یوم آزادی: دو قومی نظریے پر ایک نظر(آخری قسط)

یوم آزادی: دو قومی نظریے پر ایک نظر(آخری قسط)
یوم آزادی: دو قومی نظریے پر ایک نظر(آخری قسط)

  

 قائداعظمؒ کی تمام تر کوششوں کے باوجود  کانگریس جب مسلمانوں کے حقوق کو آئین میں تحفظ فراہم کرنے پر راضی نہ ہوئی تو اس مطالبے نے مسلم اکثریتی علاقوں کوخود مختاری دئے جانے کی شکل اختیار کر لی جیسی امریکی ریاستوں کو حاصل ہے (علامہ اقبال کے خطبہ الٰہ آباد میں بھی پٹھانوں اور بلوچوں کے ذریعے ہندوستان کے دفاع کا ذکر کیا گیا ہے) اس فارمولے  میں پرامن بقائے باہمی کا نکتہ یہ تھا کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں جہاں ہندوؤں  کی قابل ِ ذکر تعداد آباد تھی مسلمان انہیں تحفظ اور برابری کے حقوق دیں گے،جبکہ اس کے بدلے میں ہندو اکثریتی علاقے مثلاً یوپی وغیرہ  میں مسلمانوں کو تحفظ اور برابری کے حقوق حاصل ہو جائیں گے۔ قائد اعظم محمد علی جناح ؒنے اس سلسلے میں تجویز کردہ کیبنٹ مشن پلان کی منظوری بھی دے دی تھی، لیکن کانگریس نے عین وقت پر اس سے انکار کر دیا، جس پر کانگریس کے ارادوں کو بھانپتے ہوئے محمد علی جناحؒ نے ڈائریکٹ ایکشن یعنی سڑکوں پر احتجاج کی کال دے دی،جس کے نتیجے میں بالآخر پاکستان وجود میں آیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قائداعظمؒ  پورے کا پورا بنگال، جہاں  1937ء سے مسلم لیگ کی حکومت چلی آ رہی تھی،لیگ کی مرضی کے مطابق پاکستان میں شامل کرنا چاہتے تھے۔خاص طور پر کلکتہ کی بندرگاہ سے تو وہ کسی صورت دست بردار ہونے کے لئے تیار نہیں تھے۔وہ اس بارے میں اس حد تک مصر تھے کہ کلکتہ کی بندرگاہ کو دونوں ملکوں کے لئے قابل ِ استعمال بنانے کی اس تجویز پر بھی راضی نہیں ہوئے،جو انگریزوں نے پیش کی تھی۔ بنگال کو تقسیم کرنے کا مطالبہ مغربی بنگال کے ہندو صنعتکاروں کے دباؤ پرکانگریس نے کیا تھا۔ ان صنعتکاروں کے قاند جے ڈی برلا بقول برطانوی نژاد  امریکی مورخ پیری اینڈرسن کے مہاتما گاندھی  کے فنا نسرتھے اور ان پر گہرا اثرورسوخ رکھتے تھے۔انہوں نے گاندھی پر دباو ڈال کر مقبول نوجوان راہنما سبھاش چندر بوس کو بھی،جو نہرو کو ہرا کر کانگریس کے صدر منتخب ہوگئے تھے  اور بنگال کو متحد رکھنے کے حامی تھے نکلوادیا تھا۔ کلکتہ کی بندرگاہ نہ ملنے اور مغربی بنگال سمیت95 فیصد صنعت ہندوستان میں رہ جانے کے باعث ہی قائد اعظمؒ نے کہا تھا انہیں کرم زدہ یعنی کٹا پھٹاپاکستان دیا گیا ہے۔

قائداعظمؒ پنجاب بھی سکھوں سمیت پورے کا پورا پاکستان میں شامل کرنا چاہتے تھے، جس کی تقسیم کا مطالبہ بھی کانگریس نے ہی کیا، جس کی بنا پربنگال کی طرح یہاں بھی اسمبلی کے ارکان کی رائے شماری ہوئی، جس میں مسلمان ارکان کی اکثریت نے پنجاب کی تقسیم کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو دو نتائج سامنے آتے ہیں۔اول یہ کہ پاکستان اکثریت کے خوف سے وجود میں آیا۔ دوم یہ کہ ہندوستان کی تقسیم کی ذمہ دار مسلم لیگ نہیں،بلکہ کانگریس تھی، جس کی مرضی سے پاکستان نے وہ شکل اختیار کی،جس میں وہ 1947ء میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

کانگریس کی طرف سے پاکستان کے قیام پر آمادگی ظاہر کرنے اورپھر اسے کٹی پھٹی شکل دینے کی دو وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ایک تویہ کہ کانگریس کی قیادت مسلمانوں کے عمل دخل کے بغیر اپنی مرضی سے حکومت چلانا چاہتی تھی اور دوسرے بقول  پروفیسر پیری اینڈرسن کے نہرو اور پٹیل کا یہ خیال تھا کہ وسائل سے مکمل طور پر محروم یہ نیا ملک چھ مہینے کے اندر ان کے پیروں پر آگرے گا۔

دو قومی نظریے کے حوالے سے یہ  بیانیہ  بنگلہ دیش کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا جس کے بننے پر اندراگاندھی نے کہا تھا کہ دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں  دفن ہو گیا۔ایسا  ہوگیا ہوتااگر بنگالی قومیت کی بنیاد پر وجود میں آنے والا ملک مغربی بنگال کے ساتھ مل کر ہندوستان میں ضم ہوجاتا  یا مغربی بنگال نے جو بنگالی ثقافت کا سرچشمہ مانا جاتا ہے مشرقی بنگال کے ساتھ مل کر بنگال کے طور پر آزادی کا اعلان کیا ہوتا، لیکن یہ دو قومی نظریہ ہی تھا،جس کی وجہ سے بنگلہ دیش کو اپنی نئی شناخت بنانی پڑی اور  بنگالی مسلمانوں کوخود کو بنگلہ دیشی کے نام سے متعارف کروانا پڑا۔ یہ اور بات ہے کہ پاکستان کی طرح بنگلہ دیش بھی اکثریت کے خوف سے ہی وجود میں آیا،لیکن اس دفعہ یہ خوف مغربی پاکستان کی 44 فیصد آبادی کے مراعات یافتہ طبقے کو لاحق ہوا، جس نے مسلمان بنگالی بھائیوں کی اکثریت کا راستہ روکنے کی نیت سے جمہوریت کو دبانے کی پوری کوشش کی اور اس مقصد کے لئے مارشل لا سمیت  ہر ممکن ہتھکنڈہ استعمال کیا، بلکہ دوسرے خونریز مارشل لا کے دوران تو نوبت یہاں تک پہنچی کہ مشرقی پاکستان کے عوام نے ہندوستان سے بھی مدد حاصل کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی اور ہندوستان نے بھی جو ایسے موقع کی تاک میں تھا ہماری خامیوں اور کمزوریوں سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ ہندوستان کی مدد سے بنگلہ دیش تو بن گیا لیکن ہندوستان کی قیاد ت کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ یہ بنگالی مسلمان ہی تھے جو انگریزوں کے ظلم وستم کے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ شکار ہوئے تھے اور اسی لئے وہ تحریک پاکستان کے ہراول دستے میں شامل تھے۔ انہیں احساس تھا کہ وہ بہت پیچھے رہ گئے ہیں اس لئے وہ بڑی محبت اور تابعداری کے ساتھ مغربی پاکستان کے ساتھ چلنے کے لئے تیار تھے تاکہ رفتہ رفتہ وہ اپنے پیروں پرکھڑے ہو سکیں،لیکن جمہوریت سے خوفزدہ مغربی پاکستان کے مراعات یافتہ طبقے نے انہیں دبانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، جس سے تنگ اکر انہوں نے بالاخر ہندوستان کا سہارا ڈھونڈا۔مغربی پاکستان کے ساتھ تو وہ پوری محبت سے چل رہے تھے، لیکن ہندوستان کے ساتھ انہوں نے بہ امر مجبوری سر جھکا کر چلنے کا راستہ اختیار کیا اوراب جبکہ پچاس سال بعد وہ اس حدتک اپنے پیروں پر کھڑے ہوچکے ہیں کہ بعض معاملات میں ہندوستان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے وہ ہندوستان سے اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرنے میں حق بجانب ہیں۔وہ ایک دفعہ پھر پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں جس کے مراعات یافتہ طبقے کو اب ان سے کوئی خطرہ نہیں، چنانچہ امید کی جاسکتی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیاں دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے لئے اگر ماضی کو بھول جایا جائے تو دوقومی نظریے کے تقاضے کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔(ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -