کورونا وائرس: اپوزیشن کوئی متبادل پروگرام پیش کرے!

کورونا وائرس: اپوزیشن کوئی متبادل پروگرام پیش کرے!
کورونا وائرس: اپوزیشن کوئی متبادل پروگرام پیش کرے!

  

نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا پر کورونا وائرس کی ایسی بھرمار ہے کہ اس موضوع پر کوئی کالم وغیرہ لکھنا تحصیلِ حاصل کے مترادف ہے۔ اپنے نیشنل میڈیا پر تو اعداد و شمار کا ایک گورکھ دھندا صبح و شام و شب دہرایا جاتا ہے۔اینکر خواتین و حضرات ہر وقت یہی جگالی کرتے رہتے ہیں کہ فلاں صوبے میں اتنے کیس رپورٹ ہوئے، اتنے کیس صحت یاب ہو کر گھروں کو واپس چلے گئے اور اتنی اموات ہو گئیں …… اور بس…… پاکستان کی آبادی 22کروڑ ہے۔ ان سب کو تو ٹیسٹ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایک چوتھائی آبادی کو بھی ٹیسٹ کرنا مقصود ہو تو پانچ کروڑ ٹیسٹنگ کِٹس کی ضرورت ہو گی…… کیا پاکستان میں اتنی تعداد میں یہ Kits میسر ہیں؟ اور کیا اتنا طبی عملہ بھی فراہم ہے کہ معلوم کیا جا سکے کہ کتنے لوگ نیگیٹو ہیں اور کتنے پازیٹو ہیں۔ اگر پازیٹو ہوں تو ان کو اگلے مرحلے میں کیسے لے کے جانا ہے۔ کیا ملک میں اتنے ماسک، تحفظی لباس اور وینٹی لیٹر بھی موجود ہیں اور کیا اتنی تعداد میں فیلڈ ہسپتال بھی زمین پر ہیں؟…… ظاہر ہے کہ ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہے اور اگر ایسا ہے تو میڈیاکا ہر دن رات یہ اعداد و شمار جاری کرنا کہ فلاں تعداد ٹیسٹ کی گئی ہے، فلاں پازیٹو ہے اور فلاں موت کے منہ میں جا چکی ہے، ایک فضول سی تکرار ہے۔ لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو میڈیا کے پاس اور کچھ کہنے کو ہے بھی کیا؟

انڈین میدیا کو دیکھتا اور سنتا ہوں یا بین الاقوامی میڈیا کی طرف رجوع کرتا ہوں تو وہاں بھی یہی آموختہ دہرایا جا رہا ہوتا ہے کہ فلاں ملک میں فلاں تعداد موت کا شکار ہوئی اور فلاح تعداد زیرِ علاج ہے۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ آج اس کورونا وائرس کے سامنے مشرق کی بجائے مغرب لاچار اور بے بس ہے۔ کوئی دوا، کوئی ٹیکہ اور کوئی کیپسول ایسا ایجاد نہیں ہو رہا جس کے استعمال سے کورونا کا کوئی مداوا ہو سکے۔ بنی نوعِ انسان کی یہ بے بسی اس کے نائب خدا ہونے کے غبارے سے ساری ہوا نکال رہی ہے اور خدائے واحد کی قہاری و جباری و جبروت کا ڈھنڈورہ پیٹ رہی ہے۔ آج جو انسان سورج کی شعاعوں کو گرفتار کرنے کا دعویدار بنا ہوا ہے وہ زندگی کی شبِ تار سحر نہیں کر سکا اور ستاروں پر کمندیں ڈالنے والا ناسا NASAآج خوار و زبوں ہے۔

پاکستان کی سیاسی ٹیکٹکس کا ماضی و حال میرے سامنے ہے۔ 14اگست 1947ء کو جب پاکستان کا ظہور ہوا تو میں پرائمری سکول کا ایک ”ہونہار“ طالب علم تھا۔ یہ ڈینگ مارنے کی ضرورت یوں پیش آئی کہ پاکستان کی 72،73 سالہ تاریخ میری نگاہوں کے سامنے ایک کھلی کتاب ہے۔ گزشتہ تین عشروں میں نون لیگ اور پاکستان پیپلزپارٹی باریاں لیتی رہی۔ اور قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک کے سات عشروں میں چار مارشل لائی ادوار بھی آئے۔ ان تمام عشروں میں پاکستان کے محکمہ صحت نے نجانے کتنے لاکھوں ہزاروں ڈاکٹروں کو پروڈیوس کیا، ہومیو پیتھی اور یونانی طریقہ ء علاج کے ماہرین کا ایک جم غفیر آج بھی ملک میں موجود ہے اور ایلوپیتھی کے کتنے ڈاکٹر ہیں جو بیرونی ممالک سے اعلیٰ ڈگریاں لے کر آئے اور پاکستان کے طول و عرض میں پریکٹس کر رہے ہیں …… کیا ان سب کی پروفیشنل عقل و دانش کورونا گزیدگی کا کوئی توڑ دریافت نہیں کر سکی؟…… ان کا جواب شائد یہ ہو کہ اگر امریکہ اور یور پ کی طبی برادری ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ گئی ہے اور پاکستان سے کئی گنا زیادہ کورونائی اموات کا کوئی علاج دریافت نہیں کر سکی تو ہم کس باغ کی مولی ہیں؟ لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر نئی ایجاد کا سہرا سفید فام اقوام ہی کے سرباندھا جائے۔ کیا پاکستان کا کوئی ”خاکی فام“ ڈاکٹر ایسی ویکسین ایجاد نہیں کر سکتا جو دنیا کی تاریخ میں ایک مثال بن جائے؟…… لوئی پاسچر نے جب اینٹی بایوٹک پنسلین ایجاد کی تھی تو فرانس کی حیثیت کسی ورلڈ پاور کی نہیں تھی اور الفرڈ نوبل نے جب ڈائنامیٹ ایجاد کیا تھا تو اقوامِ عالم میں سویڈن کی حیثیت کیا تھی؟ سوچتا ہوں کہ کوئی پاکستانی ڈاکٹر اس فکر کا حامل کیوں نہیں ہوتا کہ وہ اس وبا کا کوئی ایسا توڑ دریافت کرلے جو اس کے نام کے ساتھ پاکستان کے نام کو بھی زندۂ جاوید کر دے!

پھر مجھے شوکت خانم ہسپتال کی یاد آتی ہے۔ عمران خان اس کے چیئرمین ہیں اور آج پاکستان کے وزیراعظم بھی ہیں۔ پشاور اور کراچی میں بھی ایک ایک کینسر ہسپتال زیر تعمیر ہے۔ ان ہسپتالوں کا میڈیکل سٹاف وزیراعظم نے جب منتخب کیا تھا (یا کریں گے) تو کس عالمی ادارے سے مدد لی تھی…… ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) آج منقار زیرِ پر کیوں ہے؟ اگر امریکی صدر نے اس کا بجٹ روک لیا ہے تو اس کے وابستگانِ دامن کا پیشہ ورانہ علم و ہنر تو ان سے نہیں چھینا۔چین کے جن ڈاکٹروں نے ووہان میں کورونا کو روکا کیا ان کا علم و فضل صرف لاک ڈاؤن تک محدود تھا؟…… جنوبی کوریا نے کورونا سے کیسے جان چھڑائی؟…… کیا باقی دنیا ان کے تجربات کی تقلید کرنے سے قاصر ہے؟ اگر امریکہ اور مغربی یورپ کے ترقی یافتہ ممالک آج بھی کورونا کے سامنے عاجز ہیں تو پاکستان میں لاک ڈاؤن کرنے یا نہ کرنے پر صبح و شام و شب میڈیا پر آزمائے ہوئے اینکروں کو کیوں آزمایا جا رہا ہے؟ ہمارے ڈاکٹر ظفر مرزا صاحب کو سلام اور ہماری پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد صاحبہ کو بھی سات سلام لیکن تحریک انصاف کی اس میڈیکل ٹیم نے گزشتہ دو تین ماہ میں ایسا کون سا تیر مار لیا ہے جو ان کو ملک کی باقی طبی برادری سے ممتاز کرتا ہے؟ عدالت عظمیٰ نے ٹھیک ہی نشاندہی کی تھی کہ ڈاکٹر ظفر مرزا کو ٹیلی ویژن پر اتنی کوریج اور پذیرائی کیوں دی جا رہی ہے؟

وزیراعظم ایک عرصے سے اپنے متعدد خطابات میں عوام کو خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ کورونا سے بچو۔ لیکن اگر اس ”بچو“ سے مراد سماجی دوری وغیرہ ہے تو پھر لاک ڈاؤن کو نرم کرنا چہ معنی دارد یا ”نیمے دروں“ نیمے بروں“ والی کیفیت میں آدھے ہفتے میں سخت لاک ڈاؤن اور آدھے میں نرم لاک ڈاؤن کا کیا مطلب؟…… سیدھے سبھاؤ یہ کیوں نہیں کہہ دیا جاتا کہ ہم اس آزار کے ہاتھوں لاچار ہیں۔ اس کا بندوبست عوام کو خود ہی کرنا ہوگا۔ خان صاحب فرماتے ہیں کہ وہ غریبوں کے انجام سے خائف ہیں، لیکن کیا ان کو معلوم نہیں کہ غریبوں کے انجام کے ساتھ امیروں کا انجام بھی وابستہ ہے؟…… اشرافیہ کب تک کورونا کے وار سہ سکے گا؟ اس کا توڑ لاک ڈاؤن سخت یا نرم کرنے میں نہیں، اس کا علاج دریافت کرنے میں ہے۔

پاکستان کی اپوزیشن کا حال ”حکومتی حال“ سے بھی ابتر ہے…… شہباز شریف قائد حزبِ اختلاف بن کر قر نطینہ میں جا بیٹھے ہیں۔ بلاول بھٹو بھی کبھی کبھار میڈیا کے سامنے آکر کوئی نہ کوئی درفنطنی چھوڑ دیتے ہیں۔ کیا یہ وقت درفنطنیاں چھوڑنے یا کسی کمرے میں بند ہو کر اور لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ کر بازو اور ہاتھ ہلانے کا ہے؟ ان کا فرض ہے کہ وہ باہر نکلیں، عوام میں جائیں اور ان کو دکھائیں کہ دیکھو جب عمران خان اپنے قصرِ وزیراعظم میں محصور ہے تو آپ کا عوامی لیڈر آپ کے ساتھ ہے، وہ آپ کے دکھ درد میں شریک ہے، اگر آپ کو کورونا ہوتا ہے تو میں بھی حاضر ہوں۔ میرے رسولؐ نے تو مسجدِ نبوی کی تعمیر میں پیٹ پر پتھر باندھ کر عوام کا ساتھ دیا تھا۔ مجھے 101فیصد یقین ہے اگر شہبازشریف ایک بار اپنے آئسولیشن وارڈ سے باہر نکل کر عوام کو صرف یہ بتا دیں کہ وہ ان کی غمی خوشی میں شریک ہیں تو اگلا الیکشن ان کی جھولی میں آگرے گا اور وہ واقعی ایک قومی ہیرو بن جائیں گے…… چلو اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو اپنے دور کی کسی میڈیکل ٹیم کو لانچ کر دیں۔

جس طرح حکومت اپنے ڈاکٹر ظفر مرزا کو دن رات میڈیا پر لا کر اعداد و شمار کی تکرار کرواتی ہے، اسی طرح نون لیگ بھی اپنے کسی ڈاکٹر عدنان کو سامنے لائے۔ یہ ایک متبادل میڈیکل ٹیم ہو گی۔ کورونا سے بچنے کا کوئی ایسا متبادل پروگرام بھی سامنے لایا جائے جو عوام میں سندِ قبولیت حاصل کر سکے اور حکومت کی میڈیکل ٹیم کے بیانیے کو اگر جھٹلا نہ سکے تو گہنا تو دے!…… نون لیگ کے دوسرے قائدین کو اپنے لیڈر سے ملاقات کرکے ان کو یہ مشورہ ضرور دینا چاہیے اور الیکٹرانک میڈیا پر منہ پر ماسک چڑھا کر ٹاک شوز میں جلوہ فرما ہونے کی بجائے عوام کا ساتھ دینا چاہیے۔ایک عوامی جلسہ ایسا کرکے دکھانا چاہیے کہ جس میں سارے شرکاء کے منہ پر ماسک چڑھائے ہوں، سماجی فاصلوں کے ڈسپلن کا مظاہرہ کیا ہو، جلسہ گاہ کو سینی ٹائز کیا ہو اور پاکستان تحریک انصاف کی ”کارکردگی“ کا نکتہ بہ نکتہ اور نقطہ بہ نقطہ جواب دیا ہو۔ اگر ایسا ایک جلسہ بھی ہو جائے تو حکومتی کارگزاری کا سارا پول کھل جائے گا…… اور اگر ایسا کرنے کی ہمت نہیں اور آئسولیشن وارڈوں میں بیٹھ کر بازو چلانے ہیں تو ایسی گل فشانیوں سے احتراز بہتر ہے!

مزید :

رائے -کالم -