اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 137

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 137
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 137

  

حضرت شیخ رکن الدین ابو الفتحؒ کی کسر نفسی کا یہ عالم تھا کہ جب پالکی میں نکلتے تو آپ کے دونوں ہاتھ باہر نکلے ہوئے ہوتے۔ آپ اس لیے ایسا کرتے تھے کہ شاید کسی بخشے ہوئے کا ہاتھ آپ کے ہاتھ سے لگ جائے تو آپ بھی بخشے ہوئے ہوجائیں۔

٭٭٭

حضرت شیخ صدر الدین احمد طبیب دلہا ؒ دنیا سے بے نیاز تھے۔ ایک مرتبہ پریاں ایک پری زاد کے علاج کے واسطے آپ کو لے گئیں۔ وہ پری زاد آپ کے علاج سے اچھا ہوا پریوں نے ایک خط آپ کو دیا اور کہا ”شہر سے باہر فلاں کوچہ میں اس قسم کا ایک کتا ہے۔ یہ خط اس کتے کو دکھادینا۔“

آپ نے وہ خط لیا، کتا تلاش کیا۔ جب وہ خط کتے کو دکھایا تو وہ کتا اٹھا اور شہر سے باہر جاکر ایک جگہ پر کھڑا ہوگیا۔ اس مقام پر وہ کتا زمین کھودنے لگا۔ آپ اشارہ سمجھ گئے۔ آپ نے اس مقام سے خزانہ نکالا اور راہ خدامیں لٹادیا۔

٭٭٭

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 136 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک کیمیا گر حضرت جلال الدین محمد کبیر الاولیاءؒ کے ایک صاحبزادے کے پاس آیا اور ان کا فقر و فاقہ دیکھ کر ان کو کیمیا سکھانے کا وعدہ کیا۔

انہوں نے آپ سے ذکر کیا۔ آپ نے بیٹے کی بات سننے کے بعد حجرے کی دیوار پر ٹھوکا۔ حجرہ سونے کا ہوگیا۔

آپ نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا”کیمیائے سعادت سیکھنا سب سے بہتر ہے۔“

٭٭٭

ایک قلندر جس کا نام علی تھا بہت سے قلندروں کو ہمراہ لے کر حضرت پیر سید اشرف جہانگیر سمنانیؒ کے پاس آیا اور آپ سے دریافت کیا کہ ”جہانگیری کہاں سے پائی؟“

آپ نے جواب دیا کہ ”اپنے پیرومرشد سے۔“

اس نے کہا ”کہ اس کا کیا ثبوت ہے؟“

یہ سن کر آپ کو غصہ آیا۔ وہ قلندر آپ کے غصے کی تاب نہ لاکر زمین پر گرا اور مرگیا۔

٭٭٭

حضرت جنید بغدادیؒ سے سوال کیا گیا ”کیا وجہ ہے کہ آدمی سکون سے ہوتا ہے پھر جب سماع سنتا ہے تو بے قرار ہوجاتا ہے۔“

آپ نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے جب ارواح کو مخاطب کرکے فرمایا ”الست بربکم“ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا ”بلیٰ“ یعنی ہاں، تو ہمارا رب ہے۔ اس قول کی حلاوت اور ارواح میں رچ گئی۔ اس لیے جب لوگ سماع سنتے ہیں تو وہی حلاوت یاد آتی ہے او ربے قرار کردیتی ہے۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 138 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے