سی اینڈ ڈبلیو میں ڈی پی سی اور پر موشن بورڈ کی منظوری التوا کا شکار

سی اینڈ ڈبلیو میں ڈی پی سی اور پر موشن بورڈ کی منظوری التوا کا شکار

 لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) سی اینڈڈبلیو میں درخواستیں دیکر ڈی پی سی اور پرموشن بورڈ کی منظوری التوا میں ڈالنا معمول بن گیا۔ چیف انجنئیر سے ایس ڈی او تک ایک سو سے زائد خالی سیٹیوں پر تعیناتیاں خواب بن گئیں۔ایک دوسرے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والے انجنئیرکسی بھی ساتھی انجنئیرکے خلاف محکمے کے اندر اور اینٹی کرپشن میں درخواست دیکر انکوائری شروع کروادیتے ہیں۔جس کے بعد پرموشن پالیسی 2010کے تحت انکوائری میں بے گناہ قرار دیئے جانے تک ایسے انجنئیر کی ترقی روک دی جاتی ہے۔ خالی سیٹوں اور ٹانگیں کھینچنے کے اس عمل سے محکمے کی کارکردگی اور مجموعی تاثر خراب ہونے لگا ہے۔ معلوم ہواہے کہ سی اینڈڈبلیو میں ان دنوں انجنئیروں کی ترقی خواب بن گئی ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے محکمے میں کسی سطح پر بھی انجنئیروں کو ترقی نہیں دی جاسکی۔ جبکہ اس عمل کے ذمہ داربھی خود انجنئیر ہی ہیں۔ جو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ سی اینڈڈبلیو میں چیف انجنئیر کی 5، سپرنٹنڈ نٹ انجنئیر کی 25سے زائد اسی طرح ایگزیکٹو انجنئیروں کی بھی 25سے زائد اور اسسٹنٹ انجنئیروں کی 50سے زائدسیٹیں خالی ہیں۔لیکن ان خالی عہدوں پر انجنئیروں کو پرموٹ نہیں کیا جارہا۔معلوم ہواہے کہ پنجاب پرموشن پالیسی 2010کے مطابق اینٹی کرپشن یا پیڈا ایکٹ 2006کے تحت انکوائری یا مقدمے میں ملوث سرکاری ملازم کو ترقی نہیں دی جاسکتی جب تک کہ وہ مقدمات یا انکوائری میں بے گناہ قرار نہیں پاتا ۔ اس سلسلے میں صوبائی محکمے کسی بھی ملازم کی ترقی سے قبل اینٹی کرپشن اور محکمے کی انتظامیہ سے ایسے ملازمین کے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہیں۔ اور این او سی ملنے کے بعد ہی ملازمین کو ترقی کے منظوری دی جاتی ہے۔لیکن ذرائع نے بتایا ہے کہ سی اینڈڈبلیو میں پرموشن پالیسی کی اس شرط کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض انجنئیر اپنے ہی ساتھیوں کے خلاف درخواستیں دیکر اینٹی کرپشن یا پھر محکمے کے اندر انکوائریاں شروع کروادیتے ہیں۔ اس ضمن میں یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ اکثر انجنئیر اس کام کے لیے خاص بندوں کو استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ بعض اوقات ٹھیکیداروں کے ذریعے بھی یہ کام کیا جاتا ہے۔ اورایسے ٹھیکیدار مستقبل میں فائدے کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے دوست انجنئیر کو خوش کرنے کی غرض سے اس کے ساتھی انجنئیر کے خلاف ایسی درخواست دائر کرتے ہیں۔ جس پر انکوائری شروع ہوجاتی ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پرموشن بورڈ یا ڈی پی سی کی منظوری کے بعد بھی درخواستیں دائری کئے جانے سے بورڈیا کمیٹی کی منظوری اور سفارشات بھی روک دی جاتی ہیں۔ جس کے ایک مثال رواں سال فروری میں اور بعد ازاں نومبر میں اس وقت سامنے آئی جب صوبائی سلیکشن بورڈ نے بعض ایکسئینز کو سپرنٹنڈنٹ انجنئیر کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دی تو ترقی پانے والے انجنئیروں کے خلاف صوبائی سیکرٹری سروسز ، سیکرٹری سی اینڈڈبلیو اور ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن کو درخواستیں دی جانے لگیں کہ ترقی پانے والے مختلف انکوائریوں اور مقدمات میں ملوث ہیں۔جس پر ایگزیکٹو انجنئیروں کی ترقی کا عمل دونوں مرتبہ روک دیا گیا۔اب صورتحال یہ ہے کہ سی اینڈڈبلیو میں ایس ڈی او سے ایکسئین کے عہدے پر ترقی کے لیے ڈی پی سی رواں ماہ کے آغاز پر منعقد ہونا تھی ۔ لیکن اسے التوا میں ڈال دیا گیا ہے۔ اسی سے قبل 20نومبر کو ایکسئین سے ایس ای کے عہدے کے لیے ہونے والے پی ایس بی کی سفارشات بھی التوا میں ہیں۔ اور ترقی کی منظوری پانے والے ایکسئینز ، ایس ای بنتے ہیں یا نہیں یا ان کے لیے فروری میں ہونے والے پرموشن بورڈ کی طرح ایکبار پھر سے پی ایس بی کا اجلاس طلب کیا جاتا ہے۔ اس کے متعلق ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔ اسی طرح سپرنٹنڈ انجنئیر سے چیف انجنئیر کے عہدے پر ترقی کے لیے پی ایس بی کا اجلاس 12دسمبر کو متوقع تھا۔ لیکن یہ اجلاس بھی منعقد نہیں ہوسکا۔ ذرائع کے مطابق صوبائی سیکرٹری سی اینڈڈبلیو ، اچھی کارکردگی کی بنا پر انجنئیر صفدرکاہلوں ، سہیل رضا، شیخ اعجاز احمد اور فرحت منیر کو چیف انجنئیر کے عہدے پر ترقی دلانا چاہتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف بہت سے انجنئیر ان کو چیف انجنئیر کے عہدے پر نہیں دیکھنا چاہتے اور ان کی کوشش ہے کہ ایسے انجنئیروں کو درخواستوں اور انکوائریوں کے ذریعے ترقی سے دور رکھا جائے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...