پر اسرار تحریروں والی چٹانوں میں چاہے ساری دنیا کو دلچسپی نہ ہولیکن مجھے تو انہیں دیکھنا تھا

پر اسرار تحریروں والی چٹانوں میں چاہے ساری دنیا کو دلچسپی نہ ہولیکن مجھے تو ...
پر اسرار تحریروں والی چٹانوں میں چاہے ساری دنیا کو دلچسپی نہ ہولیکن مجھے تو انہیں دیکھنا تھا

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط:157

مقفّل گلّوں کا رواج غالباً ہم جیسے گناہ گاروںہی کی وجہ سے پڑا ۔ہم سارا سارا دن بھکاریوں کو ہندوستانی جاسوس فرض کر کے گلیوں گلیوں ان کا تعاقب کرتے اور شام کو برا حال بانکے دہاڑے گھر لوٹتے تو اپنی اپنی ماؤں کی طرف سے پاپوشوں کے ساتھ انفرادی یا بعض خصوصی حالات میں اجتماعی گارڈ آف آنر بھی وصول کرتے۔خیر یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! خاک سار جا سوس تو نہ بن سکا لیکن طبیعت کا تجسس قائم دائم چلا آتا ہے چنانچہ پر اسرار تحریروں والی چٹانوں میں چاہے ساری دنیا کو دلچسپی نہ ہولیکن مجھے تو انہیں دیکھنا تھا۔

سڑک کے ساتھ ساتھ یہ چٹانیں تھیں جن کے آگے خار دار تار لگا کر انہیں عوام کی دست برد سے بچانے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔ ناکام اس لیے کہ اب بھی اس پر دل جملے اور مایوس عشاق کے نام پتے مع اشعار درج نظر آ رہے تھے۔ خار دار تاروں کے پیچھے زرد بھوری چٹانوں پر بہت سے مبہم اور واضح نقوش تھے۔ زیادہ تر تو مارخور سے مشابہ چوپائے بنے تھے، کچھ جلیبی نما دائرے سے تھے جنہیں بار بار بنایا گیاتھا۔

”میرا خیال ہے کہ یہ جن مسافروںنے بنائے تھے ان کی عمر اڑھائی سال کے قریب تھی۔“ سمیع نے غور سے جائزہ لے کر تاریخی انکشاف کیا۔

”اس کا کیا مطلب ہے؟“ ہم سب نے حیرت سے پوچھا۔

”مطلب یہ ہے کہ میری بیٹی ہادیہ کی عمر اڑھائی سال ہے اور اسے صرف ایک حرف ”او“ (O)لکھنا اور اور بال (گیند) بنا نی آتی ہے ۔ وہ سارا وقت یہی دائرہ بناتی رہتی ہے اور کون سا دائرہ ”او“ ہے اور کون سا ”بال“ اس کا فیصلہ بھی وہ خود کرتی ہے۔ “سمیع کی بات پر سب نے قہقہہ لگایا۔

 ”اگر یہ تحریر کسی بڑی عمر کے آدمی نے لکھی ہوتی تو کم از کم وہ ایک سی جلیبیاں بنانے کے بجائے کچھ اور بھی بناتا۔“ سمیع نے نکتہ آفرینی کی۔ بات قابل ِ غور تھی۔

 ایک ہی نمونے کی بار بار دہرائی کو تحریر کہنا تو زیادتی تھی۔ فرعون کے زمانے کی تحریروں میں بھی بناوٹ کا بہت تنوع تھا۔ اب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ آپ ایک ہی تصویر کو سو، دو سو دفعہ بنا کر لوگوں سے توقع رکھیں کہ وہ اس سے کو ئی مطلب اخذ کر لیں لیکن یہ بھی سچ تھا کہ کوئی ایک آدمی یہ نقوش نہیں بنا سکتا تھا کیوں کہ ان پتھروں پر نقوش بنا نا قلم سے لکھنے جیسا نہیں ہے ۔ پتھروںپر ”منبت کاری“ میں کافی وقت لگتا ہوگا۔ لیکن یہ مسٹری بہر حال باقی رہی کہ مارخور اور ”جلیبی“ کا کیا ،یا کیا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ اور اگر دیکھا جائے تو زندگی کا سارا جادو مسٹری ، تحیر اور سِرّیت ہی میں ہے۔ زندگی ایک بہت پر اسرار اور پیچیدہ چیز ہے اس میں یا تو ہر بات کا کوئی مطلب ہے یا کسی بات کا کوئی مطلب نہیں۔ اور کسی مطلب کا ہونا بھی کیا ضروری ہے۔ آخر اس زندگی کا ، جو ہم آپ کو جینا پڑتی ہے، کیا مطلب ہے؟ ہماری زندگی کا بہت سا وقت ان سوالوں کا جواب کھوجنے میں صرف ہو جاتا ہے جن کا شاید کوئی جواب ہے ہی نہیں اور اگر ہو بھی تو اس سے فرق کوئی نہیں پڑتا۔ آخر میں ہر بات کا حاصل ضرب موت کا ”صفر“ ہی نکلتا ہے۔ مطلب نکالنے کے بجائے زندگی کو صرف جینا چاہیے۔

بس کچھ لوگ ادھر سے گزرے تھے، جانے وہ کون لوگ تھے؟ خدا جانے کہاں سے آئے تھے اور کہاں گئے؟ بس یہ نشان ان پتھروں پر باقی رہ گئے جو بتاتے ہیں کہ کبھی کوئی ادھر سے گزراتھا۔ کل جب ہم خاک ہوجائیں گے تو ہمارا اتنا نشان بھی نہیں رہے گا۔کوئی ہمارے متعلق اتنا بھی نہیں سوچے گا جتنا ہم نے ان نقوش کو چند لمحے دیکھتے ہوئے سوچا۔ 

سڑک کے رخ پر یہ نقوش دھندلے پڑ رہے تھے لیکن ان چٹانوں کی عقبی جانب جو نقوش تھے وہ زیادہ واضح اور متنوع تھے۔ان میں تحریر کے نمونوں کے علاوہ تصاویر بھی بہتر تھیں جس سے سمیع کا اعتراض بھی دور ہوگیا کہ سب نقوش کسی بچے نے بنائے ہیں۔ان نقوش کا تعا رف ایک دو آہنی تختوں پر انگریزی میں تحریر تھا۔

 اس راستے سے کتنی ہی صدیاں اور کتنے ہی لوگ ، مہاجر پرندوں( migratory birds) کی طرح گزرے ہوں گے۔ ہم سڑک کنارے زمین پر بیٹھ گئے۔ سامنے ایک اینٹوں کا بھٹا تھا۔ ہمارے علاقوں کے بھٹوں کے برعکس یہ بہت صاف ستھرا اور خوش نما تھا جس کی وجہ سے میں شروع میں اسے کوئی یادگاری مینار، از قسم مینار پاکستان وغیرہ ،سمجھا تھا۔ میں نے تو اسے جب بھی دیکھا ”بے کار“ ہی دیکھا۔ اس وقت بھی نہ تو وہاں کوئی آ دمی تھا اور نہ کوئی کام ہو رہا تھا۔ شاید یہ صرف دکھاوے کے لیے بنا یا ہوا تھا۔ ہم تھک چکے تھے، دھوپ تیز تھی اور اب یہاں سے واپس اوپر کریم آباد جانا بھی ایک کام تھا۔ ہر طرف خاموشی تھی جس میں دوپہر کی دھوپ اور ما حول کا خاکی رنگ بھرا تھا۔ دریا پار اوپر قلعہ گنیش با لکل چھوٹا اور بے وقعت سا دکھائی دیتا تھا۔ فاصلہ بھی عجیب چیز ہے، یہ چھو ٹے کو بڑا اور بڑے کو چھو ٹا کر دیتا ہے۔ہم ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہوئے سڑک پر نظر رکھے ہوئے تھے کہ سوست کی طرف سے کوئی گاڑی آتی دِ کھے تو واپس چلیں۔ ایک ویگن میں گنیش تک آئے اور وہاں سے ایک ٹریکٹر ٹرالی والے سے لفٹ لے کر کریم آ باد پہنچ گئے۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -