آئی ایم ایف کی فرمائش پر منی بجٹ عوام پر ناقابل برداشت کاری ضرب  ،حکومت نے مہنگائی کا 74سالہ ریکارڈ توڑ دیا:سراج  الحق

آئی ایم ایف کی فرمائش پر منی بجٹ عوام پر ناقابل برداشت کاری ضرب  ،حکومت نے ...
آئی ایم ایف کی فرمائش پر منی بجٹ عوام پر ناقابل برداشت کاری ضرب  ،حکومت نے مہنگائی کا 74سالہ ریکارڈ توڑ دیا:سراج  الحق
سورس: File Photo

  

 تیمر گرہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیرجماعت اسلامی سراج الحق نےکہاہےکہ عالمی مالیاتی ادارے( آئی ایم ایف) کی فرمائش پر منی بجٹ عوام پر ناقابل برداشت کاری ضرب ہے،پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)حکومت نے مہنگائی کا 74سالہ ریکارڈ توڑ دیا،عالمی جریدوں کی رپورٹ کےمطابق پاکستان دنیاکاچوتھامہنگا ترین ملک بن چکا، حکومت درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی بجائے مسائل میں اضافہ کر رہی ہے،عوام کو معلوم ہی نہیں کہ انھیں کن گناہوں کی سزا مل رہی ہے؟پی ٹی آئی کی حکومت مکمل طور پر پٹ چکی، عوام مہنگائی اور غربت سے لڑ رہے ہیں، کھلاڑی آپس میں دست و گریبان ہیں،بیروزگاری کا طوفان نوجوانوں کو طمانچے مار رہا ہے۔

 تیمر گرہ دیر پائن میں تاجروں کے اجتماع سےخطاب کرتےہوئے سراج الحق کاکہناتھاکہ بڑی اپوزیشن جماعتوں میں عوام کے مسائل کی بجائے اپنے مفادات کے لیے رسہ کشی ہورہی ہے، قوم گواہ ہے اگر کوئی لوگوں کے مسائل کے لیے جدوجہد کررہا ہے تووہ جماعت اسلامی ہے،کراچی ہو یا گوادر جماعت اسلامی کے لوگ سڑکوں پر بیٹھ کر عوام کا حق مانگ رہے ہیں،ایوانوں اور چوکوں چوراہوں میں ملک و قوم کی فلاح کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہاکہ یقین ہے سود سے پاک معیشت ملک کو درپیش مسائل کا حل ہے، سرمایہ داروں اور مافیاز نے 22کروڑ عوام کو یرغمال بنایا ہوا ہے،صاحب اقتدار طبقہ غریبوں کی پریشانیوں سے مکمل ناآشنا ہے، ایک طرف دولت کے ریل پیل ہے دوسری طرف غربت کا کھیل ہے،اشرافیہ دولت کے انبار پر بیٹھی ہے، عوام دووقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے،امیر اور غریب کا خلا خوفناک حدوں کو چھو رہا ہے،محرومیاں بڑھتی رہیں تو نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں،خیبر پختوانخوا مسائل کا آماجگاہ بن گیا، کے پی کے باسیوں نے پی ٹی آئی پر عدم اعتماد کر دیا، پنجاب، سندھ، بلوچستان بھی حقیقی تبدیلی کے لیے تیار ہیں، الیکشن میں حکمرانوں کو اپنے کیے کا جواب دہ ہونا پڑے گا۔

امیر  جماعت  اسلامی نے کہا کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں ایکسپوز ہوگئیں، قوم کومزید بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا، تاجر، کسان، مزدور، سرکاری تنخواہ دار، طالب علم سب ملک میں حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں، وسائل سے مالا مال ایٹمی پاکستان کو اسلامی نظام ہی بچا سکتا ہے،سوشلزم کا جنازہ نکل گیا، کیپٹل ازم آخری سانسیں لے رہاہے، انسانیت کی فلاح اللہ کے دیے گئے نظام میں ہے، تاجروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سودی معیشت کے خاتمہ کے لیے جماعت اسلامی کے سفیر بنیں،کاروبار سود سے پاک ہوگا تو برکت آئے گی۔ ٹیکسز کی بھرمار نہیں، زکوٰۃ و عشرسے خوشحالی آئے گی۔ 

سراج الحق نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت مکمل طور پر فلاپ ہوگئی ہے،وزیراعظم اور ان کی ٹیم ملک کے داخلی اور خارجی محاذوں پر کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دے سکی، مہنگائی کے طوفان کو قابو کرنا حکومت کے بس میں ہی نہیں رہا، مری واقعہ حکمرانوں کی نااہلی کا ایک اور ثبوت ہے، ثابت ہوگیا پی ٹی آئی غیر سنجیدہ اور مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، حکومت نے ملک کو آئی ایم ایف کے سپرد کردیا،اربوں ڈالر کا قرضہ لینے والوں اور غیور قوم کو استعماری طاقتوں کے ہاتھوں فروخت کرنے والی ظالم اشرافیہ کو اپنے کیے کا جواب دہ ہونا پڑے گا،حکومت نے خود تسلیم کرلیا کہ امریکہ کے غلام ہیں، ملک کے وسائل کو غریبوں پر خرچ کیا جاتا اور حکمران اپنی عیاشیاں بند کردیتے تو آج ملکی معیشت پٹڑی پر چڑھ چکی ہوتی، پاکستان امریکا کی غلامی کے لیے نہیں، اسلام کے نفاذ کے لیے بنا، 73برسوں میں ایک دن کے لیے بھی اسلامی نظام نافذ نہیں ہوا۔ فوجی ڈکٹیٹروں اور نام نہاد جمہوری حکومتوں نے قوم کے ارمانوں کا خون کیا، پی ٹی آئی نے ریاست مدینہ کے نام پر لوگوں کو دھوکا دیا، سابقہ اور موجود حکمران سبھی مسائل کی وجہ ہیں، ہمیں مل کر پرامن جمہوری طریقہ اپنا کر سٹیٹس کو سے نجات حاصل کرنا ہوگی، جماعت اسلامی فرسودہ نظام سے لڑ رہی ہے، ہماری لڑائی کسی فرد یا گروہ سے نہیں، ہم ملک میں اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں، ہمارا مقصد پاکستان کو حقیقی معنوں میں قرآن و سنت کا پاکستان بنانا ہے۔

سراج الحق نے کہا کہ ملک کے تمام طبقات متحد ہوکر اسلامی جمہوری پاکستان کے لیے جدوجہد کریں اور آزمائے ہوئے لوگوں کو ووٹ کی طاقت سے گھر بھیجیں، صالح اور ایماندار قیادت ہی کشتی کو بھنور سے نکال سکتی ہے، جماعت اسلامی سے وابستہ افراد نے تمام شعبہ ہائے زندگی میں انتظام و ایمانداری کی اعلی مثالیں قائم کیں،قوم ہم پر اعتماد کرے۔ جماعت اسلامی انسانوں کی دنیاوی و اخروی فلاح چاہتی ہے، ہم خوشحال فلاحی اسلامی پاکستان بنا کر دم لیں گے۔

مزید :

قومی -