تحریک پاکستان کے عظیم مجاہد و معمار علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ

تحریک پاکستان کے عظیم مجاہد و معمار علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ

  

شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر اَحمد صاحب عثمانی رحمۃ اللہ علیہ سے علمی دُنیا کا کون سا فرد ناوَاقف ہوگا؟ قیامِ پاکستان کے لیے اُن کی گراں قدر خدمات ناقابلِ فراموش ہیں اور انہی خدمات کی وَجہ سے جناب قائد اَعظم محمد علی جناح صاحب مرحوم نے پاکستان کا جھنڈا پہلی بار خود لہرانے کے بجائے علامہ عثمانیؒ کو منتخب کیا اور اُنہی کے ہاتھوں سے مغربی پاکستان میں سبز ہلالی پرچم لہرایا گیا۔ علامہ عثمانیؒ کی شخصیت اَپنے علم و فضل، وَرَع و تقویٰ، تقریری و تحریری اور سیاسی خدمات کے لحاظ سے بلاشبہ ایک ایسی شخصیت تھی جس کی نظیریں ہر زمانے کی تارِیخ میں گنی چنی ہوتی ہیں، اللہ نے اُن کی زبان و قلم سے نہ صرف دِین اور علومِ دِین کی عظیم الشان خدمتیں لیں بلکہ تعمیر پاکستان کے سلسلہ میں وہ کارہائے نمایاں اَنجام دِلوائے جنہیں چھپانے اور مٹانے کی ہزار کوششوں کے باوجود فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ آپ پاکستان کے اُن مخلص معماروں میں سے تھے جنہیں بانیانِ ملک میں صف اَوّل کا مقام حاصل رہا لیکن قوم نے اُنہیں بہت جلد بھلادِیا، اُنہوں نے اُمت پر عظیم اِحسانات کیے، وہ جتنے ناقابلِ فراموش تھے اَفسوس ہے کہ آج وہ اتنے ہی پردۂ خفا میں چلے گئے، سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد سے بعض لوگ یہ پروپیگنڈا کرنے میں مصروف رہے کہ اِس حادثے سے نظریۂ پاکستان غلط ثابت ہوگیا ہے، بعض حضرات نے تو یہاں تک کہہ دِیا کہ علامہ عثمانیؒ نے قیامِ پاکستان کے لیے جو جدوجہد کی تھی 1971 ؁ء کے بعد اُس کا تذکرہ قابلِ تعریف اَنداز میں نہیں کرنا چاہیے اور اس جدوجہد سے شیخ الاسلامؒ کی کوئی منقبت ثابت نہیں ہوتی، لیکن یہ بات اُس منفعلی ذہنیت کی پیداوَار ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ باطل کے ہاتھ میں تلوار آجائے تو وہ حق بن جاتا ہے، اِنصاف کی نظر سے دیکھنے کے بعد یہ وَاضح ہوجاتا ہے کہ سقوطِ مشرقی پاکستان کا اَصل سبب نظریۂ پاکستان نہیں بلکہ اُس نظریہ کے حاملین کی بد عملی تھی، اَگر کسی سچے نظریے کے علمبردَار اَپنی کامیابی کے بعد بدعملی میں مبتلا ہوکر شکست کھا جائیں تو اس سے اس نظریے کو غلط ٹھہرانا ایسا ہی ہے جیسے مسلمانوں کے موجودَہ زوَال سے متأثر ہوکر (معاذ اللہ) اِسلام ہی سے بد دِل ہوجانا۔

میرے وَالد ماجد حضرت مولانا مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب قدس سرہٗ نے جن اَکابر کی صحبت اُٹھائی اور جن سے آخر وَقت تک خصوصی تعلق رہا، اُن میں شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر اَحمد عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی شامل ہیں۔ حضرت وَالد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ہدایہ کا کچھ حصہ اور صحیح مسلم حضرت علامہؒ ہی سے پڑھی تھی اور جب علامہؒ ڈَابھیل میں صحیح بخارِی کا دَرس دیتے تھے تو ایک مرتبہ بیمارِی کی بنا پر تدرِیس سے معذور ہوگئے۔ اُس موقع پر حضرت علامہؒ نے اَپنی جگہ صحیح بخارِی کا دَرس دینے کے لیے حضرت وَالد مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو نامزد فرمایا۔ حضرت وَالد صاحبؒ اُس وَقت دَارُ العلوم دِیوبند سے مستعفی ہوچکے تھے۔ حضرت علامہؒ کی فرمائش پر ڈَابھیل تشریف لے گئے اور چند ماہ وَہاں علامہؒ کی جگہ صحیح بخارِی کا دَرس دِیا۔

پھر جب قیامِ پاکستان کے لیے علامہ عثمانیؒ نے ملک گیر جدوجہد شروع کی اور اس غرض کے لیے جمعیت علماء اِسلام کا قیام عمل میں آیا تو حضرت وَالد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس پورِی جدجہد میں علامہؒ کے دست و بازو بنے رہے اور اس غرض کے لیے ملک کے طول و عرض میں دورے کیے۔ متعدد مقامات پر جہاں علامہ عثمانیؒ تشریف نہیں لے جاسکتے تھے، حضرت وَالد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو اَپنی جگہ بھیجا اور سرحد ریفرنڈم کے موقع پر پورے صوبہ سرحد کا دورہ کرتے ہوئے وَالد صاحبؒ کو اَپنے ساتھ رَکھا۔

پاکستان بننے کے بعد یہاں اِسلامی دستور کی جدوجہد کا آغاز ہوا تو علامہ عثمانیؒ ہی کی دَعوت پر حضرت وَالد صاحبؒ پاکستان تشریف لائے۔ انہی کی ہدایت پر تعلیماتِ اِسلامی بورڈ میں شامل ہوئے جو اِسلامی دستور کا خاکہ مرتب کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، پھر علامہؒ شبیر احمد عثمانی کی وَفات تک ہر اَہم معاملہ میں اُن کے شریک کار رہے اور حضرت علامہؒ کی نمازِ جنازہ پڑھانے کی سعادَت بھی آپ ہی کو حاصل ہوئی۔

چوں کہ علامہ عثمانیؒ پاکستان کے صف اَوّل کے معماروں میں شامل تھے، اِس لیے قائد اَعظم اور نواب زادہ لیاقت علی خان مرحوم تقسیم ملک کے وَقت آپ کو اَپنے ساتھ پاکستان لے آئے تھے اور مغربی پاکستان میں پاکستان کا پرچم سب سے پہلے علامہؒ شبیر احمد عثمانی ہی نے لہرایا۔

اَگر آپ چاہتے تو یہاں اَپنے لیے بہت کچھ دُنیوی ساز و سامان اور عہدہ و منصب حاصل کرسکتے تھے، لیکن علامہؒ نے آخر وَقت تک درویشانہ زِندگی گزارِی۔ اَپنے لیے کوئی ایک مکان بھی حاصل نہ کیا، بلکہ وَفات کے وَقت تک دو مستعار لیے کمروں میں مقیم رہے اور اُسی حالت میں دُنیا سے تشریف لے گئے کہ نہ آپ کا کوئی بینک بیلنس تھا، نہ ذَاتی مکان تھا، نہ ساز و سامان۔

1948ء میں جب حضرت وَالد صاحب رحمۃ اللہ علیہ پاکستان تشریف لائے تو روزانہ شام کے وَقت علامہ عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس جانے کا معمول تھا۔ رَاقم الحروف اُس وَقت بہت کم سن تھا اور اَکثر وَالد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کی خدمت میں چلاجایا کرتا تھا۔ اُس زمانے میں کراچی میں کوئی معیارِی علمی مرکز نہیں تھا کوئی علمی کتب خانہ بھی نہ تھا۔ لہٰذا جب کسی علمی مسئلہ کی تحقیق مقصود ہوتی تو علامہ عثمانی رحمۃ اللہ علیہ حضرت وَالد صاحبؒ کے پاس تشریف لے آتے کیوں کہ وَالد صاحبؒ اَپنے ساتھ اَپنی ذَاتی کتابوں کا ذخیرہ لے کر آئے تھے۔ چنانچہ ہمارے مکان پر علمی و فقہی مجلسیں رہتیں اور علامہ عثمانی رحمۃ اللہ علیہ اَپنے ضعف و علالت کے باوجود علمی پیاس بجھانے کے لیے تین منزلہ مکان کی سیڑھیاں طے کر کے پہنچ جایا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے علامہ عثمانیؒ کو تحریر و تقریر دونوں کا منفرد ملکہ عنایت فرمایا تھا۔ خاص طور سے آپ کی خطابت اِنتہائی مؤثر اور دِل نشین ہوتی تھی اور آپ مختلف جملوں کے ذَریعہ اَپنی بات دِلوں میں اُتاردیتے تھے۔ حضرت وَالد صاحبؒ سے سنے ہوئے علامہ عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کے چند جملے اس وَقت یاد آگئے:۔

1۔فرمایا کہ: حق بات اَگر حق نیت سے اور حق طریقہ سے کہی جائے تو کبھی رَائیگاں نہیں جاتی، اس کا کچھ اَثر ضرور ہوتا ہے۔ بات جب بھی بے اَثر ہوگی تو یا تو وہ خود حق بات نہ ہوگی یا بات حق ہوگی مگر کہنے وَالے کی نیت حق نہ ہوگی یا بات بھی حق ہوگی، نیت بھی حق ہوگی لیکن کہنے کا طریقہ صحیح نہیں ہوگا لیکن اَگر یہ تینوں شرائط موجود ہوں تو بات کے غیر مؤثر ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں۔

2۔فرمایا کہ: دُنیا کی جنت یہ ہے کہ زوجین ایک ہوں اور نیک۔

3۔علامہ عثمانی رحمۃ اللہ علیہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے رُکن تھے اور وَہاں شب و روز اِسلامی دستور کے سلسلہ میں دُوسرے اَرکان سے بحث و مباحثہ رہتا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت علامہؒ کی کسی تجویز پر غالباً (سابق گورنر جنرل) غلام محمد صاحب نے یہ طعنہ دِیا کہ:

’’مولانا! یہ اُمورِ مملکت ہیں، علماء کو اِن باتوں کی کیا خبر؟ لہٰذا اِن معاملات میں علماء کو دَخل اَندازِی نہ کرنی چاہیے۔‘‘

اُس موقع پر علامہؒ نے جو تقریر فرمائی اُس کا ایک بلیغ جملہ یہ تھا:

’’ہمارے اور آپ کے دَرمیان صرف اے، بی، سی، ڈِی کے پردے حائل ہیں، ان مصنوعی پردوں کو اُٹھاکر دیکھیے تو پتہ چلے کہ علم کس کے پاس ہے اور جاہل کون ہے؟‘‘۔

4۔ بعض لوگوں کو اِسلامی دستور یا اِسلامی قانون کا تصور آتے ہی خطرہ دَامن گیر ہوجاتا ہے کہ اِسلامی دستور و قانون کے نفاذ سے ملک میں تھیوکریسی قائم ہوجائے گی۔ ایک مرتبہ اِسی قسم کا کوئی معاملہ اسمبلی میں زیر بحث تھا، اُس موقع پر حضرت علامہ عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے اِرشاد فرمایا:

’’آپ کو مُلّا سے یہ خطرہ ہے کہ وہ کہیں اِقتدار پر قابض نہ ہوجائے، لیکن خوب اَچھی طرح سمجھ لیجیے کہ مُلاّ کا ایسا کوئی اِرَادہ نہیں، مُلاّاِقتدار پر قبضہ کرنا نہیں چاہتا، اَلبتہ اَصحابِ اِقتدار کو تھوڑَا سا ملا ضرور بنانا چاہتا ہے‘‘۔

علماء کی اَصل پالیسی شروع سے یہ تھی کہ الیکشن میں حصہ لیں نہ اِقتدار میں آئیں اور اَگر اَربابِ اِقتدار اِسلامی دستور و قانون کے نفاذ کے سلسلے میں ملک بھر کے علماء کا مطالبہ تسلیم کرلیتے تو کسی اہلِ علم کو الیکشن کی سیاست میں حصہ لینے کی ضرورَت نہ تھی، لیکن اَفسوس کہ ایسا نہ ہوا اور اس کے بعد بعض علماء کرام مجبور ہوکر الیکشن کی سیاست میں دَاخل ہوگئے۔

5۔وَطن کے سلسلہ میں علامہ عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک اِرشاد حضرت وَالد صاحبؒ بکثرت نقل فرماتے تھے اور اُسے اَپنے ’’سفر نامہ دِیوبند و تھانہ بھون‘‘ میں بھی تحریر فرمایا ہے:

’’یاد آیا کہ میرے اُستاذِ محترم اور برادَرِ مکرم شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر اَحمد عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک روز وَطن پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہر شخص کے تین وَطن ہیں۔ ایک جسمانی، دُوسرا اِیمانی اور تیسرا رُوحانی۔ وَطنِ جسمانی وہ جگہ ہے جہاں وہ پیدا ہوا۔ وَطنِ اِیمانی مؤمن کا مدینہ طیبہ ہے، جہاں سے اُس کو نورِ اِیمان ملا اور وَطنِ رُوحانی جنت ہے، جہاں عالَمِ اَروَاح میں اُس کا اَصلی مستقر تھا اور پھر پھرا کر پھر وہیں جانا ہے‘‘۔ (نقوش و تأثرات ص:5)

6۔حضرت وَالد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ: حضرت علامہ عثمانی نورَ اللہ مرقدہٗ علم و فضل کے پہاڑ تھے اور اللہ تعالیٰ نے حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی قدس سرہٗ بانیِ دَارُ العلوم دِیوبند کو جو علومِ وَہبی عطا فرمائے تھے، خاص طور سے فلسفہ اور کلام اور حکمت دِین کے بارے میں حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کو جو دقیق معارِف عطا ہوئے تھے، وہ اَچھے اَچھے علماء کی سمجھ میں نہیں آتے، لیکن علماء دِیوبند کی جماعت میں دو بزرگ ایسے ہیں جنہوں نے حکمت قاسمی کی شرح و توضیح اور اُسے اَقرب اِلی الفہم بنانے میں نمایاں خدمات اَنجام دِی ہیں۔ ایک حضرت علامہ شبیر اَحمد عثمانی صاحبؒ اور دُوسرے مولانا قارِی محمد طیب صاحب قاسمیؒ ۔

7۔حضرت وَالد صاحبؒ نے ہی سنایا کہ: جب علامہ شبیر احمد عثمانی قدس سرہٗ نے ’’صحیح مسلم‘‘ پر اَپنی شہرۂ آفاق شرح ’’فتح الملہم‘‘ تالیف فرمائی تو اُس کا مسودَہ حرمین شریفین لے کر گئے تھے، وَہاں روضۂ اَقدس کے سامنے بیٹھ کر اُس کی وَرق گردَانی کی اور پھر روضۂ اَقدس پر بھی اور حرمِ مکہ میں ملتزم پر بھی مسودَہ سر پر رَکھ کر دُعا کی تھی کہ:

’’یہ مسودَہ اَحقر نے بے سر و سامانی کے عالم میں مرتب کیا ہے، یا اللہ! اِس کو قبول فرمالیجیے اور اِس کی اِشاعت کا اِنتظام فرمادِیجیے‘‘۔

اس کے بعد جب حرمین شریفین سے وَاپس آئے تو نظامِ حیدر آباد کی طرف سے پیش کش کی گئی کہ ہم اِس کتاب کو اَپنے اہتمام سے شائع کرائیں گے چناں چہ وہ نظامِ حیدر آباد ہی کے مصارِف پر بڑی آب و تاب کے ساتھ شائع ہوئی اور اُس نے پورِی علمی دُنیا سے اَپنا لوہا منوایا۔

علامہ عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریک پاکستان سے پہلے یہ شرح لکھنی شروع کی تھی۔ اس کتاب کی تین جلدیں بڑے سائز پر شائع بھی ہوچکی تھیں اور اُنہوں نے دُنیا بھر کے اہلِ علم سے خراجِ تحسین حاصل کیا تھا، ’’صحیح مسلم‘‘ اَحادِیث کے مجموعوں میں ’’صحیح بخارِی‘‘ کے بعد دُوسرے نمبر پر ہے اور اس کی ایک مبسوط شرح کی ضرورَت تمام اہلِ علم محسوس کرتے تھے، حضرت علامہ عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے اِس ضرورَت کو پورَا کرنے کا بیڑا اُٹھایا تو سارِی علمی دُنیا نے اس پر مسرت کا اِظہار کیا، چوں کہ کتاب کسی ایک خطے کے لیے نہیں بلکہ پورِی اِسلامی دُنیا کے اہلِ علم کے لیے لکھی جارہی تھی، اِس لیے علامہؒ نے اسے عربی میں لکھا جو پورے عالَمِ اِسلام کی مشترک علمی زبان ہے، لیکن اَبھی علامہؒ نے ’’صحیح مسلم‘‘ کا نصف حصہ بھی مکمل نہیں کیا تھا کہ ہندوستان میں قیامِ پاکستان کی تحریک شروع ہوگئی اور علامہؒ نے اَپنے آپ کو پاکستان کی خدمت کے لیے وَقف کردِیا اور شب و روز کی ہنگامہ خیز مصروفیات میں اس کتاب کی تالیف رُک گئی، پاکستان بننے کے بعد وہ پاکستان کی تعمیر میں دِن رَات مصروف رہے، اِس لیے یہاں آکر بھی اس کی تکمیل نہ کرسکے، یہاں تک کہ ۹۴۹۱ء کے آخر میں آپ کی وَفات ہوگئی اور یہ کام تشنہ تکمیل رہ گیا، برصغیر کے علاوَہ عرب ممالک کے علماء بھی اِس اِشتیاق اور اِنتظار میں تھے کہ کوئی اور شخص اِس تالیفی منصوبے کی تکمیل کرے، تاکہ یہ عظیم الشان علمی کارنامہ جس نے ایک بڑے خلا کو پُر کیا ہے ادھورَا نہ رہ جائے۔

میں نے اَپنے وَالد ماجد رحمۃ اللہ علیہ کے حکم سے اللہ تعالیٰ کے نام پر 1976ء میں اِس شرح کی تکمیل کا کام شروع کیا تھا، ’’تکملہ فتح الملہم‘‘ کے نام سے اُس کی جلدیں آتی رہیں، اَپنی گوناگوں مصروفیات کی بنا پر میں بمشکل ڈیڑھ دو گھنٹہ یومیہ اس کام میں صرف کرپاتا تھا اور پے دَر پے سفروں کی وَجہ سے بیچ میں طویل وَقفے بھی آجاتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اَٹھارَہ سال نو مہینے کے بعد3؍ اگست 1994 ؁ء کو ’’تکملہ فتح الملہم‘‘ کا کام چھ جلدوں کی صورَت میں پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا۔

8۔ حضرت وَالد صاحب رحمۃ اللہ علیہ حضرت علامہ عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کی اُردو تصانیف میں ’’تفسیر عثمانی‘‘ کے علاوَہ ’’اِسلام، العقل والنقل اور اِعجاز القرآن‘‘ کی بہت تعریف فرمایا کرتے تھے اور کئی مرتبہ اَپنی اِس خواہش کا اِظہار فرمایا کہ اِن کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ ہوجائے۔ اَپنے بعض انگریزی دَان متعلقین کو اِس طرف متوجہ بھی فرمایا، لیکن اَفسوس ہے کہ یہ کام حضرت وَالد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی حیات میں اَنجام نہ پاسکا۔ وَلَعَلَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذَالِکَ أَمْرًا۔

9۔ حضرت وَالد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ: اللہ تعالیٰ نے حضرت علامہ عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کو خطابت کا غیر معمولی کمال عطا فرمایا تھا، لیکن ساتھ ہی طبیعت میں نزاکت اور نفاست بھی بہت تھی۔ چناں چہ جب ذَرَا طبیعت میں اَدنیٰ تکدر ہوتا تو وَعظ و تقریر پر آمادگی ختم ہوجاتی تھی۔۔۔۔

10۔حضرت وَالد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت علامہ عثمانیؒ کو تحریر کا بھی خاص ملکہ عطا فرمایا تھا، جب حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب قدس سرہٗ نے آزادِیِ ہند کی جدوجہد کے لیے جمعیۃ علماء ہند قائم فرمائی اور اِس غرض کے لیے دہلی میں ایک عظیم الشان اِجلاس طلب فرمایا تو اس کا خطبہ صدارَت حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کو دینا تھا۔ حضرتؒ کو خود لکھنے کا موقع نہ تھا، اِس لیے اَپنے تلامذہ میں سے متعدد حضرات کو یہ خطبہ لکھنے پر مامور فرمایا۔

آپ کے متعدد تلامذہ نے اَپنے اَپنے اَنداز میں خطبہ لکھا لیکن بالآخر حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے جس خطبہ کو پسند اور منظور فرمایا وہ حضرت علامہ عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کا تحریر فرمودَہ تھا۔ چناں چہ حضرت شیخ الہندؒ نے وہی خطبہ پڑھا اور وہی شائع بھی ہوا۔

اَلغرض علامہ عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کسی تعارُف کے محتاج نہیں۔ آپؒ کی علمی اور سیاسی زِندگی کے بارے میں مفصل کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ علامہ عثمانی قدس سرہٗ اُن بزرگوں میں سے ہیں، جن کی نظیریں ہر دور میں گنی چنی ہوا کرتی ہیں، اُن کے علمی و تحقیقی کارنامے اور اُن کی عملی جد و جہد پورِی اُمت مسلمہ کے لیے بالعموم اور مسلمانانِ بر صغیر کے لیے بالخصوص ہمارِی تارِیخ کا گراں قدر سرمایہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کو بیک وَقت وَسیع و عمیق علم، شگفتہ اور سیال قلم، دِل نشین خطابت اور امّت مسلمہ کے اِجتماعی مسائل میں معتدل اور مدبرانہ فکر سے نوازا تھا اور اُن کے یہ تمام ملکات دِین کی صحیح خدمت اور اُمت مسلمہ کی فلاح و بہبود کے لیے اِس طرح اِستعمال ہوئے کہ آج ہم سب کی گردنیں اُن کے اِحسانات سے جھکی ہوئی ہیں۔**

مزید :

ایڈیشن 1 -