ذِکرِرسول ﷺ (2)

ذِکرِرسول ﷺ (2)
ذِکرِرسول ﷺ (2)

  

یاد رکھیں کہ یہ الفاظ اس کے ہیں جس نے قریب سے آپ کے دن رات کی زندگی کو دیکھا، اس کے علم میں ہے کہ آپ کا اصلی اور حقیقی کردار کیا ہے؟ انہوں نے کہا:

ترجمہ: اللہ کے رسولؐ اور میرے آقائے نامدار! گھبراہٹ اور پریشانی کی کوئی بات نہیں، مجھے تو یقین ہے کہ آپ کو کوئی گزند، ضرر اور نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبی بنایا ہے تو اس میں خیر ہی خیر ہوگی۔ اس میں گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں ہے۔ اس لئے کہ آپ بے بسوں کا سہارا ہیں۔ آپ مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور جن پر کسی قسم کا بوجھ لدا ہوا ہو، آپ ان کا ہاتھ بٹاتے ہیں، ان کی مدد کرتے ہیں، آپ کا یہ کردار ہے جس کی نقشہ کشی حضرت خدیجہ نے کی۔

پورا قرآن نبی کریمﷺ کا اخلاق

ہماری دوسری ماں ام المومنین حضرت عائشہؓ نے صرف تین لفظوں میں آپؐ کے کردار اور اخلاق کا نقشہ کھینچا ہے کہ ایک شخص جو آپ کا عزیز بھی ہے، تابعی بھی ہے، اس کو آپؐ کی صحبت کا موقع میسر نہیں آیا، اس نے آپr سے سوال کیا کہ ہمیں بتائیں نبی اکرمؐ کا کردار، آپ کا اخلاق، اسوہ، آپؐ کی سیرت اور زندگی کیسی تھی تا کہ ہم بھی اس سے سبق سیکھنے کی کوشش کریں۔ وہ اچھا دور تھا، اچھے لوگ تھے، صحابہ کرام تابعین اور ان کے شاگردوں کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ حدیث سیکھیں تو اس پر عمل بھی کریں۔ آج ہم بھی سیرت کا مطالعہ کریں تو عمل کی نیت سے کریں۔ سیرت کے بارے میں بیان ہو تو اس خیال سے کہ ہم نے اس کو اپنا ماڈل بنانا ہے اور اس سے کچھ سبق سیکھنا ہے۔ اسی نیت سے آپ سے پوچھا گیا کہ آپ کے کردار اور سیرت کا کوئی ہلکا پھلکا نقشہ ہمیں بتائیں تا کہ ہم اسی طرح بننے کی کوشش کریں۔ حضرت عائشہ نے براہ راست جواب دینے کی بجائے جوابی سوال کیا: الست تقرأ القرآن؟

’’پوچھنے والے! تو نے کبھی قرآن نہیں پڑھا؟‘‘

اس نے کہا جی ہاں! قرآن تو پڑھتا ہوں، مسلمان ہوں، قرآن کے بغیر کیسے گزر ہو سکتا ہے۔

حضرت عائشہؓ نے تین لفظوں میں فرمایا:

(فان خلق نبی اللہﷺ کان القرآن) (صحیح مسلم، ۱/۲۱۵ رقم: ۶۴۶، سنن ابی داؤد ۲/۹۵ رقم: ۳۴۳۱، سنن الدارمی: ۱/۹۵۲)

قرآن پڑھتا ہے تو جان لے کہ قرآن جس طرح کا انسان چاہتا ہے، جس طرح کا کردار چاہتا ہے، جس طرح کا اخلاق چاہتا ہے، جس طرح کا عمل چاہتا ہے، جس طرح کی زندگی چاہتا ہے، وہی زندگی اور وہی عمل رسول اکرمؐ کا تھا۔ ایک قرآن وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے الفاظ اور کلام کی شکل میں اتارا اور کتاب کی شکل میں وہ تیار ہوا جو ہمارے سامنے موجود ہے اور ایک عملی قرآن جو مکے اور مدینے کی گلیوں میں چلتا پھرتا تھا اور جو قرآن پاک کے کہے پر عمل کر کے دکھاتا تھا کہ لوگو! اللہ تعالیٰ نے جو کتاب بھیجی ہے وہ قابل عمل ہے۔ اس پر کوئی عمل کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ دیکھو میرا نمونہ کہ میں اس پر عمل کر کے دکھاتا ہوں، یہ وہ لوگ ہیں جو آپ ؐ کو قریب سے دیکھنے والے تھے، جتنا قریب آئے، اتنے ہی اور گرویدہ ہوتے گئے، اتنے ہی اور معتقد بنتے گئے۔

خادم رسولؐ حضرت انسؓ کے تاثرات: اسی طرح حضرت انس جنہوں نے ایک خادم کی حیثیت سے آپؐ کے دن رات کو دیکھا اور قریب سے مشاہدہ کیا، وہ بیان فرماتے ہیں کہ میں ایک لمبے عرصے تک آپؐ کے ساتھ رہا، کوئی دوچار، دس دن یا دو چار ہفتوں کی بات نہیں، کہتے ہیں: (خدمت النبیﷺ عشر سنین)

مسلسل دس برس تک میں آپ کے ساتھ رہا، آپ کی خدمت کرتا رہا، پھر کیا ہوا: فما قال لی اف قط۔۔۔ ان دس برسوں کی طویل مدت میں آپؐ نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، ڈانٹا تک بھی نہیں، میں بچہ تھا مجھ سے غلطی ہو جاتی تھی، اگر آپ کسی کام کے لئے بھیجتے تو میں کھیل کود میں مصروف ہو جاتا، بھول جاتا کہ آپ نے کسی کام یا کسی آدمی کو بلانے کے لئے بھیجا ہے، آپ پیچھے آتے تھے، اگر آپ کو بڑا ہی غصہ آتا تو صرف یہ لفظ فرماتے: یا ذالاذنین۔اے دو کانوں والے! اللہ تعالیٰ نے تجھے دو کان دئیے ہیں، میری بات کیوں نہیں سنتا، اس کے علاوہ مجھے کچھ نہیں کہتے تھے، دس برس کوئی ایک یا دو دن کی بات نہیں، ہم تو ایک مہینے میں اپنا آپ دکھا دیتے ہیں کہ یہ ہمارا غصہ اور جلال ہے، یہ ہماری طبیعت ہے لیکن نبی اکرمؐ کے اخلاق عالیہ پر قربان جائیں واقعی بے مثال ہیں کہ دس برس کی طویل مدت میں ایک بچے کو بھی شکایت کا موقعہ نہیں دیا۔

احترام نبوی کی بے نظیر مثالیں: یہ احترام اور محبت جو اپنوں کے دلوں میں تھا، غیروں نے بھی اس کا مشاہدہ کیا اور انہوں نے اقرار کیا کہ یہ بے مثال قسم کا احترام اور محبت ہے جو آپ کے کردار اور اخلاق کی وجہ سے ان کے دلوں میں پیدا ہوا تھا اس کا اعتراف کیا۔ حدیث پاک میں ہے کہ صحابہ کرام آپؐ کی مجلس میں بیٹھے ہوتے تھے:

(وسکت الناس کان علٰی رؤوسھم الطیر) (صحیح بخاری، کتاب الجھاد، باب فضل النفقۃ فی سبیل اللہ: ۷*۰۶، رقم: ۴۲۸۲، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)

اس طرح محسوس ہوتا تھا کہ ان کے کندھوں یا سروں پر پرندے بیٹھے ہیں، کیا مطلب؟ بے حس و حرکت بیٹھتے تھے، جیسے کوئی پرندہ بیٹھا ہے، ذرا حرکت کی تو وہ اڑ جائے گا۔ اسی طرح ادب و احترام کے ساتھ بیٹھتے تھے اور یہ احترام اور ادب مصنوعی اور عارضی نہیں تھا بلکہ دلی اور قلبی تھا جس کی بنیادی وجہ آپؐ کا حسن کردار اور حسن اخلاق تھا۔ (لَوْ کُنتَ فَظّاً غَلِیْظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِکَ ) (آل عمران: ۹۵۱)

اگر آپ (خدانخواستہ) سخت دل، تند خو اور بداخلاق ہوتے تو یہ لوگ آپ کے گرد جمع نہ ہوتے، بھاگ جاتے اور آپ کے گرد پروانوں کی طرح اکٹھے نہ ہوتے۔ اس کے خلیق ہونے کی وجہ سے مجلس کا رنگ باقی اور قائم ہے۔ رسول اکرمؐ کو اللہ تعالیٰ نے یہ خوبی بھی عطا فرمائی کہ جو احترام اور محبت صحابہ کرام اور قریب آنے والوں کے دلوں میں آپ کے لئے پائی جاتی تھی، وہ حقیقی تھی، مصنوعی نہ تھی، ان کا احترام دوسروں نے بھی کیا۔ عروہ بن مسعود ورطہ حیرت میں : عروہ جو قریش کا سفیر بن کر آیا اور اس نے آپؐ سے بات چیت کی، مسلمانوں کا رنگ ڈھنگ دیکھا، آپؐ کی عقیدت، احترام اور دلی محبت جو اس کے اندر تھی اس کو ملاحظہ کیا تو قریش کو جا کر کہا: (یا معشر قریش انی جئت کسرٰی وقیصر والنجاشی فی ملکھم وانی واللہ ما رایت ملکا فی قوم قط مثل محمد فی اصحابہ) (البدایۃ والنھایۃ: ۴/۱۸۱، سبل الھدی: ۱۱/۶۳۴، الکامل فی التاریخ: ۲/۳۸)

میں نے دنیا کے دربار اور بادشاہ دیکھے ہیں، روم گیا ہوں، ایران گیا ہوں، شام گیا ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ ظاہری اور وقتی طور پر بادشاہوں کے درباری، امراء، اس کے ساتھی اور ماتحت احترام کرتے ہیں لیکن وہ دلی احترام نہیں ہوتا، جب کہ محمدؐ کے ساتھی جو احترام کرتے ہیں، ان جیسی محبت اور احترام دنیا بھر میں کہیں نہیں دیکھا۔ یہ اس کا بیان ہے جو ابھی مسلمان بھی نہیں ہوا تھا اور یہ اپنوں کی بات نہیں، بلکہ غیر بھی آپ کی عظمت و کردار، آپ کے اسوہ حسنہ کی خوبصورتی اور آپ کے اخلاق کو ماننے پر مجبور ہیں۔

جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے: کفار مکہ کہتے تھے کہ عرب بھر میں اگر کوئی سچا، خیانت سے پاک اور دیانت دار انسان ہے تو وہ محمدؐ ، وہ آپ کو صادق اور امین کہتے تھے اور کوہ صفا کے وعظ سے پہلے آپ نے ان سے پوچھا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے سے پہلے میں تم سے پوچھتا ہوں کہ میرے کردار کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ خاص طور پر بات کی سچائی کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ مولانا حالی کے الفاظ میں :

سمجھتے ہو تم مجھ کو صادق کہ کاذب؟

لبثت فیکم عمراً کیف وجدتمونی؟

یہ بتاؤ کہ تم مجھے سچا جانتے ہو یا جھوٹا سمجھتے ہو؟ سب نے بیک زبان ہو کر کہا کہ آج تک ہم نے یہی دیکھا ہے کہ آپ جب بھی بولے ہیں سچ بولے ہیں، جب بھی کہا ہے سچ کہا ہے۔ ابوسفیان جو قائد کفر تھے، ان کو بعد میں اسلام کی دولت ملی لیکن ایک لمبے عرصے تک یہی کافروں کے سردار تھے، بدر کی جنگ کے بعد کس نے ساری لڑائیاں منظم کیں؟ کس نے قوم کو ابھارا؟ کون میدان جنگ میں عرب کے لوگوں کو بار بار لے کر آیا؟ کس نے اپنا اور دوسروں کا مال خرچ کیا اور کروایا؟ یہی دشمنوں کے سردار ابوسفیان تھے، لیکن خود کہتے ہیں کہ میں اسی دشمنی کے زمانے میں (حدیبیہ کی عارضی طور پر صلح ہو چکی تھی) تجارتی سفر کے سلسلے میں روم گیا، روم کے بادشاہ کے پاس نبی اکرمؐ کا خط آیا ہوا تھا کہ اگر دنیا اور آخرت کی بہتری چاہتا ہے تو تو بھی مسلمان ہو جا۔ اسے یہ تجسس تھا کہ یہ کون شخص ہے جس نے مجھے اتنی بے باکی اور جرأت سے لکھا ہے۔ بادشاہ کو پتہ چلا کہ عرب کے تاجر آئے ہوئے ہیں، اس نے کہا ان کو بلاؤ۔ ابوسفیان ان کے لیڈر تھے، یہ آئے اور اس نے چند سوال کئے، ایک سوال یہ تھا کہ دعویٰ نبوت سے پہلے آپ کا کردار کیا تھا؟ آپ جھوٹے تھے یا سچے تھے؟ تمہارا تجربہ کیا ہے؟ یہ بھی پوچھا کہ وہ عہد کی پابندی کرنے اور وعدے کو نبھانے والے تھے یا توڑنے والے ؟

ابوسفیان کہتے ہیں: اس وقت چونکہ دشمنی تھی، میرا دل چاہا کہ میں جواب میں ذرا آمیزش کرلوں اور کہہ دوں کہ ہاں کبھی کبھی جھوٹ بھی بول لیتے تھے، کبھی کبھی عہد کی پابندی نہیں بھی کرتے تھے۔ میں نے کہنا تو چاہا لیکن حق نے میری زبان کو پکڑ لیا، میرے منہ سے سچی بات ہی نکلی، جھوٹی بات نہیں نکل سکی۔ میں نے کہا ٹھیک ہے مخالف تو ہے، لیکن میں یہ مانتا ہوں کہ ہم نے آپ کا کوئی جھوٹ نہیں دیکھا۔ آپ کی کوئی بے کرداری، خیانت اور بدعہدی نہیں دیکھی۔ یہ وہ خراج تحسین ہے جو دشمن نے دشمنی کے وقت پیش کی اور کوئی اس وقت تردید کرنے یا کہنے والا موجود نہیں تھا کہ تم غلط یا صحیح کہہ رہے ہو، لیکن ضمیر کی آواز جو اندر تھی وہ باہر نکل آئی۔ یہ تو غیروں کی گواہیاں ہیں، اپنوں نے آپ کے حسن کردار کی گواہی دی مگر سب سے بڑی گواہی خود اللہ رب العالمین کی ہے کہ

(وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللّہِ حَدِیْثاً) (النساء: ۷۸) (وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللّہِ قِیْلاً) (النساء: ۲۲۱) ۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی بات سے سچی اور صحیح بات اور کسی کی نہیں ہو سکتی۔ (ختم شد)

مزید :

کالم -