مقبوضہ کشمیر کی قیادت سے مذاکرات کئے جائیں

مقبوضہ کشمیر کی قیادت سے مذاکرات کئے جائیں

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ اگر افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات ہو سکتے ہیں تو جموں و کشمیر میں سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کیوں نہیں ہو سکتی،اُن کا کہنا تھا کہ اگر مودی حکومت کے لئے ایسے اجلاس میں ’’غیر سرکاری شرکت‘‘ ضروری ہے،جس میں طالبان بھی موجود تھے اور جن کی موجودگی میں کسی بھی شریک مذاکرات مُلک کو اعتراض نہیں تھا، تو پھر جموں و کشمیر میں ’’صوبائی خود مختاری‘‘ کی بحالی کے لئے غیر سرکاری مذاکرات کیوں نہیں ہو سکتے۔اگرچہ مقبوضہ کشمیر کی کل جماعتی حریت قیادت کا نقطہ نظر عمر عبداللہ سے مختلف ہے اور وہ کامل آزادی سے کم کسی حل پر اتفاق نہیں کرتی،لیکن مذاکرات کا دروازہ انہوں نے بھی بند نہیں کیا۔یہ جماعتیں ریاست میں عام انتخابات کا بائیکاٹ کرتی ہیں،جبکہ عمر عبداللہ اور اُن کے والد ڈاکٹر فاروق عبداللہ کئی بار الیکشن لڑ کر وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں،بلکہ اِس سے بھی پہلے شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ بھی ریاست کے وزیراعظم تھے،لیکن ریاست میں بھارتی فوج نے ظلم و ستم کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اس کے خاتمے کے لئے ریاست کی وہ تمام جماعتیں بھی مذاکرات کی بات کر رہی ہیں، جو عام انتخابات میں حصہ لیتی ہیں اور اُن کے نمائندے ریاستی اسمبلی میں بیٹھے ہیں ان میں پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی بھی شامل ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں حالات اِس حد تک خراب ہیں کہ پوری دُنیا کو ان پر تشویش ہے،بھارتی حکومت نے حالات کا جائزہ لینے کے لئے جو بھی وفود ریاست میں بھیجے اُن سب نے آ کر مودی سرکار کو یہی مشورہ دیا کہ کشمیر ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے،اِس لئے مذاکرات کا آغاز کیا جائے،لیکن مودی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں اور اب تو اگلے سال کے وسط میں لوک سبھا کے انتخابات ہو رہے ہیں جو وہ ہندو ووٹ کے ذریعے جیتنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں،اِس لئے یہ امکان تو نہیں کہ وہ مذاکرات کی طرف آئیں گے،لیکن انہیں مشورہ دینے والے اگر مذاکرات کی بات کر رہے ہیں تو بہتر ہے وہ انسانی المیوں کو کم کرنے کے لئے مقبوضہ کشمیر کی پوری قیادت سے مذاکرات کریں اور ریاست کے باشندوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے دیں۔ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کا بہترین حل رائے شماری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

مزید : رائے /اداریہ