اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 138

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 138
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 138

  

حضرت شیخ ابوبکر کتانیؒ فرماتے ہیں کہ میرے ہمراہ ایک ایسا شخص رہتا تھا جس کا وجود میرے لیے بار خاطر تھا لیکن محض مخالفت نفس کی غرض سے میں اس کے ساتھ نہایت حسن سلوک سے پیش آتا رہا اور ایک دن جب میں اپنی جائز کمائی سے دو سو درہم لے کر اس کے پاس پہنچا تو وہ مصروف عبادت تھا۔ چنانچہ میں نے وہ درہم اس کے مصلے کے نیچے رکھتے ہوئے کہا ”تم اپنے صرفہ میں لے آنا۔“

مگر اس نے غضب ناک ہو کر کہا کہ جو لمحات میں نے ستر ہزار درہم کے معاوضہ میں خریدے ہیں انہیں تو دوسو درہم کے معاوضہ میں خریدنا چاہتا ہے۔ جا مجھے تیرے درہم کی ضرورت نہیں۔“

چنانچہ ندامت کے ساتھ میں نے اپنے درہم واپس لے لیے اور اس وقت مجھے جتنا اپنی ذلت او راس کی عظمت کا احساس ہوا اس سے قبل کبھی نہیں ہوا تھا۔

٭٭٭

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 137 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

جب لوگ خلجی بادشاہوں کے سامنے جاتے تھے تو لوگ جھک کر اور انگشت شہادت کو زمین پر رکھ کر سلام کرتے تھے۔ حضرت شیخ احمد مجدد شیبانیؒ بادشاہ کے روبرو حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ”آپ کو جس طرح سلام کیا جاتا ہے وہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے اور یہ طریقہ بدعت ہے۔“

اس کے بعد آپ نے بادشاہ کو سلام کیا اور اس کے برابر جا بیٹھے۔

٭٭٭

سلیمان بن عبدالملک خلیفہ تھا۔ وہ جب مدینہ منورہ پہنچا تو حضرت ابو حازمؒ کو اپنے پاس بلوایا جو کہ بہت بڑے عالم دین تھے اور پوچھا ”آخر کیا بات ہے کہ ہم موت سے اس درجہ ناخوش ہوتے ہیں؟

ابوھاذمؒ نے فرمایا ”اس لیے کہ تم نے دنیا کو بڑے چاﺅ اور اور رغبت سے آباد کررکھا ہے اور عاقبت کو غفلت و تسابل سے اجاڑ دیا ہوا ہے اور جو شخص آبادی سے ویران اور سنسان جگہ پر جائے وہ ناخوش ہوا ہی کرتا ہے۔“

پھر خلیفہ نے سوال کیا ”لوگ جب اللہ کے حضور جائیں گے تو ان کا کیاحال ہوگا؟“ آپ نے فرمایا ”نیک لوگوں کا وہاں جانا تو ایسا ہی ہوگا جیسا کہ سفر سے واپس آنے والے کسی شخص کا اپنے عزیزوں کے ہاں جانا ہوتا ہے اور بدکار شخص وہاں ایسے جائے گا جیسے کوئی بھاگا ہوا غلام ہوجسے زبردستی پکڑ کر اس کے مالک کے پاس لے جایا جارہا ہو۔“

خلیفہ نے کہا ”اے کاش! مجھے معلوم ہوتا کہ میرا کیا حال ہوگا؟“

آپ نے فرمایا ”قرآن شریف دیکھ لے تاکہ تجھے معلوم ہوجائے کہ ارشاد باری تعالیٰ کس قدر واضح ہے کہ ”نیک لوگ بے شک آسائش میں ہوں گے اور بدکار لوگ (کافر) بے شک دوزخ میں ہوں گے۔“

خلیفہ نے پھر پوچھا ”اللہ تعالیٰ کی رحمت کہاں ہوگی؟“

فرمایا ”بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت قریب ہے، نیک کام کرنے والوں کے لیے۔“

٭٭٭

یہ مثل مشہور ہے کہ ”مرتے کو مارے زندہ شاہ مدار“ جب کوئی شخص کسی تکلیف یا مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے اور اس پر کوئی نئی مصیبت یا تکلیف وارد ہوتی ہے یا اس پر مزید کوئی ظلم ہوتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ ”مرتے کو ماریں زندہ شاہ مدار“ اس مثل کے مضمرات سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔

اس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت بدیع الدین مدارؒ کو یہ قدرت حاصل تھی کہ جو صوفی مرتبہ فنا میں ہوتے تھے آپ ان کو اس مقام سے نکال کر مرتبہ فناءالفنا میں پہنچا دیتے۔

٭٭٭

ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری بی بی پر بچہ کی ولادت مشکل ہوگئی، کسی طرح سے خلاصی نہیں ہوتی تھی۔ مَیں حضرت ابو الحسن دینوریؒ کے پاس ایک شیشہ کا گلاس لے کر گیا تاکہ آپ کی تحریر کی برکت سے کامیابی ہوجائے۔

جب آپ نے اس پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا تو فوراً گلاس ٹوٹ گیا اور شیخ پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔ میں دوسرا گلاس لے آیا۔ وہی ہوا جو پہلے ہو اتھا۔ پھر تیسرا پھر چوتھا پھر پانچواں لاتا گیا اور وہی حالت ہوتی گئی۔

آخر آپ نے فرمایا”اے شخص! کسی اور سے لکھوالے میرے پاس جس قدر گلاس لائے گا سب ٹوٹ جائیں گے۔ کیونکہ میں ایک بندہ ہوں۔ جب اپنے مولا کو یاد کرتا ہوں تو ہیبت اور حضور کے ساتھ یاد کرتا ہوں۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 139 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے