دہشگردی کیخلاف پارلیمنٹ فوج کیساتھ : رضا ربانی ، آئی پی پیز کا معاملہ چیلنج کریں گے : اویس الغاری

دہشگردی کیخلاف پارلیمنٹ فوج کیساتھ : رضا ربانی ، آئی پی پیز کا معاملہ چیلنج ...

اسلام آباد ( آن لائن ) چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام اور پارلیمنٹ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکورٹی فورسز اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ملک اور خطے سے دہشت گردی کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ منگل کو ایوان بالا کے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں فوج کے سیکنڈ لیفٹیننٹ عبدالمعید اور ایک جوان بشارت شہید ہو گئے ہیں۔ ان کی شہادت پر پوری قوم سوگوار ہے اور ان کے لواحقین کے ساتھ ہم ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔دوسری جانب سینیٹ میں پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے منگل کو وقفہ سوالات نہ ہو سکا۔ منگل کو ایوان بالا کے اجلاس کے ایجنڈے میں وقفہ سوالات سے استثنیٰ سے متعلق تحریک شامل تھی۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے اس سلسلے میں وضاحت کی کہ کارپوریشن کے ملازمین کو چونکہ تنخواہیں نہیں ملیں اس لئے سوالات کی پرنٹنگ نہیں ہو سکی اور وقفہ سوالات نہیں ہوگا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پیر سے پارلیمنٹ مفلوج ہے، اڑھائی ماہ سے سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملیں، یہ چیز قابل قبول نہیں ۔ انہوں نے وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد کو ہدایت کی کہ وہ وزیراعظم سے کہیں کہ وہ پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ملازمین کی تنخواہوں کے حوالے سے سمری کو فوری طور پر نمٹائیں تاکہ ان کی تنخواہ کا مسئلہ حل ہو سکے۔علاوہ ازیں سینیٹ میں جے یو آئی کے سینیٹر حافظ حمد اﷲ کی جانب سے پیش بچوں میں منشیات، گداگری اور دیگر مسائل اور سکولوں میں داخلے سے محروم بچوں کی صورتحال کے حوالے سے تحریک التواء کی منظوری کا معاملہ نمٹا دیا گیا چیئرمین سینیٹ نے فیض آباد میں دھرنا ختم کرنے کے طریقہ کار اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق تحریک التواء بحث کے لئے منظور کرلی، جبکہ غیر ملکی میگزین میں پاکستان میں اقلیتوں کی صورتحال کے حوالے سے شائع ہونے والے مضمون سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کا معاملہ موخر کر دیا گیا۔ حافظ حمد اللہ نے کہا کہ بچوں میں منشیات، گداگری اور دیگر مسائل اور سکولوں میں داخلے سے محروم بچوں کی صورتحال سے متعلق ایوان بالا کے ایجنڈے کے سلسلے میں محرک کی تحریک التواء بھی ایجنڈے میں شامل تھی جس پر انہوں نے اظہار خیال بھی کیا تاہم چیئرمین نے کہا کہ یہ معاملہ تحریک التواء کے تحت زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔ اگر وہ رولز 218 کے تحت نئی تحریک لے آئیں تو اس پر تفصیلی بحث کرائی جا سکتی ہے جس پر محرک نے اپنی تحریک التواء کی منظوری کے لئے زور نہیں دیا اور چیئرمین نے یہ معاملہ نمٹا دیا۔ وزیر مملکت برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر درشن نے کہا ہے کہ پاکستان میں جان بچانے والی ادویات مارکیٹ میں وافر مقدار میں موجود ہیں۔ ادویات کے غلط استعمال کی روک تھام کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہسپتالوں اور انسٹیٹیوٹس کو ضرورت کے مطابق ادویات درآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ منگل کو ایوان بالا کے اجلاس میں طاہر حسین مشہدی کے توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دے رہے تھے۔ دریں اثنا وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری نے بین الاقوامی ثالثی عدالت کی طرف سے پاکستان کو آئی پی پیز کو ادائیگیاں کرنے سے متعلق تحریک التواء پر بحث سمیٹ دی ، وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی پی پیز کو 14 ارب روپے ادا کرنے کا کہا گیا ہے، یہ کہنا درست نہیں ہے کہ جھم پیر میں ایک ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کئے جانے کا انتظار ہے، 70 سال میں بجلی کے شعبے کی بہتری کے لئے جو اقدامات موجودہ حکومت نے کئے ہیں پہلے نہیں ہوئے۔ ان کے نتائج بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ، کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہوا، شمسی توانائی، چھوٹے پن بجلی منصوبوں، بائیو ماس اور بیگاس کے شعبہ میں مسابقتی بولی کے ذریعے منصوبے شروع کئے جائیں گے۔ ہم نے قومی اسمبلی سے نیپرا ایکٹ میں ترمیم کا بل منظور کروایا۔ سینیٹ سے بھی یہ بل منظور ہو جائے تو اس سے صورتحال میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔ اس بل کے تحت نئی نیشنل الیکٹرسٹی پالیسی اور الیکٹرسٹی پلان کا اعلان کیا جائے گا۔بجلی کی قیمت میں بھی کمی آ رہی ہے۔ سسٹم کی کمزوریوں کی وجہ سے 135 ارب روپے کی بجلی غائب ہو جاتی ہے۔ ایس ای سی پی کے ساتھ ایک انتظامی اقدام کے تحت یہ طے پایا کہ توانائی اور بجلی کی خریداری بھی اب براہ راست ہوگی۔ حکومت اپنی ضمانت اس حوالے سے کیوں دے اور جو بھی بجلی پیدا کرتا ہے اسے خود فروخت کرنے کا ہی حق حاصل ہو۔ وزارت توانائی کو مکمل طور پر ہم تبدیل کریں گے، اس سلسلے میں اٹارنی جنرل کا آفس کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت غالباً 18 یا 20 دسمبر کو ہماری لندن میں اگلی سماعت بھی ہے، مقامی عدالت میں آئی پی پیز کا معاملہ چیلنج کیا گیا ہے، بیرون ملک بھی چیلنج کریں گے۔ تحریک پر سینیٹر طاہر حسین مشہدی، سینیٹر نعمان وزیر، سینیٹر شبلی فراز، سینیٹر جاوید عباسی، سینیٹر عثمان کاکڑ، سینیٹر سردار اعظم موسیٰ خیل اور دیگر ارکان نے بھی اظہار خیال کیا۔

مزید : صفحہ آخر