اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر29

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر29
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر29

  

حضرت خضرؑ فرماتے ہیں۔ ’’ ایک ابدال نے مجھ سے پوچھا۔ ’’ آپ نے کسی ایسے خدا کے ولی کو دیکھا جو آپ سے درجہ میں بڑا ہو۔‘‘

اس نے جواب دیا۔ ’’ہاں ، میں حضرت محمد رسول ﷺ کی مسجد میں گیا وہاں شیخ عبدالرزاقؒ کو دیکھا ۔ ان کے گرد ایک گروہ بیٹھا حدیث پاک سن رہا تھا اور مسجد شریف کے ایک کونے میں ایک جوان زانوؤں میں سر دیئے بیٹھا تھا۔

میں نے اس سے کہا: ’’ اے جوان ! کیا تم نہیں جانتے کہ لوگوں شیخ عبدالرزاق سے حدیث پاک سن رہے ہیں تم ان کے ساتھ کیوں نہیں سنتے۔‘‘ اس جوان نے میرے کہنے کی کچھ راہ پرواہ نہیں کی اور نہ سر اُٹھایا اور کہا ۔ ’’ وہاں وہ لوگ ہیں جو عبدالرزاق سے حدیث سنتے ہیں اور یہاں وہ لوگ ہیں جو رزاق سے سنتے ہیں نہ کہ اس کے بندے سے‘‘۔

میں نے کہا ۔ ’’ اگر تمہارا کہنا سچ ہے تو بتاؤ میں کون ہوں۔‘‘‘ اس جوان نے سر اٹھا کر کہا ۔ ’’ اگر فراست و سمجھ مومن کی سچ ہے۔ توآپ خضرؑ ہیں‘‘۔ اس پر میں نے اپنے جی میں کہا کہ اللہ کے دوست بھی ہیں جن کی بوجہ اُن کے عالی مرتبہ ہونے کے میں نہیں پہنچانتا ۔ ‘‘

***

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر28پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک مرتبہ حاجی امدادؒ اللہ کے ہاں بہت سے مہمان آگئے۔ کھانا کم تھا ۔ حضرت نے اپنا رومال بھیج دیا کہ اس سے کھانے کو ڈھانک دو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ اس سے کھانے میں ایسی برکت ہوئی کہ سب نے کھانا کھا لیا اور کھانا بچ بھی گیا۔

حضرت حافظ ضامنؒ کو آپ کی اس کرامت کا علم ہوا تو عرض کیا کہ حضرت آپ کا رومال سلامت چاہیے ، اب قحط کیوں پڑے گا؟

حضرت شرمندہ ہوگئے اور فرمایا۔ ’’ واقعی غلطی ہوگئی توبہ کرتا ہوں پھر ایسا نہ ہوگا۔ ‘‘

***

ایک مرتبہ حضرت سفیان ثوریؒ ، رابعہ بصریؒ کی زیارت کے لیے آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک امیر کبیر آدمی نہایت افسردہ کھڑا ہے۔ آپ نے پوچھا تو وہ کہنے لگا۔

’’میں دنیاروں کی ایک تھیلی نذر کے لیے لایا ہوں مگر جناب رابعہؒ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ہوسکے تو آپ ہی میری سفارش کردیں۔‘‘

اس پر حضرت سفیان ثوریؒ اندر گئے اور اس آدمی کا پیغام پہنچایا۔ حضرت رابعہؒ نے روتے ہوئے کہا۔

’’ پروردگار جانتا ہے کہ میں اس سے دنیا مانگنے میں عار محسوس کرتی ہوں حالاں کہ وہ تمام دنیا کا مالک ہے۔ بھلا ایسے شخص سے کیوں کر کچھ لوں جو اس کا مالک نہیں ہے۔‘‘

***

ایک مدت تک مولانا رومؒ کو شمس تبریزؒ کی جدائی نے بے قرار وبے تاب رکھا ۔ ایک دن اسی جوش و خروش کی حالت میں گھر سے نکلے۔ راستے میں شیخ صلاح الدین زرکوب کی دکان تھی وہ چاندی کے ورق کوٹ رہے تھے۔

مولانا پر ہتھوڑے کی آواز نے سماع کو اثر پیدا کیا۔ وہیں کھڑے ہوگئے اور وجد کی حالت طاری ہوگئی۔ شیخ صلاح الدین مولانا کی حالت دیکھ کر اسی طرح ورق کوٹتے رہے یہاں تک کہ بہت سی چاندی ضائع ہوگئی لیکن انہوں نے ہاتھ نہ روکا۔

آخر شیخ زرکوب باہر نکل آئے۔ مولانا نے ان کو آغوش میں لے لیا اور اس جوش و مستی میں دوپہر سے عصرتک یہ شعر گاتے رہے۔

یکے نجے پد ید آمدازین کان زرکوبی

زہے صورب زہے معنی زہنے خوبی زہے خوبی

شیخ صلاح الدین نے وہیں کھڑے کھڑے دکان لٹوادی اور دامن جھاڑ کر مولانا کے ساتھ ہوگئے۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے