وزیراعلیٰ صاحب ! لیپ ٹاپ کے ساتھ سائیکلیں بھی تقسیم کریں

وزیراعلیٰ صاحب ! لیپ ٹاپ کے ساتھ سائیکلیں بھی تقسیم کریں
وزیراعلیٰ صاحب ! لیپ ٹاپ کے ساتھ سائیکلیں بھی تقسیم کریں

  

دنیا بھر میں زندہ اور صحت مند قومیں سائیکل چلا نا ضروری سمجھتی ہیں ۔تمام ترقی یافتہ مما لک میں ہرطبقہ کے لوگوں کے پاس گاڑیاں یا موٹر سائیکل بھی ہوتے ہیں ۔مگر وہ ایک ورزش کے طورپر سائیکل چلاتے ہیں ، اگر ساری فیملی نے کہیں جانا ہوتو پھر گاڑی میں سفر کرتے ہیں ، ورنہ صبح شام بطور ورزش سائیکل چلاتے ہیں چھوٹے موٹے کا م، چھوٹے سفر کیلئے ان ممالک کی نئی نسل بھی سائیکل شوق سے چلا تی ہے ۔ سکولوں کے بچے اپنے والدین اور اساتذہ کو سائیکل پر آتے جاتے دیکھتے ہیں تو ان کے ذہنوں میں کسی قسم کا احساسِ کمتری پیدا نہیں ہوتا ۔ان ممالک کی حکومتوں نے انسانی تحفظ کیلئے سائیکل سواروں کا الگ ٹریک بنا دیا ہوا ہے ، جو اپنے ٹریک سے کبھی باہر نہیں نکلتے اور نہ ہی کسی قسم کا کبھی حادثہ رونما ہوتاہے ۔ہمارے ملک میں سائیکل سواری کو فروغ کیو ں نہیں مل سکا ، اس کے کچھ اسباب ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے ۔ ہم نے سائیکل کو غریبوں کی سواری بنادیا ہوا ہے ۔ سائیکل دفاتر میں چپڑاسیوں قاصدوں اور نائب قاصدوں کو دی جاتی ہیں ، اگر آپ نے گھر میں کوئی ملازم رکھا ہے یا پرائیویٹ دفاتر میں ، ہم ملا زمین ہی کو سائیکل پر آنے جانے کی تلقین کرتے ہیں ، اور خود چھوٹے موٹے کاموں کیلئے بھی گاڑی یا موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں ۔ہمارے ملک میں بیماریوں کی شرح میں اضافہ کا ایک نمایا ں سبب ورزش سے گریز ہے ۔کوئی شخص پیدل نہیں چلتا ، نہ ہی صبح کی سیر کیلئے کسی کے پاس وقت ہے ۔رات بھر ٹی وی ،موبائل اور انٹرنیٹ پر مصروف رہتے ہیں صبح اٹھتے ہی آنکھیں ملتے ہوئے دفاتر ، دکانوں یا سکولوں میں بمشکل وقت پر پہنچ پاتے ہیں ۔

سائیکل کلچر کے فروغ نہ پانے اور عوامی سطح پر مقبولیت حاصل نہ کرسکنے کی دوسری وجہ ہماری بیور و کریسی اور اشرافیہ کا رویہ ہے ، جنہوں نے سائیکل کو ٹیکس لگا لگا کر مہنگا کر دیا ہے، چنانچہ سائیکل عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوچکی ہے۔ حیرت انگیز حقیقت کہ ہمارے ملک میں چائنہ کی سائیکلیں بھی دوسری مصنوعات کی طرح سستی ہیں ۔ نیلا گنبد سائیکل مارکیٹ کے ایک تاجر نے بتایا کہ پاکستانی سائیکل کی قیمت مارکیٹ میں سات سے نو ہزار روپے تک ہو چکی ہے جبکہ چائنہ کی سائیکل پانچ ہزار روپے تک مل جاتی ہے۔ پاکستان میں حکومتی رویہ کے باعث کچھ کمپنیاں سائیکل بنانا ہی چھوڑ چکی ہیں ۔ ٹیکس زیادہ ہو اور سیل بہت کم ، انڈسٹری کیسے چل سکتی ہے۔ جو کمپنیا ں ابھی تک عوام کی سواری کے طورپر سائیکلیں بنارہی ہے، انہیں داد دینی چاہیے کہ وہ غربت اورپستی کی علامت سمجھی جانیوالی چیز بھی بنارہے ہیں ۔کچھ یورپی مما لک کے سربراہان مملکت بھی اپنے دفاتر سائیکل پر آتے جاتے نظر آتے ہیں ۔ اس کی حقیقت کیا ہے ، اس کی گہرائی میں جانے کی ہمیں ضرورت نہیں ہے ۔ ہماری بیورو کریسی نے 1978 میں جنرل ضیاء الحق کو بھی سائیکل پر بٹھادیا تھا اور بھر پور فوٹو سیشن بھی کئے تھے ، اس وقت صرف پی ٹی وی ہوتا تھا جس پر جنرل ضیاء الحق کو سادگی پسند ، ایثار پسند منکسر المزاج سربراہ مملکت ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی تھی ، اخبارات میں بھی بہت چرچا ہواتھا ،مگر اس وقت بہت تکلیف ہوئی تھی کہ جنرل صاحب کو سائیکل پر بٹھانے پر کتنا قومی بجٹ ضائع کیا گیا تھا ۔اسی قسم کی کوشش بھٹو صاحب کے دور میں بھی کی گئی تھی مگر جسے انہوں نے بیورو کریسی کے رویہ کو بھانپ لیا تھا ،اس لئے وہ اس ڈرامہ بازی سے محفوظ رہے تھے ۔

مجھے کچھ عرصہ قبل مانچسٹر انگلینڈ جانے کا اتفاق ہوا، جہاں میرے پوتے شایان اور ریحان جو اس وقت ماشاء اللہ دس اور گیارہ سال کے تھے ،روزانہ شام کے وقت اپنی سائیکل نکالتے تھے اور ہمارے ساتھ قریبی پارک میں پہنچ جاتے تھے ہم پیدل پہنچ جاتے تھے ۔ان کے گھر سے کوئی آدھا کلومیٹر فاصلہ تھا ۔ میں بیگم کے ساتھ سیر کرنے لگتا تھا اور وہ دونوں بھائی خوب کھل کر پارک کے جاگنگ ٹریک پر ہماے ساتھ ساتھ سائیکل چلا کر اپنی ورزش کرلیتے تھے ، وہ اپنے ساتھ فٹ بال بھی رکھتے تھے ،جب سائیکل چھوڑتے تو فٹ بال سے جی بہلا تے ۔جولائی اگست انگلینڈ میں خوشگوار موسم ہوتا ہے ،مگر ورزش کے دوران پسینہ آجاتا ہے ۔ایک روز میرے دونوں پوتے مجھے کہنے لگے کہ دادا آپ کو سائیکل سکھاتے ہیں ، میں نے کہا نہیں یا ر اس عمر میں چوٹ لگنے کا خوف ہوتا ہے مگر انہوں نے ضد کر کے دادا کو سائیکل پر بٹھادیا اور خود سائیکل کو پکڑے رکھا ساتھ ساتھ چلتے رہے ،میں چونکہ جوانی میں سائیکل چلا تا تھا مگر اب ہمت نہیں کررہا تھا میں نے کہا کہ یا ر تم پہلے دادی کو سکھاؤ۔ تھوڑے عرصہ میں انہوں نے دادی کو سائیکل سیکھا دی، وہ بھی بچپن میں سائیکل چلاتی تھیں مگر یہ کام اگر چھوڑ دیا جائے تو پھر دوبا رہ بڑی عمر میں کرنا مشکل ہوجاتاہے تاہم ان دونوں بچوں کی ہمت افزائی اور کوشش سے ہم سائیکل چلا نا سیکھ گئے مگر واپس آتے ہی پھر سائیکل کو ہاتھا تک نہیں لگایا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں سائیکل کلچر فروغ نہیں پاسکا ۔نہ ہی ہماے پاس گھر میں سائیکل تھی ۔

وزیر خزانہ سے گزارش ہے کہ اس بجٹ میں سائیکل سے ٹیکس ختم کرکے سائیکل کوسستی کردے۔ اسے غریبوں کی سواری نہ کہا جائے بلکہ اسے صحت مند معاشر ہ کی علامت کے طورپر مقبول کیا جائے ۔یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ سائیکل چلا نے سے ہماری قوم بہت سی بیماریوں سے نجات حاصل کرلیگی ۔میڈیا کے ذریعہ اس کے فوائد کے متعلق اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر اشتہار ات چلائے جائیں اور اس کی قیمت چائنہ کی سائیکل کے برابرکردی جائے تو شاید ہمارا شماربھی صحت مندقوموں میں ہونے لگے ۔سڑکوں پر سائیکل ٹریک الگ بنائے جائیں تو اچھے نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے ۔ جس طرح وزیراعلیٰ صاحب ذہین طالب علموں میں لیپ ٹاپ تقسیم کرتے ہیں اسی طرح لاکھو ں طلبا ء طالبات کو سائیکلیں تقسیم کرکے قوم کے نونہالوں کو سائیکل کلچر پر واپس لا یا جا سکتا ہے ۔جس سے اپنی سائیکل انڈسٹری کی حوصلہ افزائی بھی ہوگی ۔

مزید :

کالم -