’’جھوٹی‘‘ اور ’’غلط‘‘ خبروں کا نوٹس کیوں نہیں؟

’’جھوٹی‘‘ اور ’’غلط‘‘ خبروں کا نوٹس کیوں نہیں؟
’’جھوٹی‘‘ اور ’’غلط‘‘ خبروں کا نوٹس کیوں نہیں؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جس عدلیہ کے حوالے سے شور اٹھا، خبر کیا لیڈ بنی، اسی عدالت میں اس غبارے سے ہوا نکل گئی ہے، ہمیں حیرت ہے کہ آخر پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے مبینہ حکم کی ملک تو ملک پوری دنیا میں تشہیر ہوئی لیکن یہ پتہ نہیں چلایا گیا کہ ایسا کیسے اور کیوں ہوا، بات اس ازخود نوٹس کی ہے جو مبینہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے لیا گیا، اس کیس کی خبر شائع اور نشر ہوئی تو بتایا گیا کہ ماضی میں قریباً 35ارب روپے غیر قانونی طور پر ملک سے باہر بھجوائے گئے اور یہ سب بے نامی (جعلی) اکاؤنٹس کے ذریعے ہوا ان خبروں کے مطابق اس میں خود آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور اور ان کے دوست شامل ہیں، اسی سلسلے میں حسین لوائی کو گرفتار کیاگیا اور ایف آئی اے نے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو بھی طلب کیا اس خبر نے بہت سنسنی پھیلائی کہ اس سے پہلے سابق وزیراعظم محمد نوازشریف زد میں آ چکے تھے اور اب ایک دوسری جماعت کے سربراہ ملوث پائے گئے، ادھر چیف جسٹس مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے بھی نوٹس لیا اور دونوں بہن بھائیوں کو 12جولائی کے لئے عدالت میں طلب کر لیا۔

یہ خبر اور الزام سنسنی خیز تھا کہ آصف علی زرداری ہمیشہ الزامات کی زد میں رہے، گیارہ سال جیل بھگتی اور کرپشن کے متعدد مقدمات میں ملوث کئے گئے ان میں سے اکثریتی مقدمات میں وہ بری ہو گئے تھے، اس خبر نے یکایک ہی پیپلزپارٹی کو بھی سانس چڑھا دیا اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا گیا، بلاول انتخابی مہم سے براہ راست لاہور پہنچے اور اس میں شرکت کی۔

چودھری اعتزازاحسن، فاروق نائیک اور سردار لطیف کھوسہ خصوصی طور پر مشاورت کے لئے بلائے گئے۔ پیپلزپارٹی کے ذرائع کے مطابق وکلاء نے تعجب کا اظہار کیا کہ جو کیس 2015ء میں ظاہر کیا گیا اس میں اتنی بڑی پیش رفت اب کی گنی کہ جے آئی ٹی بھی بنا دی گئی اس کے سربراہ زرداری کے سابقہ جگری دوست ذوالفقار مرزا کے بھائی ہیں، وکلاء نے زرداری کو ایف آئی اے کے پاس نہ جانے کا مشورہ دیا جو انہوں نے قبول کر لیا، تاہم وہ عدالت عظمیٰ کے روبرو پیش ہونے کے لئے تیار ہو گئے اور اسلام آباد چلے آئے۔

اگلے روز جب عدالت عظمیٰ میں پیشی تھی تو وکلاء موجود تھے۔ فاروق نائیک نے نمائندگی کی، چیف جسٹس کے استفسار پر معلوم ہوا کہ عدالتی آرڈر میں کہیں بھی زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی ہدایت کا بالکل بھی ذکر نہیں تھا اور نہ ہی بھائی بہن کو طلب کیا گیا تھا۔

یہ ایک عجیب سی صورت حال ہے کہ وہ بات ہی ناگوار گزری جس کا سارے فسانے میں ذکر ہی نہیں تھا، واضح ہوا کہ عدالت نے ایسی کوئی ہدایت نہیں کی تھی، اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس پورے معاملے کی تحقیقات کرائی جاتی کہ ہمارے خیال میں اس سے عدالت کے وقار کو بھی ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی اور یوں یہ توہین عدالت بھی ہو سکتی ہے، یہ تحقیقات اس لئے بھی ضروری ہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا، محمد نوازشریف کے خلاف کیسوں کے دوران بھی اپنی اپنی پسند کی خبریں میڈیا کو مہیا کی گئیں اور یہ شائع اور نشر بھی ہو گئیں۔

کسی نے تصدیق کی ضرورت نہ سمجھی، حالانکہ بہت سی اطلاعات بعد میں درست ثابت نہیں ہوئی تھیں اور یہ تشویشناک بات ہے۔ ہم تو گزارش کریں گے کہ منی لانڈرنگ کے لئے جے آئی ٹی بنی ہے تو جھوٹی خبروں کے حوالے سے بھی تحقیقات کرا لینا چاہیے کہ ایسی خبریں مہیا کرنے والے تو آرام سے ہیں، میڈیا بدنام ہوا ہے، اس میں ہمارے دوستوں کو احتیاط کرنا چاہیے اور ثبوت حاصل کئے بغیر خبر شائع یا نشر نہیں ہونا چاہیے ۔

ایک طرف یہ صورت حال ہے تو دوسری طرف سوشل میڈیا اور اس کے حوالے سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔ نوازشریف کی اپنی علالت اور ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی بیماری کے حوالے سے ایسی ایسی اطلاعات پھیلائی گئیں کہ توبہ ہی کرنے کو جی چاہتا ہے یہاں خود شریف خاندان نے بھی احتیاط اور تحقیق نہیں کی حالانکہ ایسا ان کے اپنے دور اقتدار ہی میں ہو رہا تھا اور یہ پہلو تشنہ ہی چلا آ رہا ہے اور کام جاری ہے ’’لگے رہو، منا بھائی‘‘والا معاملہ نظر آتا ہے۔

قارئین کے لئے حیرت ہوگی کہ آج کیا قصہ لے بیٹھے۔ ہمارے نزدیک یہ اہم ہے یوں بھی یہ سطور اشاعت کے لئے جانے تک محمد نوازشریف اور مریم نواز جس طیارے سے آ رہے ہیں وہ ابھی تک فضا میں ہے اور اس کے لینڈ کرنے میں کچھ وقت ہے، تاہم یہاں سراسیمگی کا عالم ہے اور انتظامیہ کے اقدامات کی وجہ سے ایک بحرانی کیفیت ہے، ہماری انتظامیہ کا یہ پرانا وطیرہ اور طریق کار ہے۔

ماضی میں بھی تحریکوں کو ہوا انتظامیہ کے ایسے ہی اقدامات سے ملتی رہی اور ان سے برسراقتدار طبقات کو نقصان ہوا خواہ وہ ایوب خان، یحییٰ خان، بھٹو، جنرل ضیاء الحق، نوازشریف اور بے نظیر بھٹو تھے۔

اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ان رویوں پر بھی نظر ثانی ہو، نوازشریف نے تو اپنی حکمت عملی سے جو چاہا وہ حاصل کر لیا یعنی عوامی ہمدردیاں ان کو مل گئی ہیں تاہم انتظامیہ نے گرفتاریوں، سڑکیں اور راستے بند کرنے سے اسے مزید تقویت دی ہے۔اس کے اثرات بھی ظاہر ہو جائیں گے۔

ہم ان سطور میں پہلے بھی عرض کر چکے اور اب پھر گزارش کرتے ہیں کہ عوامی نمائندوں اور سیاسی جماعتوں کو کرپشن کے حوالے سے بہت زیادہ سنجیدہ ہونا ہوگا، کہ ابھی تک ایسا نہیں ہوا، ورنہ قومی اسمبلی میں زیر التوا احتساب بل منظور ہو چکا ہوتا۔

یہ بل پیپلزپارٹی نے پیش کیا اور بطور حزب اختلاف مسلم لیگ(ن) نے اعتراض کئے معاملہ مجلس قائمہ کے پاس چلا گیا جہاں اعتراضات پر باہمی معاہدہ بھی نہ ہو سکا اور پیپلزپارٹی کا دور ختم ہو کر مسلم لیگ ن کا آ گیا۔ یہ مسودہ قانون اتفاق رائے کا منتظرہی پڑا ہوا ہے کہ معمولی معمولی باتوں پر سمجھوتہ نہیں ہو پایا اور اب موجودہ احتساب اور احتساب بیورو تنقید کی زد میں ہے۔ کیا یہ خود منتخؓ ایوان کی ناکامی نہیں؟

مزید : رائے /کالم