سر ہند شریف، اللہ والوں کی سرزمین(2)

سر ہند شریف، اللہ والوں کی سرزمین(2)
سر ہند شریف، اللہ والوں کی سرزمین(2)

  

 ایک روایت میں آیا ہے کہ جب سرہند واپسی پر انہیں سلسلہ قادریہ کا خرقہ عطا فرمایا گیا تو کئی دوسرے سلسلوں چشتیہ اور سہروردیہ کے اکابرنے بھی خواب میں حضرت شیخ احمد سرہندی ؒ سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ان کے سلسلہ ہائے تصوف کے خرقے قبول فرمالیں، لیکن آخر میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارت دے کر یہ مسئلہ سلجھایا اور حضرت شیخ احمد سرہندی رحمتہ اللہ علیہ سلسلہ نقشبندیہ سے وابستگی کے لئے پوری طرح یک سو ہو گئے۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ1603ءمیں پھر دہلی تشریف لے گئے اور اپنے مرشد حضرت خواجہ باقی باللہ رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت اقدس میں حاضری کی سعادت حاصل کی ۔ بعدازاں حضرت مُجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ لاہور تشریف لے گئے، جہاں صوفیاءاور علماءنے ان کا دل کی گہرائیوں سے خیر مقدم کیا۔ لاہو رمیں قیام کے دوران آپ کو اپنے روحانی پیشوا حضرت خواجہ باقی باللہ رحمتہ اللہ علیہ کے سانحہ ارتحال کی خبر ملی ، جس پر آپ نے لاہور کا قیام مختصر کر دیا اور دہلی تشریف لے گئے، جہاں انہیںسلسلہ نقشبندیہ کی سربراہی کا اعزاز عطا کیا گیااور اس حیثیت میں آپ کی دستاربندی ہوئی۔

یہ وہ گھڑی تھی جب شیخ احمد سرہندی رحمتہ اللہ علیہ کی شہرت پورے ہندوستان میں پھیل گئی اور دور دور سے لوگ ان سے کسب فیض کے لئے حاضر ہونے لگے۔ انہوں نے لوگوں کو اسلام کی حقیقی تعلیمات سے فیض یاب کیا۔ اس وقت ہندوستان میںدین اسلام کو بے شمار مسائل اور مشکلات کا سامنا تھا۔ اسلام کی تعلیمات پر ہندو دھرم کے اثرات ہویدا ہونے لگے تھے ، اسلام کے اصل چہرے کو ہندومت کی دھند نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور یہ محسوس کیا جانے لگا کہ اہل اسلام کو اسلام کی اصل تصویر سے آشنا کیا جائے۔اکبر کا دین الٰہی بھی اپنا کام دکھانے لگا تھا حضرت شیخ احمد سرہندی ؒ نے ان تمام فتنوں کے خلاف مسلمانوں کو شعور اور آگہی عطا کی ۔ علمائے سوءاور بھٹکے ہوئے صوفیاءنے اپنے اپنے مفادات کے تابع حضرت شیخ احمد رحمتہ اللہ علیہ کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی ، لیکن حضرت شیخ احمد رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے مرشد حضرت خواجہ باقی باللہ ؒ کے سونپے ہوئے مشن اور نصب العین کو پورا کرنے کا پختہ عزم کر لیا تھا۔

 اکبر اور جہانگیر کے دربار میں دوہزاری اور پنج ہزاری خلعتیں رکھنے والے متعدد درباری ان کے خلاف کھل کر سامنے آنے لگے۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ ایک طرف تبلیغ و تربیت کا فریضہ سرانجام دے رہے تھے اور دوسری طرف شاہی درباروں میں ہونے والی سازشوں کا مقابلہ کر رہے تھے۔ کئی مسلمان علماءجہانگیر کے کان بھرنے لگے اور حضرت شیخ احمد سرہندی رحمتہ اللہ علیہ کے خلاف زہراگلنے کا کام تیز تر ہو گیا۔ ادھر حضرت کی تبلیغ کے ثمرات سامنے آنے لگے اور کئی اعلیٰ افسر شیخ احمد سرہندی رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات سے متاثر ہو کر ان کے مرید بن گئے۔ سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے متاثر ہو کر جہانگیر نے حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے حامی کئی فوجی جرنیلوں کو دور دراز علاقوں میں تبدیل کر دیا اور آپ کے ایک خاص مرید جرنیل مہابت خان کو انتقام کے طور پر کابل بھیج دیا، لیکن حضرت کے پایہ ءاستقلال میں لغزش نہ آنے پائی اور انہوں نے لوگوں کو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی طرف بلانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ جہانگیر نے حکم دیا کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ ان کے دربار میں حاضر ہوں اور دربار کی روایت کے مطابق بادشاہ کو سجدئہ تعظیمی بجا لائیں۔ حضرت شیخ احمد سرہندی رحمتہ اللہ علیہ نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ سجدہ صرف خدا تعالیٰ کو رواہے اور وہ اس کے سوا نہ کسی کے سامنے جھکے ہیں اور نہ جھکیں گے ، کوئی فانی شخص سجدے کا سز اوار نہیں۔بادشاہ حضرت مجدد ا لف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے اس اعلان حق پر مشتعل ہو گیا اور اس نے غصے میں بپھر کر یہ حکم دے دیا کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کو گوالیار کے قلعہ میں بند کر دیا جائے۔ جہانگیر کے اس اقدام نے حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے پیروکاروں کو سخت مضطرب کر دیا۔ کابل سے مہابت خان نے جہانگیر کے خلاف علم بغاوت بلند کر نے کا فیصلہ کیا، لیکن حضرت مجدد الف ثانی رحمة اﷲ علیہ نے مہابت خان کو پیغام بھیجا کہ وہ اس فیصلے پر عمل سے باز رہے۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے تین سال تک قلعہ گوالیار کے قید خانے میں صعوبتیں جھیلیں اور قفس میں بھی قیدیوں کو قرآن و سنت کی تعلیم دیتے رہے، بادشاہ کے مصاحبوں کو گوالیار سے بھی مکاتیب لکھتے رہے ، انہیں اسلام کی حقانیت اور صداقت کا پیغام پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔ پھر وہ سعید گھڑی آئی، جب جہانگیر کو حضرت مجد دالف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے پیغام کی سچائی کا احساس ہوا، پھر وہ اپنی حماقتوں پر ہاتھ ملنے لگا ۔اس نے حضرت سے اپنی غلطیوں پر شرمندگی اور ندامت کا اظہار کیااور وہ تما م احکامات اور روایات منسوخ کر دی گئیں جو اکبر کے دین الٰہی کا ورثہ تھیں اور جنہوں نے اسلام کے چہرے کو دھند لادیا تھا، گمراہی کے بادل چھٹ گئے اور اسلام کا آفتاب پھر ہندوستان کے آسمان پر ضوفشاں ہو گیا۔

 حضرت شیخ احمد سرہندی ؒ مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کا وصال63سال کی عمر میں 26نومبر1624ءکو ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے وصال سے تبلیغ، تصوف، معاشرتی اصلاح، تزکیہ و تقویٰ کا وہ سورج غروب ہو گیا جو حضرت خواجہ باقی باللہ رحمتہ اللہ علیہ کے بقول صوفیاءمیں مانند ماہتاب تھااور جس نے ہندوستان میں تصوف کے وہ چراغ روشن کئے ، جن سے وہ آج تک منور چلا آرہا ہے۔ بعض بزرگ یہ فرماتے ہیں کہ عرب کے صحراو¿ں میں پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلمتوں کو اسلام کے نور سے کافور کرنے کا جو فرض سرانجام دیا تھا، ہندوستان میں ہزارہ دوم کے دوران اسے نئی زندگی اور نئی روح بخشنے کا شرف حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے حاصل کیااور تجدید و اصلاح دین کے اس کام میں مجدد الف ثانی کا کوئی ثانی نہیں۔ انہوں نے اپنے مکاتیب ، دینی تصانیف اور ان کے خلفاءاور مریدوں کی تحریری کاوشوںنے متحدہ ہندوستان میںجو اب پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش پر پھیلا ہوا ہے ، لاکھوں لوگوں کے قلوب و اذہان کو اسلام کے سانچے میںڈھالا اور انہیں اس پیغام کی طرف بلایا جو بانی اسلام حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گمراہ انسانیت کو صراط مستقیم پر لانے کے لئے لوگوں تک پہنچایا تھا۔

خانقاہ عالیہ روضہ شریف برصغیر پاک و ہند میں نقشبندی سلسلے کے مزارات مقدسہ میں مقدس ترین مقام ہے۔ اس چشمہ ،فیض کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ برصغیر کے طول و عرض سے ہزاروں افراد جوق در جوق فیض حاصل کرنے روضہ شریف آتے ہیں، اس وقت روضہ شریف کے سجادہ نشین خلیفہ حضرت سید محمد یحییٰ نقشبندی مجددی کے صاحبزادے سےدمحمد صادق رضا ہیں۔ روضہ شریف فتح گڑھ صاحب کے قریب سرہند بسی پٹھاناں روڈ پر واقع ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے سرہند شریف ریاست پٹیالہ کی ایک تحصیل تھی۔ پاکستان بننے کے بعد جب ریاستیں ختم کر دی گئیں تو سرہند شریف ضلع فتح گڑھ کی ایک تحصیل بن گئی سرہند کا شہر تین حصوں میں منقسم ہے، آبادی کا کچھ حصہ سرہند ریلوے سٹیشن کے قریب واقع ہے۔ اب کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں کا یہی مرکز ہے۔ سرہند شہریہاں سے چند کلو میڑ کے فاصلے پر واقع ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے یہاں آبادی کی اکثریت مسلمانوں کی تھی، سرہند کا تیسرا حصہ سرہند بسی ہے۔ پاکستان سے قبل بسی ایک پررونق اور آباد شہر تھا، مگر مرورایام سے اب یہ ایک پسماندہ قصبے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ روضہ شریف کا صدر دروازہ سرہند منڈی سے بسی پٹھاناں جانے والی سڑک پر واقع ہے۔ (جاری ہے)

مزید : کالم