اک ذرا سی بات !!!

اک ذرا سی بات !!!
اک ذرا سی بات !!!

  

ہم اکثرو بیشتر اپنی روزمرّہ بول چال اور تحریر میں اردو زبان کے ذخیرۂ الفاظ کو نظرانداز کرنے کےعادی ہوتے جارہے ہیں ۔ اس میں سب سے زیادہ بگاڑ ان تعلیمی اداروں نے پیدا کیا ہے جو کہ انگریزی زبان کو ذریعہ تعلیم کے طورپر اپنائےہوئےہیں ۔ ہماری نئی نسل جو انگریزی زبان میں پڑھی لکھی ہے , وہ رومن رسم الخط , ذخیرہ الفاظ اور لب و لہجے کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ انہیں چند الفاظ فارسی رسم الخط میں لکھنا مصیبت نظر آتا ہے ۔ وہ اردو الفاظ کو نظرانداز کرکے اپنی بول چال میں غیرضروری حد تک انگریزی زبان کی ملاوٹ پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتے۔ اس میں دوسرے ذمہ دار ہمارے ذرائع ابلاغ کے ادارے ہیں خواہ وہ اخبارات ہوں یا ٹی وی , انگریزی زدہ نظرآتے ہیں ۔ اس کی کئی مثالیں موجود ہیں کہ جیسے کبھی پی ٹی وی کے دور کا خبرنامہ یا ریڈیو پاکستان کی خبروں کا آغاز " سب سے پہلے خاص خاص خبروں کا خلاصہ " بتاکر کیا جاتاتھا مگر اب " ہیڈلائنز " بتائی جاتی ہیں ۔ ہمارے ٹی وی اشتہارات میں حیران کن حد تک فارسی رسم الخط کی جگہ رومن رسم الخط کا استعمال بڑھتا جارہا ہے اور پھر ایسے اشتہارات بھی عام بننے لگے ہیں کہ جن میں زیادہ تر انگریزی بولی جاتی ہے۔ ہمارا ٹی وی ڈراموں میں بھی انگریزی الفاظ بکثرت بولے جانے لگے ہیں ۔ حتیٰ کہ اردو اخبارات کے کالم بھی اردو کی بجائے انگریزی الفاظ کو فارسی رسم الخط کے ساتھ لکھنے کا رواج غیرارادی طورپر فروغ دے رہے ہیں ۔ یہ ہی حال ہمارے ناول اور افسانے کا بھی ہے۔ یہ ہم کس قسم کی نیلی پیلی اردو کے عادی ہوتے جارہے ہیں ۔ اردو زبان کو انگریزی میں خطرناک حدتک خلط ملط کرکے اردو زبان سے نئی نسل کو اجنبی بنایا جارہا ہے۔ خدارا ہوش کے ناخن لیجیئے ۔ اردو زبان ہماری قومی زبان کی حثیت رکھتی ہے۔ اردو زبان کو انگریزی زبان پر ترجیح دینے کی عادت ڈالیے۔ بات , بات پر انگریزی میں انگریزی کا لقمہ دینے سے پرہیز کیجیئے ۔ تاکہ اگلی نسلوں تک اردو زبان کا ادبی اور ثقافتی ورثہ صحیح سالم منتقل ہوسکے ۔ اردو زبان و ادب ہماری شناخت اور ہمارے آباواجداد کی میراث ہے۔ 

یادرکھیئے !!! انگریزی بھلے ہی بین الاقوامی زبان ہے مگر وہ ہماری پہچان نہیں ہے ۔ وہ مغربی زبان تھی اور ہمیشہ مغربی زبان ہی کہلائے گی ۔ 

یہ ہی وجہ ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح نے " اردو " زبان کو قومی زبان کا درجہ دیاتھا تاکہ یہ ہماری پہچان بنے ۔ 

جب 1973 کا آئین منظور ہوا تو اردو زبان کو جلد از جلد دفتری زبان بنانے کا وعدہ بھی کیا گیاتھا۔ ہمارے آئین میں اردو زبان کو سرکاری زبان بنانے کےلیے ایک معینہ مدت مقررکی گئی تھی , مگر وہ وقت بھی گزر گیا اور یہ معاملہ گردشِ ایام میں دب کر رہ گیا۔ ہماری اعلیٰ عدلیہ اور پارلیمان سے بھی درخواست ہے کہ اردو زبان کو پاکستان کی دفتری اور ذریعہ تعلیم بنایا جائے ۔ زندہ قومیں اپنی زبان و ادب کو عزت بخشتی ہیں ۔ ہمارے سامنے کئی ایسے ممالک کی مثال موجود ہے جو کہ اپنی زبان کو اپنا کر ترقی یافتہ قرارپاگئے مگر ہم انگریزی زبان اپنا کر بھی ان سے بہت پیچھے اور ایک ترقی پزیر قوم ہیں ۔ چین , جاپان , روس , جرمنی , فرانس , اٹلی , ایران اور ترکی کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں ۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ترقی کا راز زبان میں نہیں جہدِ مسلسل میں پوشیدہ ہے۔ انگریزی زبان کو سیکھنے اور بولنے کو قابلِ فخر سمجھنے کی بجائے ملک و قوم کی خدمت کو اپنا فخر سمجھیے , تو ہم انگریزی کے بغیر بھی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل ہوجائیں گے۔ 

.

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -