ہمارے پاس لوگوں پر خرچ کرنے کیلئے پیسہ نہیں،سرمایہ کاروں کیلئے ایف بی آر کا خوف ختم کرنا ہوگا:وزیر اعظم عمران خان

ہمارے پاس لوگوں پر خرچ کرنے کیلئے پیسہ نہیں،سرمایہ کاروں کیلئے ایف بی آر کا ...
ہمارے پاس لوگوں پر خرچ کرنے کیلئے پیسہ نہیں،سرمایہ کاروں کیلئے ایف بی آر کا خوف ختم کرنا ہوگا:وزیر اعظم عمران خان

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت سنبھالی تو ریکارڈ مالیاتی خسارے کا سامنا تھا، آدھا ٹیکس کلیکشن قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی میں چلا گیا، ہمارے پاس لوگوں پر خرچ کرنے کیلئے پیسہ نہیں ہے،سرمایہ کاروں کیلئے ایف بی آر کا خوف ختم کرنا ہوگا،ٹیکس محصولات نہ بڑھائے گئے تو شدیدمالی مشکلات کاسامناکرناپڑیگا،سرکاری پیسہ جیسےپہلےاستعمال ہوتا تھا اب نہیں ہوگا،یقینی بنائیں گے کہ عوام کا پیسہ عوام پر خرچ ہو،اصلاحات کا عمل کامیابی سے ہمکنار ہوگیا تو ملک میں نمایاں بہتری ہوگی۔

وزیراعظم عمران خان کاایف بی آر افسران سےخطاب کرتے ہوئے کہناتھا کہ پاکستانی قوم نےشوکت خانم ہسپتال کیلئےسب سےزیادہ پیسہ دیا,نمل یونیورسٹی میں 70 فیصدطلبامفت تعلیم حاصل کررہےہیں,پاکستانی عوام دنیاکی سب سے زیادہ عطیات دینےوالی قوم ہے،کیا وجہ ہےکہ پاکستانی قوم خیرات تودیتی ہے مگرٹیکس محصولات کم ہیں؟اس وقت ہم ملکی تاریخ کے اہم ترین دوراہے پر کھڑے ہیں،ہم نے حکومت سنبھالی توریکارڈمالیاتی خسارے کاسامنا تھا،ہمارے پاس بھرپور نوجوان انسانی وسائل موجود ہیں،نوجوانوں کو تعلیم مل جائے تو ملک اوپر چلا جائے گا،نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار نہیں دیں گے تو بہت مشکلات آئیں گی۔وزیراعظم نے کہا کہپاکستان کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے،ہمیں ملکی وسائل کی ترقی کیلئے وسائل کی کمی کا سامنا ہے،لوگوں کے پاس پیسہ ہے، مگر ان کو ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں کر سکے،ہمیں ٹیکس ادائیگی کو قومی فریضہ سمجھنا پڑے گا،سرمایہ کار فکس ٹیکس دینا چاہتے ہیں مگر ٹیکس نیٹ میں نہیں آ رہے،ٹیکس نظام میں بہتری کیلئے عوام میں اعتماد کا فروغ ضروری ہے ،سرمایہ کاروں کیلئے ایف بی آر کا خوف ختم کرنا ہوگا،حکومت پر اعتماد کی بحالی تک لوگ ٹیکس نہیں دیں گے،ٹیکس محصولات نہ بڑھائے گئے تو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا  ، جس طرح سے ہم چل رہے ہیں اس طرح ملک آگے نہیں جاسکتا،جب تک حکومت پر اعتماد نہیں ہوگا لوگ ٹیکس نہیں دینگے.

انہوں نے کہا کہ ہمیں ایف بی آر افسران کی جانب سے نظام میں بہتری کیلئے تجاویز چاہئیں،سرمایہ کار فکس ٹیکس دینا چاہتےہیں مگر ٹیکس نیٹ میں نہیں آ رہے،80کی دہائی تک پاکستان خطےکاسب سے خوشحال ملک تھا،سرمایہ کاروں میں ایف بی آر کے خوف کا خاتمہ کرنا ہوگا.وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مغربی دنیا میں لوگ جانتے ہیں کہ ٹیکس کا پیسہ ان پر خرچ ہوگا،سویڈن نے خاتون وزیر معمولی رقم سرکاری کارڈ سے خرچ کرنے پر وزیراعظم نہ بن سکی،اقتدار میں آنیوالا گورنمنٹ کا پیسہ خرچ کرنا اپنا حق سمجھتا ہے لیکن میں نے ٹیکس کا پیسہ بچانے کی مہم کا آغاز خود اپنے آپ سے کیا،وزیراعظم ہاؤس کی بجائے اپنے گھر میں رہتا ہوں،دفترکے اخراجات میں 35 فیصد کمی کی، اپنے گھر کی سڑک اپنی جیب سے بنوائی، سرکاری پیسہ جیسے پہلے استعمال ہوتا تھا اب نہیں ہوگا،یقینی بنائیں گے کہ عوام کا پیسہ عوام پر خرچ ہو،واشنگٹن کے دورہ پر ماضی کے حکمرانوں نے 7 سے8 لاکھ ڈالر خرچ کئے،میں نے دورہ واشنگٹن پر صرف 65 ہزار ڈالر خرچ کئے،اقوام متحدہ کے دورہ پر ماضی میں 12 لاکھ ڈالر خرچ کئے گئے،میں نے دورہ نیویارک میں صرف ایک لاکھ 60 ہزار ڈالر خرچ کئے،سابقہ حکومت تھوڑا سا کام کر کے بڑا اشتہار دیتی تھی،ہم کام کرکے اشتہارات نہیں دیتے،وفاقی حکومت کے بجٹ میں کفایت شعاری سے 45 ارب روپے کی ریکارڈ کمی لائے ،فوج نے دفاعی بجٹ میں کمی کی ہے.سابق حکومت نے مری کے گورنر ہاؤس کی تزئین و آرائش پر 83 کروڑ روپے خرچ کئے،ہم اگلے سال گورنر ہاؤسز کے اخراجات زیرو فیصد تک لائیں گے.

انہوں نے کہا کہ نئی پالیسیوں کی تشکیل میں متعلقہ ماہرین کے تجربات سے استفادہ ہوگا،نظام کو بہتر کرنے کیلئے تجاویز پیش کی جائیں،تجاویز پر مشاورت کے بعد عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا،ہمارے اخراجات میں کفایت شعاری سے جاری خسارے میں کمی آرہی ہے،ہم ایک مشکل وقت سے نکل کر استحکام کی جانب جارہے ہیں،سمندر پار پاکستانی ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں،نظام میں بہتری سے ترسیلات زر میں اضافہ ہوگا،سی پیک دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے،اگر اصلاحات کا عمل کامیابی سے ہمکنار ہوگیا تو ملک میں نمایاں بہتری ہوگی۔

مزید : اہم خبریں /قومی