پاکستان تو اللہ کی نعمت ہے 

پاکستان تو اللہ کی نعمت ہے 
پاکستان تو اللہ کی نعمت ہے 

  

بچپن سے کتابوں میں پڑھتے آئے ہیں کہ انگریز برِ صغیر میں تجارت کی غرض سے آئے اور آہستہ آہستہ برِ صغیر پر قابض ہو گئے پھر بر صغیر میں بسنے والی دو بڑی قوموں پر حکمرانی شروع کر دی ۔یوں ہم ایک غلام قوم بن کر رہ گئے۔ اس کی مزید تفصیل میں نہیں جاؤں گا کیونکہ آپ سب جانتے ہیں کہ دو قومی نظریات کی بناء پر برِ صغیر پاک و ہند سے پاکستان اور ہندوستان کیسے بنا؟ آج ہماری قوم انگریزوں سے آزادی کا جشن موٹر سائیکلوں کے سائلینسر اتار کر ، بلند آواز میں لاؤڈ سپیکر لگا کر، چہروں کو بگاڑ کر منہ میں چائینہ کے باجے لے کراور ہندوستان کے گانوں پرمحوِ رقص ہو کر شایانِ شان سے منا رہی ہے ۔یہ سب بھول کر کہ آزادی کی جدوجہد کے دوران کس طرح ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں کو پامال کیا گیا کس طرح لاکھوں نوجوانوں کے سینوں میں نیزے گھونپ دیے گئے کس طرح بزرگوں کی تمام عمر کی جمع پونجی ہتھیا لی گئی اور کس طرح بچوں کو لاوارث کر دیا گیا کہ مہاجر کیمپوں میں بھی اُن کا کوئی وارث نا ملا بقلم خود:

’’میرے اجداد نے زندگیاں لُٹا دیں

میری عورتوں نے عصمتیں گنوا دیں

تم کو کیا قدر ہو اے نوجوان وطن

تم نے سب قربانیاں دریا میں بہا دیں‘‘

اس میں ہمارے نوجوانوں کا بھی شائد قصور نا ہو کہ ہم اب بھی آزاد ہو کر غلام ہی ہیں ہم نے اپنے اسباق میں سے آزادی کے قصے نکال دیے ہیں۔ اسوہ حسنہﷺ تک کو نکال دیا ہے شمشیر کیا ہوتی ہے وہ تک نکال دیا ہے اس پاکستان کے لئے جس شاعر مشرق نے خواب دیکھا تھا وہ خواب نکال دیا ہے اس اقبالؒ کے دن کی چھٹی تک ختم کر دی ہے کہ کہیں چھٹی کی مناسبت سے ہمارے نوجوان اقبالؒ کے خواب کو کہیں شرمندہ تعبیر نا کر دیں۔ آزادی کے خواب کے ساتھ شائد علامہ محمد اقبالؒ کو یہ بھی ادراک ہو چکا تھا کہ ہماری آنے والی نسلیں اس قابل نہیں ہوں گی جو اُن کے خواب کی سہی معنوں میں تعبیر نکال سکیں شائد اس لئے وہ کہہ گئے تھے کہ:

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ پاکستان نعمت خداوندی ہے پاکستان رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو معرض وجود میں آیا اُس شب کو جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی ﷺ پر سب سے عظیم کتاب قرآن مجید کو نازل فرمایا۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے معرض وجود میں لانا کسی معجزے سے کم نہیں ہے مگر بحیثیت انسان ہم نے پہلے کون سا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدرکی ہے جو اُس کی اس عظیم نعمت کی قدر کریں گے پاکستان وہ عظیم ملک ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا ہوا ہے اس میں ہمیں چار موسم ملے، پہاڑ ملے، دریا ملے، بحر ملے، ریگستان ملے، قدرتی آبشاریں، ندیاں و چشمے ملے، ہیرے وجواہرات کے ذخائر، نمک و کوئلے کی کانیں ، کھیتی باڑی کے لئے زرعی و زرخیز زمین ملی اور تو اور سونے تک کی کانیں ملیں جن کی بدولت کسی بھی ملک کی معشیت مستحکم رہتی ہے مگر ہم نے کیا کیا ؟

’’بھول گئے ہیں کیسے ملی آزادی

ملی تو سہی جیسے بھی ملی آزادی‘‘

ہم نے اس نعمت خداوندی کو نوچنا شروع کر دیا آج اس پاکستان کو نوچتے نوچتے اکہتر سال بیت گئے ہیں اور ہم ابھی تک اس کو نوچ ہی رہیں ہیں ہم بھول گئے دو قومی نظریہ، ہم بھول گئے کہ ہم مسلمان ہیں ، پاکستان کے حکمران بھول گئے کہ اُن کا مقصد کیا ہے ، پاکستان کے حکمران بھول گئے کہ ریگستان کو کیسے استعمال میں لانا ہے، سمندر سے کیا فوائد لئے جا سکتے ہیں، پہاڑوں میں گم جواہرات کو کیسے نکالا جا سکتا ہے اور سونے کے ذخائر جو کہ بلوچستان میں ریکوڈک کے نام سے جانے جاتے ہیں اُن ذخائر سے کیسے مستفید ہونا ہے ، یاد ہے تو بس یہی کے اقتدار پر کیسے براجمان رہنا ہے ، کیسے اپنی بندرگاہیں غیروں کے ہاتھ میں دینی ہیں ، کیسے اپنے ذخائر عوام کی پہنچ سے دور رکھ کر سونے سے اپنا پیٹ بھرنا ہے، کیسے ڈیمز نا بنا کر پانی کو ضائع کرنا ہے ، کیسے زرعی زمینوں پر سوسائٹیاں بنا کر ملک کو قحط زدہ کرنا ہے،کیسے درخت کاٹ کر قوم کو بیماریوں میں مبتلا کرنا ہے اور کیسے قرض پہ قرض لے کر اِس آزاد وطن کو اغیار کے ہاتھوں گروی رکھنا ہے:

’’ہر اک شے چھین لی گئی ہے نہ گھر بچے ہیں نہ دربچے ہیں

بس اک سمندر بچا ہے آؤ اس کی مچلتی لہریں فروخت کر دو

حبیب جب تم وطن کے بیٹوں کو بیٹیوں کو بیچ کھائے ہو

بعید کیا ہے جو دھرتی ماں کو بھی کوڑیوں میں فروخت کر دو‘‘

مگر ٹھہرو اے وطن فروشو! اس دھرتی ماں کو نہیں بیچنے دیں گے یہ دھرتی ہماری ماں ہے ہم نے اس کی گود میں آزاد فضاء میں سانس لی ہے اور اسی کی گور میں آزاد دفن ہونا ہے اب جبکہ یہ دھرتی ماں یہ پاکستان جن کو تم اکہتر سال سے کھا رہے ہواس کو بیچنے نہیں دیں گے ۔

’’میرے ملک کے نوجوان جاگ چکے ہیں 

جنہیں تم نے بھلا دیا وہ اسباق یاد کر چکے ہیں 

میرے اجداد کی قربانیاں اب رائیگاں نہیں جائیں گی

عرفان غلامی کی زنجیروں سے خود کو آزاد کر چکے ہیں‘‘

اے حکمرانوں اپنے قبلے درست کر لو جس کام کے لئے اس پاکستانی قوم نے تم کو چنا ہے وہ کام کرو نہیں تو تم بھی تاریخ کا عبرتناک سبق بن جاؤ گے کیونکہ یہ وطن یہ دھرتی ماں یہ پاکستان نعمت خداوندی ہے اورتاریخ گواہ ہے کہ جس نے بھی اُس خدائے واحد کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کیا خُدا نے اُنہیں اور نوازا اور جس نے اُس کی نعمتوں کی نا شکری کی وہ رُسوا و ذلیل ہوئے اور آؤ اے میرے وطن کے نوجوانو! اس نعمت خداوندی کی حفاظت کے لئے قدم بڑھائیں اور ہاتھوں سے ہاتھ ملاکر دعا کریں کہ:

خدا کرے میری ارض پاک پر اُترے

وہ فصلِ گُل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھِلے وہ کھِلا رہے برسوں

یہاں خزاں کو بھی گزرنے کی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے

اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں

کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

خُدا کرے نا کبھی خم سرِ وقارِ وطن

اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال

کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خُدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لئے

حیات جُرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید :

بلاگ -