معلوماتی سفرنامہ۔۔۔چھتیسویں قسط

معلوماتی سفرنامہ۔۔۔چھتیسویں قسط
معلوماتی سفرنامہ۔۔۔چھتیسویں قسط

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

خطاطی اور قرآن

مسجد النبوی میں تین محرابیں ہیں۔ان میں سے دو محرابوں کی پشت اس راستے پر واقع ہے جہاں سے لوگ لائن لگاکر صلوٰۃ وسلام پیش کرنے کے لیے سنہری جالیوں کے پاس جاتے ہیں۔ایک روز میں وہاں سے گزررہا تھا کسی بنا پر لوگ رک گئے تو میں اس تحریرکو پڑھنے لگا جو محراب کی پشت پر لکھی تھی۔ یہ عربی میں تھی اور اس میں محراب کی تعمیر کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ ترکی حکومت کے سلطان سلیمان کے زمانے میں اسے بنایا گیا تھا۔ سلیمان ترکی ہی نہیں بلکہ اسلامی تاریخ کا عظیم ترین حکمران تھا جس کے دور میں مسلمان وسطِ یورپ میں آسٹریا کے دارلحکومت ویانا تک جاپہنچے تھے۔ اگلی محراب کے پاس ہم پہنچے تو میں نے اس کی تفصیلات بھی پڑھنی چاہیں۔ مگر وہ اس طرح خطاطی کرکے لکھی گئی تھیں کہ بمشکل تمام ہی میرے سمجھ میں کچھ آسکا۔ میں نے ساتھ کھڑے ایک دو عربوں سے پوچھا مگر وہ اتنا بھی نہ پڑھ سکے جتنا میں نے پڑھ لیا تھا۔

معلوماتی سفرنامہ۔۔۔پینتیسویں قسط  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس وقت میرا دھیان اس طرف گیا کہ مجھے اوپر چھت اور گنبدوں پر لکھی قرآنی آیات کو پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔مجھے اس میں بھی مکمل ناکامی ہوئی۔ قدیم زمانے میں شاید عام لوگ خطاطی کو سمجھ لیتے ہوں۔مگر اب تو اس کی حیثیت ایک آرٹ کے سوا کچھ نہیں ہے۔قرآن مجید بہرحال سمجھ کر پڑھنے کی کتاب ہے۔ یہ بات ہمیں ہمیشہ ذہن نشین رکھی چاہیے۔

مدینے کے بازار اور خواتین

مکہ مدینے کا تذکرہ اس وقت تک غیر مکمل رہے گا جب تک کہ یہاں کے بازاروں کا تذکرہ نہ ہوجائے۔ بازار دنیا بھرکی خواتین کی پسندیدہ جگہ ہوتے ہیں۔ مدینے میں لوگ عام طور پر 40نمازیں پوری کرنے کی غرض سے ہفتہ بھر رکتے ہیں اس لیے یہاں بازاروں کی رونق دوبالا کرنے کے لیے خواتین کی ایک بہت بڑ ی تعداد ہمہ وقت موجود رہتی ہے۔ مرد بھی ہوتے ہیں مگر کافی کم۔ پورے سعودی عرب میں معمول ہے کہ نماز کے وقت دکانیں بند ہوجاتی ہیں اس لیے نمازوں کے وقت کو چھوڑ کر باقی اوقات میں اتنی بڑی تعداد میں خواتین یہاں گھومتی ہیں کہ میلے کا سا سماں بندھا رہتا ہے۔ یہاں ہر وہ چیز دستیاب ہے جو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے۔ خاص طور پر ایک، دو، پانچ اور دس ریال کی اشیا کی دکانیں تو غیر معمولی کشش رکھتی ہیں۔دو ریال کی دکان پر ہر مال دو ریال کا ہوتا ہے، پانچ ریال کی دکان پر پانچ کا اور دس کی دکان پر دس ریال کا۔ یہ فکس پرائس شاپس سعودی عرب کی خصوصیت ہیں۔ جن میں ہر طرح سستا مگر کارآمد سامان وافر مقدار میں دستیاب ہوتا ہے۔ایسی دکانیں جدہ اور مکہ میں بھی کثرت سے ہیں۔ ٹورنٹو میں بھی میری رہائش کے قریب واقع شاپنگ مال میں ایک دکان ڈالر شاپ کے نام سے تھی جس میں ہر مال ایک ڈالر کا ملتا تھا۔ تاہم اس پر 15فیصد ٹیکس دینا پڑتا تھا۔ جبکہ یہاں کوئی ٹیکس نہیں ۔

یونیفار م اور کامیابی

مکہ اور مدینہ کے ان بازاروں کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ اکثر خواتین کا دھیان شاپنگ میں لگا رہتا ہے۔ ایسی مبارک جگہوں پر آکر انسان کا اصل کام یہ ہے کہ خدا سے لو لگائے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خود کو جوڑے۔ بازار اس تعلق کا بہت بڑا دشمن ہے۔ ان بازاروں کی شکل میں آنے والوں کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش پیدا کردی گئی ہے۔یہاں ایک طرف خدا کی رحمتیں اپنے بندوں پر ٹوٹ کر برستی ہیں۔ یہ رحمتیں محض فرض نماز پڑھنے سے نہیں ملتیں۔ ان کے حصول کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ انسان خود کو ہر اس چیز سے توڑ لے جو کسی درجے میں اسے خدا اور اس کی یاد سے دور کرتی ہو۔ مگر بدقسمتی سے اس دور میں ظاہری دین داری کا رجحان زور پکڑتا جارہا ہے۔ اس طرزِ فکر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان چند ظاہری اعمال کی ادائیگی کے بعد اپنے آپ کو فارغ محسوس کرتا ہے۔ میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں اور بات کی اہمیت کی وجہ سے پھر دہرارہا ہوں کہ دین ظاہری اعمال سے شروع ہوتا ہے ان پر ختم نہیں ہوتا۔ اسکول کا یونیفارم پہن کر اور کلاس میں حاضر ہوکر ایک بچہ طالب علم بنتا ہے۔جبکہ امتحان میں پاس ہونا ایک الگ چیز ہے جس کے اپنے اور بہت سے تقاضے ہیں۔ کامیابی کا سفر تو بڑا مشکل اور دشوار گزار ہے۔ ہر شخص اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے۔ لیکن بات وہی ہے کہ ہم دنیا کے معاملے میں بہت ہوشیار ہیں مگر آخرت اور خدا کے معاملے میں آخری حد تک بے وقوف۔

ہم حج و عمرے میں نہیں تمام عبادتوں میں یہی رویہ اپناتے ہیں۔ مثال کے طور پر روزے کو لے لیں۔ جیسے تیسے روزہ رکھ لیا۔ لیکن اس کے بعد سارا زور ٹائم پاس کرنے پر ہوتا ہے۔ اس کے لیے ہر جائز و ناجائز تفریح کا انتظام کیا جاتا ہے۔ فلمیں، کہانیاں، گپ بازی تو رمضان کے عام معمولات ہیں۔کچھ نہیں تو سحر وافطار کی تیاری پر ایسا زور ہوتا ہے کہ اللہ کی پناہ۔لگتا ہے کہ لوگ روزے کے لیے سحر و افطار نہیں کرتے بلکہ سحر و افطار کے لیے روزہ رکھتے ہیں۔ بہت سے لوگ رمضان میں اتنا کھالیتے ہیں کہ رمضان کے علاوہ بھی اتنا نہیں کھاتے ہوں گے۔ رمضان میں اشیائے صرف کی قیمتیں بڑھنے کا تو بڑا شور ہوتا ہے مگر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ یہ قیمتیں بڑھتی کیوں ہیں۔ چیزوں کی طلب اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ تاجر فائدہ اٹھانے کے لیے چیزیں مہنگی کردیتے ہیں۔لوگ خریدنا چھوڑ دیں تو سب چیزیں سستی ہوجائیں گی۔

ہر ظاہری عبادت اس بناپر فرض کی گئی ہے کہ اس کا کوئی نتیجہ نکلنا چاہیے۔ یہ نتیجہ محض رسمی خانہ پری سے نہیں نکلتا۔ دین کا پورا ظاہری ڈھانچہ جسم پر اپلائی ہوتا ہے مگر ساتھ ساتھ اپنی روح ، اپنے دل اور اپنے دماغ کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ نتیجہ ان کی سطح پرہی مطلوب ہے۔ یہ اس دور کے پورے دینی کام کا المیہ ہے کہ ظاہر اور باطن کا جو حسین توازن دین نے عطا کیا تھاوہ اس میں بری طرح مجروح ہوچکا ہے۔ اس لیے دیندار بڑھتے چلے جارہے ہیں، دینداری نہیں بڑھ رہی۔

سعودی عرب کا رمضان

رمضان کا ذکر آگیا ہے تو ذرا سعودی عرب کے رمضان کا بھی حال بیان ہوجائے۔ یہاں رمضان ایسا ہوتا ہے کہ کم از کم ہمارے خطے والے اس کا تصور نہیں کرسکتے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے یہ عبادت کا مہینہ ہوتا ہے مگر یہاں یہ تفریح کا سیزن ہوتا ہے۔ تفریح خالی پیٹ تو ہو نہیں سکتی۔ اس لیے ساری رات جاگا اور سارا دن سویا جاتا ہے۔ رات بھرسڑکوں، بازاروں اور شاپنگ سنٹرز میں ایسی گہماگہمی ہوتی ہے کہ حد نہیں۔ میرے پاس اعداد و شمار تو نہیں لیکن اندازہ ہے کہ اربوں ریال اس موقع پر خرچ کیے جاتے ہیں۔ کھانے پینے، کپڑے اور زیورات پر پانی کی طرح پیسہ بہایا جاتا ہے۔ تراویح کے بعد شہر میں ٹریفک کا ایسا رش ہوتا ہے کہ گاڑی چلانا دشوار ہوجاتا ہے۔ شاپنگ سنٹرز کے باہر پارکنگ کی جگہ نہیں ملتی۔

ان دنوں ٹی وی پر خصوصی تفریحی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ ڈرامے، فلمیں، اسٹیج پروگرامز، گانے، کامیڈی پروگرامز ہر چینل سے نشر ہوتے ہیں۔نئی انگریزی فلمیں با اہتمام دکھائی جاتی ہیں۔خیال رہے کہ سعودی عرب میں گھر گھر ڈش لگی ہوئی ہے۔ سعودی عرب کے اپنے چینلز کا ضابطۂ اخلاق بہت سخت ہے مگر بعض عرب ملکوں کے چینلز مغربی معیارات کے حامل ہوتے ہیں۔ رمضان میں اسکولوں کی چھٹیاں ہوجاتی ہیں۔ رات بھر جاگنے کے بعد لوگ دفتروں میں بہت دیر سے جاتے ہیں اور جاکر بھی اونگھتے رہتے ہیں۔ عملی طور پر ان دنوں دفتروں میں کوئی کام نہیں ہوتا۔ آخر ی عشرے میں تو یہ ہنگامہ عروج پر پہنچ جاتا ہے۔علمائے کرام اس صورتحال پر احتجاج کرکر کے تھک گئے مگر لوگوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔ بہرحال اہلِ شوق کے لیے ان حالات کے باوجود بڑی خیر و برکت کے سامان موجود ہیں۔ مکہ اور مدینہ کا رمضان تو لوٹنے کی جگہ ہے۔زائرین اللہ کی رحمت کو لوٹتے ہیں اور ہوٹل والے زائرین کو۔ وہ کمرہ جو عام دنوں میں تیس ریال کا دستیاب ہوتا ہے ، آمد رمضان پر سو اور آخری عشرے میں تین سو ریال کا ہوجاتا ہے۔ تراویح کے وقت تو وہ سماں ہوتا ہے کہ آسمان سے نور اترتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ستائیسویں اور انتیسویں شب میں بلا مبالغہ لاکھوں لوگو ں کاہجوم ہوتا ہے۔ مکہ ،مدینہ دونوں جگہ افطاری کا خصوصی اہتمام ہوتا ہے۔ بالخصوص مدینے والوں کی شانِ مہمان نوازی اس وقت عروج پر ہوتی ہے۔عام مساجد میں بھی تراویح کا بڑا اہتمام ہوتا ہے۔ مگر ہر جگہ آٹھ رکعتیں پڑھائی جاتی ہیں۔ وتر میں اجتماعی دعا ہوتی ہے جو بڑی غیر معمولی اور طویل ہوتی ہے۔ آخر ی عشرے میں اجتماعی تہجدکی نماز بھی شروع ہوجاتی ہے اور وتر و دعا اس کے بعد ہوتے ہیں۔

حضور دہر میں آسودگی نہیں ملتی

مدینہ منورہ اور مسجد النبوی الشریف سے مجھے غیر معمولی محبت ہے۔ یہاں آکر مجھے ہمیشہ ایسا سکون ملتا ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ میرے لیے بہت آسان ہے کہ میں گھنٹو ں یہاں بیٹھا رہوں۔ یہاں گھومتا رہوں۔ یہاں کے درو دیوار کو تکتا رہوں۔ یہاں کا ماحول اپنے اندر غیر معمولی سکون رکھتا ہے جو انسان کی روح کو آسودہ کردیتا ہے۔وہ آسودگی جو دنیا میں کسی اور جگہ نہیں ملتی۔ اللہ کا بڑا کرم ہے کہ مجھے باربار یہاں حاضری اور طویل قیام کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ لیکن اس دنیا کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ہر لمحہ گزر جاتا ہے۔ اچھا ہو یا برا۔ اس دفعہ بھی یہی ہوا ۔ یہ پرسکون لمحے بیت گئے۔ ہم تیسرے دن مدینے سے روانہ ہوئے۔ راستے میں مسجد قبا میں نوافل ادا کیے۔اس وقت دھوپ نے ہر شے کو جھلس کر رکھ دیا تھا۔ مگر کس کوخبر تھی کہ کیسی ٹھنڈی بارش ہونے والی ہے۔ اس بارش اور راستے کے حالات میں پیچھے بیان کرچکا ہوں۔ لیکن مغرب سے لے کر مشرق تک ، اپنے اس سفر میں ، میں نے یہ دیکھا کہ انسانیت کا وجود اسی طرح جھلس رہا ہے جیسے مدینے کی سرزمین تپ رہی تھی۔ انسانیت شرک کے بعد اب الحاد کے ہاتھوں ستائی جارہی ہے۔ مغرب میں روحِ انسانی منجمد ہوچکی ہے اور مشرق میں جسم سلگ رہے ہیں۔

ساڑھے چودہ سو سال قبل اس سرزمین کے باسیوں کو خدا نے توحید کے عظیم مشن کے لیے چنا تھا۔ آج ایک دفعہ پھر انسانیت اپنے حالات کی خاموش زبان میں چیخ چیخ کر خدا کے نام کی دہائی دے رہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا بہترین حصہ اس کے ابتدائی لوگ تھے۔ مگر اس امت کا آخری حصہ بھی اپنی فضیلت کے اعتبار سے کم نہیں۔ مدینے کی برکھانے ، سلگتی زمین نے جس سے آسودگی پا ئی، مجھے پیغام دیاکہ اب اس امت کے آخری حصے کے برسنے کا وقت آرہا ہے۔ انسانیت ایک دفعہ پھر آسودہ ہونے کو ہے۔ آج جو آسودگی مدینے میں پھیلی ہے عنقریب پوری انسانیت اس کے حلقے میں سمٹ آئے گی۔

وہ جو چاہے تو۔۔۔

مدینے سے ہفتے کے دن واپسی ہوئی تھی۔ چار دن بعد جمعرات کو میں اور اہلیہ مکہ کے لیے صبح ہی صبح نکل گئے۔ جمعرات اور جمعے کو وہاں رکے اورجمعہ پڑھ کر لوٹ آئے۔ اس ہفتے جمعرات کے دن میری روانگی تھی۔ روانگی سے قبل منگل کے دن رضوان بھائی کے ہمراہ ہم سب الوداعی طواف کے لیے مکہ آئے۔ اس روز مکہ بہت بدلا بدلا لگ رہا تھا۔ ہر جگہ نور اترتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ جاب چھوڑ کر جب میں یہاں سے رخصت ہوا توآخری دفعہ اپنی اہلیہ کے ساتھ حرم آیا تھا۔ اس وقت ہم دونوں بہت غمگین تھے۔ مگر اِس دفعہ ایسا نہ تھا۔ بے قراری تو تھی مگر ساتھ میں قرار بھی تھا۔ یہ بات اہم ہے کہ انسان خدا کے گھر کو چھوڑ رہا ہو، مگر یہ زیادہ اہم ہے کہ خدا انسان کو نہ چھوڑے۔ رخصتی کے اس صبر آزمالمحے میں میرا احساس تھا کہ خدا نے ہمیں نہیں چھوڑا۔لیکن کچھ بھی ہو مدینے میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو الوداع کہنا اور یہاں حرم کو آخری دفعہ دیکھنا بڑا مشکل کام ہوتا ہے۔ دل والوں کا سینہ پھٹ جاتا ہے۔ نہ ہم دل والے تھے نہ ہمارا سینہ پھٹا۔ خاموشی سے چلتے ہوئے باہر آگئے۔ بس بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتے گئے۔ ہاں خدا سے اتنی دعا ضرور کی کہ ہر بار کی اس جدائی سے دل بہت گھبراتا ہے۔ توقادر مطلق ہے۔چاہے تو بلا استحقاق جنت کی اس بستی میں بسادے جہاں کوئی ملاقات آخری نہیں ہوگی۔ جہاں ماضی کی یادیں اداس کریں گی نہ مستقبل کی بے یقینی ستائے گی۔ جہاں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوسیوں کو صبح وشام خدا کے دربار میں حاضری نصیب ہوگی۔ خدا کا ظرف اس کی ذات کی طرح ہی اعلیٰ ہے۔ وہ جو چاہے تو کیا نہیں ممکن۔

جاری ہے، اس کے بعد کیا حکم آیا؟ اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مزید : کھول آنکھ، زمین دیکھ