پاکستان کا وہ علاقہ جسے حکومت نے بڑی خاموشی سے نقشے سے نکال دیا، جان کر آپ کو بھی بے حد افسوس ہوگا

پاکستان کا وہ علاقہ جسے حکومت نے بڑی خاموشی سے نقشے سے نکال دیا، جان کر آپ کو ...
پاکستان کا وہ علاقہ جسے حکومت نے بڑی خاموشی سے نقشے سے نکال دیا، جان کر آپ کو بھی بے حد افسوس ہوگا

  

9نومبر علامہ اقبال کا یوم پیدائش ہونے کے ناطے اہم دن ہے تو اس کے ساتھ ایک اور المناک داستان بھی جڑی ہوئی ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ریاست جونا گڑھ پر بھارت کا قبضہ ہوا، جونا گڑھ میں مشہور سومنات مندر بھی واقع تھا جس کے متعلق سلطان محمود غزنوی کے دور میں مسماری کی کئی داستانیں منسوب ہیں ۔ ریاست جونا گڑھ  جو پاکستان سے الحاق کر چکی تھی اس پر بھارتی قبضہ بربریت اور لاقانونیت کی بڑی مثال تھی ۔

ریاست جونا گڑھ 1730ء کے لگ بھگ  قائم ہوئی تھی جس کے بانی محمد بہادر خان جی اول تھے ۔ 1807ء میں دیگر ہندوستانی ریاستوں کی طرح جونا گڑھ کا بھی ایسٹ انڈیا کمپنی سے معاہدہ ہوا اور یہ بھی کمپنی کے زیر سایہ آ گئی ۔ اس کا کل رقبہ 8643مربع کلومیٹر تھا اور آبادی 5لاکھ نفوس پر مشتمل تھی اگرچہ اس کی آبادی کی غالب اکثریت ہندو تھی لیکن حکمران خاندان مسلمان تھا اور حکومتی مشینری بھی مسلمانوں پر ہی مشتمل تھی ۔

 قیام پاکستان کے وقت محمد مہابت خان جی سوئم اس کے نواب تھے  اس کی ماتحت ریاستوں میں مناودر بھی تھی جو 1733 کے لگ بھگ قائم ہوئی اس کے حکمران بھی ریاست جونا گڑھ کے حکمران خاندان میں سے ہی تھے جس کا رقبہ 262مربع کلومیٹر اور آبادی 27ہزار نفوس تھی اس ریاست نے بھی جونا گڑھ کی تقلید میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی ۔ نواب شری غلام محی الدین خان فتح الدین خان بابی تب اس ریاست کے حکمران تھے جو ریاست پر بھارتی قبضے سے پہلے ہی پاکستان پہنچ گئے تھے ۔انہوں نے  2003ء میں کراچی میں ہی وفات پائی ۔

برٹش راج کے دوران بنایا گیا ریاست جونا گڑھ کا نقشہ

 منگرول ایک اور شاہی ریاست تھی  یہ چھوٹی سی ریاست بھی جونا گڑھ کی ماتحت ریاست ہی تھی جس کا رقبہ 144مربع میل اور یہ 26ہزار نفوس پر مشتمل تھی یہ 1748ء میں قائم ہوئی اور اس کے حکمران شیخ صاحب کہلاتے تھے ۔ قیام پاکستان کے وقت اس پر 9ویں شیخ صاحب آف مانگرول کی حکومت تھی۔

 بابری آواد ایک اور چھوٹی ریاست تھی جوناگڑھ کی ماتحت ریاست تھی اس کا رقبہ منگرول اور مناودر سے کچھ ذیادہ تھا اور اس کے حکمران ہندو راجپوت تھے لیکن اصل ریاست یہاں پر جونا گڑھ ہی تھی جس کا حکمران سلطنت برطانیہ کی طرف سے  13توپوں کی سلامی کا حق بھی رکھتا تھا  جو ایک چھوٹٰی لیکن امیر اور خوشحال  ریاست تھی اور گجرات کے ساحل پر واقع ہونے کی وجہ سے اہم دفاعی علاقہ بھی تھی ۔

 جب برصغیر کی تقسیم عمل میں آئی تو  برصغیر میں کل 562نوابی ریاستیں موجود تھیں جن میں سب سے بڑی حیدرآباد دکن اور جموں و کشمیر تھیں لیکن دونوں میں صورتحال ایک دوسرے کے برعکس تھی یعنی کشمیر پاکستان سے ملحق مسلم اکثریتی ریاست لیکن حکمران خاندان ہندو  تھا  اور حیدرآباد چاروں طرف سے بھارت میں گھری ہوئی ہندو اکثریتی ریاست لیکن حکمران مسلمان تھے لیکن دونوں ریاستوں پر بھارت نے قبضہ کر لیا ایک پر براہ راست حملہ کرکے اور ایک پر مہاراجہ کی آشیر باد اور سازشوں سے ، لیکن ان سے بھی پہلے جونا گڑھ پر بھارت نے ہاتھ صاف کیے ۔

جونا گڑھ کے ساتھ ہندو کانگریسی رہنماوں کے مذاکرات اور لارڈ ماونٹ بیٹن کا دباو دونوں ہی ناکام رہے تھے جونا گڑھ نے تقسیم برصغیر کے ساتھ ہی  1947کو پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا تھا جس کی باقاعدہ منظوری16ستمبر 1947کو قائداعظم محمد علی جناح نے خود دی تھی کیونکہ لارڈ ماونٹ بیٹن نے جب نواب آف جونا گڑھ کو بھارت سے الحاق کی ترغیب دی تو نواب آف جونا گڑھ نے جواب دیا تھا کہ اگرچہ ریاست کا پاکستان سے زمینی رابطہ نہیں لیکن سمندری راستے سے یہ کراچی سے صرف 480کلومیٹر دور ہے اور سمندر کے راستے پاکستان سے براہ راست رابطہ ممکن ہے  لیکن پاکستان کے ساتھ الحاق کے فوری بعد بھارت نے اس ریاست کو ہڑپ کرنے کے کوششیں شروع کر دی تھیں اور اس کے لیے بھارت کے مشہور اور مسلم دشمنی اور انصاف کے قتل کے حوالے سے بدنام زمانہ وزیرداخلہ سردار ولبھ بھائی پٹٰیل نے ہی دانت نکوسے۔ پہلے تو اس ریاست کو مختلف حیلے بہانوں سے بہلانے کی کوشش کی گئی جب  اس ریاست کو اس طرح بہلانا ممکن نہ ہوا تو اس کی ماتحت ریاستوں منگرول اور بابری آواد کے حکمرانوں کے ساتھ رابطہ کیا گیا اور ان سے الحاق نامے پر دستخط کروا لیے گئے ۔ ان حکمرانوں نے دستخط سے پہلے جونا گڑھ سے آزادی کا اعلان کیا اور پھر بھارت میں شمولیت کا اعلان کیا ۔ بعد میں شیخ آف منگرول نے اس معاہدہ الحاق کو منسوخ کرنے کی بھی کوشش کی لیکن ایک دفعہ دستخط کرنے کے بعد بھلا بھارتی حکمران کب نظر ثانی کا موقع دے سکتے تھے ۔

نواب آف جونا گڑھ نے ان دونوں ریاستوں کے اس طرح الحاق کو غیر قانونی قرار دیا کیونکہ وہ جونا گڑھ کی مرضی کے بغیر ایسا نہیں کر سکتی تھیں  وزیراعظم پاکستان نوابزادہ لیاقت علی خان نے بھی اس پر احتجاج کیا لیکن بھارتی ہٹ دھرمی برقرار رہی ۔ ان ریاستوں کی طرف سے غیر قانونی معاہدے پر نواب آف جونا گڑھ نے اپنی فوج کو کاروائی کا حکم دیا اور ان ریاستوں کا کنٹرول  سنبھال لیا جس پر سردار ولبھ بھائی پٹیل کو بہانہ مل گیا  اور انہوں نے گجرات میں موجود ہندوستانی افواج کو کارروائی کا حکم دیا ۔ بھارت نے اس کا جواز یہ پیش کیا کہ ان دونوں چھوٹی سی ریاستوں کے حکمران بھارت سے الحاق کر چکے ہیں اس لیے اب یہ حملہ بھارت پر حملہ ہے۔   22ستمبر1947کو بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے جونا گڑھ کے دیوان کو احتجاجی ٹیلی گرام بھیجا کہ اپنی فوجوں کو منگرول اور بابری آواد سے نکالیں نواب کے انکار پر اکتوبر 1947 میں منگرول اور بابری آواد پر بھارتی فوج نے حملہ کر کے جونا گڑھی فوج کو وہاں سے نکال دیا  جس کے بعد باقی ریاست جونا گڑھ اور منگرول پر قبضے کے لیے کارروائی شروع کی گئی ۔ مہاتما گاندھی کے بھتیجے شمل داس گاندھی کی سربراہی میں ریاست  کی سرحد پر ایک جلاوطن عارضی  حکومت قائم کی گئی حالانکہ شمل داس گاندھی کا جونا گڑھ سے کوئی تعلق نہیں تھا وہ راجکوٹ کا رہائشی صحافی تھا ۔

 وزیر اعظم بھارت کے مشیر وی پی مینین نے جب 16ستمبر 1947 کو ریاست کا دورہ کیا اور سر شاہنواز بھٹو نے ان کی نواب آف جونا گڑھ کے ساتھ ملاقات کروانے سے معذرت کی تو واپسی پر بمبئی میں مینین نے شمل داس گاندھی سے ملاقات کی اور عارضی حکومت بنانے کی سازش تیار کی تھی ۔ جلاوطن حکومت نے فوج بنائی اور جونا گڑھ پر حملے شروع کر دیے ۔ یہ سب کچھ بھارتی حکومت کے ایما پر کیا جارہا تھا اور ریاست بڑودہ جو گجرات کی بڑی ریاست تھی اس کی افواج کی باقاعدہ مدد اس نام نہاد آزاد فوج کوحاصل تھی ۔

چھوٹے موٹے حملوں کا سلسلہ تو اکتوبر میں ہی شروع ہو گیا تھا  اس دوران 25 اکتوبر1947کو نواب آف جونا گڑھ تو خاندان کے ساتھ کراچی چلے گئے اور نظام حکومت کی عارضی ذمہ داری دیوان سر شاہنواز بھٹو کے پاس آگئی اس موقع پر پاکستانی افواج کے جونا گڑھ پہنچنے کی باتیں بھی ہوئیں اور افواہ پھیلی کہ 5ہزار پاکستانی فوجی جونا گڑھ پہنچ رہے ہیں جو جونا گڑھ کی 30ہزار نفوس پر مشتمل فوج کےساتھ مل کر ریاست کا دفاع کریں گے لیکن میجر جنرل اکبر خان نے اپنی تحریروں میں اس کی تردید کی اور لکھا کہ جونا گڑھ کی افواج کی کل تعداد جو 30ہزار بیان کی جاتی تھی اس میں فوجیوں ، پولیس ، گارڈز اور ڈرائیورز کے علاوہ محل کے باورچی اور خاکروب بھی شامل تھے صرف فوج کی تعداد 30ہزار نہیں تھی اس لیے پاکستانی فوجیوں کو وہاں بھیجنے کا سیدھا مطلب  انہیں  بھارت کا قیدی بنوانا تھا اس لیے پاکستانی فوج وہاں نہیں بھیجی گئی ۔

 اس دوران وزیراعظم پاکستان نوابزادہ لیاقت علی خان اور وزیر اعظم بھارت جواہر لال نہرو کے درمیان ریاست کے مستقبل کے معاملے پر ریفرنڈم کروانے پر مذاکرات ہوتے رہے جو کبھی فون پر اور کبھی ٹیلیگرام کے ذریعے ہو رہے تھے لیکن اسی دوران بھارتی حکومت کی سازش کے مہرے کے طور پر نام نہاد آزاد فوج نے جونا گڑھ پر حملہ کر دیا اور بھارتی فوج بھی سرحدوں پر آ بیٹھی اور اس کی طرف سے بھی زبردست حملے کا خدشہ پیدا ہو گیا نومبر کے ابتدائی دنوں میں جب حملہ ہوا تو ریاست میں ابتری پھیل جانے اور مسلمانوں کے قتل عام  کے خدشے کے پیش نظر جونا گڑھ کے دیوان سر شاہنواز بھٹو بھارتی حکومت سے  سے درخواست کی کہ وہ آکر ریاست کا نظم و نسق سنبھال لیں تاکہ خون خرابہ اور بد امنی نہ ہو جس پر کیپٹن جونز کی قیادت میں بھارتی فوج نے 9نومبر 1947 کوریاست کا انتظام سنبھال لیا۔

 پاکستان نے اس پر بھارتی حکومت سے بھی شدید احتجاج کیا اور  اس قبضے کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کر لیا جہاں پاکستان نے دعوی دائر کیا جو ابھی تک معلق ہے ۔ دسمبر 1947میں بھارتی حکومت نے وہاں نام نہاد ریفرنڈم منعقد کروایا اور اس کا فیصلہ بھی خود ہی سنا دیا کہ 99۔95فیصد لوگوں نے بھارت کے ساتھ الحاق کے حق میں ووٹ دیا ہے یوں جونا گڑھ کو بھارت نے ہڑپ کر لیا لیکن پاکستان اس پر برابر دعویٰ کرتا رہا ۔

 موجودہ نواب آف جونا گڑھ جہانگیر خان جی، جو ان دنوں کراچی میں مقیم ہیں

 چند برس پہلےتک بھی جونا گڑھ اور مناودر کو پاکستانی نقشے کے حصے کے طور پر ظاہر کیا جاتا رہا لیکن اب چند برسوں سے یہ نقشوں میں نظر نہیں آتا  ریاست پر بھارتی قبضے سے پہلے ہی  سر شاہنواز بھٹو سمیت اکثر مقتدر لوگ پاکستان منتقل ہو گئے تھے لیکن ایک سینیئر وزیر اسماعیل ابریہانی کو وہیں بھارتی فوجیوں نے گرفتار کر لیا اور جیل میں ڈال دیا ۔ انہوں نے جیل سے پاکستان جانے کی پیشکش مسترد کر دی اور جواب دیا کہ جونا گڑھ پاکستان کا قانونی حصہ ہے اور اس پر بھارتی قبضہ غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے اس لیے وہ یہاں سے نہیں جائیں گے وہ جیل میں ہی انتقال کر گئے تھے ۔ یہ وہی وزیر تھے جو الحاق کی دستاویز نواب کے دستخط کے بعد قائداعظم محمد علی جناح کے پاس لے کر گئے تھے ۔ جونا گڑھ پر بھارتی قبضے کے ساتھ ہی سردار ولبھ بھائی پٹیل جونا گڑھ پہنچے ، 9نومبر کو جونا گڑھ سرنڈر ہوا 10نومبر کو بھارتی قبضہ مکمل ہوا اور 13یا 14 نومبر کو سردار ولبھ بھائی پٹیل وہاں پہنچے ۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل جو مرد آہن کے نام سے بھی مشہور تھے ایک متعصب ہندو بھی تھے ۔ اس کا ایک ثبوت ان کی جونا گڑھ آمد کے فوری بعد سومنات مندر پر حاضری اور اس کی تعمیر نو کا حکم تھا ۔ 1951 میں جب سومنات مندر کی تعمیر نو مکمل ہوئی تو اس کے آرکیٹیکٹ بھی سردار ولبھ بھائی پٹٰیل ہی تھے ۔ آج بھی نواب آف جونا گڑھ جہانگیر خان جی  ریاست پر بھارتی قبضے کے خلاف آواز اٹھاتے رہتے ہیں لیکن حکومت پاکستان کی طرف سے عملی حمایت کے بغیر اس مسئلے پر کچھ ہونا ناممکن ہے لیکن پاکستان کے نقشے سے اس کا غائب ہونا اورتعلیمی نصاب سے اس کا ذکر کم سے کم ہونا تشویشناک ہے ۔ قبضہ چاہے کسی کا بھی ہو لیکن اپنے علاقے کو اس طرح بھولنا زندہ قوموں کا شیوہ نہیں اور بھارت کو بین الاقوامی سطح پر دباؤ میں لانےکے لیے بھی یہ مسئلہ ایک اہم حربہ ثابت ہو سکتا ہے ۔

جونا گڑھ سٹیٹ مسلم فیڈریشن کی جانب سے نکالی گئی ریلی کے شرکا ریاست پر قبضہ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں

مزید :

بلاگ -