پاک چین دوستی اور سی پیک 

پاک چین دوستی اور سی پیک 

  

چین ہمارا دوست ملک ہے۔ہمسایہ بھی ہے اور ہمارے سرد و گرم کاساتھی بھی۔ پاکستان کی جغرافیائی صورت حال کو دیکھا جائے تو بھارت جیسے مکار دشمن کے ہوتے ہوئے چین کی ہمسائیگی نعمت سے کم نہیں۔چین جب تنہا تھا تو اس وقت پاکستان نے اس کا کھل کے ساتھ دیا اور آج  وزیر  اعظم عمران خان  کی حکومت ماضی کی حکومتوں کی پالیسی کا نہ صرف  تسلسل رکھے ہوئے ہے  بلکہ موجودہ حکومت ان سے کہیں بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے   تحریک انصاف نے اس تعلق  کو بہتر بنایا ہے۔جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سی پیک کو رول بیک کر  دیا گیا  ہے میں اپنے کالم میں انہوں بتانا چاہوں گا یہ آپ لوگوں   کی بھول ہے پاکستان چین کے مفاد کے ساتھ ساتھ اپنا فایدہ بھی سوچے گا   یہ ان لوگوں کا خواب ہو گا  جو پاکستان کو ترقی کی منزل کے سفر سے باز رکھنا چاہتے ہوں گے۔آج معاشی طور پر کرونا جیسی وباء میں پاکستان جو کارکردگی دکھا رہا ہے دنیا نے اسے تسلیم کیا ہے۔ہماری ہمالہ جیسی بلند دوستی کے دشمن اپنی سوچ کی شکست دیکھ رہے ہیں انتہائی مشکل دنوں میں چین نے پاکستان کا ساتھ دیا  ہے اور پاکستان بھی کبھی پیچھے نہیں رہا  خاص طور پر ستر کی دہائی میں پاکستان نے چین کے کیے بیرونی دنیا کے دروازے کھولے اور عمران خان کی حکومت کو چین نے بھی شروع کے دنوں میں بھر پور ساتھ دے کر سنبھالا دیا  ہوا۔ورنہ معیشت کا جو حال ماضی کے حکمران کر گئے تھے اگر چین اور اسلامی ملک پاکستان کی مدد کو نہ آتے تو پاکستان دیوالیہ ہو سکتا تھا۔آج معاشی نمو چار فی صد تک پہنچ گیا ہے اور پاکستان کے مشکل دن ختم ہو رہے ہیں ایسے میں پاک چین دوستی زندہ سے تابندہ باد ہو رہی ہے۔

یقینا مہنگائی یے اور اس نام نہاد مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے وزیر اعظم اور وزیر اعلی نے ضلعی سطح پر عوامی نمائیندوں کی سربراہی میں کو آرڈی نیشن کمیٹیاں بنا دی ہیں آپ جلد ہی مہنگائی کے  اس جن کو بوتل میں بند ہوتے ہوئے دیکھیں گے۔مشکل دنوں چین نے پاکستان کواکیلا نہیں چھوڑا۔شہد سے میٹھی اور ہمالہ سے بلند دوستی  کی اگر مثالیں دینا شروع کریں تو کالم نہیں کتاب درکار ہے۔مزے داری کی بات کہ چین نے پاکستان سے دوستی کو افراد سے منسلک نہیں کیا اور فراخ دلی سے پاکستان کا ساتھ دیا یہ بات بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ پاک چین دوستی کی ابتداء  جنرل یحیی خان کے دور سے ہوئی بیرون دنیا سے کٹا چین پاکستان کے ذریعے امریکہ سے رابطے میں ہوا۔یقینا پاکستان جغرافیائی طور پر ایک اہم ملک ہے گوادر کی موجودگی جہاں پاکستان کے لیے اہم ہے وہاں چین کے فائدے میں  بھی ہیں آج کی دنیا کاروباری دنیا ہے چین کو بھی پاکستان کی اتنی ھی ضرورت ہے جتنی پاکستان کو چین کی۔

مجھے پاکستان کی افرادی قوت پر اعتماد ہے جو جسمانی طور پر خطے میں موجود تمام اقوام سے بہتر ہیں۔آج پاکستانی قوم کے ان کاریگروں پر تہمت لگائی جا رہی ہے کہ یہ نکمے اور نکھٹو ہیں میں سمجھتا ہوں یہ بھی پاکستان سے دشمنی کی ایک سازش ہے 

ہماری ورک فورس  کا مظاہرہ آپ مڈل ایسٹ میں دیکھ سکتے ہیں۔پاکستانی قوم کے بارے میں اس منفی پروپیگنڈے کا فائدہ صرف بھارت اور بنگلہ دیش کو ہو سکتا ہے۔پتہ نہیں یہ ملک کے خیر خواہ ہیں یا بدخواہ  جو نادر وطن کے سپوتوں پر تہمت لگا رہے ہیں آج موضوع یہ نہیں اس پر پھر کسی وقت بات کریں گے۔ اسوقت پاک چین دوستی سی پیک کی شکل میں ایک لازوال داستان رقم کر رہی ھے سی پیک نے سال 2020 میں غیر معمولی پیشرفت کی جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں سے بیشتر منصوبے کورونا جیسی وبائی مرض کے باوجود کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچے، جس میں اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ ملتان سکھر موٹر وے فیز ٹو جو 392 کلو میٹر لمبا ہے اور اس کے علاوہ شاہراہ قراقرم جس میں حویلیاں سے مانسہرہ اورمانسہرہ سے تھاکوٹ جس کی لمبائی 120 کلو میٹر ہے شامل ہیں ان منصوبوں کے تمام مسائل کو حل کروا کر قومی شاہراہاتھارٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ گوادر بندرگاہ کو کر ان کو مٹل ہائی وے سے جوڑنے کے لئے ایسٹ بے ایکسپریس وے جو 19 کلو میٹر لمبائی پر مشتمل ہے کو کافی حد تک مکمل کر لیا گیا ہے جو کہ طے شدہ وقت کے مطابق ہے۔ اسی سال متعدد منصوبے شروع کیے گئے جس میں ایم ایٹ) موٹر وے ہوشاب آواران سیشن جس کی لمبائی 146 کلو میٹر ہے اور پاک چین دوستی ہسپتال جو کہ 150 بیڈ پر مشتمل ہے اس کے علاوہ ٹیکنیکل ووکیشنل انسٹیٹیوٹ گوادر شامل ہیں اور نیو گو ادر انٹر نیشنل ایئر پورٹ پر سول ورک کا آغاز ہو چکا ہے۔ افغان ٹرانزٹ تجارت کا آغاز اسی سال اپریل میں گوادر بندرگاہ سے مکمل صلاحیت کے ساتھ ہوا اور گوادر پورٹ اینڈ فری زون کو طویل عرصے کے لئے ٹیکس چھوٹ دے دی گئی۔ گوادر فری زون میں سرمایہ کاری کے لئے بیالیس کمپنیوں کو لائسنس دیئے گئے اور مین لائن ون (ایم ایل ون) کے اسٹرین منصوبے کے پی کیا۔ ون کی منظوری دے دی گئی۔ مزید بر آں،

سکھر حیدرآباد موٹر وے (ایم سکس) کے پی سی۔ ون کو بھی منظور کیا گیا۔سال 2020 میں توانائی کے شعبے میں بھی نمایاں پیشرفت ہوئی جن میں 330 میگاواٹ تھر اور 330 میگاواٹ تھل نو منصوبے شامل ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسی سال تین اہم معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے جس میں 1،124 میگاواٹ کوہالہ ہائیڈل پروجیکٹ، 701 میگاواٹ آزاد پتن ہائیڈل پراجیکٹ اور 300 میگاواٹ گوادر پاورپلانٹ شامل ہیں۔

دونوں ممالک کے مابین طے شدہ منصوبوں کے علاوہ دیگر راہیں کبھی کھولیں جن میں زراعت، سائنس اور ٹیکنالوتی اور سیاحت جیسے طویل مدتی منصوبے شامل ہیں۔ سال 2020 میں زراعت اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مشترکہ ورکنگ گروپس (ہجے ڈبلیو جی) قائم کیے گئے۔ جس کے تحت زر کی مکینائزیشن کے لئے نیشنل ایکشن پلان تیار کیا گیا۔جبکہ سائنس اینڈ ٹیکنالو بتی کے لئے 32 تجاویز چائنہ کے ساتھ مشاورت کے مختلف مراحل پر ہیں۔ صنعت کاریزراعت کو جدید بنانا اور ساتی و اقتصادی ترقی پر توجہ دینے کے ساتھ اب دوسرے مرحلے (2021 تا 2025) کوشروع کرنے کے منصوبے تیار ہو چکے ہیں۔

راشائی (کے پی کے)، علامہ اقبال (پنجاب) اور دھانیی (سندھ) میں خصوصی اقتصادی زون تر می فہرست میں شامل ہیں اور راشا کنی خصوصی اقتصادی زون کے ترقیاتی معاہدے پر چینی ڈویلپر (چائنہ روڈ ایڈ برج کنسٹرکشن کمپین) کے ساتھ سال 2020 میں دستخط ہو چکے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں اسوقت انقلاب پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہا ہے ضرورت اس امر کی ھے کہ جیسے چین کی یونیورسٹیوں میں اردو پڑھائی جارہی ہے ہمیں بھی چاہئے کہ پڑوسی ملک کی زبان سیکھیں اور ابھی سے اپنے آنے والے کل کی تیاری کریں اور کامیاب مستقبل کے ضامن اس عظیم کارواں میں شامل ہوجائیں کالم نگار ڈینٹیسٹ اور  پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ہیں 

ٹویٹر: @nabthedentist

مزید :

رائے -کالم -