تفہیمِ اقبال:بانگ درا (2)

تفہیمِ اقبال:بانگ درا (2)
 تفہیمِ اقبال:بانگ درا (2)

  


سیاسیاتِ امروزہ کے معروف موضوعات سے ہٹ کر کالم لکھنا اور وہ بھی کبھی دفاع ، کبھی اقبالیات، کبھی سپورٹس اور کبھی دوسرے متفرق اور غیر سیاسی موضوعات کو مرکزِ سخن بنانا بڑے جان جوکھوں کا کام ہے۔

ہمارے عوام کی اکثریت کو تو سیاست گزیدگی کی لت پڑچکی ہے (یا شائد ڈال دی گئی ہے) اس لئے ان کو کسی دوسرے موضوع پر آگہی دینے کے ’’بہانے‘‘ ڈھونڈنا کچھ اچھا نہیں لگتا۔ لیکن میں جب سیاسیاتِ عالم کی ’’فتوحات‘‘ پر نظر ڈالتا ہوں تو حیرانی ہوتی ہے کہ ہم کس طرح من حیث الامت ایک گلوبل سازش کا شکار ہو رہے ہیں۔۔۔۔ مسلم قوم کی نیا ڈوب رہی ہے لیکن:

نہیں لیتے کروٹ مگر اہلِ کشتی

پڑے سوتے ہیں بے خبر اہلِ کشتی

افغانستان ، عراق، شام اور لیبیا کبھی اسلامی تہذیب و تمدن کے گہوارے کہلاتے تھے۔ عراق اور شام تو ازسرتاپا مجسم اسلامی تمدن کے آئنہ دار تھے اور افغانستان وہ ملک ہے جس کے کوہ و دمن سے اٹھنے والے تاجداروں نے صدیوں تلک ہندوستان جنت نشان پر حکمرانی کی ، تقریباً دنیا بھر کے فتون لطیفہ کی آبیاری کی اور اقبال کو تو یہاں تک کہنا پڑا:

ہزار مرتبہ کابل نکوتراز دلّی ست

کہ آں عجوزہ عروسِ ہزار د اماداست

]کابل ہزار مرتبہ دلی سے بڑھ کر حسین ہے کیونکہ دلی ایک ایسی خاتون ہے جس کے ہزاروں خاوند رہے ہیں۔ (لیکن کابل پر صرف اہلِ افغانستان ہی کی حکمرانی رہی ہے)[

یہ کہنا کہ مشرق وسطیٰ کے سبزہ زاروں اور صحراؤں کو یہودی سازشوں نے برباد کیا ہے،ایک عذرِ لنگ ہوگا۔ میں اس کا سہارا کیوں لوں؟ لیکن دجلہ و فرات کی وادیوں اور دمشق و حلب کے مرغزاروں کو آج جس بربادی سے گزرنا پڑرہا ہے وہ ایک دلخراش منظر اور دلگداز داستان ہے۔

بعض قارئین یہ کالم پڑھ کر شائد یہ کہیں کہ جب روم جل رہا ہو تو نیرو کو بانسری نہیں بجانی چاہئے۔ لیکن نیرو تو روم کا شہنشاہ تھا۔با ایں ہمہ ہم جیسے بے نوا کالم نویس بھی اپنے آپ کو کسی میڈیائی سلطنت کے شہنشاہ سے کم مرتبہ نہیں گردانتے۔ اگر کوئی کالم نگار پاکستان کو جلتا ہوا دیکھتا ہے اور اقبال کے مناظرِ فطرت کی نظموں کو موضوعِ کالم بناتا ہے تو اس کی بے بسی اور بے چارگی کی انتہاؤں کا اندازہ کیجئے۔۔۔۔ انسان کے داخل میں ایک ایسا میکانزم بھی نصب ہے جو خارج کے مصائب کے تسلسل سے گھبرا کر اپنا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ میں جب سیاستِ امروزہ کے مصائب سے ہٹ کر کسی اور غیر متعلق موضوع کا سہارا لیتا ہوں تو یوں سمجھئے کہ اپنے داخل کے اسی میکانزم کو فعال (Activate) کررہا ہوتاہوں۔ ۔۔۔ درج ذیل نظم پر تبصرہ بھی اسی رد عمل کا اظہار سمجھ کر گوارا کیجئے:

بانگِ درا اقبال کی اردو شاعری کی پہلی کتاب ہے جس کی پہلی نظم کا عنوان ’’ہمالہ‘‘ ہے۔

سلسلہء کوہستانِ ہمالہ ہندوستان کے شمال میں روز اول سے گویا ڈیوٹی پر کھڑا ہے۔ اسے آپ ایسا چوکیدار بھی کہہ سکتے ہیں جوکسی ایرے غیرے کو ہندوستان میں داخل نہیں ہونے دیتا۔ اس کی بلندی، برف ، گھاٹیاں، ناقابلِ تسخیر چوٹیاں، گلیشیئر، کوہستانی دریا، پہاڑی ندیاں اور شور مچاتے نالے وہ نقوشِ زمینی ہیں جو ہندوستان کے طبعی جغرافیے کے طور پر طلباء کو پڑھائے جاتے ہیں۔ آپ نے بھی یہی کچھ پڑھا ہوگا اور میں نے بھی جب ہندوستان کا جغرافیہ پڑھا تھا تو سکول کے استادِ محترم نے ماؤنٹ ایورسٹ، کے ٹو، کنچن چنگا وغیرہ برفانی چوٹیوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا تھا کہ ان کی وجہ سے اس طرف سے آج تک کوئی بھی حملہ آور ہندوستان پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کر سکا۔(1962ء میں چین نے انڈیا پر جو حملہ کیا تھا وہ NEFA اور تبت کی طرف سے کیا تھا جو کوہِ ہمالہ کے دامن میں واقع ہے نہ کہ ہمالہ کو عبور کرکے کیا تھا۔ درۂ قراقرم سے بھی گرمیوں کے چند مہینوں کے علاوہ کوہستان ہمالہ کو عبور نہیں کیا جاتا ۔ان ایام میں بھی اس کو بازو کش (By-Pass) کرکے چین کے علاقے میں جاتے ہیں)

اقبال پہلے شاعر ہیں جنہوں نے ہمالہ کو اپنی پہلی اردو نظم کا موضوع بنایا اور اسے ایک پہاڑی گراؤنڈ فیچر سے اٹھا کر حیاتِ جاودانی عطا کر دی۔آئیے ان کی نظم پر کچھ مزید خوروخوض کرتے ہیں:

اقبال کی یہ نظم ایک مسدس ہے۔ دراصل بانگ درا کی پہلی پانچوں نظمیں اسی صنفِ شعر (مسدس) میں موزوں کی گئی ہیں۔ ان کے عنوان ہمالہ، گلِ رنگیں، عہدِ طفلی، مرزا غالب اور ابرکوہسار ہیں۔ ان کے بعد سات نظمیں بچوں کے لئے ہیں اور تیرہویں نظم ’’خفتگانِ خاک سے استفسار‘‘ وہ معرکتہ آلارا نظم ہے جو اپنی روانی، سادگی اور انسانی جذباتیت سے لبریز ہے۔ اور اس نظم کے بعد تو بانگ درا کی منظومات کا ایک ایسا چمن سامنے کِھل جاتا ہے کہ قاری پڑھ کر دم بخود رہ جاتا ہے کہ اقبال نے روایاتِ شعر و سخن کو کس حد تک تبدیل کیا اور اس تبدیلی کو کس حد تک قابلِ رشک موضوعات اور مضامین سے سنواردیا۔۔۔

ہم اقبال کی پہلی نظم کے پہلے بند سے بات شروع کرتے ہیں جو اس طرح ہے:

(1)

اے ہمالہ! اے فصیلِ کِشورِ ہندوستان

چُومتا ہے تیری پیشانی کو جُھک کر آسماں

تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں

تُو جواں ہے گردشِ شام و سحر کے درمیاں

ایک جلوہ تھا کلیمِ طُورِ سینا کے لئے

تُو تجلّی ہے سراپا چشمِ بینا کے لئے

اگر آج میرے جیسے کسی سیاح کو کوئی حکومتی یا نجی ادارہ کوہ ہمالہ کا نظارہ کروائے تو میں ہوائی جہاز سے واپس اتر کر اپنی سٹڈی میں بیٹھ کر اس پر جو کچھ لکھوں گا وہ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ : ’’ہمالہ ایک بہت اونچا پہاڑی سلسلہ ہے جس کی برفانی چوٹیاں ناقابلِ عبور ہیں۔ اسی کا رنگ گہرا بھورا اور بعض جگہ سفید و سبز ہے۔ اس پر بادل چھائے رہتے ہیں اور ہولناک گھاٹیوں کو دیکھ کر ہوائی جہاز میں بھی بیٹھے بیٹھے ڈر لگتا ہے۔ اور۔۔۔اور۔۔۔ بس! ۔۔۔‘‘اس سے زیادہ کیا لکھ سکوں گا۔

لیکن دیکھئے اقبال نے اگرچہ کبھی کوہ ہمالہ کا سفر نہیں کیا تھا، نہ ان کے دور میں کوئی جہاز اس سلسلہ ء کوہ کے اوپر پرواز کر سکتا تھا۔ انہوں نے جو کچھ لکھا وہ صرف اور صرف اپنے زورِ تخیل سے لکھا اور اس تخیلاتی کاوش کی حدود بھی فلسفہ، منطق، تاریخ، جغرافیہ، ادبیات اور عمرانیات تک ایسی پھیلی ہوئی ہیں کہ اقبال کے ذوقِ تخیل کی وسعت پر رشک آتا ہے۔

ویسے تو ایسی ضرورت نہیں کہ اس نظم کے بندوں (Stanzas) کی تشریح کی جائے۔لیکن میں صرف ان حضرات و خواتین کے لئے یہ تشریح (یاسلیس اردو) لکھ رہا ہوں جو کلامِ اقبال کو مشکل گردانتے ہیں۔ کوئی تحریر بھی نہ مشکل ہوتی ہے اور نہ آسان۔۔۔ صرف قاری کی دلچسپی اور اس کے ذوقِ جستجو کی بات ہوتی ہے کہ وہ کتنا شدید اور کتنا گہرا ہے۔۔۔ پہلے اس بند کا سلیس اردو دیکھئے:

’’اے ہمالہ: تو ملک ہندوستان کی فصیل ہے۔ ترے ماتھے کو آسمان بھی جھک کرچوم رہا ہے۔ تجھ میں قدیم ہونے کے کوئی نشانات نہیں۔ تو شام و سحر کی گردش میں بھی جوان رہتا ہے۔ کوہ طور پر حضرت موسیٰ ؓ نے تو محض ایک جلوہ دیکھا تھا لیکن تُو تو سراپا جلوہ زار ہے‘‘۔

اس پہلے بند میں قارئین کو تین باتوں پر دھیان دینا چاہیے۔۔۔۔ ایک تو یہ کہ اقبال نے ہمالہ کو ہندوستان کی فصیل کہا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ شہر یا قلعہ کی فصیل، حملہ آور کو روکتی ہے۔ اس لئے جیسا کہ اوپر کہا گیا ہمالہ کی فصیل بھی شمال سے آنے والے ہر حملہ آور کو روکتی ہے۔۔۔ دوسری بات صبح وشام کی گردش ہے جو ہر ذی روح کو بوڑھا کر دیتی ہے لیکن اقبال کہتے ہیں کہ اے ہمالہ! تو روزِ ازل سے گردشِ شام و سحر کے درمیان کھڑا ہے لیکن تجھ میں بوڑھا ہونے کی کوئی بھی علامت نہیں پائی جاتی۔۔۔ تیسری بات وادی ء سینا میں کوہ طور پر کوہ ہمالہ کی سبقت ہے جو اقبال نے دی ہے اور کہا ہے کہ وہاں تو حضرت موسیٰ ؑ کو صرف ایک جلوہ نظر آیا تھا لیکن ہمالہ پر تو خدا کے ہزارہا جلوے پھیلے ہوئے ہیں۔(جاری ہے)

مزید : کالم


loading...