شکار۔۔۔۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر 32

شکار۔۔۔۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر ...
شکار۔۔۔۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر 32

  

امریکہ میں مختلف جانوروں کے شکار میں مجھے اکثر مچان (STAND)پر بیٹھنا پڑتا ہے جس کا یہاں عام رواج ہے ..... میں دیکھتا ہوں کہ وہ امریکن جو شوق شکار میں رائفلیں سنبھالے اور نارنجی جیکٹ پہنے ویرانوں میں جاکر جا بجا اسٹینڈ بناتے اور ان پر بیٹھتے ہیں ۔وہ برابر متحرک رہتے ہیں ..... اور بالا خر شکار میں ناکام ہو کر جاتے ہیں۔یہ فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کی ناکامی میں ساکت نہ رہ سکنے کا عنصر بہت زیادہ ہوتا ہے ..... 

پاکستان میں اب کوئی ایسا شکار نہیں ہوتا جس کے لیے مچان یا اسٹینڈ کی ضرورت پڑے ..... اب اس ملک میں شکار بھی کیا رہ گیا ہوگا ..... جاگیرداروں ااور زمینداروں کی بادشاہت اب بھی پاکستان میں قائم ہے ..... رشوت اور افسر شاہی کا دور اب بھی ہے ..... جس معاشرے میں کوئی انسانی زندگی اور بقا و فلاح کا ذمہ دار اور محافظ نہ ہو وہاں جانوروں کی پرواہ کسے ہوگی ..... اور شکار کس طرح باقی رہ سکتاہے ..... پاکستان قوم زندہ قوم ہے ..... انسانوں کو شکار کرتی ہے ..... جانوروں کی ضرورت بھی کم ہے ..... 

شکار۔۔۔۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر 31 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

جنگل کی شام بڑی حسین ہوتی ہے ..... یا ممکن ہے صرف مجھ کو حسین معلوم ہوتی ہو ..... اسی طرح صبح بھی بہت دلکش ہوتی ہے..... صبح تو سبھی کو حسین معلوم ہوتی ہے شرطیکہ کسی کو صبح بیدار ہونے کی عادت بھی ہو ..... امریکہ میں تو خصوصاً صبح بیداری کارواج نہیں.....حیرت کی بات ہے ..... ایک دفعہ کسی سے گفتگو ہورہی تھی ..... مچھلی کے شکار پر جانے کا پروگرام بن رہا تھا ..... میں نے اپنے دوست سے پوچھا .....’’صبح کس وقت روانگی ہوگی ..... ؟‘‘

’’بہت جلدی ..... Early morning .....‘‘

میرے لفظ میں ارلی مارننگ کے معنی ہیں علی الصباح ..... جس کی معنی ہیں سورج نکلنے کا وقت بلکہ اس سے قبل جسے صبح کا ذب کہا جاتاہے ..... 

’’کس وقت ..... پانچ بجے ..... چھ بجے ..... ؟‘‘

’’نہیں نہیں ..... ‘‘ اس نے گھبرا کر کہا ..... ’’ آٹھ بجے کے قریب‘‘

بحمدللہ ..... امریکہ میں بھی میری صبح خیزی کی عادت نہیں گئی ..... پانچ بجے کے قریب میں ہر روز اٹھتا ہوں ..... ضروریات شاور..... اورشیو کر کے آدھ گھنٹے میں تیار ہو جاتاہوں ..... فجر کی نماز ..... تلاوت اور کچھ دیر حدیث نبوی کے مطالعے کے بعد سات بجے میں دوبارہ بستر پر دراز ہو جاتا ہوں ..... آدھا گھنٹہ ایک گھنٹہ پھر سونے کے بعد اٹھتا ہوں اور اپنی لائبریری میں آبیٹھتا ہوں ..... الحمداللہ.....عروس شام اپنی ساری رعنائیوں کے ساتھ اس علاقے میں اتری ..... اور رات کی خوابگاہ کی طرف گامزن ہوگئی جہاں ..... شب رنگیں آغوش واکئے اس کے منتظر تھی ..... 

جہاں گھوڑی بندھی تھی ادھر سے بہت کم جانور گزرے ..... بندروں کے اس جتھے کے بعد جس کا میں نے تذکرہ کیا پھر دو ایک گیدڑ ضرور گزرے ..... اس کے بعد ..... سناٹا ہوگیا ..... سناٹا تو میں نے اصطلاحاً کہا ہے ورنہ جنگل میں کامل سکوت تو کسی وقت نہیں ہوتا..... کم از کم جھینگر ہی بولتے رہتے ہیں ..... پانی نزدیک ہو تو مینڈک گانے گاتے ہیں ..... 

اس وقت تو ابھی دیر میں بسیرا کرنے والے پرندوں کا نغمہ بھی ختم نہیں ہوا تھا ..... تعجب تو یہ کہ میں جس درخت پر بیٹھاتھا اس پر بھی مختلف قسم کے کئی پرندوں نے اڈے جمالیے تھے اور مجھ کو قطعاً نظر اندا زکر دیا تھا ..... اگرچہ مجھے یقین تھا کہ ان پرندوں نے مجھ کو ضرور دیکھا ہوگا..... اندھیرا ..... سارے ماحول کو سیاہ پوش کرنے پر آمادہ تھا .....اس وقت رائفل کے زبردست دھماکے نے مجھے چونکا دیا ..... عظمت خاں جہاں بیٹھا یا تھا وہ جگہ ایک میل سے زائد فاصل پر تھی..... لیکن پہاڑوں میں آواز خوب گھونجتی ہے اور ویرانوں میں رائفل کا فائر بہت دور سے سنا جا سکتاہے۔ .....عظمت نے ہی فائر کیا ..... ؟!!

لیکن ان کے فائر کی وجہ ..... ؟کیا شیر ادھر آیا ..... ؟ یقیناًایسا ہی ہوگا ..... شیر کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے ..... عظمت ایسے اناڑی نہیں تھے کہ بلاسبب فائر کرنے لگتے ..... دبے دبے شور کی آواز بھی آئی ..... عظمت میاں کے ساتھ تین آدمی اور بھی درخت پر بیٹھے تھے ..... انھیں کی آوازیں ہوں گی..... لیکن اتنے فاصلے سے آنے والی آوازوں کے بارے میں کیا کہا جا سکتاتھا ..... میں تو ان آوازوں کو ایسے سن رہا تھا جیسے مکھیاں بھنبھنا رہی ہوں ..... 

آوازیں فوراً ہی موقوف ہو گئیں اور اس کے بعد خاموشی رہی ..... ! میں مچان پر بیٹھا تھا ..... بجز اس کے کہ کسی کی جان کو شیر سے خطرہ لاحق ہو ..... میں اپنی مچان سے اترنے پر ہر گز آمادہ نہیں ہو سکتا تھا ..... اور مجھے یقین تھا کہ خدانخواستہ عظمت میاں کو اس قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا یقیناًان کو شیر نظر آیا اور انہوں نے اس پر فائر کیا .....لیکن اس اطمینان و یقین کے باوجود میری رات جس اضطراب میں گزری اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے ..... اور یہ خود میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں مضطرب کیوں ہوں ..... فائر کی آواز نرالی بات نہیں تھی ..... !

شکار کے ارادے سے ..... مسلح ہو کر ..... جو شخص گھر سے نکلتا ہے اور ویرانے یا جنگل میں وارد ہوتا ہے اس کے بارے میں سب کو یقین ہوتاہے کہ بہادر ہے ..... ہتھیار کے استعمال سے واقف ہے ..... جنگل کے نشیب و فراز کو سمجھتا ہے اوراس قابل ہے کہ کسی اتفاق کی صورت میں نہ صرف اپنا دفاع کر سکے بلکہ دوسرے ساتھیوں کی حفاظت بھی کر سکے اور عقل سے کام لے ..... نجانے کیوں مجھے عظمت میاں کی طرف س اطمینان کبھی نہیں ہوا ..... باوجودیکہ وہ ایک نہایت عقلمند ‘ مدبر یقین اور دور اندیش شخص ہیں ..... بندوقوں کے استعمال سے واقف ‘ نہایت اچھا نشانہ ..... شکار کا تجربہ ..... لیکن ..... مجھے ان کی طرف سے اطمینان کبھی نہیں ہوا ..... 

