معلوماتی سفرنامہ۔۔۔ انتالیسویں قسط

معلوماتی سفرنامہ۔۔۔ انتالیسویں قسط
معلوماتی سفرنامہ۔۔۔ انتالیسویں قسط

  

مشینی دور کا انسان

سنگاپور مجھے کئی وجوہ سے زیادہ پسند نہیں آیا۔ ایک یہ کہ ہمیں بہت گرم مرطوب موسم ملا تھا۔ اس خطے میں روزانہ دوپہر تک شدید گرمی اور شام میں بارش ہوتی ہے۔ مگر ان دنوں سنگاپور میں بارشیں نہیں ہورہی تھیں البتہ گرمی بہت تھی۔ دوسرے اس کی اصل کشش اس کا جدید طرزِ تعمیر ہے جو بعض دیگر لوگوں کے لیے تو شاید بہت پرکشش ہو، مگر میرے پس منظر کی وجہ سے میرے لیے کوئی نئی چیز نہ تھا۔ شروع شروع میں یہ پررونق، عالیشان اور چمکدار زندگی انسان کو متاثر کرتی ہے، مگر آہستہ آہستہ انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ مادیت کا وہ سمندر ہے جس میں انسان بھیڑ میں بھی تنہا رہتا ہے۔ پھر یہ کہ سنگاپور بہت مہنگا شہر ہے۔ خاص کر سیاح کا تعلق اگر پاکستان سے ہو تو کرنسی کے فرق کی وجہ سے مہنگائی کا احساس اور بھی زیادہ ہوتا ہے۔

معلوماتی سفرنامہ۔۔۔ اٹھتیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

تاہم میرے ذوق سے قطع نظر کافی تعداد میں سیاح سنگاپور آتے ہیں۔ قارئین کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس ملک کی آبادی سے زیادہ سیاح یہاں آتے ہیں۔ ان کے لیے یہاں تفریح کی کئی جگہیں بنائی گئی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں جگہ سنٹوسا کا جزیرہ ہے۔ اوپر اس علاقے کا جو نقشہ میں نے کھینچا ہے اس میں سنگاپور سے آگے مزید جنوب کی سمت شہر سے بالکل متصل ایک جزیرہ ہے۔ یہی سنٹوسا ہے۔ دراصل دنیا بھر میں دستور ہے کہ ساحل سمندر پر واقع بڑے اور اہم شہروں سے قریب جو جزیرے ہوتے ہیں انھیں بہترین تفریحی مقام میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ یہی کچھ سنٹوسا کے ساتھ ہوا ہے۔ اس موقع پر قارئین یہ نہ سوچنے لگ جائیں کہ پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوتا۔ کیوں کراچی کے اردگرد موجود دسیوں جزائر میں سے کسی ایک جزیرے کو اس مقصد کے لیے منتخب نہیں کرلیا جاتا؟ بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں کراچی جیسے عظیم الشان اور گنجان شہر میں ابھی تک ماس ٹرازٹ پروگرام نہیں بن سکا تو اور کیا ہوگا۔ یہی حال ملک کے دیگر بڑے شہروں کا ہے۔ ہمارے ہاں انسانوں کو جانوروں کی طرح بسوں اور ویگنوں میں ٹھونس کر سفر کا طریقہ رائج ہے اور جب تک عوام ناہل اور کرپٹ سیاسی لیڈر شپ کی اندھی پیروی جاری رکھیں گے، یہ سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

اس جزیرے میں سیاحوں کی تفریح کے لیے ساحل سمندر کے علاوہ اوربہت سی چیزیں بھی تھیں۔ تاہم یہاں کی سب سے زیادہ منفرد چیز ایک لیزر شو تھا۔ یہ لیزر شو کئی ملین ڈالر کی رقم کا ایک پروجیکٹ تھا جس میں ساحل سمندر کے ایک حصے پر روزانہ شام کے وقت پریوں کی ایک سادہ سی کہانی سنائی اور دکھائی جاتی ہے۔ مگر اس سادہ کہانی کو آتش بازی، رقص کرتے فواروں اور سب سے بڑھ کر لیزر کی دلکش اور رنگ برنگی روشنیوں کی مدد سے بے حد حسین اور خوبصورت انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس شو میں لیزر کے ذریعے سے سہہ جہتی (Three Dimentional) تصویریں اس قدر خوبصورتی سے بنائی گئیں اور مختلف اسپیشل افیکٹ اس طرح بکھیرے گئے کہ الفاظ شاید اس کا حقیقی بیان نہ کرسکیں۔ ہزاروں لوگ دم سادھے یہ شو دیکھتے رہے۔

یہ انسانوں کی ترقی کا ایک اعلیٰ نمونہ تھا۔ مگر اس شو سے ذرا قبل سمندر کے اوپر ڈھلتے اور ڈوبتے سورج کے ساتھ آسمان پر شفق کا ایک انتہائی حسین منظر تھا۔ سمندر کا نیلا، سورج کا پیلا، شفق کا گلابی، آسمان کا سرمئی، بادلوں کا سفید اور ان سے منعکس ہوتی سورج کی کرنوں کا سنہری رنگ؛ رنگوں کا ایک گلدستہ تھا جسے فطرت اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے انسان کو پیش کررہی تھی، مگر انسان اس سے بے پروا ہوکر اپنے ہنگاہوں میں، اپنی باتوں میں مگن تھا۔ یہ معاملہ انھی لوگوں تک خاص نہ تھا آج ہر جگہ یہی معاملہ دیکھا جاسکتا ہے۔ فطرت کوئل کی صورت کوکتی ہے، چڑیوں کی شکل میں چہچہاتی ہے، ہوا کے جھونکوں سے انسانی وجود کا مساج کرتی ہے، شفق کے رنگوں سے آسمان کو مزین کرتی ہے، پھولوں کی خوشبو سے زمین کو معطر کرتی ہے، سمندروں کی وسعت، سورج کی تپش، ہواؤں کی طاقت اور بادلوں کی حرکت کو ملاکر بارش کے قطروں سے دھرتی کی پیاس بجھاتی ہے، مگر انسان۔۔۔ مشینی دور کا یہ انسان اس سے بے پرواہ ہوکر کیسی غفلت اور محرومی میں جیتا ہے؟

دور جدید نے انسان سے سب سے بڑھ کر فطرت سے تعلق چھینا ہے۔ یہ قطعِ تعلق اگر فطرت تک رہتا تو پھر بھی غنیمت ہوتا۔ مگر انسان نے تو فاطر السموات و الارض سے بھی تعلق توڑ لیا ہے۔ وہ خدا فراموش ہوگیا ہے۔ اسے شاید ایسا ہونا ہی چاہیے۔ جن کے پاس کتاب الٰہی ہے، جب وہ خدا کو بھول چکے ہیں تو پھر دوسرے تو اس غفلت کے زیادہ حقدار ہیں۔ میں نے کہیں لکھا تھا اور پھر دہرا دیتا ہوں۔ خدا آج ہماری دنیا میں مصیبت میں پکارا جانے والا ایک نام ہے اور کچھ نہیں۔ اس کا کلام بے سمجھے پڑھی جانے والی ایک کتاب ہے اور کچھ نہیں۔ اس کا رسول سوا ارب مسلمانوں کا فخر ہے اور کچھ نہیں۔ ایسے میں کسی چینی، یورپی، ہندو اور انگریز سے کیا شکایت کی جائے۔

سنگاپور کے اہم مقامات

ذکر ہورہا تھا سنگاپور کے اہم مقامات کا۔ سنٹوسا میں اس لیزر شو کے علاوہ اور بھی کئی دلچسپ چیزیں تھیں لیکن لیزر شو بلاشبہ ان میں سب سے بہتر تھا۔ ہمارے لیے سنگاپور کا ایک دوسرا دلچسپ تجربہ سنگاپور ریور کی سیر تھا۔ ہمارا ہوٹل اس دریا کے کنارے واقع تھا۔ کمرے کی کشادہ کھڑکی سے نظر اٹھاکر دیکھتے تو آسمان کو چھوتی سنگاپور شہر کی خوش رنگ اور خوبصورت عمارتیں نظر آتیں اور نظر جھکانے پر دھیمے انداز میں بہتے دریا کا نظارہ سامنے آجاتا۔ اس کے ساتھ ہی ہوٹل کا انتہائی خوبصورت سوئمنگ پول تھا۔ یہ ایک انتہائی حسین منظر تھا جو کمرے کی کھڑکی سے کسی scenery کی طرح مستقل نظر آتا۔ میں سنگاپور کے حبس زدہ اور گرم موسم کی وجہ سے اس شہر میں زیادہ محظوظ نہیں ہوسکا تھا۔ مگر ہوٹل کے خنک کمرے میں بیٹھ کر جب میں اس منظر کو دیکھتا تو ساری کلفت دور ہوجاتی۔ اس منظر کو دیکھ کر یوں لگتا کہ گویا وقت ٹھہرگیا ہے، زندگی کی نبض چلتے چلتے دم لینے کو رک گئی ہے اور گردشِ زمانہ اپنی تکان اتارنے کے لیے کچھ دیر کو ساکن ہوگئی ہے۔

ہمارے ہوٹل کے قریب ہی وہ جگہ تھی جہاں سے دریا کی سیر کے لیے لوگ کشتی میں بیٹھ کر روانہ ہوتے تھے۔ اس کشتی میں سنگاپور اور اس دریا کی تاریخ اور اہم مقامات کا تعارف بھی کروایا جاتا تھا۔ یہ کشتی سٹی سنٹر کے علاقے کے قریب تک جاتی تھی جہاں مارلین (Merlion) اسٹیچو نصب تھا۔ یہ اسٹیچو سنگاپور کی پہچان ہے جو اپنے سر سے شیر کی طرح اور دھڑ کے نیچے سے مچھلی کی طرح نظر آتا ہے۔ اس کے منہ سے فوارے کی طرح مستقل پانی نکلتا رہتا ہے۔ اس کی ایک بڑی سی نقل سنٹوسا جزیرے میں بھی نصب کی گئی ہے۔

ہم سنگاپور کے لٹل انڈیا کے علاقے میں بھی گئے جو ہندوستان سے آئے ہوئے لوگوں کی آبادی کا علاقہ ہے۔ یہاں ایک بڑی مسجد بھی تھی۔ لٹل انڈیا میں واقع مصطفی سنٹر بہت مشہور ہے۔ تاہم شاپنگ کے لیے اصل شہرت آرچرڈ روڈ کی ہے جو اپنے بڑے بڑے شاپنگ سنٹرز کے لیے معروف ہے۔ مجھے البتہ ان سے کہیں زیادہ بہتر جیٹی پر بنا ہوا ویوو (Vivo) شاپنگ سنٹر لگا جہاں سے ہم منی ٹرین میں بیٹھ کر سنٹوسا کے لیے گئے تھے۔ میرے اس مشاہدے کی تائید بعد میں اس وقت ہوگئی جب وہاں یہ لکھا ہوا دیکھا کہ اس شاپنگ سنٹر نے پچھلے برس سیاحوں کے سب سے پسندیدہ شاپنگ سنٹر کا ایوارڈ حاصل کیا ہے۔

اس کے علاوہ سنگاپور کا چڑیا گھر، بوٹا نیکل گارڈن، نائٹ سفاری، برڈ پارک وغیرہ بھی سیاحوں کے پسندیدہ مقامات ہیں، مگر میں گرمی کی وجہ سے ان میں سے کسی جگہ جانے کی ہمت نہ کرسکا۔ البتہ سنگاپور میں نئے متعارف ہونے والے اس بلند پہیے میں بیٹھنے ضرور گیا جو ایشیا کا سب سے بلند پہیہ ہے کیونکہ مجھے بلند مقامات پر چڑھنا بہت پسند ہے۔ مگر جس وقت ہم وہاں پہنچے وہ بند ہوچکا تھا۔ اگلے دن ہماری روانگی تھی اس لیے یہ حسرت دل میں لیے ہم ملائیشیا روانہ ہوئے۔

مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

سنگاپور میں ہم تین دن رہے۔ ان تین دنوں میں ہمارا واسطہ ایک گرمی برساتے سورج سے رہا، لیکن یہ سورج مشرق سے ابھر رہا تھا اس لیے علامہ اقبال کے حکم کی تعمیل میں شعور کی آنکھ جھپکنے نہ دی۔

کھول آنکھ زمین دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ

مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

گو اس شہر کی بلند و بالا عمارات میں فلک اور فضا کم ہی نظر آتے تھے۔ جو نظر آتا تھا وہ مادیت کی بہار تھی یا عریانی کی یلغار۔ باقی جس انسان کو اقبال نے آنکھیں کھولنے کا مشورہ دیا تھا اس کی روح شاید خدا بیزار ہوچکی ہے۔ اس لیے وہ اقبال کی اس نصیحت پر عمل کرنے کے قابل ہی نہ تھی جو انہوں نے اسی معرکۃ الآرا نظم میں اس طرح کی تھی:

اُس جلوۂ بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ

خدا نے انسان کو اس دنیا میں بھیج کر اپنے آپ کو فطرت کے پردوں میں اس لیے چھپالیا کہ اس کے مشتاق اس جلوۂ بے پردہ کو لاکھ پردوں میں بھی پہچان لیں اور پیشانی کے بل اس کے سامنے گر پڑیں۔ لیکن مادیت کے اس دھویں نے آج کے انسان کے لیے خدا کے ہر منظر کو دھندلادیا ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ قیامت سے قبل ایک دفعہ یہ دھند ضرور چھٹے گی۔ ایسے لوگ اٹھیں گے جو اپنے خونِ جگر سے تخلیق کیے گئے الفاظ میں خدا کی حمد، اس کی پاکی، اس کی کبریائی اور اس کی توحید کے وہ نغمے بکھیریں گے کہ ہر سلیم الفطرت شخص شک و شبہ کی دھند کا سینہ چاک کرکے اپنے پروردگار تک جاپہنے گا۔ پھر اس کے بعد بہت جلد وہ وقت آئے گا جب خد اکی روشنی کا سورج طلوع ہوگا اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی۔ اور اس کے ساتھ ظلم، ناانصافی، گمراہی اور شیطانیت کا ہر تاریک سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہوجائے گا۔

سنگاپور میں مادیت کی دھند کے باجود دنیا کے نئے سیاسی منظر نامے کو مشرق کی اس سرزمین سے طلوع ہوتے سورج کے ذریعے سے ضرور دیکھا جاسکتا ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ کچھ عرصے قبل تک انتہائی پستی اور بدحالی کا شکار چینی نسل انسانیت کی امامت مغرب سے لے کر مشرق کو منتقل کرنے کے لیے تیار ہوچکی ہے۔ دور جدید کی امامت کا سورج آج ہر معنی میں مشرق سے طلوع ہورہا ہے۔

معاشی میدان میں چینی اقوام کی پیش قدمی سے تو دنیا واقف ہے ہی لیکن فوجی اور سائنسی میدان میں بھی وہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اسی سفر میں پاکستان واپس لوٹتے ہوئے معروف امریکی جریدے نیوز ویک کی ایک رپورٹ پڑھنے کا موقع ملا۔ جس میں بیان کیا گیا تھا کہ چین نے امریکہ کی مشرق وسطیٰ اور افغانستان میں توجہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خاموشی سے بحیرۂ چین میں واقع (Hainan) جزیرے پر ایک فوجی اڈہ قائم کرلیا ہے۔ اس اڈے پر بلاسٹک میزائلوں سے لیس ایٹمی آبدوزیں، بحری جنگی جہاز اور طیارہ بردار جہاز تعینات ہوں گے۔ اس اڈے کے اردگرد پہاڑیوں کو کاٹ کر سرنگیں بنائی گئی ہیں تاکہ کسی سیٹلائٹ سے اڈے پر آبدوزوں کی آمد و رفت کا علم امریکہ کو نہ ہوسکے۔ اس طرح چین صرف بحیرۂ چین ہی نہیں بلکہ بحر ہند کے اطراف میں واقع ممالک اور تجارتی شاہراہوں کی ناکہ بندی کے قابل ہوگیا ہے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد سے اس خطے میں امریکی بحریہ کی برتری قائم تھی جسے چین اب چیلنج کرنے کے قابل ہوگیا ہے۔

سنگاپور اس اعتبار سے چینی اقوام کا امام ہے کہ مشرق کی ترقی کا عمل سب سے پہلے اسی سرزمین پر شروع ہوا۔ 250 مربع میل کے رقبے اور پچاس لاکھ سے کم آبادی کی یہ شہری ریاست تاریخی طور پر ملائیشیا کا ایک حصہ تھی۔ انیسویں صدی میں یہ جنگلات پر مشتمل ایک دلدلی علاقہ تھا۔ اس علاقے کی حالت اس وقت بدلنا شروع ہوئی جب 1819 میں یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیر انتظام آیا۔ کمپنی کا مقصد مشرق بعید، انڈیا اور یورپ کے درمیان پھیلی ہوئی اپنی تجارت کے لیے اسے ایک بحری اڈے کے طور پر استعمال کرنا تھا۔ 1959 تک یہ برطانیہ کے زیر انتظام ایک فری پورٹ کے طور پر کام کرتا رہا۔ 1963 میں ملائیشیا کے ساتھ شامل ہوا مگر دو برس بعد سیاسی اختلافات کی بنیاد پر اس نے مکمل آزادی حاصل کرلی۔ ملک کی مدبر اور مخلص قیادت نے (قارئین کو پاکستانی تناظر میں یہ الفاظ شاید کچھ نامانوس لگیں، جس کے لیے معذرت، لیکن جب تک قوم اپنے لیڈروں کا احتساب نہیں کرے گی نااہل قیادت ہمارا مقدر رہے گی) فری پورٹ سے آگے بڑھ کر جلد ہی ملک کو ایک صنعتی پیدواری ملک بنادیا اور یوں سنگاپور ایشیا کے ٹائیگرز میں شامل ہوگیا۔

ایشیا کے اس ٹائیگر کی ترقی کی عکاس صرف فلک بوس عمارتیں ہی نہیں بلکہ ان کا ٹرانسپورٹیشن سسٹم بھی ہے جو کہ MRT کہلاتا ہے۔ یہ کسی اعتبار سے مغربی ممالک سے کم نہیں بلکہ کئی اعتبار سے ان سے بہتر ہے۔ ظاہر ہے یہ سب کچھ دیکھ کر اور اپنے وطن سے اس کا موازنہ کرکے میر ادل دکھا۔ خاص کر اس موقع پر جب MRT کی ٹرین میں بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف لوگوں کو ہوشیار رکھنے کے لیے بار بار نشر کی جانے والی وڈیو دیکھی۔ لندن اور میڈرد میں ٹرین بم دھماکوں کے بعد دنیا بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ نظام کے حوالے سے بہت احتیاط برتی جاتی ہے۔ ان دونوں جگہوں پر دھماکوں میں مسلمانوں ہی کا نام لیا گیا تھا۔ اس لیے جب جب یہ وڈیو چلی مجھے یہ محسوس ہوا کہ میں مسلمان ہوں اور ہر شخص مجھے ہی دہشت گرد سمجھ رہا ہے۔

یہ صورتحال ہماری اس لیڈر شپ کا تحفہ ہے جو صرف نفرت اور جنگ کو ہر مسئلے کا حل سمجھتی ہے۔ جو صبر، حکمت اور دعوت کو بے معنی باتیں سمجھتی ہے۔ جو طاقت کے بغیر دشمن سے ٹکراجانے کو بہادری سمجھتی ہے۔ اس کے برعکس وہ چینی قیادت ہے جو ٹکراؤ سے ہٹ کر تعمیر کے راستے پر چل رہی ہے۔ جو صرف اس میدان میں اتری ہے جہاں اس کی فتح یقینی ہو۔ اس مقصد کے لیے ان کا پہلا میدان معاشی ترقی تھی۔ دوسرا میدان تعلیم و تربیت ہے جس میں وہ مستقل آگے بڑھ رہے ہیں۔ فوجی میدان میں بھی ان کی دانشمندی اس واقعے سے عیاں ہوتی ہے جسے میں نے اوپر بیان کیا ہے کہ جو میدان انہیں خالی ملا اس میں انہوں نے خاموشی سے اپنا غلبہ قائم کرلیا۔ وہ جانتے ہیں کہ امریکہ مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا میں ان کی مداخلت گوارا نہیں کرسکتا اور نہ وہ امریکہ کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے ایک بہت بڑے اور مستقبل کے انتہائی اہم میدان یعنی بحر ہند پر اپنی برتری قائم کرلی جو بالکل خالی پڑا تھا۔

اس دنیا میں کامیابی کسی خوش قسمتی کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ کامیابی اپنے امکانات سمجھنے اور انہیں استعمال کرنے کا نام ہے۔ چینی قوم نے اس فن کو سیکھ لیا ہے اور یہی ان کی ترقی کا راز ہے۔

جاری ہے۔ چالیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کھول آنکھ، زمین دیکھ