ارطغرل غازی سیزن 2 , منگول لٹیرے !!!

ارطغرل غازی سیزن 2 , منگول لٹیرے !!!
ارطغرل غازی سیزن 2 , منگول لٹیرے !!!

  

ارتغرل غازی کون تھے ؟؟؟ ایک اوغوز ترک خانہ بدوش قبیلے کائی کے سردار سلیمان شاہ کے بیٹے ۔ ان کا دشمن کون تھا؟؟؟ اس زمانے کی سپرپاور منگول سلطنت کے حکمران اوکتائی خان کی فوج کا کمانڈر نویان!!! وحشی منگول جو اپنی عددی اکثریت,حربی قوت اور ظالمانہ نظام چین جیسے ملک کو گھٹنے ٹیکنےپر مجبورکرچکےتھے،وہ ارطغرل غازی کو کیوں رکاوٹ سمجھتےتھے ؟؟؟ جن کے پاس اب نہ فوج تھی نہ سامانِ حرب تھا نہ مال وزر !!! مگر پھر وحشی منگول کائی قبیلے پر حملہ آور ہوئےاور قتل وغارت کرکے لوگوں کو خوفزدہ کیا کیونکہ دشمن پر اپنی ہیبت طاری کرنا مدمقابل کی نفسیاتی شکست کی بنیاد ثابت ہوتا ہے،مزید برآں یہ کہ ان کے تجارتی معاہدوں کو ناکام بنادیا ۔

گویا معاشی میدان میں دشن پر تجارتی برتری کو ہر زمانے میں ایک تسلیم شدہ اور مئوثرکامیابی سمجھا جاتا رہاہے مگر آج کےمسلم حکمران الٹ پالیسی اپنائے ہوئے ہیں ۔ بھارت نے ایک متنازعہ " شہریت قانون " بنا کر بھارتی مسلمانوں سے شہری حقوق چھیننےکی تیاری کرلی ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کوبھی مکمل طورپر اپنے اندر جذب کرنےکےلیے آرٹیکل 370 اور 35A ختم کرچکا ہےاور اگلےمرحلےمیں آبادی کا تناسب بدلنا چاہتا ہے مگر اس سب کچھ کے باوجود اگر بھارت مسلم ممالک کا بڑا تجارتی شراکت دارہے تو یقیناً مسلم حکمرانوں کی تجارتی پالیسیاں قابل تنقید اور باعثِ تشویش ہیں ۔

ارطغرل غازی اور ان کے مٹھی بھر جانثاروں سے ایسا کیاخطرہ تھا جس نےدشمن ارطغرل غازی اور ان کےساتھیوں کےخلاف پروپیگنڈہ مہم چلاکراُن کی کردار کشی کرنےاورانہیں" غدار" ثابت کرکےاپنوں کے ہاتھوں ہی قتل کروانے کی کوشش کی ،اس کی واحد وجہ ارطغرل غازی کی قائدانہ صلاحیت اور جنگی قابلیت و مہارت تھی  کیونکہ دشمن جانتاتھاکہ ااگرترک ارطغرل غازی کی قیادت متحد ہوگئے تو اپنادفاع کرنےمیں کامیاب ہوجائیں گے چنانچہ تاریخی واقعات کی روشنی میں ثابت ہوا کہ لشکرِ کفار اپنی بھرپورطاقت کے باوجود اگر کسی چیز سے خوفزدہ ہوتے ہیں تو وہ ہے" اہل قیادت " !!!

کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مٹھی بھرمسلمان اپنی تمام ترحربی اورمعاشی کمزوریوں کےباوجود اگر کسی بہترین قائد کی زیرِ قیادت متحد ہوجائیں تو " چنگیزیت " بھی ان کے جذبہ ایمانی کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے،یہ ہی وجہ ہے کہ عالمِ اسلام کےکئی جری سپوتوں کی کردارکشی کرکےان کےخلاف جھوٹےالزامات عائدکرکے اپنوں ہی کو ورغلا کر اندرونی غداروں کی مددسےانہیں قتل کروانا دشمن کی ایک خطرناک چال ثابت ہوتی ہے۔آج کےدور میں جبکہ پرنٹ, الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کو بیک وقت پروپیگنڈہ مہم کےلیے استعمال کیاجاتا ہے،سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کوسچ ثابت کرنا اور کسی کی بےبنیاد کردار کشی کرنا ماضی کی نسبت کہیں زیادہ آسان ہے،ہمیں کیا خبر کہ ذرائع ابلاغ سے وابستہ کون سا فرد یا ادارہ  اور کون سا قاضی اور کون سی عدالت ضمیر فروش ہو ؟؟؟ اور کون سا امیر بکاویا عوامی نمائندہ بدعنوان ہو؟؟؟

جب کائی قبیلے نےحلب سےواپس اناطولیہ ہجرت کا خطرناک فیصلہ کیاتو یقیناً ان کا مقصد اناطولیہ پر منگول یلغار کو روکنا تھا۔ مگرجب ارطغرل غازی نے اہلت کی بجائے بازنطینی سرحد کی طرف ہجرت کا فیصلہ کیا تو ان کا مقصد ایک مضبوط اسلامی ریاست کا قیام تھا۔ کائی قبیلے نے خانہ بدوشی کی زندگی میں جن مشکلات و مصائب کا سامنا کیا , اس کی بڑی وجہ ان کے پاس اپنی سرزمین کا نہ ہونا تھا , جسے وہ اپنا وطن بناسکتے ۔ وہ جس سلجوکی ریاست کے وفادار تھے , اس کےلیے بھی بے پناہ قربانیوں کے باوجود وہ کسی ایسے خطہ ارضی سے محروم تھے , جسے جہاں وہ مستقل بستے چنانچہ یہی وجہ تھی کہ اپنی نئی ریاست کے قیام کےلیے اطغرل غازی اور ان کے جانثاروں نے اپنی زندگیاں وقف کردیں حالانکہ ارطغرل غازی کےاپنے بھائی بھی ایک وقت پر ان کا ساتھ چھوڑگئے ۔

لہٰذااپنی سرزمین , اپنے وطن کا حصول اور اپنی آزادی کا تحفظ بےپناہ اہمیت کا حامل ہوتاہے ۔ اسی کی خاطر کائی قبیلے نے ایک مشکل , طویل اور کٹھن جدوجہد کی اور جانی قربانیاں دیں۔یاد رہے کہ ہمارا پیارا وطن پاکستان بھی ایک طویل اورصبر آزما جدوجہد اور ان گنت جانی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے چنانچہ اپنے وطن, اپنی مٹی,اس پاک سر زمین اور آزادی کی قدر کیجیئے۔ قیام پاکستان کے بعد ایک اور طویل , صبر آزما جدوجہد ہماری راہ دیکھ رہی ہے اور وہ ہے تکمیلِ پاکستان کی جدوجہد , جس کےلیے انتھک محنت اور کاوشوں کی ضرورت ہے کیونکہ جب ہم داخلی طورپر سیاسی اور معاشی استحکام حاصل کرلیں گے , تبھی اپنے خارجی دشمنوں سے بہتر طورپر نمٹ سکیں گے۔

اگرچہ ہم اپنےماضی کاجائزہ لیں توہم کسی سےکم نہیں ہیں،کیا یہ کم ہےکہ مسلمانوں نےاقلیت میں ہونےکے باوجود ہندوستان پر ہزار سال تک حکومت کی ؟ تاریخ گواہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند کےعظیم مسلم حکمرانوں سلطان علاؤالدین خلجی اور سلطان غیاث الدین بلبن نے بھی منگول لٹیروں کو ناکوں چنے چبوائے ۔ سلطان غیاث الدین بلبن نے منگولوں جیسے خونخوار لشکر کو کئی سال پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی سرحدوں سے آگے نہیں بڑھنے دیا،ان کے بہترین سپہ سالاروں محمداوربغرہ نےمنگولوں سے1286میں زبردست جنگ لڑ کر شکست دی اور گورنر محمد خود شہادت سے سرفراز ہوا۔

سلطان علاوالدین خلجی نے 1297 میں منگولوں کو زبردست شکست دی۔اس کے دو سپہ سالار ظفر خان اور الغ خان تو ایسے تھے جن سے منگول بھی کانپتے تھے۔1299 میں ظفر خان نے حملہ آور منگول فوج کو عبرتناک شکست دی تھی۔۔ کہتے ہیں کہ اگر کسی منگول کا گھوڑا کہیں پانی نہیں پیتا تھا تو وہ اسے جھڑک کر کہتا تھا کیا تو نے ظفر خان کو دیکھ لیا جو ڈر کے مارے پانی نہیں پی رہا؟ 1303ء میں خلجی کی قیادت میں فوج کی کمان ملک کافور نے سنبھالی اور ہزاروں منگولوں کو جہہنم واصل کیا جبکہ 1305ء میں سلطان کے زیر سایہ ملک نائیک کی کمان میں آٹھ ہزار منگولوں کو جہنم رسید کرتے ہوئے ہندوستان پر قابض ہونے سے بچایاگیا ۔ افسوس کہ نئی نسل اپنے عظیم اسلاف کے متعلق بہت کم جانتی ہے۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -