اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 136

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 136
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 136

  

حضرت ابو الحسن نوریؒ کی علالت کے دوران حضرت جنید بغدادیؒ مزاج پرسی کے لیے حاضر ہوئے۔ آپ نے کچھ پھل او رپھول پیش کئے۔ اس کے بعد جب آپ حضرت جنیدؒ کی بیماری میں اپنے ارادت مندوں کے ہمراہ مزاج پرسی کے لیے تشریف لے گئے تو اپنے مریدوں سے فرمایا کہ سب لوگ جنیدؒ کا مرج اپنے اوپر تقسیم کرلو۔ یہ کہتے ہی حضرت جنیدؒ تندرست ہوگئے۔

آپ نے ان سے فرمایا کہ پھل او رپھول کی بجائے اس طرح عیادت کو جانا چاہیے۔“

٭٭٭

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 135 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حضرت شیخ شمس الدین ترکؒ کلیر سے آکر پانی پت میں مقیم ہوئے۔ ایک روز ان کا مرید کسی کام سے حضرت شیخ شریف الدین بوعلی قلندرؒ کے مکان کے سامنے سے گزرا اس نے دیکھا کہ آپ شیر کی صورت میں بیٹھے ہیں۔ اس مرید نے اس بات کا ذکر حضرت شمس الدین ترکؒ سے کیا

انہوں نے اپنے مرید کو حکم دیا کہ وہ حضرت بو علی قلندرل کے مکان پر جاے اور ان کا سلام کہے اور اگر پھر ان کو شیر کی شکل میں بیٹھا دیکھے تو یہ پیغام ان کو پہنچائے کہ شیر کی جگہ جنگل میں ہے۔“

وہ مرید حکم بجالایا۔ جب وہ حضرت بو علی قلندرؒ کے پاس پہنچا تو آپ کو پھر شیر کی شکل میں بیٹھا پایا۔ اس نے حضرت شمس الدین ترکؒ کا پیغام آپ کو سنایا۔ آپ وہاں سے شیر کی صورت میں اٹھے اور باگھوئے میں جاکر قیام فرمایا۔ (باگھوئے پانی پت سے باہر ایک جگہ کا نام ہے)

٭٭٭

ایک دن حضرت جنید بغدادیؒ کی زوجہ محترمہ اپنے گھر میں بیٹھی کنگھی کررہی تھیں کہ اسی دوران حضرت ابو بکر شبلیؒ بھی وہاں جا پہنچے اور جب انہوں نے پردہ کرنے کا قصد کیا تو حضرت جنیدؒ نے فرمایا کہ پردے کی اس لیے ضرورت نہیں کہ جماعت صوفیاءکے مستوں کو فردوس و جہنم تک کی تو خبر ہوتی نہی پھر وہ بھال کسی عورت پر کیا نظر ڈال سکتے ہیں اور جب کچھ وقفہ کے بعد حضرت شبلیؒ نے رونا شروع کیا تو حضرت جنیدؒ نے اپنی زوجہ کو پردے میں چلے جانے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ اب یہ اصلی حالت پر لوٹ رہے ہیں۔ چنانچہ وہ اسی وقت پردے میں چلی گئیں۔

٭٭٭

جب حضرت شیخ رکن الدینؒ ابو الفتح چار سال کے تھے کہ آپ کے دادا حضرت بہاﺅالدین زکریاؒ تکیہ لگائے پلنگ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی دستار پلنگ کے پائے پر رکھی ہوئی تھی۔ حضرت شیخ رکن الدین کے والد حضرت صدر الدین عارفؒ پلنگ کے پاس بیٹھے تھے۔ آپ کھیلتے ہوئے پلنگ کے پائے کی طرف پہنچے اور دستار پائے پر سے اٹھا کر اپنے سر پر رکھ لی۔

آپ کے والد ماجد نے آپ کو منع فرمایا اور آپ کو دستار اتارنے کوکہا۔ آپ کے دادا حضرت بہاﺅالدین زکریاؒ نے آپ کے والد سے فرمایا ”بیٹا صدر الدین! تم اس کو منع نہ کر وکیونکہ اس نے دستار بطور حق کے اپنے سر پر رکھی ہے۔ میں نے یہ دستار اس کو دی۔“ اپنے والد کی وفات کے بعد جب آپ سجادہ نشین ہوئے تو آپ نے وہی دستار سر پر رکھی اور حضرت شیخ شہاب الدین سہروردیؒ کا خرقہ جو آپ کو والد سے ملا تھا زیب تن فرمایا۔

٭٭٭

کسی وزیر کو شیخ ابو علی سیاہؒ سے بڑی عقیدت تھی۔ اس نے ہر چند چاہا کہ آپ کی خدمت میں کوئی نذر عقیدت پیش کرے لیکن آپ نے اس سے کوئی چیز قبول نہیں فرمائی۔

کچھ دنوں کے بعد اس نے آپ کے پاس پیغام بھیجا چونکہ آپ تو کوئی چیز قبول نہیں فرماتے تھے اس لیے میں نے یہ کیا کہ آپ کی خاطر اور بہ نیت ثواب میں نے چند غلام آزاد کردئیے ہیں۔

شیخ نے پیغام کے جواب میں یہ کہلا بھیجا ”تمہارے احسان کا شکریہ ادا کرتا ہوں لیکن غلاموں کو آزاد کرانا میرا طریق نہیں ہے۔ میرا مشرب تو یہ ہے کہ جو آزاد ہیں انہیں مہر و مروت اور احسان سے غلام بناﺅں۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 137 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے