وفاقی حکومت اورپی آئی اے کی رپورٹ ایک جیسی ہے،لگتا ہے ایک ہی بندے نے سب رپورٹس بنائی ہیں،صرف کاپی پیسٹ سے کام چل رہا ہے،چیف جسٹس پاکستان کے سی ای اوپی آئی اے تعیناتی کیس میں ریمارکس

وفاقی حکومت اورپی آئی اے کی رپورٹ ایک جیسی ہے،لگتا ہے ایک ہی بندے نے سب ...
وفاقی حکومت اورپی آئی اے کی رپورٹ ایک جیسی ہے،لگتا ہے ایک ہی بندے نے سب رپورٹس بنائی ہیں،صرف کاپی پیسٹ سے کام چل رہا ہے،چیف جسٹس پاکستان کے سی ای اوپی آئی اے تعیناتی کیس میں ریمارکس

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں سی ای اوپی آئی اے ارشدمحمودملک کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وفاقی حکومت اورپی آئی اے کی رپورٹ ایک جیسی ہے،لگتا ہے ایک ہی بندے نے سب رپورٹس بنائی ہیں،صرف کاپی پیسٹ سے کام چل رہا ہے،رپورٹ میں ایئرمارشل ارشد ملک کی بہت تعریف کی گئی،ہمیں سمجھ نہیں آتی تعریفیں آخر کہاں جاکر ختم ہونگی۔

میڈیارپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں سی ای اوپی آئی اے ارشدمحمودملک کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ وفاقی حکومت اورپی آئی اے کی رپورٹ ایک جیسی ہے،لگتا ہے ایک ہی بندے نے سب رپورٹس بنائی ہیں،صرف کاپی پیسٹ سے کام چل رہا ہے،رپورٹ میں ایئرمارشل ارشد ملک کی بہت تعریف کی گئی،ہمیں سمجھ نہیں آتی تعریفیں آخر کہاںجاکر ختم ہونگی۔

وکیل پی آئی اے نعیم بخاری نے کہا کہ ارشد محمود ملک کابیرون ملک کام کابھی تجربہ ہے،5افراد کوشارٹ لسٹ کرکے ارشد محمود ملک کانام فائنل کیاگیا،جسٹس سجادعلی شاہ نے وکیل سے استفسارکیا کہ کیاکوئی اورسی ای او بننے کے اہل نہیں تھا؟،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ کوبلا لیں بعدمیں سماعت کرلیتے ہیں۔

نعیم بخاری نے کہا کہ ارشدملک کوبورڈنے حکومتی نامزدگی پرایم ڈی لگایاہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیاتعیناتی کیلئے عالمی سطح پراشتہاردیاگیاتھا؟ عدالت نے اپنے فیصلے میں تعیناتی کاپوراطریقہ بتایاتھا،عدالت نے صرف قانون پرعملدرآمدکاجائزہ لیناہے،پی آئی اے میں بہت تجربے ہوچکے ہیں،ایک جرمن سربراہ لگایاوہ جہازہی ساتھ لے گیا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد