اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 36

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 36

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بخت نصر شاہ بابل کے فوج چھ حصوں میں بٹ کر یروشلم سے بابل کی طرف روانہ ہوئی تھی۔ ہراوّل فوج میں ہاتھیوں کے دستے تھے۔ اس کے بعد گھڑ سوار فوج تھی جس کے وسط میں شاہ بابل کا تخت رواں تھا۔ شاہ شامیانہ لگا تھا اور سرا پردہ کھنچا ہوا تھا۔ شاہ بابل بخت نصر زرہ پہنے تخت پر متمکن تھا اور غلام سرجھکائے کھڑے چنور ہلا رے تھے۔ اس کے پیچھے گھڑ سوار فوج تھی جو ایک خاص فاصلے پر تھی تاکہ شہنشاہ تک گھوڑوں کی اٹھائی ہوئی گردنہ پہنچ سکے۔ فوج کے سقوں کا خصوصی دستہ تخت رواں کے آگے آگے چھڑکاؤ کرتا جاتا تھا۔ گھڑ سوار فوج کے پیچھے پیدل فوج تھی اور بڑی بڑی منجنیقیں اور قلعہ شکن لکڑی اور لوہے کی توپیں تھیں جن کے آگے فولاد کے دیوہیکل برمے لگے ہوئے تھے۔ پھر آتش بار توپیں تھیں۔ جن سے نیزوں کو آگ لگا کر قلعے پھر پھینکا جاتا تھا اور یہ سفر دریا کے ساتھ ساتھ جاری تھا۔ راستے میں جو شہر اور دیہات پڑتے فوج انہیں تاخت و تاراج کر دیتی۔ لوگوں کو قتل کر دیا جاتا اور عورتوں کو اغواء کر لیا جاتا اور اناج اور دوسرا سامان لوٹ لیا جاتا۔ بیت المقدس کو ملیا میٹ کرنے کے بعد بخت نصر نے ایک سرخ چونے کا کتبہ تیار کروا کر لگوایا جس پر لکھ تھا۔

’’ میں نے یروشلم کو فتح کرنے کے بعد عمارتوں کو آگ لگا دی ۔ ہیکل سلیمانی کو زمین بوس کر دیا اور جلی ہوئی عمارتوں کو زمین کے ساتھ مل اکر ان پر ہل چلوا دیئے۔ ‘‘

گھڑ سوار فوج کے بعد پیدل دستوں کے درمیان ہم اسیران بابلی کا قافلہ افتان و خیزاں رواں تھا۔ ہزاروں اہل یہود پابہ زنجیر گریہ و زاری کرتے زبوں خالی کے عالم میں بابل کے قید خانوں کی طرف رواں تھا۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ہمارے پیچھے سینکڑوں رتھوں پر رتھ بردار فوجی دستوں کا قافلہ تھا جس کے ساتھ بنی اسرائیل کی اغواء کی ہوئی حسین و جمیل عورتیں تھیں جو بال کھولے آہ و زاری کرتی ان کے ہمراہ چل رہی تھیں۔ ان میں میری یہودی دوست نفتانی بھی تھی جس کان کا ایک سبز نگینے والا بندی میری جیب میں رکھا ہوا تھا۔ ہم میں سے کوئی پیچھے جا کر ان عورتوں سے بات نہیں کر سکتا تھا۔ اسیران بابل میں سینکڑوں ایسے یہودی بھی تھے جن کی بہنیں اور بیٹیاں اشوری سپاہیوں کی کنیزیں بن کر ان کے ساتھ قیدی بنی آرہی تھیں مگر کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ ان کی خیریت دریافت کر سکتیں۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 35پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہم قیدیوں کے پاؤں میں ایک لمبی اور مسلسل زنجیر تھی جس میں ہم سب بندھے ہوئے تھے اور آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ یہ ایک طویل اور مصائب سے پر سفر تھا۔ بیت المقدس سے بابل تک پہنچنے میں چھتیس دن لگے۔ اس عرصے میں سینکڑوں قیدی مرد اور عورتیں راستے میں ہی بھوک پیاس اور تھکن سے چور ہو کر مرگئیں۔ جو قیدی مردیا عورت مرجاتا وہیں زنجیر کھول کر اس کی لاش کو صحرا کی دھوپ میں پھینک دیا جاتا تاکہ وی گدھوں کی خوراک بن جائے۔

مجھے ایک غم یہ بھی لگا ہوا تھا کہ کہیں ۔۔۔ معصوم صورت نفتانی بھی راستے بھی دم نہ توڑ گئی ہو۔ میں اس کی شکل دیکھنے کو بے تاب تھا تاکہ میرے دل کو تسلی ہو جائے اور پھر اسے وہاں سے نکال کر کسی دوسرے ملک کی طرف لے چلوں۔ مگر ہمیں بابل شہر کے باہر ایک کھلے میدان مین چاروں طرف لوہے کی باڑھ لگا کر قید میں ڈال دیا گیا۔ میں حالات کے پر سکون ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔ بابل وہ شہر نہیں تھا جو حموربی کے عہد میں تھا۔ حموربی کے دور میں شہر کی صنعت ترقی پر تھی اور لوگ خوشحال تھے۔ مجرموں پر اگرچہ قانون کی گرفت سخت تھی لیکن بخت نصر کے عہد میں بابل کے غریب لوگ بہت غریب اور اشراف طبقہ انتہائی امیر ہوگیا تھا۔ بادشاہ ظالم ، عیاش اور جاہ وچشم کاشیدائی تھا۔ اس نے حموربی کے قدیم محل کو مسمار کر کے اس کی جگہ ایک نیا علیشان محل تعمیر کروایا تھا جس میں چونے کے پتھر کے ایک ہزار ستون تھے جن پر سونے کا پترا چڑھا ہوا تھا اور چھتوں میں ہیرے جڑے تھے۔ اس ظالم اور بربریت پسند بادشاہ نے چاہ بابل کو بدقسمت مجرموں سے بھر دیا تھا اور پھر سے مینار بابل تعمیر کروایا جس کی بنیاد دو میل کے گھیراؤ میں تھی۔ یہ دو سو چالیس فٹ چوڑا اور تین سو فٹ اونچا تھا۔ دس دس گز لمبے زینوں کا ایک خاص راستہ چوٹی تک جاتا تھا۔ مینار کی چوٹی پر دیوتا بعل مردوخ کا اڑتالیس فٹ بلند عظیم الشان مندر تھا۔ جس میں بعل مردوخ کا سونے کا بت رکھا تھا۔ بت کے اردگرد سونے کا فرنیچر تھا۔ اس میں استعمال کئے گئے سونے کا وزن آج کے حساب سے چھبیس ٹن تھا۔ بخت نصر نے ایک مرکزی شاہراہ بھی تعمیر کروائی جو تہتر فٹ چوڑی تھی اور اس کے دونوں جانب بائیس فٹ اونچی دیوار تھی۔ اس سڑک کی تعمیر میں اینٹیں اور سفید دودھیا پتھر استعمال کیا گیا۔ سڑک کے دو طرفہ چونے کی سلیں لگی تھیں۔ جن پر لکھا تھا۔

’’ میں بخت نصر ابن نبوپولا سرشاہ بابل نے یہ سڑک اینٹوں اور سفید پتھروں سے بنوائی تاکہ بعل مردوخ کو جانے والے جلوس اس سڑک پر سے گزرا کریں۔ اے بعل مردوخ! مجھے ابدی زندگی عطاکر۔ ‘‘

جشن نوروز کے موقع پر اس سڑک پر سے شاہی جلوس گزرتا ۔ جلوس کے آگے بابل کا سب سے بڑا پروہت ہوتا۔ اس کے پیچھے قربانی کے جانوروں کی قطاریں ہوتیں۔ ان کے پیچھے ڈھول بجانے والے اور آخر میں مردوخ کے لاکھوں عقیدت مندوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہوتا۔ بخت نصر نے یہ باغات اپنی ایک چہیتی بیوی کے دل بہلانے کے لئے بنوائے تھے جو سرسبز و شاداب پہاڑی علاقے کی رہنے والی تھی اور بابل کے ریگزاروں اور خشک صحرائی سرزمین پر اداس رہتی تھی اور اپنے وطن کے مرغزاروں کو یاد کرتی رہتی تھی۔

بخت نصر نے اس کی خوشنودی کی خاطر معلق باغات بنوائے۔ یہ باغات ہوا میں معلق نہیں تھے بلکہ بابل کی جنوبی فصیل پر واقع شاہی محل کی چھت پر لگائے گئے تھے جو اردگرد کی تمام چھتوں سے بلند تھی ۔ چنانچہ دور سے دیکھنے پر یہی معلوم ہوتا کہ باغ ہوا میں متعلق ہیں۔ پتھر کی جس عمارت پر یہ باغ لگے ہوئے تھے اس کے جنوبی سرے پر ایک کنواں تھا۔ اس کنویں کے اندر سے ایک تہرے شافٹ میں لگی ہوئی بالٹیوں کے ذریعے ان باغوں تک پانی پہنچایا جاتا تھا۔ کنویں میں اگر پانی کم ہوجاتا تو اس میں دریائے فرات کا پانی پہنچایا جاتا۔ اس باغ کے دروازے پر بھی بخت نصر نے ایک کتبہ نصب کروایا جس پر لکھا تھا۔

’’ یہ باغ بابل کے بادشاہ بخت نصر نے اپنی سب سے پیاری اور چہیتی ملکہ کے لئے لگوائے تھے۔ یہ ملکہ سیاکیسر شاہ میڈیا کی بیٹی تھی اور پھولوں کی بے حد شوقین تھی۔ جب بخت نصر اسے بیاہ کر بابل جیسے گرم اور خشک شہر میں لایا تو میڈیا کے لہلہاتے باغوں کی یاد میں وہ اداس رہنے لگی۔ بخت نصر شاہ بابل نے اس کی دل جوئی کے لئے پتھروں کا ایک عظیم الشان محل بنوایا ۔ اس کی چھت کی درجہ بدرجہ اونچا کیا کہ وہ تین سو پچاس فٹ بلند ہوگئی ۔ یہاں چھت پر لاکھوں منوں مٹی ڈلوا کر باغات لگوائے گئے۔ ان کو سیراب کرنے کے لئے ایک طرف کنواں کھدوایا۔ دوسری طرف دریائے فرات سے پانی لانی کا بندوبست کیا گیا ۔ اس طرح ملکہ کی چہل قدمی کے لئے سیرگاہ تیار ہوئی اور میڈیا کی یاد بھلائی جا سکی۔ ‘‘

بخت نصر اگرچہ سنگدل ، ظالم اور خونخوار بادشاہ تھا مگر اس کے عہد میں بابل اپنے عروج پر تھا۔ ایک اعتبار سے وہ بابل کی عظمت و شان و شوکت کا آخری محافظ ثابت ہوا۔ اس کے بعد اس کے جانشین عیاش اور نالائق نکلے۔ بخت نصر کے بعد سات برس کی قلیل رت میں چار حکمران آئے اور چلے گئے۔ آخر میں بنو نیدس میں عنان اقتدار سنبھالی اور اٹھارہ برس تک حکومت کی مگر یہ بادشاہ عیاشی اور بدمستیوں میں اپنے پیشروؤں سے بہت آگے نکل گیا۔

بخت نصر نے جس قوم کو دنیا کی بہترین لڑاکا اور شجاع قوم بنا دیا تھا۔ اس کے جانشینوں نے اسے شرابیوں بدکرداروں اور اخلاقی لحاظ سے پست ترین قوم میں بدل ڈالا۔ اہل بابل کا اخلاقی انحطاط آخر یہاں تک پہنچا کہ انہوں نے اپنی جڑیں اپنے ہاتھوں سے کھودیں اور ایران کے بادشاہ کو اپنے ملک پر چڑھا لائے۔

مگر میں بابل کی تاریخ گہرائیوں میں زیادہ دور تک نہیں جانا چاہتا کیونکہ میں کوئی مورخ نہیں ہوں بلکہ ایک سیاح ہوں۔ تاریخ قدیم کا سیاح اور آپ کو اپنے عجیب و غریب تاریخ کا سفرنامہ لکھ رہا ہوں جس کے ایک ایک ورق پر آپ کی تاریخ کے سچے اور ناقابل تردید چشم دید واقعات بکھرے ہوئے ملیں گے۔ اس لئے کہ میں ان واقعات کا چشم دید گواہ ہی نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے اس حیرت افزا ڈرامے کا ایک زندہ جاوید کردار بھی ہوں۔ میں اپنے تاریخی سفرنامے کو پھر وہاں سے شروع کرتا ہوں جہاں میں واقعات کے تسلسل کو اسرائیل کے قیدیوں کے ساتھ پابہ زنجیر پڑا تھا اور دل میں اپنی دوست سیاہ گھنگھریالے بالوں والی سرخ و سپید نفتانی کو یاد کر رہا تھا جو ہم سے تھوڑے فاصلے پر عورتوں کے قیدی کیمپ میں مقید تھی۔ کم از کم میں اس خوش فہمی میں تھا کیونکہ ایسا بھی ہوسکتا تھا کہ وہ راستے میں ہی مرگئی ہو اور اب تک گدھوں نے اس لاش پر گوشت کا ایک ذرہ بھی نہ چھوڑا ہو اور یہ بھی ہو سکتا تھا کہ اسے وہی سپاہی اپنے ساتھ لے گیا اور جو اسے یروشلم سے اغواء کر کے لے گیا تھا لیکن اہل بابل میں اور خاص طور پر بابل کی فوج میں ایک بات عجیب تھی ۔ یہ لوگ کسی بھی عورت کو خاص طور پر اغواء کر کے لائی گئی عورت کو زیادہ دیر تک اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے۔ شوہر ایک خاص مدت گذر جانے کے بعد جب بچے جوان ہو جاتے تو اپنے بیویوں سے الگ ہوجاتے اور ان کی بیویاں بعل مردوخ کے مندر میں لوگوں کی خدمت پر مامور ہوجاتیں یا خود کشی کر لیتی تھی۔ وہ بیویاں خوش قسمت ہوتی تھیں جن کے شوہر بڑھاپے میں مر جاتے تھے۔ اس طرح سے خاوند انہیں گھر سے نہیں نکالتا تھا اور ان کی اولاد ان کی نگہداشت کرتی تھی۔

(جاری ہے۔۔۔اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار