپنی بہن کی حرمت کے نام پر اور اسلام کی سخاوت کے نام پر بادشاہوں کے بادشاہ سے گزارش کرتا ہوں کہ ریجینا لڈ کی خطامعاف کر دی جائے اور اس برج کبیر کو جو حجلہ عروسی ہے پتھروں سے محفوظ کر دیا جائے۔ “اور وہ مغرب کے غلاموں کی طرح مﺅدب کھڑا رہا۔

”ہم قسم کھا چکے ہیں کہ اپنی تلوار سے ریجینا لڈ کا سراتار یں گے تاہم اسلام کے نام پر مانگی ہوئی بھیک کی خاطر کچھ دنوں کے لئے اس کی موت ٹال دی جائے گی۔ “

وہ شاد کام رخصت ہوا اور سرداروں نے اسے گھیر لیا۔

”ہم نے آتے ہی آتے شہر کو الٹ پلٹ کر دیا۔ دشمن سراسیمہ ہے۔ لشکر فتح کے نشے میں چور خندق زیر کر لی گئی ہے، دیواریں ہماری یلغار کو روک نہیں سکتیں۔ ایسی حالت میں محاصرہ اٹھا لینا آئین سیاست کے خلاف ہے۔ “

”ہاں ، لیکن آئین سخاوت اور آئین شجاعت کے عین مطابق ہے۔ ہم اپنی قوم میں جو ایک صدی کی افرنجی تاراج سے بے اعتماد ہو چکی ہے اعتماد پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اسے یقین دلانا چاہتے ہیں کہ اس کی فتوحات اتفاق پر نہیں قوت پر مبنی ہیں۔ دشمن کتنی ہی تیاریاں کر لے ہم جب اٹھیں گے نیست و نابود کر دیں گے۔ یہ قلعہ ہماری شکار گاہ کا ایک چالاک شکار ہے جو اپنی مکاریوں کی بدولت زندہ ہے اور جسے زیادہ دنوں برداشت نہیں کیا جائے گا۔“

جون 1189 ءکو پرچہ لگا کر عیسائیوں نے پانچویں مرتبہ صلح شکنی کی اور حاجیوں کے قافلے برباد کر دیئے۔ اس نے اس خبر کو سکون سے سنا ۔ مشرق پر نظر ڈالی ۔ افریقہ سے آرمینیہ تک اور یمن سے مصر تک کسی کی آستین میں کوئی چور خنجر ایسا نہ تھا جو اس کی گردن کے لیے تڑپ رہا ہو۔ عربی گھوڑوں پر بدو سواروں کو چڑھا کر حلب ، موصل، ناروین، کیفا ، مصر اور یمن حکم نامے بھیجے کہ ان چیدہ سواروں کو حاضر کیا جائے جن سے عربی قبیلوں اور عجمی خاندانوں کی آبروزندہ ہے اور خود چار ہزار سواروں کے ساتھ حوران کے علاقے میں الشترا کے مقام پر وہ جھنڈا گاڑ دیا جسے بیت المقدس پر لہرانا تھا۔ (جاری ہے)

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 24 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فاتح بیت المقدس -