خوابوں کی تکمیل: میٹروبس منصوبہ

خوابوں کی تکمیل: میٹروبس منصوبہ

  

میگا پراجیکٹس پر برسوں لگ جاتے ہیں، لیکن عوام نے دیکھا کہ ایک منصوبہ گیارہ ماہ کی قلیل مدت میں مکمل ہوا اور 50ممالک کے سفیروں نے افتتاحی تقریب میں شرکت کرکے میٹرو بس کے اس شاندار منصوبے اور اس کی ریکارڈ مدت تکمیل میں اور کم ترین لاگت کے حوالے سے اسے سراہا۔ماس ٹرانزٹ کے منصوبے کو زیر زمین مکمل کرنے کی صورت میں 250ارب روپے درکار تھے، جن کا انتظام ہمارے محدود وسائل کے باعث ممکن ہی نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے کو فلائی اوور اور زمین کے اوپر تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے باعث 30ارب روپے کی کم ترین لاگت میں اسے مکمل کرلیا گیا ، جو زیر زمین سے نو گنا کم قیمت ہے۔اس منصوبے کی قلیل مدت میں تکمیل کو ہمارے ترک بھائی بھی حیرانی سے دیکھ رہے ہیں، جہاں 42کلومیٹر کا میٹروبس منصوبہ تین سال کے عرصہ میں مکمل ہوا تھا۔اس منصوبے کی حیران کن بات یہ بھی ہے کہ اس میں ایشیا کا طویل ترین 8.6کلومیٹرپل بھی بنایا گیا ہے، تاکہ ان مقامات پر پہلے سے چلنے والی ٹریفک میں خلل نہ پڑے۔اس طویل ترین پل کی تعمیر سے پاکستان میں تعمیرات کا ایک ریکارڈ قائم ہوا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریفکا میٹروبس منصوبہ محدود وسائل میں مکمل کرنا اپنی مثال آپ ہے ، نقاد بھی اس منصوبے کی تکمیل پر حیرت زدہ ہیں۔ پاکستانی عوام کو جدید ترین سفری سہولت فراہم کرنے کے اس منصوبے کے تحت ان جدید بسوں میں جو ہر تین منٹ کے بعد دستیاب ہوں گی، ایک گھنٹے میں آٹھ ہزار اور ایک دن کے 14گھنٹوں میں ایک لاکھ افراد کو سستی اور ماڈرن جدید سفری سہولت مہیا کرے گی۔ ان بسوں کے باعث 27کلومیٹر کا طویل فاصلہ صرف 55منٹ میں طے ہوگا ،جو لاہور کی سڑکوں اور ٹریفک کے اژدھام کے باعث ایک ناقابل یقین بات لگتی ہے۔ عوام کی سہولت کے لئے 27جدید ٹرمینل قائم کئے گئے ہیں ،تاکہ تمام علاقوں کے لوگ اس سے استفادہ کرسکیں۔ اس منصوبے کی تعمیر کے دوران اس کی قیمت ، خاص طور پر گرلوں اور جنگلوں کی قیمت کے بارے میںبے جا، غیر ضروری اورمبالغہ آمیز تنقید کی گئی، منصوبے کی قیمت سو ارب سے زائد بتائی جارہی تھی، جبکہ منصوبہ صرف 30ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہوا ہے، جبکہ جنگلوں اور گرلوں کی قیمت صرف 48کروڑ 13لاکھ روپے ہے اور یہ جنگلے پیدل چلنے والوں کو حادثات سے بچانے اور ان ایئرکنڈیشنڈ اور ماڈرن بسوں کے لئے مختص راستے پر ان بسوں کی بلارکاوٹ اور تیز رفتار آمدورفت کو یقینی بنانے کے لئے قائم کئے گئے ہیں۔ اس منصوبہ کی خاص بات اس کا قلیل عرصے میں مکمل ہونا ہے۔ایل ڈی اے کے ذیلی ادارے ٹیپا نے کام جلد مکمل کرانے کی غرض سے اس منصوبے کو آٹھ حصوں میں تقسیم کرکے مختلف فرموں سے بیک وقت تعمیراتی کام کرایا، جو 24گھنٹوں کی تین شفٹوں میں جاری رہا اور تعطیلات کے دوران بھی کام کو جاری رکھا گیا ۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس منصوبے کی تکمیل دن رات ایک کرکے ریکارڈ ترین وقت میں ممکن ہوسکی ہے۔  بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ اس ترقیاتی منصوبوں کے باعث ہی لوگوں کو روزگار میسرآتا ہے اور اس منصوبے کی تکمیل میں بھی ہزاروں لوگوں کو روزگار میسرہوا ہے اور آج اس کی تکمیل کے بعد بھی ہزاروں افراد کو ایک صاف ستھرے روزگار کا حصول ممکن ہوا ہے۔سفری سہولت کے اس منصوبے کی حفاظت کے لئے فول پروف سیکیورٹی پلان دیا گیا ہے، جس کے تحت مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جہاں سے روٹ پر ہونے والی ہر سرگرمی مانیٹرہوگی۔روٹ پر جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں اور تین سو سیکیورٹی اہلکار تعینات کئے گئے ہیں ،جن کی اکثریت سابقہ فوجی جوانوں پر مشتمل ہے ،جنہیں ایلیٹ ٹریننگ سکول سے خصوصی تربیت دلائی گئی ہے۔اس منصوبے کو متعارف کرانے کے لئے ایک ماہ تک یہ سفری سہولت مفت مہیا کی جارہی ہے ،بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ میٹرو بس کا کرایہ عام آدمی کی پہنچ میں رکھا جائے گا۔ دنیا بھر کے ممالک میں بڑے شہروں میں ماس ٹرانزٹ ٹرینوں اور بسوں کے ذریعے عوام کو سفری سہولتیں مہیا کی گئی ہیں ۔ ان منصوبوں کے باعث ٹریفک کے فلو میں بھی کمی ہوتی ہے، اس کی واضح مثال یہ ہے کہ واشنگٹن میں 50سال قبل جو ٹریفک تھی، آج بھی اس میں کچھ فیصد ہی اضافہ ہوا ہے۔ لاہور میں اس منصوبے کے باعث اب نہ صرف عام لوگ، بلکہ گاڑیوں والے بھی سفری سہولت حاصل کریں گے اور اس کے باعث ٹریفک کے فلو میں بھی کمی آئے گی۔ اس منصوبے سے پاکستانیوں کے حوصلے بڑھیں گے ۔اب دوسرے بڑے شہروں میں بھی ان منصوبوں کے قیام کی اشد ضرورت ہے۔ خاص طور پر کراچی، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ میں ماس ٹرانزٹ ٹرین کے منصوبے تو ہمارے بس میں نہیں، لیکن میٹرو بس کی سہولت ہر شہر میں دی جانی چاہیے۔  ٭

مزید :

کالم -