اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 174

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 174

  

اس دوران سلیمان شاہ کی تیز نگاہیں مجھ پر جمی رہیں۔ میں نے اپنے چہرے پر ذرا سی بھی گھبراہٹ نہیں آنے دی تھی۔ اس لئے کہ میں اپنی جان کی طرف سے بالکل بے فکر تھا۔ وہ قہقہہ لگا کر ہنسا اور موضوع کو بدلتے ہوئے بولا

”میں تو تم سے مذاق کررہا تھا۔ اچھا اب یہ بتاﺅ کہ شارلیان نے تمہیں جو زہریلا سفوف دے کر بھیجا تھا کہیں وہ راستے میں تم سے کھو تو نہیں گیا تھا؟“

سلیمان شاہ جو کچھ کہنا چاہتا میں اسے سمجھ گیا تھا۔ میں نے فوراً جواب دیا کہ حضور! بھلا ایسا کبھی ہوسکتا تھا۔ میں نے زہریلے سفوف کی تھیلی خاص طور پر سنبھال کر رکھی ہوئی تھی اور ویسی کی ویسی آپ کو لاکر دے دی تھی۔ سلیمان شاہ اٹھ کر قالین پر ٹہلنے لگا۔

”یونہی مجھے خیال آگیا تھا کہ کہیں تم سے اصل سفوف کھو نہ گیا ہو اور تم نے۔۔۔ تم نے اس کی جگہ کوئی دوسرا سفوف لاکر مجھے دے دیا ہو۔“

”حضور یہ ناممکن ہے۔ شارلیان کی خدمت کرتے ہوئے میری عمر گزرگئی ہے ۔ ان کی دی ہوئی کوئی معمولی سے معمولی شے بھی کبھی ادھر سے اُدھر نہیں ہوئی ہے۔“

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 173 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

وہ میرے قریب آکر کھڑا ہوگیا۔ میں دیوان پر بیٹھا تھا۔ اسے قریب کھڑا دیکھ کر میں بھی تعظیماً اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور بڑی دھیمی آواز میں بولا

”لیوگی! میں نے تمہاری ذہانت اور احساس ذمہ داری پر شک کیا۔ تم اس کا خیال نہ کرنا۔ میں تمہاری جانثاری کا معترف ہوں۔ کیا تم آج رات میرے ہاں آﺅ گے؟ میں نے خاص طور پر شتر مرغ پکوائے ہیں۔“

میں نے ادب سے سر جھکا کر کہا ”یہ میرے لئے باعث عزت ہے حضور! میں ضرور حاضر ہوں گا۔“ اس نے مجھے واپس بھج دیا۔ قیام گاہ پرآکر میں سوچنے لگا کہ یہ عیار شخص میری نیت سے واقف ہوچکا ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ میں بھی اس کے ناپاک عزائم سے واقف ہوں او راب اس کی راہ میں حائل ہوں۔ ظاہر ہے وہ مجھے راستے سے ہٹانا چاہتا ہے اور آج رات دعوت میں وہ مجھے زہر دے گا۔ میں زیر لب مسکرایا۔ میں زہر کھانے کے لئے تیار تھا۔ اس لئے کہ اس کا قاتل سے قاتل زہر بھی مجھ پر کوئی اثر نہیں کرسکتا تھا۔

رات کو میں سلیمان شاہ کے محل میں پہنچ گیا۔ بزم احباب گرم تھی۔ طرسومہ شعلہ جوالہ بنی چنگ و مرونگ کی دھن پر رقص کررہی تھی۔ خلاف معمول سلیمان شاہ نے مجھے اپنے پہلو میں بٹھالیا۔ اس کے حاشیہ بردار برابر میں براجمان تھے۔ ایک شاعر عربی زبان میں قصیدے کے اشعار پڑھ رہا تھا۔ سلیمان شاہ نے اسے انعام میں اپنے گلے سے موتیوں کا قیمتی ہزار اتار کردیا۔ کھانے کے دورنا میں نے محسوس کیا کہ سلیمان شاہ نے اپنے خاص غلام مشروط کو آنکھوں کا ہلکا سا اشارہ کیا ہے۔ وہ فوراً پلٹ کر پیچھے گیا اور آبنوسی میز پر سے ایک صراحی اٹھا کر لے آیا۔ سلیمان شاہ نے میرے خالی پیالے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے غلام مشروط سے کہا

”ہمارے جانثار لیوگی کا پیالہ بھردو مشروط، ہم اس کا جام صحت نوش کریں گے۔“

صراغی میں صرف اتنا ہی مشروب تاھ جو میرے پیالے میں آگیا۔ میں جان گیا کہ اس مشروب میں زہر ملادیا گیا ہے۔ میں خاموش رہا۔ سلیمان شاہ نے اپنا پیالہ اٹھالیا۔ میں نے بھی پیالہ اٹھالیا۔ سب نے ہمارا ساتھ دیا۔ سلیمان شاہ نے میری تعریف میں کچھ کلمات کہے اور پھر جام صحت نوش کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنا مشروب پی لیا۔ باقی احباب نے بھی ایسا ہی ظاہر کیا۔ ظاہر ہے مجھے بھی ایسا ہی کرنا تھا۔ میں نے بھی پیالہ ہونٹوں سے لگایا اور اسے خالی کردیا۔۔۔ سلیمان شاہ کے چہرے پر اس وقت اطمینان کی ایسی لہر نمودار ہوئی جیسے اس نے اپنے جانی دشمن کو پچھاڑ ڈالا ہو۔

طرسومہ رقاصہ کا رقص جاری تھا۔ محفل میں سوائے میرے، سلیمان شاہ اور مشروط غلام کے اور کسی کو علم نہیں تھا کہ مجھے زہر دیا گیا ہے۔ میں نے اداکاری کرتے ہوئے تھوڑی دیر بعد سردرد کا بہانہ کیا تو سلیمان شاہ مسکرا کر بولا

”جی تو نہیں چاہتا لیکن بہتر ہے کہ تم جاکر آرام کرو۔“

میں اجازت لے کر اٹھا اور اپنی خوابگاہ میں آگیا۔ میں نے لباس تبدیل کیا۔ شمع دان کو بجھا دیا اور خاموشی سے پلنگ پر لیٹ کر سوچنے لگا کہ کل جب سلیمان شاہ کو معلوم ہوگا کہ میں اس کے دئیے گئے زہر سے ہلاک نہیں ہوا تو وہ کس قدر حیرنا ہوگا۔ پھر وہ میرے قتل کا کوئی دوسرا منصوبہ تیار کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ مجھے یہ فکر بھی تھی کہ وہ خلیفہ اندلس کو ہلاک کرنے کا جو خفیہ منصوبہ تیار کررہا ہے اس کے بارے میں بھی کچھ سراغ ملنا چاہیے۔ اسی ادھیڑ بن میں رات گزر گئی۔

دن کے پہلے پہر سلیمان شاہ خود میرے ہاں آگیا۔ وہ میری لاش دیکھنے آیا تھا مگر میں اسے زندہ حالت میں ملا۔ پھر بھی میں جان بوجھ کر بیمار بن کر پلنگ پر لیٹ گیا تھا۔ سلیمان شاہ کی آنکھوں میں زبردست تحیر تھا جو میں صاف دیکھ رہا تھا۔ وہ اپنے دل کی کیفیت کو چھپاتے ہوئے کچھ تردد کے ساتھ بولا

”لیوگی رات تمہارے سر میں درد تھا۔ تم محفل سے اٹھ کر چلے آئے۔ میں سوچا صبح صبح تمہاری خبر لے آﺅں۔ اب کیسی طبیعت ہے؟“

میں نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ”درد ابھی تک ہے۔ رات بھر شدید بے چینی رہی۔ آدھی رات کے بعد پیٹ بھی درد کرنے لگا تھا۔ مگر خدا کا شکر ہے اب حالت بہتر ہے۔“

”اچھی بات ہے۔ میں طبیب کو بھجوادوں۔“

میں نے کہا ”نہیں حضور! آپ کی عنایت سے اب بالکل تندرست ہوں۔ طبیب کی حاجت نہیں ہے۔“

سلیمان شاہ بظاہر میری حالت پر خوش اور دل میں میرے زندہ رہ جانے پر سخت حیران ہوتا وہاں سے چلا گیا۔ وہ سارا دن میں نے جان بوجھ کر اپنے بستر پر ہی گزارا۔ کسی کو شک نہ پڑنے کے خیال سے میں نے خادمہ سے دو تین بار تیتروں کی یخنی اور معدہ صاف کرنے والا جوشاندہ بھی بنواکر پیا۔ شام ہوگئی۔ سلیمان شاہ کی جان ب سے دوبارہ کوئی میری خیریت دریافت کرنے نہ آیا۔ ابھی رات کا پہلا پہر ہی گزرا ہوگا۔ خادمہ مجھے کھانا دے کر جاچکی تھی۔ میں خواب گاہ میں نیم دراز تھا۔ شمع روشن تھی۔ نجور سلگ رہے تھے کہ دروازے کا ریشمی پردہ ہٹا۔ سلیمان شہا کی چہیتی کنیز رقاصہ طرسومہ کھڑی تھی۔ اس نے اپنے جسم کو سیاہ لبادے میں لپیٹ رکھا تھا۔ جس میں اسکا سرخ و سفید گول چہرہ چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ میں سمجھ گیا کہ وہ میری خیریت پوچھنے آئی ہے۔ میں نے مسکر اکر کہا

”اب بالکل ٹھیک ہوں۔ فکر کی کوئی بات نہیں طرسومہ۔ یونہی رات پیٹ میں درد ہوا تھا۔“(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 175 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار