پیشہ ورنعت خوانوں سے اک گزارش

پیشہ ورنعت خوانوں سے اک گزارش
پیشہ ورنعت خوانوں سے اک گزارش

  

پوری دنیا میں شرق تا غرب،شمال تاجنوب ،فرش تا عرش ،،وما ارسلنک الارحمۃ اللعالمین‘‘ کی آفاقی صفت والے پیغمبر انسانیت ،رسولِ رحمت ،حضور نبی کریمﷺ کی تعریف و توصیف کا سلسلہ عروج پر ہے بلکہ جہاں پر ’’سلسلہ عروج ‘‘کا اختتام ہوتا ہے وہاں سے کریم آقاﷺ کی عظمت و بلند ی کا سفر شروع ہوتا ہے۔ ’’با ادب ، بانصیب‘‘ ایک مشہور مقولہ ہے، جتنا زیادہ ادب و احترام کے تقاضوں کا خیال رکھا جائے گا اتناہی زیادہ ہماری جھولیوں میں فیو ض و برکات آئیں گے،لیکن بدقسمتی سے جہالت اور ہوس زر میں مبتلا بہت سے نعت خوان گستاخانہ کلام پڑھ کر امت مں بے ادبی کا بیج بورہے ہیں جو ناسور بنا جائے گا۔

ستمبر2004ء کی وہ سہانی صبح جب برادر عزیزقاری افضال انجم صاحب اور علامہ ظہیر احمد چشتی صاحب نے یا دکرایا کہ آج الحمراہال مال روڈ لاہور میں ایک عظیم الشان ،،اصلاح محافل نعت ’سیمینار‘‘ کا اہتمام کیا گیا ہے اور اس میں وطن عزیز کے جید مشائخ عظام اور باعمل علماء کرام تشریف لا رہے ہیں، میرے لئے موضوع اگرچہ نیا تھا اس سے قبل کسی کو بھی اس اہم کام کو کرنے کا خیال تک نہ آیا سوچا ضرور جاناچاہیے۔ وقت مقررہ پر جب الحمرا ہال پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران بھی ہوا اور انتہائی درجے کی خوشی بھی ہوئی کہ تقدس نعت کی پامالی اور بے حرمتی کے دور میں کون ایسا مردِ قلندر ہے جس نے اصلاحِ محافل نعت کا بیڑا اٹھایا ہے۔ سٹیج پر موجود روحانی و علمی شخصیات کا جب تعارف کرایا گیا تو خوبصورت دستار سجائے ایک بہت ہی خوبصورت چہرہ نظر آیا ۔معلوم ہوا کہ یہی وہ مردِ درویش ہیں جنہوں نے تحریک اصلاح محافل نعت کی بنیاد رکھی ہے اور آج اس سلسلے کا پہلا شعور ی سیمینار کاانصرام بھی کیا ہواہے۔ محقق العصر علامہ مفتی محمد خان قادری صاحب کی باتیں دل کی گہرائی میں اتریں۔ وہاں پر تحریک اصلاحِ محافل نعت کے روح رواں عظیم ر و حانی شخصیت حضرت علامہ پیر سید محمد قاسم حسین شاہ (سجادہ نشین آستانہ عالیہ بودلہ شریف آف لودھراں)کی فکر انگیز اور سچی باتیں بھی سننے کو ملیں۔ انہوں نے اصلاح محافل نعت تحریک کی غرض وغایت اور محرکات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’گزشتہ سال رجب المرجب کی بات ہے ۔ایک محفلِ نعت سمن آباد گراؤنڈ میں تھی ۔میں وہاں سے خطاب کے بغیر ہی واپس لوٹ آیا۔ اس محفل کا مجھے بے حد دکھ ہوا ۔یہاںآپ ﷺ کو عامیانہ انداز میں نعت کے دوران مخاطب کیا جا رہا تھا۔ اسی شب مجھے سرکار دو عالمﷺ کی زیارت ہوئی۔

آپﷺ کے دائیں سائیڈ شانہ مبارک پر قادری کلر( تقریباً کلیجی رنگ) کی چادر مبارک ہے جو جھلملا رہی ہے ۔میں نے دیکھا اس محفل مبارکہ میں بیٹھے ہوئے ایک بزرگ نے مسکراکر میری طرف دیکھا اور بلا لیا۔ میں آگے آکر ان کے پاس بیٹھ گیا۔ میں نے دیکھا کہ ایک بزرگ نے آگے بڑھ کر آپﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضورﷺ ! آجکل پاکستان میں محفل نعت کا بڑا عروج ہے۔ آپ نے اس طرف دیکھا اور نظر انداز کرتے ہوئے رخ مبارک پھیر لیا ۔گویا کہ آپ ﷺنے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ نیز آپﷺ نے یہ ارشادفرمایا’’مجھے ایسی نعت خوانی کی ضرورت نہیں ہے جو میری امت کے لئے انتشار کا باعث ہے، مجھے ناپسند ہے۔ ہم ضیاء الدین کی اولاد سے اس بندے (میری طرف اشارہ کر کے فرمایا) کو یہ ذمہ داری سونپتے ہیں پھر مجھے مخاطب کر کے آپﷺ نے ارشاد فرمایا’’ تم علماء سے جا کر کہو انکے دروازے پر دستک دو کہ وہ محافل نعت میں منفی رسومات کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں‘‘ یہ سننے کے بعد جذبات کی فراوانی کے سبب میں گر پڑا اور پھر کچھ دیر بعد سر اٹھا کر حضورﷺ کی طرف دیکھا اور عرض کی کہ یا رسول اللہﷺ ! میری بات کیسے مانی جائے گی؟

آپﷺ نے مجھے تھپکی دی اور فرمایا ’’اٹھو۔ تائید ہوگی، تم محافل نعت کی اصلاح کرو، تائیدہوگی‘‘ اس کے بعد ہم نے حضورﷺکے ارشاد گرامی کی تعمیل میں اصلاح محافل نعت کا بیڑا اٹھا لیا۔ واضح رہے کہ ہم نے یہ جو کچھ کیا ہے اور جو کچھ کر رہے ہیں اس کا اجر کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ملے گا اور ہمیں یہ خوشی ہے کہ آپﷺ نے اپنے خانوادہ ہی کے اس خادم کو یہ حکم ارشاد فرمایا۔ یہ پیر کا دن تھا۔ جب مجھ ناچیز پر یہ کرم ہوا‘‘

ایک شعرہمارے اکثرنعت خواں، کیا جاہل خطباء اور کیا کمرشل سٹیج سیکرٹری ؟ بڑے دھن گرج کے ساتھ پڑھتے ہیں کہ

گر حبیب تو برا نہ مانے تو محبت کی اساس رکھ لوں

جسم زمانے کو بھیج دوں اور سایہ پاس رکھ لوں

لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔ میرے نزدیک حضورﷺ کے لیے اس طرح کے الفاظ اور مفہوم استعمال کرنا حرام ہے۔ ایسے ہی آپﷺ کے لیے ماہی، سوہنا، مکھڑا، ڈھول یا ایسے ہی دیگر عام الفاظ استعمال نہیں کیے جاسکتے۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ اور رسول اللہﷺ کی محبت کو عام دنیاوی محبت پر قیاس ہی نہ کیا جائے جب یہ بیماری ختم ہوگی تو علاج خود بخود ہو جائے گا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسولﷺ سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سنتا جانتا ہے۔۔۔ اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبیﷺ) کی آوازسے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبرتک نہ ہو۔۔۔ (الحجرات1،2ترجمہ، کنزالایمان)

ایک ناقص اور ایسا کلام جو بارگاہ رسالت مآبﷺ کے شایانِ شان نہیں میں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا اور نہ ہی باریک بینی میں۔ مثلاً چند مشہور نعتیں پڑھی جاتی ہیں۔

