سامان 40برس کا

سامان 40برس کا
سامان 40برس کا

  

1999ءکی آخری سہ ماہی میں وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے رفقا توقع ظاہر کرتے تھے کہ وہی ملک کو 21 ویں صدی میں لے کر جائیں گے۔ احسن اقبال زیادہ پُرجوش تھے اور کسی کو اس میں شبہ بھی نہیں تھا، لیکن وہ جو انگریزی کا محاورہ ہے کہ انسان منصوبے بناتا ہے اور خدا اپنا حکم صادر کردیتا ہے....سکول میں ہمیں اس انگریزی محاورے کا جو بامحاورہ ترجمہ رٹایا گیا تھا ،وہ تھا.... ”بندہ جوڑے پلی، پلی، رام لنڈھائے کپُا“.... اب کسی کو نہ پلی کا پتا ہے اور نہ اس کا کہ کپا کیا ہوتا ہے؟ البتہ ”پھول کر کپا ہوجانا“ میں اس کا سراغ ملتا ہے۔ میاں صاحب اور ان کے ساتھی بہرحال پلی، پلی نہیں جوڑ رہے تھے ،بلکہ پل، پل آگے بڑھ رہے تھے، اور پھر 12 اکتوبر 1999ءکو جنرل پرویز مشرف آگے بڑھ آئے۔ میاں نواز شریف نے نئی صدی کا استقبال جدہ میں کیا۔ دسمبر 2000ءمیں وہ جدہ پہنچے اور ہم وہاں سے نکلے۔ یہ ایک میان میں دو تلواروں والا معاملہ نہیں تھا۔ بے شک ان کی تلوار کند ہوگئی تھی، مگر ہم تو کبھی سبزی کاٹنے والی چھری بھی نہیں رہے۔

جنرل پرویز مشرف آسمان سے نازل ہوئے تھے اور تادیر اس مخمصہ میں رہے کہ وہ کیوں آئے ہیں۔ موصوف نے جب تک اپنے قدم مضبوطی سے نہیں جمائے تھے تو کہا کرتے تھے کہ مجھے تو کسی نے پانی میں دھکا دیا ہے، ورنہ میں تو سری لنکا میں بیٹھا نواز شریف حکومت کی بہتری کے لئے تجاویز تیار کررہا تھا۔ اس شخص کا تو آخر تک سراغ نہیں ملا، جس نے انہیں اقتدار کے جوہڑ میں دھکیلا تھا، تاہم ایسا لگتا ہے کہ جب وہ سری لنکا میں بیٹھے حکومت کے لئے تجاویز تیار کررہے تھے تو اسی وقت ان کے دماغ میں یہ وہم آیا ہوگا کہ کیوں نہ مَیں خود ان تجاویز پر عمل کروں، چنانچہ انہوں نے اپنے سات نکات پیش کردیئے ،جن میں سے ایک پر بھی ان کے 9 سالہ دور پُر فتور میں عمل نہیں ہوا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ان کے منصوبوں کے ثمرات آئندہ 5سال میں عوام تک پہنچیں گے۔ یہ پانچ سال دبے پاﺅں گزر گئے، جنرل صاحب کو بھی پتا نہیں چلا جو ثمر کی گٹھلیوں کے دام بھی کھرے کرگئے اور پھر ایک دن دبے پاﺅں خود بھی نکل لئے۔ اب جلے پاﺅں کی بلی کی طرح بولائے بولائے پھر رہے ہیں۔ روز دھمکی دیتے ہیں کہ میں پھر آرہا ہوں۔ گلوں میں رنگ بھرنے، باد نوبہار چلانے کے لئے۔ اب تو ان کے ایک بڑ بولے ”تاسیسی رفیق“ بھی ساتھ چھوڑ کر پیپلزپارٹی میں چلے گئے ہیں، جو کہتے تھے کہ ”چلے بھی آﺅ کہ گلشن کا کاروبار چلے“۔ اب وہ چودھری صاحب کسی اور کی پگ باندھے خود اپنا کاروبار چلا رہے ہیں، ٹی وی پروگراموں میں مجال ہے کسی اور کو بولنے دیں، مہرین انور راجا کو بھی پیچھے چھور دیا ہے۔

بقول علامہ اقبال ”ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں“ حکومت میں آنے والا ہر شخص اس غلط فہمی کا شکار ہوتا ہے کہ.... آخری سانس تک ایوان اقتدار میں رہے گا، بلکہ اسے آخری سانس کا بھی گمان نہیں ہوتا۔ کئی مسلم ممالک ایسے ہیں، جہاں تیس تیس، چالیس چالیس سال تک ایک ہی شخص حکمرانی کرگیا، اور وہ بھی جمہوریت کے نام پر، لیکن ایسے کئی لوگوں کا انجام بہت برا ہوا۔ عوام کو گٹر کے چوہے کہنے والا معمر قذافی گٹر ہی میں سے پکڑا گیا۔

پاکستان میں ابھی ایسی نوبت نہیں آئی گوکہ کتنے ہی لوگوں کو ارمان ہوں گے ۔یہاں فوج کے بل بوتے پر دو، دو مدتیں نکال لینے والے فوج ہی کی پشت پناہی سے اپنے اصل انجام سے بچے رہے۔ آئین توڑنے والوں کی تدفین بھی قومی پرچم میں لپیٹ کر کی گئی اور لاش کو توپ پر رکھ کر لے جایا گیا ،کیونکہ وہ اپنی زندگی میں بڑی توپ چیز ہوا کرتے تھے۔ جنرل پرویز مشرف تو صرف گارڈ آف آنر لے کر نکل گئے، یہ کہہ کر کہ ان کے بغیر ”پاکستان کا خدا ہی حافظ“ ہے۔ اب بھی ان کو یہی گمان ہے کہ وہ ہی آکر حالات ٹھیک کرسکتے ہیں، مگر کمانڈو جنرل کی ہمت نہیں پڑ رہی۔ ان سے امیدیں وابستہ کرلینے والے بھی آہستہ آہستہ کھسک رہے ہیں، چودھری برادران ہی کیا، شیخ رشید بھی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ یہ وہی پرویز مشرف ہیں جنہوں نے 12 مئی 2007ءکو کراچی میں قتل عام کو عوام کی طاقت قرار دیا تھا اور 13 مئی کو ایک جلسہ میں کہا تھا کہ ”کوئی دیکھ رہا ہو تو دیکھے، عوام کس کے ساتھ ہیں“۔ یہی کچھ کرنل قذافی اور حسنی مبارک کہتے رہے اور اب بشار الاسد کہہ رہے ہیں۔ جناب آصف علی زرداری کو بھی یہی گمان ہے کہ عوام ان کے ساتھ ہیں۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی کو جب نئی مثال قائم کرتے ہوئے 2013ءتک تین سال کی توسیع دی گئی تھی تو ملتان کے مرشد زادے سید یوسف رضا گیلانی نے اطمینان کا سانس لے کر کہا تھا کہ ہم سب 2013ءتک محفوظ ہوگئے۔ سید یوسف رضا گیلانی صاحب اس سے پہلے ہی غیر محفوظ ہوگئے۔ چیف جسٹس کی مدت ملازمت مارچ 2013ءتک ہے اور خدا کرے کہ اگلے آٹھ، نو مہینے خیریت سے گزر جائیں۔ پیپلز پارٹی کے نذر محمد گوندل شب خون کے خطرے کا اظہار کررہے ہیں، مگر عدلیہ سے محاذ آرائی جاری رہے گی۔ بقول ایک وفاقی وزیر کے ہمارے پاس کوئی اور چارہ بھی تو نہیں۔

کھیل کے اصل کھلاڑی، بلکہ بیک وقت کپتان اور امپائر جناب آصف علی زرداری مصباح الحق نہیں۔ وہ تو ایسی گیند پر بھی چھکا مارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو ابھی بالر کے ہاتھ سے نکلی بھی نہ ہو۔ دوست، دشمن سب میں یکساں مقبول ہیں۔ کبھی کبھی کراچی آکر بیٹھ جاتے ہیں۔ گزشتہ منگل کو انہوں نے ٹھٹھہ کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہوں نے 40 سال آگے کا سوچ کر مسلم لیگ(ق)اور متحدہ سے اتحاد کیا ہے۔ پیپلزپارٹی دور کی سوچ رکھتی ہے۔ انہوں نے پیشگوئی کی کہ 30 سال بعد مرد، خواتین اور بچوں تک کو کمانا ہوگا۔ جناب، تیس سال کیا، آپ کے دم قدم سے یہ وقت سر پر آگیا ہے۔ پورا گھر مل کر کمائے تب بھی پورا نہیں پڑتا۔

جنرل پرویز مشرف پر جب جھنڈا چیچی پل پر ناکام حملہ ہوا تھا تو انور مقصود نے بڑے مشہور مصرع میں ذراسی ترمیم کردی تھی.... ” سامان سو برس کاہے، پُل کی خبر نہیں“۔ جنرل پرویز دنیا کے پل سے تو سلامت گزر گئے، لیکن ”پل آﺅٹ“ (Pull out) ہونے سے خود کو نہ بچا سکے۔ جناب آصف علی زرداری40سال آگے کا سوچ رہے ہیں اور اس یقین کے ساتھ کہ مسلم لیگ (ق) اور متحدہ بھی آئندہ 40 سال تک ان کے ساتھ رہیں گی۔ مسلمانوں پر الزام ہے کہ وہ مستقبل کی منصوبہ بندی نہیں کرتے اور نہ دور کی سوچتے ہیں۔ جناب آصف زرداری نے یہ داغ مٹا دیا۔ اب کوئی حسنی مبارک کی مثال نہ دے۔ وہ بھی چالیس سال تک سوچتے رہے اور اپنے بعد اپنے بچوں کو بھی ملازمت پر لگانا چاہ رہے تھے۔ آصف علی زرداری دوسروں کے بچوں سے کام لینا چاہ رہے ہیں۔

گھر چلانے کے لئے جناب زرداری بھی تو کئی کئی ملازمتیں کررہے ہیں اور کاروبار الگ، تاہم ان کے بچے ابھی اپنی مرحوم والدہ کے اثاثوں پر گزارہ کررہے ہیں، جب کہ متعدد اہم شخصیات کے بچے خود کفیل ہوچکے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کے بچوں ہی کو دیکھ لیجیے۔ آصف علی زرداری صاحب کی مجبوری یہ ہے کہ انہیں تنہا کمانا پڑ رہا ہے، تاہم ان کی کمائی آئندہ چالیس سال تک تو بچوں کے کام آتی رہے گی۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ انہوں نے بچوں سے کمائی کروانے کی جو بات کی ہے ،کہیں وہ چائلڈ لیبر کے زمرے میں تو نہیں آئے گی۔ یہ کام 30 سال بعد ہوناہے تو بچوں سے محنت مشقت کرانے والے آج کیوں پکڑے جارہے ہیں، یہ بھی تو مستقبل کی تیاری ہے۔

جناب آصف علی زرداری نے ٹھٹھہ کے صحافیوں کو ذوالفقار آباد کی اہمیت سمجھاتے ہوئے بتایا کہ اس کے لئے سمندر سے زمین چھینی جائے گی جو ٹھٹھہ کی 10 لاکھ ایکڑ زمین نگل چکا ہے۔ اب شاید سمندر ہی بچا ہے ،جس کی زمین پر قبضہ کیا جاسکے ،ورنہ تو خشکی پر ایسے کتنے ہی بڑے بڑے ”سمندر“ ہیں جو کئی لاکھ ایکڑ زمین نگل چکے ہیں۔ ایک بڑا سمندر تو اسلام آباد ہی میں ہے۔ آصف علی زرداری صاحب تو زمین خریدتے ہیں، قبضہ نہیں کرتے۔ کیوں کریں ،جبکہ پورا ملک ہی ان کے قبضہ میں ہے۔ کہتے ہیں پیپلزپارٹی کو مینڈیٹ نہیں ملک چاہیے۔

کالم نگار و روزنامہ ”جسارت“ کراچی کے مدیر اعلیٰ ہیں۔

مزید :

کالم -