افغانستان کی تعمیر ِ نو کے لئے دنیا آگے بڑھے

افغانستان کی تعمیر ِ نو کے لئے دنیا آگے بڑھے

  

افغانستان کی عبوری حکومت آج حلف اٹھا رہی ہے،حلف برداری کی تقریب میں پاکستان، چین، روس، ترکی، مصر، قطر، متحدہ عرب امارات، ازبکستان اور دوسرے کئی ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے۔اس دوران اقوام متحدہ نے دنیا پر زور دیا ہے کہ طالبان حکومت کے متعلق خدشات کے باوجود افغانستان کی امداد جاری رکھی جائے،افغانستان کے لئے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے ڈیبورا لیونز نے کہا ہے کہ دنیا کم از کم طالبان کو موقع دے،انہیں شدید معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،امریکہ کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے لچک کا مظاہرہ خوش آئند ہے، افغان طالبان نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے نام بلیک لسٹ سے نکالے جائیں، نام دوبارہ فہرستوں میں ڈالنا دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے،طالبان کابل ائر پورٹ سے غیر ملکیوں کے انخلا کو ممکن بنانے کے لئے تعاون کر رہے ہیں۔ائر پورٹ کی چند روز میں بحالی قطر اور ترکی کے تکنیکی ماہرین نے یقینی بنائی۔اس موقع پر قطر  کے سفیر نے کہا کہ ائر پورٹ کا 90فیصد آپریشنل ہو جانا افغانستان کے لئے تاریخی دن ہے۔ پاکستان کی جانب سے امدادی سامان لے کر ائر فورس کا ایک سی130 طیارہ کابل پہنچ گیا ہے، امدادی سامان میں آٹا، گھی اور ادویات شامل ہیں۔ پاکستان کے سفیر منصور احمد خان کا کہنا ہے کہ افغانستان کو 26 میٹرک ٹن امدادی اشیا  دی جائیں گی۔

افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کی تشکیل کے بعد امورِ مملکت کی سمت متعین ہو گئی ہے اور طالبان نے دنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ وہ اُس کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نمائندے کا بیان بھی حوصلہ افزا ہے جس پر دنیا کو توجہ دینی چاہئے،اور امریکہ سمیت جن ممالک نے افغان حکومت کے بینک اکاؤنٹس منجمد کئے ہیں اُنہیں یہ جلد از جلد واگذار کر دینے چاہئیں، کیونکہ یہ فنڈز افغانستان کے تھے، کسی حکومت یا کسی فرد کے ذاتی نہیں تھے اس سے پہلے جو حکومت تھی اور جس کے بعض ارکان پہلی فرصت میں کابل سے فرار ہو گئے ہیں وہ تو افغان عوام سے معافیاں مانگ رہے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اُنہیں اپنے اعمال و افعال پر شرمندگی ہے، اِس لئے ان کے سرپرستوں کو بھی یہ محسوس کر لینا چاہئے کہ انہوں نے غلط گھوڑوں پر بازی لگائی ہوئی تھی،جن رہنماؤں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ ان میں باد مخالف کا ایک  بھی تھپیڑا برداشت کرنے کی صلاحیت نہ تھی، نہ جانے اُن کے سرپرست ان کی کن مخفی خوبیوں سے متاثر ہو کر ان کے ذریعے اربوں ڈالر بے مقصد جنگ کی بھٹی میں جھونکتے رہے،جس سے کچھ حاصل نہیں ہوا، اب سب کچھ اکارت ہو چکا ہے، بھارت تو اب تک صدمے کی کیفیت سے نہیں نکل سکا اور افغان جنگ کا جو نتیجہ نکلا ہے اس سے بوکھلا کر پاکستان پر بے جا الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے،حالانکہ ضرورت اِس امر کی ہے کہ نئی زمینی حقیقتوں کو کھلے دِل سے تسلیم کر کے آگے بڑھا جائے دُنیا کے اس خطے میں اربوں انسان بستے ہیں اُن کا یہ حق ہے کہ اُنہیں امن و استحکام کی فضا میں زندگیاں گذارنے کے مواقع میسر ہوں، اُن کی بنیادی ضروریات پوری ہوں اور ان کی نسلیں پُرامن فضا میں پروان چڑھیں، جن ممالک نے افغانستان کی صورتِ حال سے فائدہ اٹھا کر پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کیا اُن کے لئے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کے ازالے کے لئے آگے بڑھیں۔

طالبان کی حکومت کیسی ہو گی اور دنیا کی توقعات اس سے پوری ہوں گی یا نہیں یہ تو وقت کے ساتھ ہی اندازہ ہو گا،لیکن اُن کے بعض اقدامات ایسے ہیں جن سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ بھی بہتر طرزِ عمل کا اظہار کر رہے ہیں۔کابل ائر پورٹ کے آپریشنل ہونے کے ساتھ ہی جو پہلی پرواز وہاں سے رخصت ہوئی اس میں امریکیوں اور گرین کارڈ ہولڈرز کے علاوہ جرمنی، ہنگری اور کینیڈا سمیت کئی ممالک کے200شہری شامل تھے۔ افغان حکام نے ان کی واپسی میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی،بلکہ ہر ممکن تعاون کیا،جس کا وائٹ ہاؤس کی نیشنل سیکیورٹی کی ترجمان ایملی ہون نے خیر مقدم کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دوطرفہ تعاون ہو تو بہت سے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں۔

افغانستان میں اِس وقت جن اشیا کی ضرورت ہے اس کی جانب اقوام متحدہ نے توجہ مبذول کرا دی ہے اور اگر اس اپیل کا مثبت جواب ملتا ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ معاملات بہتری کی جانب گامزن ہو جائیں گے،جن جن شعبوں میں افغان حکومت کو دنیا کا تعاون مطلوب ہے وہ میسر آ جاتا ہے تو بہت تھوڑے عرصے میں بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔چین اور روس اِس ضمن میں پہلے ہی تعاون کا اعلان کر چکے ہیں، اور طویل المیعاد تعاون کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں۔اگر دنیا کے امیر ممالک اِس جانب قدم بڑھائیں گے تو افغانوں کی مشکلات کم ہو جائیں گے یہ تعاون اس لئے بھی ضروری ہے کہ ایک مُلک کو بیس سال تک جنگ کے شعلوں کی نذر کر کے اگر کچھ حاصل نہیں ہوا تو اب وقت ہے کہ تباہ حال مُلک کی تعمیر ِ نو کے لئے کردار ادا کیا جائے۔دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد جس طرح جاپان اور جرمنی کی معیشتیں بحال کرنے میں باقی دنیا نے کردار ادا کیا تھا اگر ایسا ہی یہاں بھی ہو جاتا ہے تو بہت جلد افغانستان بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتا ہے،پھر شاید دنیا کو طالبان سے شکایتیں بھی کم ہو جائیں گی۔

مزید :

رائے -اداریہ -