۱۔ حلیمہ کلی نوں ویکھے کدی سرکارﷺ نوں ویکھے

۲۔ میں کچھ وی نئیں جے تیرے نال میری کوئی نسبت نئیں

۳۔ آو آو بازار مصطفےٰ کو چلیں کھوٹے سکے یہیں پہ چلتے ہیں

وغیرہ ایسی اور بہت ساری ہیں جو بالکل ٹھیک نہیں۔ آپ غورکریں کہ جس رسولﷺ کی آمد سے ساری کائنات کو اعزازو اکرام ملا۔ عزت اور وقار ملا۔ حضرت حلیمہؓ کے گھر کو کلی یا کٹیاکہنا کیسے درست ہے ؟اس کوہمارا جاہل نعت خواں کُلی اور کُٹیا کہے جار ہا ہے جس کا مقام آپﷺ کی آمد کے سبب عظیم ترین ہوگیا اور ایک اور بھی بیماری ہے جس کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں اب غور فرمائیں کہ حلیمہ سعدیہ حضور علیہ السلام کی ماں ہیں اور لوگ انہیں دائی حلیمہ کہتے ہیں، یہ بھی جسارت ہے ۔ یہ مصرعہ کہ دربار مصطفیﷺ میں کھوٹے سکے چلتے ہیں بالکل خلافِ حقیقت ہے۔ حضورﷺ کی بارگاہ میں کھوٹے کی نہیں کھرے کی قدرو قیمت ہے اور وہاں آنے والا کھوٹا رہ ہی نہیں سکتا۔

راقم کے خیال کے مطابق ایسے انداز سے نعت خوانی کرنامحفل نعت کے تقدس کو پامال کرنے کے مترادف ہوتاہے اور محفل میں پاکیزگی اور طہارت کی وہ روح باقی نہیں رہتی جس کے حصول کے لئے غلامان مصطفی ﷺدوردراز کا سفر طے کرکے آئے ہوتے ہیں بعض اچھے بھلے معروف نعت خواں حضرات کو دیکھا گیاہے کہ وہ خود بھی عجیب وغریب انداز سے اچھل رہے ہوتے ہیں اورسامعین کو بھی زبردستی ہاتھ اوپر اٹھانے اورلہرانے کو کہہ رہے ہوتے ہیں حالانکہ محفل نعت کے تقدس کا تقاضایہ ہے کہ خاموشی اور ادب واحترام کیساتھ تشریف فرماہوں ۔

بعض نعت گو حضرات نے بھی حد کردی ہے جس کو دو حرف لکھنے اورپڑھنے آجاتے ہیں وہ قلم اورکاغذ اٹھاتاہے اورسید ھا بارگاہ نبوی میں پہنچ جاتاہے حالانکہ شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ جیسافصیح وبلیغ انسان بھی جب نعت لکھنے بیٹھتاہے تو فصاحت وبلاغت اورحکمت دانش کی فراوانی کے باوجودبھی ایک مقام ایساآتاہے کہ آپ عاجزی کا اظہار کرتے ہیں اور پھرجہاں عاجزی وانکساری کی فراوانی ہو پھر وہاں رحمت عالم ،رہبر انسانیت ﷺ راہنمائی فرماتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں اورفرماتے ہیں سعدیؓ کہو ’’صلو اعلیہ والہٖ‘‘آپ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے پاکیزہ الفاظ آج آفاقی شہرت اختیار کرگئے ہیں حالانکہ نعت گوئی کے میدان میں ادب اورحکمت ودانش کے سانچے میں ڈھلے ہوئے بڑے معروف نعت گوحضرات کا کلام دستیا ب ہے جن میں جوش ملیح آبادی ،آغاشورش کاشمیری ،احمد ندیم قاسمی ،نعیم صدیقی ،ضمیرجعفری ،محسن کا کوروی،حفیظ تائب ،امیر مینائی ،ماہر القادری ،صبامتھراوی ،حفیظ الرحمن احسن ،علامہ اقبال،نظرزیدی،اعلی حضرت امام حمدرضا بریلوی،حسن رضاخان ،شیخ سعدی،بیدم وارثی،حضرت رومی ،حضرت جامی ،امام بوصیری وغیر ہ شامل ہیں مگر ہم نے کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ ان کے کلام کو پڑھاجائے پڑھناتودرکنار ہم توچھونا بھی ’’گناہ ‘‘ سمجھتے ہیں فکری سید مرشد خورشید احمد گیلانی رحمتہ اللہ علیہ نعت کے حوالے سے فرماتے ہیں ۔

بات ہو رہی تھی محفل نعت کے آداب اورتقدس کے حوالے سے !آج جب ان پاکیزہ جلوسوں اور محافل میں ڈھول کے تاشوں اورچمٹوں باجو ں کی آلودگیاں دیکھتے ہیں توکانپ اٹھتے ہیں کہ یہ جسارتیں جناب رسول ﷺ کی کس قدر آزردہ دلی اورمالک دو جہاں کی سخت ناراضی کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔ محافل کا حال بھی جلوسوں سے کسی طرح مختلف نہیں ہے چاہیے تو یہ تھا کہ تمام حاضرین باوضودسر ڈھانپے ،دوزانوںیا چارزانوں مؤدب بیٹھ کر شریک محفل ہوں اور پوری توجہ اور دلجمعی کے ساتھ حضورنبی کریم ﷺکی با گا ہ بیکس پناہ میں پیش کئے گئے گلہائے عقیدت سے اپنے قلوب واذہان کو منورکریں اور خودبھی درودوسلام کی ڈالیاں اپنے آقا مولی ﷺ کے حضور پیش کرتے رہیں لیکن بے تو جہی ،فضول گفتگو یا لمبی تان کر سوجانے تک کو روارکھاجاتاہے ۔

ثناء خوانی رسول ﷺ کوئی معمولی کا م نہیں ہے یہ سنت اللہ اورسنت صحابہ وسلف صالحین ہے ،مقصد محض اللہ اوراس کے محبوب کریم ﷺ کی رضاجوئی ہونا چاہیے عام مشاہدہ یہی ہے کہ یہ کار خیراب کاروباربنتاجارہاہے ثناخواں حضرات خودکو ’’پیشہ ور‘‘کہتے ہوتے ذرانہیں شرماتے جہازکا کرایہ اورفی محفل بھاری معادضہ کی پیشگی ادائیگی کے بغیر دعوت قبول نہیں کی جاتی اگراس قسم کا کوئی انتظام نہ بھی کیا جائے تو کم آمدنی والی محفلوں کو آئندہ برس کیلئے نشان زدہ ٹھہرایاجاتاہے کہ پھروہاں قدم نہ رکھیں گے ۔اعلحضرت امام احمدرضاخان بریلوی رحمتہ اللہ علیہ نے وعظ کہنے اورنعت پڑھنے کے عوض مالی منفعت پہ یو ں فتوی جاری کیاہے ۔

1)اگر وعظ کہنے اور حمد ونعت پڑھنے سے مقصود یہی ہے کہ لوگوں سے کچھ مال حاصل کریں توبیشک یہ اس آیہ کریمہ اولئک الذین اشتروا الحیوۃ الدنیا باالاخرۃ کے تحت میں داخل ہیں اور وہ آمدنی ان کے حق میں خبیث ہے ؒ خصوصاًجبکہ یہ ایسے حاجت مندنہ ہوں جن کو سوال کی اجازت ہے کہ ایک تو بے ضرورت سوال دوسرا حرام ہوگا اوروہ آمدنی خبیث تر وحرام مثل غصب ہے ۔

2)دوسرے یہ کہ وعظ وحمدونعت سے ان کا مقصوداللہ ہے اورمسلمان بطور ؒ خود ان کی خدمت کریں تو یہ جائز ہے اور وہ مال حلال ،

3)تیسرے یہ کہ وعظ سے مقصود تو اللہ ہی ہومگرہے حاجت مند اور عادۃًمعلوم ہے کہ لوگ خدمت کریں گے اس خدمت کی طمع بھی ساتھ لگی ہوئی ہے تو اگرچہ یہ صورت دوم کے مثل محمود نہیں مگر صورت اولیٰ کی طرح مذموم بھی نہیں جیسے درمختارمیں فرمایاالوعظ لجمع المال من ضلالۃ الیھودوالنصاری

’’مال جمع کرنے کیلئے وعظ کہنا یہودونصاری کی گمراہیوں سے ہے‘‘

محافل نعت میں ایک بڑی بدعت یہ درآئی ہے کہ ثناْ خواں حضرات بلکہ بعض اوقات واعظین حضرات پر بھی نوٹ نچھاور کیے جاتے ہیں جیسے اوباش تماش بین طوائفوں کے مجروں میں کیا کرتے ہیں اعلحضرت امام احمد رضاخا ن سمیت تمام بزرگوں نے تو نوٹ اُچھالنے کو اس لئے براجانا ہے کہ لکھے ہوئے ناموں کی بے حرمتی ہوتی ہے لیکن اس قبیح مماثلت کی بدولت بھی اسے تر ک کرکے سلجھے ہوئے طریقہ سے باادب نذرانہ پیش کیاجاناچاہیے جولوگ ایک سے دوسرے ،دوسرے سے تیسرے صاحب تک بدست جاتے اور ایک حلقہ سا بنا کر ثنا خواں تک پہنچتے ہیں وہ مؤدب اور متوجہ سامعین کے ذوق میں رخنہ انداری کے مرتکب ہوتے ہیں ا س لئے اجتناب ضروری ہے ۔

معروف نعت خواں حضرات اور بعض اوقات نقباء محفل کی پذیرائی کیلئے انہی کی قائم کی گئی ’’انجمن ہائے ستائش باہمی ‘‘کے لوگ تاج پوشی کی رسوم اداکرتے ہیں امام الانبیاء سے لے کر امام احمد رضاخان بریلوی رحمتہ اللہ علیہ تک ہمیں تو کوئی ایک مثا ل ایسی نظرنہیں آتی کہ کسی کی تاج پوشی کی گئی ہو،اسلامی تاریخ میں بھی صرف مطلق العنان حکمرانوں نے ہی بیت المال کو ’’بیتِ مال‘‘ سمجھتے ہوئے خود پر حلال قرار دے کر اس طرح کی غیر شرعی رسوم کاارتکا ب کیا ورنہ خلافت راشدہ تو خا لصتادرویشی سے عبارت ہے علم وفضل کے حامل علمائے دین یا سلاسل طریقت کے خلفاء کو دستار فضیلت یا دستار خلافت سے تو نوازاجاتاہے لیکن تاج پوشی کی روایت ایجاد بندہ سے زیادہ کچھ نہیں حالانکہ سوناپہننامرد کیلئے اس ہستی نے حرام قرار دیا ہے جن کے نام پر ’’محفل میلادالنبی ﷺ سجاتے ہیں مگر ہمارے ہاں نعت خواں حضرات بڑے جوش اور دھوم دھڑلے سے’’انجمن ہائے ستائش باہمی‘‘کے پلیٹ فارم سے ایک دوسرے کی تاج پوشی کرتے ہوئے نظرآتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی پس اس کو نکال کر پھینک دیا او رفرمایا :( کیا تم میں سے کوئی چاہتاہے کہ آگ کی انگاری کو اپنے ہاتھ میں ڈالے پس رسول اکرم ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد اس شخص سے کہاگیاکہ اپنی انگوٹھی اٹھالے اور ( بیچ کر ) اس سے فائدہ اٹھا لے اس نے جواب دیا اللہ کی قسم میں اس کو کبھی نہ لوں گا حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو پھینک دیا ہے۔ محافل نعت میں اجتماعات کو عظیم تر بنانے کیلئے حاضرین میں عمرے کے ٹکٹوں کی تقسیم یا شادی کے لئے بچیو ں کو جہیز کے نا م پر انعامی رقوم دینے کیلئے قرعہ اندازی کی جاتی ہے لوگ شناختی کارڈ کی کاپیاں جمع کروانے اور صبح کی اذانوں تک قرعہ اندازی کے انتظار میں شریک محفل رہتے ہیں محافل نعت کا تسلسل صبح کی اذانوں تک جاری رہتاہے اور اکثریہ دیکھاگیاہے کہ سامعین ،واعظین ،ثناخواں سمیت صبح کی نماز کی سعادت سے محروم رہتے ہیں حالانکہ نعت سنناسنت اور مستحب عمل ہے مگر ہم فرائض کے تارک ہورہے ہیں یہ ہماری بدنصیبی ہے اس کے سوامیں کیا کہہ سکتاہوں دعا ہی کی جاسکتی ہے اللہ تعالی ہمیں فرائض کی ادائیگی اور سنت پر عمل کی توفیق فرمائے ۔بلکہ محقق العصر مفتی محمدخان قادری کے بقول ’’ بابافرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی دھرتی سے تعلق رکھنے والے معروف ثناء خواں کو جب دیار غیر میں منعقدہ ایک محفل نعت کے بعدصبح سویرے نمازکے لیے جگانے کی کوشش کی گئی تو باربار جگانے پر اس نے یہ دلخراش جملہ بولا‘‘ یا تو ہم سے نعتیں پڑھوالیاکریں یا پھر نمازیں دودوکام ہم سے نہیں ہوتے ‘‘

یہ توصرف ایک جھلک ہے سینکڑوں ثناء خواں ایسے ہیں جن کو میں ذاتی طور پر جانتاہوں محفل نعت میں جانے سے پہلے تازہ کلین شیوکرواکر سر پر سندھی ٹوپی ویسکوٹ اور کلف لگا سوٹ پہن کر ثناء خوانی کیلئے محفل میں پہنچ جاتے ہیں اور وہ نماز کے تو قریب سے بھی نہیں گزرتے ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