اب جبکہ وہ کینیڈا میں اپنے میں اپنے فارم پر بدستور زمینداری کی رہے ہیں ..... شکار تقریباً ترک ہی کر چکے ..... ان کی مصروفیات بھی زیادہ ہیں ..... اور عمر نے بھی ان کو اس قابل نہیں چھوڑا ..... گوعمر میں مجھ سے دو سال چھوٹے ہی ہیں ..... لیکن بعض لوگوں کا جسم جلدی جواب دینے لگتا ہے ..... ! صبح ہونے لگتی ہے تو نیند کا زبردست غلبہ ہوجاتا ہے ..... لیکن ..... ابھی پوری طرح روشنی نہیں ہوئی تھی کہ میں نے اپنی جگہ سے حرکت کی ..... پہلے اچھی طرح اطمینان کیا کہ آس پاس وموذی ..... یا کوئی اور طرہ تو نہیں ..... اس کام میں تھوڑا وقت لگا ..... اپنی رائفل رسی میں باندھ کر نیچے لٹکائی اور رسی نیچے گرادی ..... اس کے بعد خود اترنا شروع کیا ..... ابھی میں ایک شاخ سے دوسری شاخ پر ہی آہا تھا کہ میرے درخت سے کوئی پچاس ساٹھ گز پر ..... گاڑی کے راستے سے قریب ..... جھاڑی میں سے شیر نے سر نکالا ..... اور میں اپنی جگہ گویا منجمد ہو کر رہ گیا ..... 

شیر نے ذرا دیر اطراف کا جائزہ لیا ..... پھر اور باہر نکلا ..... اب وہ بالکل سامنے تھا ..... صرف ساٹھ گز پر ..... صبح کی بڑھتی ہوئی روشنی میں اس کا سارا جسم مجھے صاف نظر آرہا تھا ..... نہایت صاف اور خوش رنگ کھال ..... نہ کوئی داغ نہ دھبہ ..... چاروں ہاتھ پیر صحیح و سالم ..... میرے خیال میں وہ پختہ عمر کا صحت مند شیر تھا ..... دم کا گچھا برابر جنبش میں تھا ..... جیسے وہ کچھ سوچ رہا ہو ..... اور نظریں سیدھی گھوڑی کی طرف تھیں جو شیر کی بوسونگھ کر بھاگنے کی تدبیریں کر رہی تھی اور رسہ اس کو روکے تھا ..... 

اس نے ایک قدم بڑھا کر سر اوپر اٹھایا ..... جیسے کچھ سونگنے کی کوشش کر رہا ہو ..... شاید میری خوشبو کی کوئی موج پہنچی ہو لیکن گھوڑی کی بو اس سے زیادہ شدید رہی ہو گی جس نے شیر کو میرا خیال نہیں آنے دیا ..... اور وہ ذرا ساچل کر ایک اور جھاڑی کے پاس رکا ..... اور وہیں زمین پر بیٹھ گیا ..... وہ تقریباً ترچھا تھا ..... اور اس کا سارا سینہ ..... شانے ..... گردن اور سر ایسا صاف نشانے پر تھا کہ اگر فائر ہوتا تو گولی کا صحیح جگہ لگنا اتنا یقینی تھا جتنا ..... اب یہ کہ میرے پاس رائفل نہیں تھی ..... !اس وقت ..... یہ کہنا ضروری ہے ..... میرا دل چاہا اپنا سر پیٹ لوں ..... !میں درخت پر ..... رائفل زمین پر ..... !اور ستم بالائے ستم ..... شیر اس جگہ بیٹھ کر گھوڑی پر نظریں جمائے رہا ..... تاآنیکہ ساڑھے آٹھ بجے دوگاؤں والے آوازیں کرتے آئے جو مجھے درخت سے اتارنے آئے تھے ..... ان کی آوازیں سن کر شیر اٹھ کر جھاڑیوں کے درمیان خراماں خراماں چلتا پہاڑ کی طرف چلا گیا ..... 

گاؤں والے نزدیک آگئے تو میں نیچے اتر آیا ..... رائفل اٹھا کر ..... دل چاہا سر پر مارلوں ..... پھر شانے پر لٹکا لی ..... ایک آدمی درخت پر چڑھ کر تھرمس وغیرہ اتار لایا ..... اور ہم گاؤں کی طرف چلے ..... ’’رات کو فائر ہوا تھا ..... ‘‘ میں نے پوچھا 

وہ سب میری صورت دیکھتے رہ گئے ..... اس لیے کہ اتفاق سے ایسے دیہاتی آئے تھے جوتلگو گے علاوہ اور کسی زبان کا لفظ نہیں بول سکتے تھے ..... میں نے اپنا رخ عظمت میاں کی شکارگاہ کی طرف کر دیا ..... 

زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ وہ بھی بمعہ اپنے آدمیوں کے ادھر آتے نظر آئے ..... اور مجھے دیکھتے ہی ہنسنے لگے 

’’خیریت .....؟‘‘میں نے پوچھا 

’’اپن کا شکار ہوگیا خاں ..... ‘‘

’’اچھا ..... مگر میں نے شیر کو صبح صبح سالم دیکھا ..... ‘‘وہ اور ہنسنے ..... 

’’شیر سے کیا غرض ہیگی خاں ..... ‘‘ اب ان کے ساتھ بھی دبی دبی ہنسی ہنسنے لگے ..... 

’’پھر کیا ہوا ..... ؟‘‘میں نے پوچھا 

’’اپن نے بیل مار دیا ..... ‘‘

’’ہائیں ..... اپنا بیل ..... جو گارے کے لیے باندھا تھا ..... ؟!‘‘

’’اور کیا ..... ہے نا شکار ..... ‘‘میں پھر ہنس دیا ..... اور کیا کرتا ..... 

’’خاں اپن نے توبیل کے پاس شیر ہی دیکھا ..... یہ لوگ کہتے ہیں شیر آدھر آیا ہی نہیں ..... لیکن اپن نے خود دیکھا ہیگا ..... بس اس پر فائر کر دیا ہیگا ..... اور وہ گراہیگا ..... پھر لائٹ چلا کر دیکھا تو بیل پڑا تھا ..... صبح یہ بیل ہی امرملا ..... اس کے سینے میں گولی لگی.....‘‘میں خوب ہنسا ..... ساتھ عظمت بھی ہنستے رہے .....ایسا قصہ نہ پہلے سنا ..... نہ کوئی ایسا واقعہ دیکھا ..... 

غالباً یہ ہوا کہ عظمت میاں کی آنکھ لگ گئی ..... ان کے ساتھی تو پہلے ہی سو رہے ہوں گے ..... عظمت میاں اچانک نیند سے جاگے اور اس حالت میں ان کے وہم نے بیل کو شیر بنا دیا ..... انہوں نے بھی اسی حالت میں اندھا دھند فائر جھونک دیا ..... میں پہلے بھی لکھ چکا عظمت خاں کا نشانہ بہت اچھا تھا ..... گولی سیدھی بیل کے لگی اور وہ کچی دیوار کی طرح گر کر ختم ہوگیا .....اس کے ساتھ جو سو رہے تھے فائر کی آواز سے بڑبڑا کر اٹھے ..... اور شور کرنے لگے ان میں سے ایک تو ایسا بو کھلایا کہ جس شاخ پر بیٹھا تھا اس سے بڑبڑااہٹ میں گرا ..... وہ تو خیریت ہوئی کہ درخت سے نیچے نہیں گرا ..... قریب کی نچلی شاخوں میں الجھ کر رہ گیا ..... خراشیں تو ضرور آئیں ..... لیکن کوئی مہلک صور حال پیدا نہیں ہوئی ..... 

ساری صورت حال خاصی مضحکہ خیز تھی ..... وہ دن تو سو کر گزرا گیا ..... میں ظہر کی نماز اور ظہرانے کے لیے اٹھا ..... اس کے بعد پھر سوگیا ..... عصر کے وقت بیدار ہوا .....(جاری ہے )

شکار۔۔۔۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر 33 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -شکاری -