ہاکی ٹیم اور فیڈریشن سے ہمدردی

ہاکی ٹیم اور فیڈریشن سے ہمدردی
ہاکی ٹیم اور فیڈریشن سے ہمدردی

  

تجربہ اور مشاہدہ یہی بتاتا ہے کہ جب عقل ودانش اور حکمت کوپس پشت ڈال کر ذات اور فردیات کو فوقیت دی جائے تو شعبے کا زوال شروع ہوجاتا ہے۔ ہماری ہاکی کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا ہے لندن اولمپکس میں قومی ہاکی ٹیم کی پرفارمنس توقع سے کچھ بہتر تھی مگر کھیلوں سے رغبت رکھنے والی قوم آسٹریلیا کے خلاف شکست کے بعد شدید مایوسی ہوئی ہے اب ایسے کھلاڑی جن کے نام نامی اورطلسماتی کھیل سے عہد حاضر کے نوجوان ناواقف ہیں ٹیم اور فیڈریشن پر پے درپے رکیک حملے کررہے ہیں۔ اس چشمک میں سابق کھلاڑیوں کا مطالبہ ہے کہ فیڈریشن کے چیئر مین اور سیکرٹری کو برطرف کیا جائے مگر ان کی نکتہ چینی کا معیار بڑا پست ہے۔یہ سابق ستارے ایک عہد میں بہترین کھیل پیش کرتے رہے ہیںلیکن اس کے بعد کھیل کی خدمت اور کھلاڑیوں کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کے حوالے سے ان کی ماہرانہ خدمات پر اگر روشنی ڈالی جائے توتمام کے تمام کوچ، مینجر یا سلیکٹرکی حیثیت سے ناکام رہے ہیں۔ان سابق کھلاڑیوں کے اپنے بچے کھیل کی طرف نہیں آئے اور نہ ہی کوئی درخشندہ ستارہ قومی ہاکی کودیا۔ ہاکی کے قومی کھیل کے نیشنل پول میں ٹیلنٹ یا جوہر کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے ۔عمران خان کی ناعاقبت اندیش سوچ کا بینکوں اوراداروں کی کرکٹ ٹیمیں ختم کرنے کے براہ راست اثر ہاکی اور اس کے کھلاڑیوں پر بھی پڑا ہے جس نے کھیل کی مقبولیت اور فروغ کے سلسلے میںرہی سہی کسر پوری کردی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جس طرح فتوحات کا کریڈٹ ہاکی فیڈریشن کو جاتا ہے اسی طرح ناکامی اور نامرادی بھی اس سے موسوم کی جانی چاہیے۔آسٹریلیا کے خلاف شکست کے عوامل اور وجوہات سے عوام واقف ہیں۔میں نہیں سمجھتا کہ اس سلسلے میں سابق کھلاڑیوں ،نام نہاد سپورٹس کاسٹر اور اینکرز کو ناظرین کی مزید سمع خراشی کرنی چاہیے حالات حاضرہ کی طرح الیکٹرانک میڈیا میں کھیلوں کا شعبہ بھی پارٹی باز اور غیر پیشہ وارانہ اہلیت کے حامل لوگوں کے ہاتھ میں آچکا ہے۔

فیڈریشن ہو یا ٹیم۔ شکست کے بعد ان کی حالت قابل رحم ہوتی ہے ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں،مینجمنٹ پردوران ٹورنامنٹ نہ تو نائٹ کلب، کسینو،ممنوعہ قوت بخش ادویات یا میچ فکسنگ کے الزامات نہیں ہیںاور نہ ہی روانگی سے قبل سلیکشن کے مرحلے میں سقم تھا۔ قومی سطح پر ملک میں کھیلوں کے ادارے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔کلب ہاکی ختم ہوچکی ہے۔ والدین ،اساتذہ اور سابق کھلاڑیوں میں بچوں کو میدان کی طرف لانے کا شوق ناپید ہوچکا ہے۔ کھلاڑیوں اورنام نہاد ماہرین کا سخت رویہ میڈیا پر بے جا توقعات ایک طرف میڈیا کے ناقص معیار کی عکاسی کرتی ہے تو دوسری طرف نوجوان طبقے کو اس کھیل کی طرف آنے سے روکتی ہے۔جسے کھیل کر نہ تو عزت وتوقیراور نہ ہی بہتر روزگار ملتا ہے۔بے باک تنقید سدھار کے پہلو کو سامنے رکھ کر کی جائے تو بہتری لاسکتی ہے ۔ہماری بد قسمتی ہے کہ آج کھےلوں کے شعبے مأں ہمأں کوئی کامأاب نقاد أا تجزأہ کار نظر نہیں آتا۔مود بانہ اختلاف کی جگہ گالم گلوچ نے لے لی ہے ماننا پڑے گا کہ سابق کھلاڑیوں کا کھیل کے گرتے ہوئے معیار پر پریشان ہونا قدرتی ہے۔مگر اولمپکس جیسے بڑے مقابلے سے پہلے ٹیم کو سخت گیر الفاظ اور جملوں سے جس طرح ہدفِ تنقید بنایا گیا یوں محسوس ہوتا ہے کہ سابق کھلاڑی ذاتی عداوتوں کے باعث عوام میں کھیل کو غیر مقبول اورناکام ورسوا کرنا چاہتے ہیں ہاکی فیڈریشن کے موجودہ منصب دار، انتظامیہ اور ٹیم مینجمنٹ کا پس منظر کھیل ،خاندان اور تعلیم کے نقطہ نگاہ سے تسلی بخش ہے ۔ ان میں سے اکثر کالج اور یونےوسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بدگمانی ،ناچاقی اور بغض کے ماحول سے باہر نکلا جائے اور وہ کھلاڑی اور منتظمین جو دادوتحسین کے محتاج ہیں ان کے سرپر کُلہ شہرت اوردستارِعزت رکھنے کی روایت برقرار رکھی جائے۔اپنے آپ کو بڑا اور چھوٹا سمجھنا چھوڑ دیا جائے تو ہاکی فرش سے عرش پر پہنچ سکتی ہے۔

مزید :

کالم -