ایران سے تعلق نہیں ٹوٹنا چاہئے

ایران سے تعلق نہیں ٹوٹنا چاہئے
ایران سے تعلق نہیں ٹوٹنا چاہئے

  

ٹرمپ کی آمد کے  بعد سے امریکیوں کی  پالیسیاں سخت ہوتی نظر آ رہی تھیں ,صدر ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورہ  کے بعد جو ظاہری طور پر سرکاری دورہ ہی  تھا لیکن  درپردہ  امریکہ کچھ اور کرنا چاہتا تھا ۔  امریکہ سعودی عرب کو ایران کے مقابل کرنیکا خواہش مند  تھا۔ امریکہ کی کوشش تھی کہ وہ اس علاقہ میں آکر بیٹھ جائے .یہ سب تو نہ ہو سکا لیکن ایران اور اسرائیل کو آمنے سامنے کر دیا گیا-افسوس ناک امر یہ ہے کہ بحرین اور سعودی عرب نے ایران کی حمایت نہ کی- جس سے اب یہ معلوم ہونے لگا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کا یہ ڈرامہ کسی اور منظر نامے کا آغاز ہے-

 ایران کے پاس دو ایٹمی تنصیبات ہیں جہاں پر جدید بنیادوں پر یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت حاصل کر لی گئی تھیں- ایٹمی ٹیکنالوجی میں ایٹمی ری -ایکٹر سے بجلی کی پیداوار کا لیول 3-سے 4 فیصد تک ہوتا ہے یعنی آئیسوٹاپ یو-235 تک دسترس حاصل کرنے سے اس صلاحیت کو 90 فیصد کی سطح تک لے جایا جا سکتا ہے-اگر یہ صلاحیت 90 فیصد ہو جائے تو اس سے بآسانی ہتھیار بھی بنائے جا سکتے ہیں-اومابا انتظامیہ نے اس خطرہ کے پیش نظر  اس معاہدے کو قابل عمل بنایا- اور ایران نے بھی اس پر بہت ایمانداری سے عمل کیا- ایران کے پاس 20000 سنٹری فیوج تھے جن کو 2026 ء تک 5060 تک لانا مقصود تھا-  ایران نے کئی ٹن مواد روس میں سٹاک کروایا اور مثبت رویے کا مظاہرہ کیا اس طرح ایران اپنی صلاحیت 98 فیصد کم کرنے پر تیار تھا-اس سب کے بعد ایران اپنے ایک ایٹمی ری ایکٹر کو ریسرچ سنٹر بنانے کا ارادہ رکھتا تھا-

 ایران کو اقتصادی لحاظ سے بہت بہتری میسر آ رہی تھی ایران کو اس کے100 ارب ڈالر بھی واپس مل گئے اور تیل کی آمدن سے بہت تیزی سے ایران کو وسیع غیر ملکی سرمایہ میسر آ چکا ہے - ایران جو معاشی دباؤ میں اپنی ملکی عزت کی خاطر ڈٹا رہا تھا تو ان حالات میں وہ امریکیوں کے لیے آسان ٹارگٹ نہیں -ایران کی راویتی فوجی طاقت  بھی بہت مضبوط ہو چکی ہے ملکی طور پر مزائل سازی،اور طیارہ سازی میں شاندار کامیابیاں میسر آئی ہیں ایران نے حال ہی میں پرانے امریکی ایف-4فنٹم اور ایف-14 کو ملکی طور پر دوبارہ قابل استعمال بنا لیا ہے اور ان کے ائیر فریم کی بنیاد پر ملکی طور پر کام ہو رہا ہے -

 امریکا نے عراق اور لیبیا کو خطرہ بتا کر نہ صرف ان ممالک کو تباہ و برباد کیا بلکہ ان پر کٹھ پتلی حکومتیں قائم کیں-ان کے تمام وسائل پر قبضہ کر لیا اور ان ممالک کا سسٹم اس بری طرح متاثر کیا کہ یہ ملک اگلے پچاس سال تک نہیں صحیح ہو سکتے-لاکھوں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے -اس کو کم کرنے کے لیے صرف اتنا بیان دیدیا کہ غلطی ہو گئی ان ممالک میں تو کچھ خاص نہیں ملا-------اسی طرح وہ  ایران ,پاکستان اور ترکی کے ساتھ بھی یہی کرنا  چاہتا ہے- اسی لیے اس وقت ایران ،پاکستان اور ترکی ہی نشانے پر ہیں۔ اگر یہ ملک بھی زیر ہو گئے تو یہ بھی کھنڈر ہو جائیں گے ۔پاکستان کو اس وقت اس ساری صورتحال میں چوکنا رہنا ہو گا  -ایران کی حمایت میں ٖیورپی ممالک نے آواز بلند کی ہے کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ ایران کو زیر کرنا آسان نہیں ۔وہ ایک قوم ہو کر کام کر رہے ہیں اور ایران کو دوبارہ راضی کرنا آسان نہ ہو گا-اس علاقے میں جنگ کسی کے مفاد میں نہیں- اس سے ایران کے علاوہ دیگر ممالک کو بھی شدید نقصان ہو سکتا ہے-خاص طور پر پاکستان کو ۔کیونکہ پاکستان کے رویہ سے دلبرداشتہ ایران انڈیا سے بھی تعلقات قائم کرچکاہے ۔اس لئے کہ پاکستان ایران کی اہمیت کو نہ بھلائے۔ایران کے انڈیا سے مراسم ہوبھی جائیں تب بھی پاکستان کو ایران کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہئے۔  

 ۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -