دیہاڑی دار ''معمار قوم'' 

 دیہاڑی دار ''معمار قوم'' 
 دیہاڑی دار ''معمار قوم'' 

  

گزشتہ ہفتے ایک خبر نظر سے گزری کہ دیہاڑی دار اساتذہ بھرتی کئے جائیں گے۔ دیہاڑی دار مزدور کی اصطلاح کے بعد دیہاڑی دار استاد لغت میں ایک نیا اضافہ ہوگا۔ دل ناداں نے یہ سوچا کہ ویسے تو ہر شخص مزدور ہے، اپنے اپنے شعبہ میں کام کرتا ہے، پیسے وصول کرتا ہے اور اپنا نظام زندگی چلاتا ہے مگر اسی دل کے ایک بیمار کونے میں اس خیال نے بھی کچھ تقویت پکڑی کہ ایک پڑھا لکھا ''معمارِ قوم'' قوم کیسی بنائے گا؟ یہ تجویز میری طبع نازک پر اس لئے بھی گراں گزری کہ میں خود بھی ایک استاد ہوں مگر مزدور کی مزدوری پر نہیں بلکہ اْستاد کی بچی کھچی بے توقیری پر آنکھوں میں آنسو تو نہیں لیکن کچھ زیادہ دیر کے لئے یوں کھلی رہیں کہ خبر دوبارہ پڑھی جاسکی۔

دل ناداں پر یہ خبر اس لئے بھی گراں گزری کہ چند بڑے پرائیویٹ سکول سسٹمز کے علاوہ کرونا کی وجہ سے چھوٹے سکولز تو اپنے اساتذہ کو تنخواہیں دینے سے بھی قاصر رہے، بے شمار سکولز اپنی موت آپ مرگئے، کچھ کے مالکان اس صدمے کو برداشت نہ کرتے ہوئے دنیا سے چلے گئے۔ اب ممکن ہے سرکاری اداروں میں اس ''معمار ِ قوم دوست پالیسی'' کے تاریخی اعلان کے بعد چھوٹے پرائیویٹ سکولز بھی اس سے ''بھرپوراستفادہ'' کرکے ہفتہ وار چھٹیوں، سرکاری تعطیلات اور عید وغیرہ کی تعطیلات کی تنخواہ نہ دیں تو ''دیہاڑی''نہیں لگی تو پھر پیسے کیسے؟ دلِ ناداں سے ایک اور تجویز ابھری ہے کہ کیوں نہ اراکین اسمبلی کو بھی صرف اسی دن کی ''مزدوری'' دی جائے جس دن وہ اسمبلی میں آئیں۔ وزراء کو صرف ان دنوں کی ''مزدوری'' دی جائے جن دنوں میں وہ کارکردگی دکھائیں۔

ایک ہی صفت میں محمود و ایاز آجائیں گے تو گویا انصاف کا تاریخی بول بالا ہوگا اور مورخ اس ببانگِ دہل انصاف کو سنہری حروف میں لکھنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرے گا۔ دلِ ناداں نے یہ بھی سوچا کہ دیہاڑی دار ''معمارِ قوم'' نے ابھی تو ایک ہی سلیبس پر کام کرنا تھا، ان کی تربیت کا کام بھی ہوگا، تو کیا تربیت کے دنوں کی دیہاڑی ملے گی یا نہیں؟ کرونا کے دوران تعلیمی سرگرمیوں کے معطل رہنے سے قوم کے جس نقصان کے ازالے کے لئے نئے اساتذہ کو بہترین سہولتوں کے ساتھ ملازمت دینے کی بجائے جو نوید سحر سنائی گئی ہے اس سے کرونائی نسل اپنے مستقبل کی ایسی ''تعمیر'' کرپائے گی کہ وہ جہاں بھی جائے گی چار چاند میں ایک اضافہ کرکے پانچ چاند لگائے گی اور تعلیمی میدان میں ہم دن دگنی رات چوگنی ترقی کے بے مثال راستے پر گامزن ہوں گے۔ دل نادان نے سوچا کہ دیہاڑی دار ''معمارِ قوم'' سکون و راحت کے بے کراں سمندر میں رہتے ہوئے تعلیم کا ایسا معیار قائم کریں گے کہ آنے والے برسوں میں سرحد پار سے صرف افغان طالب علم ہی پاکستان نہیں آئیں گے بلکہ ممکن ہے کئی دوسرے ممالک بھی اس تیز رفتار دوڑ میں شامل ہونے کی درخواست دیں۔ حکومت اور قوم کو پیشگی مبارکباد۔

مزید :

رائے -کالم -