معلوماتی سفرنامہ۔ ۔ ۔ کھول آنکھ زمین دیکھ... گیارہویں قسط

معلوماتی سفرنامہ۔ ۔ ۔ کھول آنکھ زمین دیکھ... گیارہویں قسط
 معلوماتی سفرنامہ۔ ۔ ۔ کھول آنکھ زمین دیکھ... گیارہویں قسط

  

اٹلانٹک سٹی کا سفر

اسی دوران ویک اینڈ آگیاجس میں ہمارے پاس موقع تھا کہ ہم دوردراز مقامات کا سفر کریں۔شہر کے قابل ذکر مقامات بعد میں بھی دیکھے جاسکتے تھے۔ ہمارے سامنے کئی جگہیں تھیں لیکن قرعۂ فال اٹلانٹک سٹی کے نام نکلا۔یہاں جانے سے میرا مقصد محض سیر و تفریح نہ تھا۔ گو اس کے لیے بھی یہ بہترین جگہ ہے۔ امریکا کا یہ شہر مغربی تہذیب کے ایک اور پہلو یعنی قمار بازی کا نمائندہ ہے۔یہ امریکا میں جوئے اورقمار بازی کا ، لاس ویگاس کے بعد، دوسرا بڑا اڈہ ہے۔

دسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

فہیم بھائی نے اپنے ایک قریبی دوست عزیز بھائی کو بلالیا جو نیویارک کی پڑوسی ریاست کنکٹی کٹ (Connecticut)میں رہائش پذیر ہیں۔ ہم ان کے ساتھ دوپہر کے قریب روانہ ہوئے۔اٹلانٹک سٹی ریاست نیوجرسی میں واقع ہے اور نیویارک سے تقریباً سو ڈیڑھ سو میل کے فاصلے پر ہے۔ عزیز بھائی نے نیو یارک سے باہر نکلنے کے لیے مین ہٹن کاراستہ اختیار کیا۔ مگر چھٹی کا دن ہونے کے باوجود وہاں اتنا رش تھا کہ اس سے نکلتے نکلتے ایک گھنٹہ لگ گیا۔ مین ہٹن سے نکل کر ہم اس سرنگ میں داخل ہوئے جو پانی کے اندر بنائی گئی تھی۔ اس سرنگ سے گزرتے ہوئے محسوس نہیں ہوتا تھا کہ ہم زیرِآب سفر کررہے ہیں۔ سرنگ سے گزر کر ہم نیو جرسی میں داخل ہوگئے۔

خلا کی سیاحت اور شادی بیاہ کے اخراجات

دورانِ سفرعزیز بھائی نے ریڈیو پر خبریں لگادیں۔ اس روز دو خبریں نمایاں تھیں۔ پہلی خبر ساٹھ سالہ امریکی تاجر ڈینس ٹیٹو کے بارے میں تھی جو روسی راکٹ سوپوس میں سوارہوکر قازقستان کے خلائی مرکز سے خلا کے سفر کے لیے روانہ ہوا۔اس طرح اس نے دنیا کے پہلے خلائی سیاح ہونے کا اعزازحاصل کرلیا۔اس مقصد کے لیے اس نے بیس ملین ڈالر کی خطیر رقم ادا کی۔

انسان کے پاس جب بے حد دولت آجائے تو نت نئے شوق وجود میں آتے ہیں۔مذکورہ بالا واقعہ اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔ یہ شوق ابتدا میں تو دولت مندوں تک محدود رہتے ہیں مگر ایک زمانہ آتا ہے کہ پوری سوسائٹی ان دولت مندوں کی پیروی میں انہیں اختیار کرلیتی ہے۔ مثلاً ہمارے معاشرے میں شادی بیاہ کے موقع پر جس طرح پیسہ لٹایا جاتاہے اور جو نت نئی رسومات ایجاد کی گئی ہیں ان کا آغاز غریب غربا نے نہیں کیا۔ یہ بڑے لوگوں کے چونچلے تھے جو آہستہ آہستہ شادی کی سادہ رسم کے لوازمات میں شامل ہوگئے۔ اور اب لوگ قرضہ لے کر ان خرافات کا اہتمام کرتے ہیں ورنہ معاشرے میں ناک کٹ جانے کا اندیشہ رہتا ہے۔دوسری طرف کتنے ہی لوگ ہیں جو نانِ شبینہ کے بھی محتاج ہیں، جن کے گھروں میں جوان بہنیں اور بیٹیاں صرف اس وجہ سے بیٹھی ہیں کہ ان کے پاس مالی وسائل نہیں ہیں۔ افسوس کہ لوگ اپنے شوق کے لیے لاکھوں برباد کردیتے ہیں۔ مگر دوسروں کی ضرورت کے لیے ایک دھیلہ نکالتے ہوئے بھی انہیں تکلیف ہوتی ہے۔

شراب نوشی کی ملزمہ

دوسری خبر شراب نوشی کی ایک ملزمہ کے بارے میں تھی۔ امریکا میں شراب نوشی پر کوئی پابندی نہیں لیکن شراب پینے کے لیے عمر کی ایک حد مقرر ہے جس کی خلاف ورزی ایک جرم ہے۔ اس روز کی دوسری خبر یہ تھی کہ امریکا کے صدر بش کی انیس سالہ صاحبزادی جینا کو پولیس نے شراب نوشی کرتے ہوئے گرفتار کرلیا۔ یہ واقعہ ٹیکساس میں پیش آیا جہاں شراب نوشی کی کم سے کم عمر اکیس سال ہے۔ اس وقت جینا کو گرفتار نہیں کیا گیا صرف جرمانہ کیا گیا۔ لیکن موصوفہ عادی مجرمہ تھیں اس لیے بعد میں بھی متعدد دفعہ اسی جرم میں پکڑی گئیں اور کمیونٹی سروس کی سزاپانے کے علاوہ ڈرائیونگ لائسنس بھی گنوابیٹھیں۔ ان کی استقامت سے ہمیں امید ہے کہ آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ وہ اکیس سال کی ہوجائیں۔

اس واقعہ پر وہائٹ ہاؤس نے یہ بیان جاری کیا تھا کہ یہ بش فیملی کا ذاتی معاملہ ہے۔ میں اس خبر کو سن کر سوچنے لگا کہ اگر یہ واقعہ اسلامی جمہوری پاکستان کی پاک سرزمین پر پیش آتا تو کیا ہوتا؟ قطع نظر اس کے کہ وہاں شراب نوشی ہر عمر میں اخلاقی، مذہبی، سماجی اور قانونی جرم ہے، صدر تو کجا کسی وزیر یا مشیر کی بیٹی/بیٹا یہ کام کرتے ہوئے پکڑا جاتا تو پولیس والے کا رویہ کیاہوتا؟ جس لمحے ملزم اپنی شناخت ظاہر کرتا، پولیس والا دو سلوٹ مارتااور چار بوتلیں اپنی طرف سے بھی پیش کردیتا۔

ہزار ہا شجرِسایہ دار راہ میں ہیں

امریکہ میں سڑک پر ٹول ٹیکس لیا تو جاتا ہے مگر اس کے بدلے میں اتنی سہولتیں دستیاب ہیں کہ افسوس نہیں ہوتا ۔ سڑک اس قدر اچھی ہے کہ تیز رفتاری سے گاڑی چلنے کے باوجودجھٹکے نہیں لگتے ۔ راستہ انتہائی سرسبز وشاداب ہے۔ سڑک کے دونوں طرف سیکڑوں میل تک جنگل کی صورت میں درختوں کا طویل سلسلہ چلتا چلا گیا ہے۔ اس وقت موسمِ بہار کی آمد آمد تھی اور ٹھنٹھ درختوں پر سبزہ پھوٹا پڑرہا تھا۔ نگہت باجی نے بتایا کہ جب یہ درخت مکمل سبزہوجاتے ہیں تو ان کی شادابی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ درخت قدرت کی کاریگری نہیں بلکہ انسانی کاوشوں کے نتیجے میں سڑک کے دونوں طرف نظر آتے ہیں۔ یہاں بارش بہت ہوتی ہے جس کی بنا پر زمین زرخیز ہے۔ انسانی عمل کی دیر تھی کہ یہ سرسبزی وجود میں آگئی۔

راستے میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر سروسز ایریا بھی بنے ہوئے ہیں جہاں رک کر مسافر تازہ دم ہوتے ہیں۔ ان میں وسیع و عریض پارکنگ لاٹ اور ساتھ میں ملحقہ عمارت ہوتی ہے۔ ہر عمارت میں اسنیکس کی دکان اور کھانے پینے کے تمام لوازمات دستیاب ہیں۔ صاف ستھرے واش رومز کی سہولت بھی موجود ہے۔ راستوں کے نقشے اور اہم تفریحی مقامات کے معلوماتی کتابچے وغیرہ مفت مل جاتے ہیں۔ چھوٹی موٹی اشیا کی خریداری کی دکان بھی ہوتی ہے۔ اکثر جگہ فری انٹر نیٹ اور ای میل کی سہولت بھی ہے۔ غرض ہر وہ سہولت جس کا ایک مسافر طلبگار ہوسکتا ہے وہاں مل جاتی ہے۔راستے میں پولیس کی گاڑیاں بھی ملیں۔ عزیز بھائی نے بتایا کہ یہ راستے میں چھپ کر کھڑی ہوتی ہیں تاکہ مسافروں کی رفتار کو چیک کرسکیں۔ اگر کوئی مسافر مقررہ رفتار سے زیادہ تیز گاڑی چلارہا ہوتو اسے ٹکٹ مل جاتا ہے۔ اگر راستے میں کوئی مسئلہ ہوجائے تو فون کرکے پولیس کو مددکے لیے بھی بلایا جاسکتا ہے۔

انگریزی کا کرشمہ

ہمارے معاشرے میں جوئے کے اڈے پر جانے کو بڑا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ جوا کھیلنا میں نے اس لیے نہیں لکھا کہ مختلف انعامی اسکیموں کے ذریعے اب پوری قوم گھر بیٹھے جوا کھیلتی ہے۔ جب سب ہی جواری ہیں تو کون برا کہے گا اور کون برا ٹھہرے گا۔ جوا ہوتا کیا ہے؟ صرف قسمت کی بنیاد پر پیسہ لگانا۔ نصیب نے یاوری کی تو کئی گنا کمالیا نہیں تو لگائی ہوئی رقم بھی ڈوبی۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ جوئے خانے گئے یا نہیں۔ اب تو انٹر نیٹ پر جوا عام کھیلا جاتا ہے۔

ہمارے ذہن میں جوا خانے کا بڑا برا نقشہ تھا۔ تصور یہی تھا کہ جوا خانہ تو بدمعاشوں کا اڈا ہوتا ہے۔ ہمارے وہ قارئین جو جوئے کے تصور سے بھی پریشان ہوجاتے ہیں ان کی سہولت کے لیے ہم آئندہ جوئے خانے کے بجائے کیسینو کا لفظ استعمال کریں گے۔ دراصل ہماری قوم کی کچھ نفسیات بن گئی ہے کہ غلط تصورا ت، اعمال اور حرکتوں کو جب انگریزی میں بیان کیا جائے تو وہ اچھی لگنے لگتی ہیں یا ان کی برائی کم ہوجاتی ہے۔ مثلاً سود کو انٹرسٹ بلکہ پروفٹ کہہ کر جائز کرلیا جاتا ہے۔ جنس پر گفتگو معیوب سمجھی جاتی ہے البتہ سیکس پر بات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔اردو میں جو الفاظ گالی شمار ہوتے ہیں جب انگریزی کا روپ دھارتے ہیں تو معیارِقابلیت ٹھہرتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

تاہم ہمیں گھر میں ہی بتادیا گیا تھا کہ یہاں ایک بالکل مختلف دنیا دیکھنے کو ملے گی۔ جب سہ پہر کے وقت وہاں پہنچے توواقعی ایک بالکل مختلف دنیا نگاہوں کے سامنے آئی۔ ابتداءً عزیز بھائی مجھے انفارمیشن سنٹر لے گئے۔ وہاں مفت معلوماتی کتابچے دستیاب تھے۔ ان کا مقصد سیاحوں بلکہ زیادہ درست الفاظ میں جواریوں کوضروری اور غیر ضروری سہولیات کی تفصیلات سے آگاہ کرنا تھا۔ میں ضروری سہولیات کی تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتا اور ’’غیر ضروری سہولیات‘‘ کی تفصیل اخلاق سے گری ہوئی ہے۔ لوگ جس وجہ سے یہاں آتے ہیں وہ ان کیسینوز کی بے مثل خوبصورتی اور ان میں کھیلا جانے والا جوا ہے۔ وگرنہ یہاں جتنی دیگر چیزیں دستیاب ہیں مثلاً شراب، شباب، کباب، ساحل سمندر ، شاپنگ سنٹرز اور دیگر تفریحات تو یہ مغربی معاشرے کا جزو لاینفک ہیں۔ جوکچھ ہمارے نزدیک معیوب ہے وہ اس سوسائٹی کا معروف ہے۔جب تک آپ اس معاشرے میں ہیں ان سے دامن نہیں چھڑاسکتے۔ زیادہ سے زیادہ انہیں نظر انداز کرسکتے ہیں۔

بورڈ والک (Board Walk)

یہ کیسینوز لبِ ساحل اس طرح تعمیر کیے گئے ہیں کہ ایک طرف بحر اوقیانوس کا تاحدِ نگاہ پھیلا پانی اور طویل ساحلی پٹی ہے تو دوسری طرف دکانوں کی لمبی قطار ہے جن میں طرح طرح کی چیزیں دستیاب ہیں۔ ان دکانوں کے عقب میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر واقع تیرہ عالیشان اور وسیع و عریض کیسینوز ہیں جو دیکھنے میں محلوں جیسے ہیں۔ درمیان میں ایک بورڈ والک ہے جو دراصل تختوں سے بنی ایک چوڑی فٹ پاتھ ہے۔ یہ ساڑھے چار میل لمبی ہے جس پر چلتے ہوئے لوگ خریداری بھی کرتے ہیں اور ساحلی ہوا اور منظر کا لطف بھی لیتے ہیں۔وہ لوگ جو اس طویل راستے پر چلتے چلتے تھک جائیں ان کے لیے ہاتھ گاڑی کی سواری موجود ہے۔ یہ رکشہ جیسی چیز ہے ۔اس کا ڈرائیوراسے پیچھے سے دھکا دے کر چلاتاہے اور اندر بیٹھنے والے چاروں طرف کا نظارہ کرتے جاتے ہیں۔ سواریوں کو اگر سردی لگے تو ان کے سامنے کی سمت ایک سفید پلاسٹک ڈال دیا جاتا ہے تاکہ ہوا سے محفوظ رہ سکیں۔

اس وقت ماہِ اپریل کا اختتام تھا اور سردیوں کے اثرات ابھی باقی تھے جس کے اثر سے ساحل ان تمام خرافات سے پاک تھا جو موسم گرما میں یہاں کے معمولات میں شامل ہیں۔ ہوا ٹھنڈی اور تیزتھی مگر اب چونکہ میں کینیڈین ہوچکا تھا اس لیے مجھے بری نہیں لگ رہی تھی۔

(جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

( ابویحییٰ کی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔انہوں نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ ان سے براہ راست رابطے کے لیے ان کے ای میل abuyahya267@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

مزید :

کھول آنکھ، زمین دیکھ -