مسئلہ کشمیر: بین الاقوامی برادری کی مجرمانہ غفلت

مسئلہ کشمیر: بین الاقوامی برادری کی مجرمانہ غفلت
مسئلہ کشمیر: بین الاقوامی برادری کی مجرمانہ غفلت

  

دُنیا بھر میں کسی کو کانٹا بھی چبھتا ہے، تو بین الاقوامی طاقتیں تڑپ اُٹھتی ہیں، لیکن مقبوضہ کشمیر میں جس طرح سے گزشتہ کئی دہائیوں سے ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارت کی آٹھ لاکھ سے زائد افواج معصوم کشمیریوں کی ٹارگٹ کلنگ کر رہی ہیں اور اُن کا خون بہا رہی ہیں۔ دُنیا کا کوئی ملک اُن کے لئے آواز اٹھانے کو تیار نہیں ، بلکہ بہت سارے ممالک تو پاکستان پر بھی کشمیر کے مسئلے سے دستبردار ہونے کے لئے دباﺅ ڈالتے ہیں۔ کشمیر ایک ایسا ایشو ہے، جو کسی بھی وقت خطے کے امن کو تہہ و بالا کر کے رکھ سکتا ہے۔ گزشتہ 11سال سے امریکہ کی جانب سے افغانستان میں رچائے گئے ڈرامے کی بدولت دُنیا کی تمام تر توجہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی جانب مبذول ہو چکی ہے، لیکن ریاستی کنٹرول کے نام پر بھارتی فوج اور حکومت جس گھناﺅنے انداز سے کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہے، اس کو بین الاقوامی طاقتیں، خالصتاً بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دینے پر تُلی ہوئی ہیں۔ اس کی وجہ بظاہر ایک ہی دکھائی دیتی ہے کہ کشمیری بے چارے مسلمان ہیں اور گزشتہ ایک دہائی سے دُنیا بھر کی طاقتیں یکجا ہو کر جس انداز سے مسلم ریاستوں کا تیا پانچا کر رہی ہیں، اُس کے ان گھناﺅنے عزائم کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

بھارتی حکومت بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے دل جیتنے کے نام پر کبھی وہاں مسلمان کور کمانڈر تعینات کرتی ہے اور تو کبھی کوئی اور ڈھونگ رچاتی ہے، لیکن اُن الزامات سے عوام کے دل کس طرح سے جیتے جا سکتے ہیں، جن گھروں کے جوان بچوں کو اُٹھا کر گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے، جن گھروں کی عورتیں عصمت دری کا شکار ہوتی ہیں اور جو گھروندے جیل بن کر رہ گئے ہیں، وہ کیونکر ریاستی جارجیت کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ بین الاقوامی طاقتوں کو ظاہر ہے کہ کشمیر کے مسلمان شہریوں سے کوئی سروکار نہیں، لیکن پھر بھی بین الاقوامی سطح پر یہ ایشو اِس حد تک اُجاگر ہو چکا ہے کہ اس کا شمار گینز بُک آف ورلڈ ریکارڈزکے مطابق اُن علاقوں میں ہو چکا ہے، جو فوجی زون میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر کے ایشو پر باقاعدہ دو جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر جھڑپیں تو آئے روز جاری رہتی ہیں۔ کچھ عرصے کے لئے فائر بندی ہوتی بھی ہے، تو بھارتی فوج کی جانب سے کسی نہ کسی غیر ذمہ دارانہ حرکت کی بدولت پھر سے بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے مابین پہلی جنگ 1948ءمیں ہوئی، وہ کشمیر کے ایشو پر ہی تھی۔ پاکستان کا پہلا نشانِ حیدر کیپٹن سرور شہید کو دیا گیا، جو 1948ءمیں ہونے والی جنگ کے ہیرو تھے۔ گویا مسئلہ کشمیر قیامِ پاکستان کے وقت سے ہی کھڑا ہے، جس کا مو¿ثر حل تلاش نہیں کیا جا سکا۔ بھارت اور اس کی فوج کشمیریوں کے دِلوں سے خود مختاری کے جذبے کو ختم کرنے میں یکسر ناکام رہی ہے۔ شومی ¿ قسمت سے بھارت مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر بھی آمادگی ظاہر نہیں کر رہا، حالانکہ اقوام متحدہ میں یہ ایشو تو خود بھارت کے اُس وقت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو لے کر گئے تھے، لیکن جب اقوام متحدہ نے ہی یہ قرارداد پیش کی کہ کشمیر کے عوام کو استصواب رائے کا حق دیا جائے، تو بھارت اُس سے لیت و لعل سے کام لینے لگا۔

اِس امر میں دو آراءنہیں ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کی وجہ سے خطے میں اسلحے کی دوڑ شروع ہوئی۔ بھارت نے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کی تو پاکستان نے بھی اُس کی دیکھا دیکھی اور اپنی دفاعی ضرورتوں کو مد ِنظر رکھتے ہوئے ایٹم بم بنا لیا۔ بین الاقوامی برادری اب بھی اگر پہلے کی طرح مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتی رہی تو خدانخواستہ مستقبل میں بھی اس خطے میں جنگیں بپا ہوتی رہیں گی۔ بھارت کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے یہ وسائل، جو وہ کشمیریوں کی بربادی کے لئے استعمال کر رہا ہے کو اپنے غریب اور بے کس عوام کی ترقی کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔      ٭

مزید : کالم