یوں ہوتا تو، کیا ہوتا۔۔!!

یوں ہوتا تو، کیا ہوتا۔۔!!
یوں ہوتا تو، کیا ہوتا۔۔!!

  

جنوری کی ایک سرد صبح جب اخبار کی خبروں پرنگاہ دوڑائی تو یکایک ایک خبر پر نظر جم سی گئی خبر کچھ یوں تھی" تھر میںغذائی قلت کا شکار ایک اور بچہ چل بسا" دل و دماغ جیسے ساکت سا ہو گیاایک ننھی سی جان کی قیمت صرف اخبار کی ایک چھوٹی سی خبر میںآکر ختم ہوگئی۔ کتنا معمول سا ہوگیا ہے یہ کہ ۔۔۔ایک اور بچہ چل بسا۔۔۔آخر کب تک۔۔آخر کب تک یہ ننھے پھول گلستان کی زینت بنے بغیرہی گلشن کو خیرباد کہتے رہیں گے۔ آخر کب تک ارباب اختیار ان ننھے پھولوں کو ایندھن بنا کر اپنے محلات کی شمعیں روشن کرتے رہیں گے۔

ان سوچوں میں گم دماغ تاریکیوں میں ڈوبتا چلا گیا کہ یکایک عہد فاروقی کی روشنی سی نظر آئی۔ دنیا کی عظیم اور سب سے طاقتور مملکت کا حاکم عمر بن خطاب ؓ کس بات سے خوفزدہ ہے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تواس کے بارے میں بھی میری پکڑ ہوگی۔ یہ وہی عمرؓ ہیں جنھیں دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی جا چکی ہے لیکن حاضری کے دن کا اتنا خوف کہ ایک کتے کے بھوکے مرنے پر بھی خود کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ اور ہمارا یہ عالم ہے کہ خدا کی پناہ۔ ایک بچے کا بھوک سے مرنا دو سطروں کی خبر سے زیادہ کچھ ہے ہی نہیں، زیادہ سے زیادہ کیا ہوگاخبر کا نوٹس لیا جائے گا ایک بے اختیار و نام نہاد تحقیقاتی کمیشن بنا دیا جائے گا اور وہ کمیشن جب تک اپنی رپورٹ پیش کرے گا تب تک کتنے ہی اور ننھے پھول قحط کی نظر ہو چکے ہونگے۔اس کے بعد ایک دن بلاول بھٹو زرداری آفت زدہ علاقوں کا فول پروف سیکیورٹی میں دورہ کریں گے گنتی کے چند خوراک کے تھیلے تصویروں کی زینت بنائے جائیں گے اور یہ واقعہ بھی ایک اخباروں کی Archiveکا ایک حصہ بن جائے گا۔

سوچتا ہوںاگر میں بلاول ہوتا اور آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ ہوتا تو تھر سے نوڈیروں تک ایسی اصلاحات کرتا کہ میرے گوشہ چمن کا کوئی پھول بھوک سے نہ مرجھاتا۔ میں اگر بلاول ہوتا تو بھٹو جس کے نام پر 1988سے آج تک جو حکومت ورثہ میں ملی، اس بھٹو کا آبائی شہر نوڈیرو ملک کا معاشی حب ہوتا۔دنیا کی عظیم جامعات اور درسگاہیں اس شہر کی زینت ہوتیں۔ میں یہاں دنیا کے جدید سہولیات سے آراستہ ہسپتال بنواتاجہاں بین الاقوامی معیار کے Cardic, Children, Cancer, Lever, OrthoاورBurnکے شعبہ جات ہوتے۔ نوڈیرو اپنی ترقی و جدت کے باعث دنیا میں امتیازی مقام رکھتا۔ یہاں کے امیوزمنٹ پارک اور ڈزنی پارکوں کی سیاحت کے لیے امریکہ اور دیگر ممالک کے بجائے دنیا بھر سے سیاح ویزا لیکر آتے اور یہاں حکومت اور عوام کے پاس ڈالروں کی ریل پیل ہوتی۔ملک بھر سے لوگ اپنے بچوں کو نوڈیرو کے تعلیمی اداروں میں داخل کروانا باعث افتخار سمجھتے یہاں کے تعلیمی ادارے ایچی سن اور جی سی کے ہم پلہ ہوتے۔یہاں سے بڑے بڑے ڈاکٹر، انجینئر اور محقق پیدا ہوتے ۔ نوڈیروںملک کا اہم صنعتی شہر ہوتا۔

یہ سب اس لیے ہوتا کیونکہ میں بھٹو خاندان کا چشم و چراغ اور ایک فارن گر یجویٹ ہوں میرا ایک وژن ہونا چاہیے۔میری ایک سوچ ہونی چاہیے۔میری ایک ترقی پسند پالیسی ہونی چاہیے ۔ کیونکہ اگر عرب کے ریگزاروں میںدبئی جیسا عالمی معیار کا تجارتی اور سیاحتی شہر بس سکتا ہے تو یہ سب تھر میں کیوں ممکن نہیں ہو سکتا؟ لیکن سوچتا ہوں یہ سب کیونکر ممکن ہو ؟ نہ میں بلاول بھٹو ہوں اور جو بلاول بھٹو ہے اسے شاید کسی پھول کے مرجھانے سے کوئی سروکار نہیں اسے سروکار ہے تو صرف اپنا آنگن مہکانے سے خواہ اسکے لیے کتنے ہی پھولوں کی عرق ریزی کیوں نہ کرنی پڑے۔ میں تو درد دل رکھنے والا ایک عام مخلص پاکستانی ہوںمیں تو فقظ اپنے گلستان کے ننھے پھولوں کے مرجھانے پر اپنے دل کی بے بسی کو الفاظ کی مالا میں ہی پرو سکتا ہوں کہ شاید کبھی میرے قلم کی جنبش کسی ارباب اختیار کے ایوانوں کو ہلا دے۔

بقول اقبال ؒ

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

شمسی کے قلم سے۔۔

مزید :

کالم -