کھاد بحران، کسان پریشان، کھیت ویران، شہر شہر مظاہرے، روڈ بلاک 

کھاد بحران، کسان پریشان، کھیت ویران، شہر شہر مظاہرے، روڈ بلاک 

  

ملتان،بہاول پور،سمہ سٹہ،ٹبہ سلطان پور،صادق آباد،چوک سرورشہید،اڈاپل 14 (سپیشل  رپورٹر،ڈسٹرکٹ رپورٹر،نمائندہ پاکستان،سٹی رپورٹر) جنوبی پنجاب میں کھادکابحران جاری ہے جسکی وجہ سے کسانوں کوشدیدپریشانی کاسامناہے۔کسان دن بھرکھادکے حصول کیلئے لائنوں میں لگے رہتے ہیں جسکی وجہ سے کھیت(بقیہ نمبر29صفحہ6پر)

 ویران پڑے ہیں۔مختلف شہروں میں کسانوں نے روڈبلاک کرکے احتجاجی مظاہرے کئے۔تفصیل کے مطابق کھادوں کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے حوالے سے پنجاب حکومت کی جانب سے سخت احکامات جاری ہونے پر ڈپٹی کمشنر ملتان متحرک ہوگئے، ضلع  کے کھاد ڈیلروں کا اجلاس طلب کرلیا۔کھاد ڈیلروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عامر کریم خاں نے کہا کہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر کاشتکاروں کو سرکاری ریٹس پر کھاد کی فراہمی کیلئے سخت اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اس سلسلے میں ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کیخلاف کریک ڈاؤن بھی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کھاد ڈیلرز سے مکمل رابطے میں ہے اور کسی صورت کھاد کی قلت پیدا نہیں ہونے دینگے۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو طیب خان اور محکمہ زراعت کے افسران نے شرکت کیاجلاس میں یوریا کھاد کی فی بوری 1768 کے حساب سے بلاتعطل سپلائی جاری رکھنے کیلئے ڈیلرز کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور گندم کی فصل کے مقررہ وقت میں کاشتکاروں کو کھاد کی فراہمی کیلئے ایڈوانس آرڈرز بھی دیے گئے ہیں۔عامر کریم خاں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے ذخیرہ کی گئی کھاد کو ہول سیل پوائنٹس پر فروخت کرنے کا سلسلہ بھی شروع کررکھا ہے جس سے کسانوں کو براہ راست ریلیف ملا ہے۔اس موقع پر محکمہ زراعت کی جانب سے تفصیلی بریفننگ بھی دی گئی۔دوسری جانب قوق صادق آباد کی ٹیم نے سرپرست اعلیٰ وامیر جماعت اسلامی  صادق آباد میاں ریاض قدیر کی زیر قیادت غلہ منڈی میں کھادبحران پر کسانوں کے ساتھ مل کر بھرپور احتجاج کیا میاں ریاض قدیرنے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کھاد صادق آباد کی مقامی پیداوار ہے جبکہ صادق آباد کا کسان بھی اس کے لئے دربدر دھکے کھا رہا ہے ایک طرف کسانوں پر شوگر ملز مافیا ظلم ڈھا رہا ہے تو کبھی آٹا مافیا۔ اب کھاد بحران کی وجہ سے صادق آباد کے کسان کو گندم کی فصل سے بھی محروم کیا جا رہاہے جبکہ سرکار اور سرکاری عملہ ستو پی کے سو رہا ہے انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ اے سی صادق آباد کبھی کوٹ سبزل سے ٹرک پکڑتے ہیں اور ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ صادق آباد کا مقررہ کوٹہ 15000 بیگز ہیں جبکہ 2500 سے 3000 بیگز مل رہے ہیں ہم اے سی صادق آباد سے کہتے ہیں کہ اگر آپ نے اعلیٰ سرکاری عہدہ رکھتے ہوئے ہمیں یہ معلومات ہی دینی ہے تو آپ صادق آباد کی جان چھوڑ کیوں نہیں دیتے آپ کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے مافیاز بے لگام ہو گئے ہیں یہ ٹرک کہاں سے آتے ہیں اور کہاں جاتے ہیں سب کو علم ہے سرپرست اعلی نے مزید کہا کہ امن و امان سمیت صادق آباد کی کوئی چیز بھی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہے یوریا کھاد کا 1800 کا بیگ بلیک میں 2700 کا بک رہا ہے اے سی صاحب کوٹہ کم ملنے کا بھاشن دیتے ہیں جبکہ بلیک میں جتنے بیگز چاہیں آسانی سے مل رہے ہیں صادق آباد کے منتخب ایم این اے اور ایم پی اے بھی جن کی صادق آباد میں بلا شرکت غیرے حکومت رہی ہے وہ امن وامان کی بات کر رہے ہیں جنہوں نے غریب کسانوں کو گنے سے مارا ہے وہ کس منہ سے احتجاج کا کہہ رہے ہیں سرپرست اعلی نے کسانوں سے کہا کہ حقوق صادق آباد تحریک و جماعت اسلامی کسانوں کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑے گی انہوں نے کسانوں کے ساتھ مل کر بڑے احتجاج کا عندیہ دے دیا حقوق صادق آباد کی ٹیم کسانوں کی آواز بنے گی اور آئندہ بھی ہر مہم پر کسانوں کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی اور اس مہم کو بھی پایہ تکمیل تک پہنچائے گی کیونکہ احتجاج کرنا اور اس کو منطقی انجام تک پہنچانا جماعت اسلامی خوب جانتی ہے  اسی دوران اے سی صادق اباد  موقع پر غلہ منڈی پہنچ گے شرکا نے ایسی صادق آباد  کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران کو جلد از جلد دور کیا جائے ورنہ ایسی آفس صادق آباد کا گھیراؤ کیا جائے گا جس پر اے سی صاحب نے ایکشن لیتے ہوئے کھاد کی ڈیمانڈ اور سپلائی کے لئے تاج چوک پر ڈپو بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ صادق آباد کو کوٹے کے مطابق کھاد کی فراہمی کو مانیٹر کیا جا سکے اس موقع پراسامہ عزیز صدر جماعت اسلامی یوتھ صادق اباد اورملک شاہد سلطان جنرل سیکٹری جماعت اسلامی یوتھ،احسن مشتاق،سہیل ممتاز،رانا انور۔منیب احمد اور کارکن بھی موجود تھے۔دوسری جانب کھاد بحران پر قابو پانے کیلئے اسسٹنٹ کمشنر صادق آباد کلیم یوسف کا بڑا اقدام‘کھاد فیکٹریوں سے ڈیلرز کو ڈیلی ملنے والا کوٹہ ایک ہی پوائنٹ پر فروخت کیا جائے گا غلہ منڈی صادق آباد میں بڑا پوائنٹ قائم 3000 بوری یوریا دستیاب،سنجرپور400بھونگ 800جمالدین والی میں 450بوری محکمہ زراعت اور محکمہ ریونیو کے افسران کی موجودگی میں چلت کرنا شروع کر دی گئی۔اسسٹنٹ کمشنر کلیم یوسف کا کہنا ہے میں ہے کھاد فیکٹریوں سے ڈیلرز کو ڈیلی ملنے والا کوٹہ ایک ہی پوائنٹ پہ فروخت کیا جائے گا محکمہ زراعت اور محکمہ ریونیو کے افسران کی موجودگی میں کسانوں میں کھاد کی فراہمی کا سلسلہ جاری اسسٹنٹ کمشنر کلیم یوسف نے غلہ منڈی میں موجود کھاد پوائنٹ کا وزٹ کیا کھاد پوائنٹ پر 3000 بوریاں دستیاب ہیں۔علاوہ ازیں ڈپٹی ڈائریکٹرزراعت بہاولپورحافظ محمدشفیق نے صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ  کھادوں کی مصنوعی قلت پیداکرنیوالوں کیخلاف سخت ایکشن لے رہے ہیں۔کمپنی کی ڈیلیوری کے مطابق کاشتکاروں کوبلاامتیاز کھادوں کی فراہمی جاری ہے کھادوں کی ذخیرہ اندوزی اوراورچارجنگ کرنیوالوں کیخلاف60 مقدمات کااندراج34 افراد گرفتار اور47 ڈیلروں کے سٹورسیل کردیئے گئے ہیں۔کھادوں کی قلت نہیں ہے روزانہ کی بنیاد پرفیکٹریوں سے ڈیلروں کے پاس کھادیں آرہی ہیں اورمحکمہ زراعت کی نگرانی میں کاشتکاروں تک بلاامتیاز ترسیل کاکام بھی جاری ہے انہوں نے کہاکہ آنیوالے دنوں میں کھادوں کی مسلسل ترسیل کے باعث یوریاکی ڈیمانڈ میں کمی اورترسیل میں اضافہ ہوگاحالیہ بارشوں کی وجہ سے گندم کی فصل کونائٹروجن کی کافی حدتک کمی پوری ہوچکی ہے کاشتکار صبروتحمل سے کام لیں مہنگے داموں کھادیں خریدنے سے گریزکریں اوربلیک میں کھادفروخت کرنیوالوں کی نشاندہی بھی کریں تاکہ ایسے افراد کیخلاف سخت ایکشن لیاجائے۔ انہوں نے بتایاکہ رواں سیزن کے دوران بلیک میں کھادیں فروخت کرنیوالوں کیخلاف60 مقدمات کااندراج34 افراد کوگرفتار کرنے کے علاوہ47 سٹورسیل کیے گئے ہیں اورڈیلروں کو830,000 روپے جرمانہ بھی عائدکیاگیاہے اوران کے سٹوروں سے برآمدہونیوالی27509 بوریاں یوریااور22000 بوری ڈی اے پی محکمہ زراعت نے قبضہ میں لے کرسرکاری نرخوں پرفروخت کی ہے۔ادھرچوک سرور شہید میں  افسران کی انا کی جنگ میں کسان رل گئے۔ منشی محمد اکرم مبینہ طور پر کھاد مافیا اور تحصیلدار کے درمیان پل کا کردار ادا کررہا ہے۔ منشی مبینہ طور پر فرضی لسٹ تیار کرکے بغیر کسی آفیسر کے دستخط کے اپنے بندوں کا نام ڈالتا ہے اور بعد میں کھاد فروخت کرتا ہے۔ گزشتہ روز چوک سرور شہید میں ایک ٹرالر مولوی سعید ملانہ ڈیلر کے پاس آیا جو کہ غلہ منڈی چوک سرور شہید میں اتارا گیا۔ ذرائع کے مطابق سپشل برانچ کے کسی آفیسر نے محکمہ مال کے عملے سے ایک سو بوری کھاد مانگی جسے محکمہ مال کے آفیسران نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ وہ اسسٹنٹ کمشنر کوٹ ادو کی اجازت کے بغیر ایک بوری بھی کسی کو ناں دیں گے جس پر اسپشل برانچ نے  کارروائی کرتے ہوئے تھانہ سرور شہید کے ذریعے کھادکے ٹرالر کو تحویل میں لے لیا اور اور محکمہ زراعت کے آفیسران کو موقع پر بلا لیا اور ڈیلر کی طرف سے پیش کردہ لسٹ دی گئی لسٹ کے مطابق کسی بھی زمیندار کا تعلق چوک سرور شہید سے نہیں تھا بلکہ کوٹ ادو کے لوگوں کو کنٹرول ریٹ پر کھاد دی جارہی تھی جس پر موقع پر موجود کسانوں نے بھرپور احتجاج کیا کہ کیا چوک سرور شہید میں کسان نہیں جو پٹواری اور تحصیلدار کوٹ ادو کے لوگوں کو کھاد کی پرچی دیتے ہیں اس کے علاوہ باوثوق ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ منشی اکرم اپنے پٹواری اور مبینہ طور پر تحصیلدار کے ساتھ ملکر روزانہ ایک سو دو سو کھاد کی بوریاں چوک سرور شہید میں چھوٹے ڈیلروں کو فروخت کرتے ہیں موقع پر موجود درجنوں کسانوں نے ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اہم ایشو پر غریب کسانوں کی مدد کی جائے۔ باگڑسرگانہ میں بروقت کھادیں دستیاب نہ ہونے سے گندم کی فصل متاثر ہونے کاخدشہ ہے۔  کسان رہنما  محمد آصف،محمداسد،محمداشرف نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ گندم کوپانی لگانے کاوقت ہو چکا ہے کنٹرول ریٹ پر کھادوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسانوں کو ریلیف مل سکے اور کاشتکاروں کی پریشانیوں کاخاتمہ ممکن ہوسکے۔علاوہ ازیں ٹبہ سلطان پور کے مخصوص کھادڈیلروں نے انتظامیہ کی آ نکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے اپنی زرعی دکانوں کے منشیوں کے گھروں میں یوریاکھادسٹاک کردی ہے اور باوثوق ذرائع کے مطابق کھادڈیلروں کے منشیوں نے اپنے گھروں میں یوریاکھاد چھپاکر3000روپے تک فی بوری کی فروختگی دھڑلے کے ساتھ شروع کررکھی ہے دوسری جانب سودپرفصل کی ادھارپربھی کھاکی فراہمی کی جارہی ہے   اور کھادڈیلروں نے باقاعدہ طورپرمنشی حضرات کو  کسانوں سے رابطے کرکے سمجھانے پرلگادیاہے تاکہ باہرسے ہی کھاد فروخت کردی جائے۔   جس کے باعث یوریاکھادکی بلیک مارکیٹنگ بندہونے کی بجائے مزیدتیزہوگئی ہے اور عام چھوٹے کسان یوریاکھادخریدکرگندم کی فصل کو دینے سے قاصرہیں جس کے باعث گندم کی فصل شدیدمتاثرہونے کاخدشہ ہے اہل علاقہ کے کسانوں محمداعظم،شہریار،عابدحسین،نیازاحمد،عبدالغفور،عارف حسین ودیگرنے ڈی سی وہاڑی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔جہانیاں میں کھاد کے  بحران پر کسان سڑکوں پر نکل آئے کھاد کی عدم فراہمی پر کسانوں نے سپر ہائی ویروڈ بلاک کرکے احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرین کا کہنا تھاکہ کھادمل نہیں رہی محمکہ زراعت کے آفیسرمظہر کلیم کی ملی بھگت سے بڑے ڈیلرز بلیک میں فروخت کررہے ہیں گھنٹوں انتظار کے بعد دو بوریاں دی جاتی ہیں باقی کھاد سفارشی زمینداروں کو بلیک میں فروخت کردی جاتی ہے، کھاد نہ فصلیں تباہ ہورہی ہیں خواتین بھی کھاد کے حصول کے لئے ذلیل وخوار ہونے لگیں روڈ بلاک ہونے پر ڈی ایس پی غلام مرتضی سیال,تحصیلدار طاہر عباس موقعہ پر پہنچے کھادکی فراہمی یقینی بنانے کا وعدہ کیا پھر کسانوں نے احتجاج ختم کردیا، کسانوں نے وزیراعلی پنجاب, کمشنر ملتان,ڈپٹی کمشنر خانیوال سے نوٹس لینے اور کھاد کی فراہمی کو یقینی بنانے کامطالبہ کیا ہے۔

کھاد

مزید :

ملتان صفحہ آخر -