پاکستانی میڈیا اپنے ارتقائی مناظر میں

پاکستانی میڈیا اپنے ارتقائی مناظر میں
پاکستانی میڈیا اپنے ارتقائی مناظر میں
کیپشن:   babar khan nasir سورس:   

  

دنیا بھر میں میڈیا کے کردار سے متعلق اتنی بحث کسی ملک میں نہیں ہوتی، جتنی ہمارے ہاں ہو رہی ہے۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ آج کے دور میں کوئی بھی ملک میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ ریاست کا وہ اہم ستون ہے، جس کی ترقی کے بغیر کوئی بھی قوم اپنے آپ کو دنیا کی برادری میں روشناس نہیں کرا سکتی۔اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی ترقی نے میڈیا کی فعالیت کو اور بھی موثر بنا دیا ہے ۔ پاکستان میں میڈیا کی ترقی کی اپنی ایک کہانی اور تاریخ ہے۔اگر اس تمام کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوگی کہ ریاست کے اس اہم ستون نے موجودہ آزادی کی جو 1990ءکی دہائی تک ایک خواب تھی ، ایک طویل جدوجہد کے بعد حاصل کی۔پاکستان کے قیام کے بعد میڈیا کا کردار مختلف تھا اور اسے موجودہ خوش کن صورت حال تک پہنچنے کے لئے جو پاپڑ بیلنا پڑے ،اس کا بھی جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔ریاستی ترقی کا تصور ابلاغ عامہ کی معاونت کے بغیر ایک خواب سے زیادہ نہیں ہے۔اس لئے اگر یہ شعبہ خود صحت مند ہوگا تو وہ صحت مند معاشرے کے قیام میں ممدو معاون ثابت ہو سکے گا۔قومی خوش حالی، ملکی استحکام، عوامی شعور اور اجتماعی دانش کو اجاگر کرنے سے ہی جمہوریت مضبوط ہو سکتی ہے، لیکن یہ صرف میڈیا کے مثبت کردار سے ہی ممکن ہے۔ہمیں دیکھنا ہے کہ کیا پاکستان میں ہمارے ذرائع ابلاغ عامہ نے یہ کردار کماحقہ ءادا کردیا ہے اور اگر نہیں کیا تو اس کی کیا وجوہات ہیں۔

اس کردار کو پرکھنے سے پیشتر ہمارے لئے ابلاغ کے اس شعبہ کی اپنی جدوجہد کا تجزیہ کیا جانا ضروری ہے جو کہ اس کے ارتقائی عمل کو سمجھنے کے لئے بہت مفید ہے۔ پاکستان کی آزادی کے بعد ملک میں سیاسی افراتفری کا دور شروع ہوا جو 1956ءتک محیط رہا۔یہ افراتفری زیادہ تر اس وجہ سے بھی تھی کہ ملک میں میڈیا نابالغ تھا اور سہارے کے بغیر اس کا چلنا بڑامحال تھا۔پرنٹ میڈیا چند ایک اخبارات اور جرائد پر مشتمل تھا اور حکومت وقت ہی اس کے لئے پالیسی کا تعین کرتی تھی۔مارشل لاءکے بعد قائم ہونے والے نیشنل پریس ٹرسٹ کے سایہ تلے پروان چڑھنے والا ملکی میڈیا اپنی آزادی کی جدوجہد سے پوری طرح نابلد تھا۔ میڈیا کی اپنی کوئی پالیسی نہ تھی، بلکہ اسی ٹرست کے دیئے ہوئے رہنما اصولوں سے عبارت تھی۔اسی وجہ سے میڈیا کی کمزوری ان دنوںمحسوس ہوتی رہی اور فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور حکومت میں کئی اخبارات پر پابندی بھی عائد ہوئی۔چونکہ ہمارا عدالتی نظام بھی بہت زیادہ آزاد نہ تھا، اس لئے حکومت کا پلہ بھاری دکھائی دیا۔اگر عدالتوں کے آگے بھی اسی طرح کے کانٹے نہ بچھائے جاتے تو میڈیا اس قسم کے مصائب سے آزاد ہوتا۔ میڈیا کی آزادی کبھی کبھار تار تار ہوتی رہی۔1960ءکی دہائی میں الیکٹرانک میڈیا ملک میں متعارف ہوا، لیکن وہ پی ٹی وی کی صورت میں حکومت کے دیئے ہوئے رہنما اصولوں کی پاسداری تک محدود رہا۔ ملک میں ان دنوں اس کے علاوہ کوئی متبادل ذریعہ ءابلاغ نہ ہوتا تھا، اس لئے اسی پر اکتفا کرنا پڑتا تھا۔ایک نیوز ایجنسی 1960ءمیں تشکیل دی گئی جو کہ اے پی پی کے نام سے حکومت کی پالیسی کی ترجمان تھی۔بعدازاں پی پی آئی نجی خبررساں کمپنی کے طور پر تشکیل دی گئی، لیکن اس ایجنسی پر بھی کئی مرتبہ بالواسطہ حکومت کا کنٹرول رہا۔

نوائے وقت اور جنگ گروپ دو بڑے اشاعتی ادارے تھے جو کہ ابلاغ عامہ کے بڑے ترجمان کے طور پر میدان میں تھے۔ایوب خان کے بعد کے دور میں پرنٹ میڈیا نے اپنی آزادی کے لئے پھڑ پھڑانے کی کوشش شروع کردی، جس کے نتیجے میں تھوڑی بہت آزادی اسے حاصل ہو گئی۔ ضیاءالحق مرحوم کے دور میں اس تھوڑی سی آزادی کو بھی سلب کرلیا گیا اور مارشل لاءکے پہلے تین چار سال پرنٹ میڈیا کے لئے ابتلاءکا دور ثابت ہوا، کیونکہ سنسرشپ کی پابندیوں نے ابلاغ کے شعبہ کی آزادی کو شل کرکے رکھ دیا۔مجھے یاد ہے کہ اس دور میں بھی پرنٹ میڈیا نے اپنی آزادی کی جدوجہد ترک نہ کی اور اسے جاری رکھا اور جرات اور حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنسر شدہ حصوں کو بالکل بلینک صورت میں چھاپ کر اپنی آزادی کے علم کو بلند رکھنے کی کوشش کی۔پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس 1963ءجو کہ ایوب خان کے دور میں نافذ العمل ہوا تھا، اس نے میڈیا کی آزادی کے آگے بند باندھنے کی کوشش کی جو شعوری تھی۔میڈیا نے اپنی مسلسل جدوجہد کے ذریعے مہلک ترین پراپیگنڈے کی پروا نہ کی۔اگرچہ اس قانون کے ذریعے میڈیا کے شعبہ میں حکومت نے اپنا اثرورسوخ قائم رکھنے کی کوشش جاری رکھی، لیکن میڈیا کے بڑے گروپوں نے اس کے خلاف جدوجہد کو ترک نہ کیا، جس کے نتیجے میں یہ قانون واپس لیا گیا۔اس قانون کے خاتمے کے لئے صحافت کے بڑوں نے بہت قربانیاں دیں۔

جنرل پرویز مشرف کے کریڈٹ میں یہ بات جاتی ہے کہ میڈیا کی آزادی کا موجودہ دور پرویز مشرف دور کا ہی مرہونِ منت ہے۔اس آزادی کے حصول کی کوشش گزشتہ چار دہائیوں پر مشتمل تھی۔اس کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے اس آمرانہ حکومت نے میڈیا کے لئے جو کچھ کیا وہ کئی سابقہ جمہوری حکومتیں بھی نہ کر سکیں۔ پرویز مشرف حکومت نے صحافت کے شعبہ میں آزادی کو نہ صرف متعارف کرایا ، بلکہ اس کوبرقرار رکھا گیا اور اس میں بہت ترقی کی گئی جو کہ اس حکومت کا اےسا کارنامہ ہے ،جو اس کا چمکتا ہوا باب ہے۔کئی نجی ٹی وی چینلوں کو لائسنس دیئے گئے۔اسی طرح ریڈیو کے کئی چینل معرض وجود میں آئے۔ صحافتی اقدار کو بڑھاوا دینے اور اس کی حفاظت کے لئے اور الیکٹرانک میڈیا کی ترقی کو مثبت سمت دینے کے لئے پیمرا کا قیام بھی اسی دور میں عمل میں لایا گیا، اسی دور کے مرہون منت وہ آزادی میڈیا نے حاصل کی،جس کا تصور خود اس شعبے کے لئے حیران کن ہے۔یہ ایک علیحدہ بحث ہے کہ اس آزادی کا استعمال کیسے ہوا۔ درجنوں الیکٹرانک چینلز کو جو آزادی دی گئی ،کیا اسے معنوی انداز میں ایسے ہی استعمال کیا گیا، جس طرح ایسا کیا جانا ضروری تھا اور کیا اس آزادی ءصحافت کا استعمال مثبت سمت میں کیا گیا اور کیا آزادی کا یہ انداز ہمارے نومولود میڈیا کے الیکٹرانک شعبہ کے حق کے لئے مثبت ثابت ہوا یا کہ اس کے مضمرات اب نظر آنے شروع ہو گئے ہیں۔

جس کھلے انداز سے اس آزادی کا استعمال ہوا۔ پرویز مشرف حکومت نے اسے خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور تنقید کے مقابلے میں کسی مہم جوئی سے احتراز کیا۔وردی میں ملبوس صدر مملکت پر براہ راست تنقید کے تیر برسائے گئے اور سیاسی اور دیگر اکابرین کے کارٹونوں کے ذریعہ میڈیا نے اپنے وجود کا احساس دلایا،جس قدر تنقید فوجی حکومت نے برداشت کی ،عام حالات میں کوئی سیاسی حکومت اس سے قبل اس کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ ہوتی۔اب عوام کو خبر فراہم کرنے کے لئے مختلف ذرائع وجود میں آ چکے ہیں۔پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی اسی روایت کو آگے بڑھایا اور شعبہ ءابلاغ عامہ کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی، بلکہ اسے آگے بڑھایا اور حقائق کو پیش کرنے پر کسی قسم کی قدغن نہ لگائی گئی۔میڈیا نے بھی کئی دہائیوں کی جدوجہد سے حاصل شدہ آزادی کو خوب استعمال کیا ہے، اگرچہ پرنٹ میڈیا کی اہمیت اب الیکٹرانک شعبہ کی وجہ سے کم ہوتی نظر آ رہی ہے، لیکن پھر بھی میڈیا کی آزادی کا استعمال کرتے ہوئے اس شعبہ نے اخلاقی حدود کو کس قدر مد نظر رکھا ہے ، اس پر اگلی نشست میں تبصرہ کرنا ممکن ہوگا۔

 یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ میڈیا کو کھیل کے لئے جو میدان فراہم کیا گیا اس میں اس نے کتنا فاﺅل کھیلا اور کس قدر کھیل کے فروغ کی کوشش کی۔آزادی کے کھیل میں کتنا قومی ادارتی نقصان ہوا، کیونکہ اس وقت میڈیا اس قدر آزاد، فعال، توانا اور بے باک ہے کہ اپنی آزادی کا استعمال کرتے ہوئے ریاست کے دیگر اداروں کے دائرہ کار میں کس قدر مخل ہوا۔ہم نے دیکھا کہ اس کی فعالیت کا نتیجہ بعض اوقات حکومت کے لئے کڑی آزمائش پر منتج ہوا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پرویز مشرف دور کے بعد زرداری حکومت نے بھی اس کی حاصل شدہ آزادی کے آگے بند باندھنے کی کوئی شعوری اور متعین کوشش نہیںکی، بلکہ اپنے خلاف مہلک ترین پراپیگنڈے کو بھی حوصلہ سے برداشت کیا۔اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے، اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ میڈیا جو کہ آزادی کی نعمت سے مالامال ہو کر اس نوارد آزادی کے استعمال وہ گل کھلا چکا ہے کہ وہ اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں آتا دکھائی دے رہا ہے۔

 اس شعبہ کی جس قدر بھی بے توقیری ہو رہی ہے، اس کا ذمہ دار وہ خود ہے۔آزادی صحافت کے علمبرداروں اور رہبروں نے اس کے حصول کے بعد اسے استعمال کرنے میں اپنی کلاس کی رہنمائی نہیںکی، بلکہ افسوس تو یہ ہے اس نعمت کی خواہش ،بلکہ مطالبہ کرنے والے اکابرین بھی اس کی کارکردگی سے مطمئن ہونے کی بجائے مایوس نظر آ رہے ہیں۔اب یہ آزادی خود اس کے اپنے لئے بلکہ جمہوری اداروں کے لئے خطرہ کی گھنٹی لگ رہی ہے۔نوازشریف کی نئی جمہوری حکومت نے اس طاقت کو کیا سمت دی یا اس نے میڈیا کی باہمی مخاصمت میں کیا رول ادا کیا ہے، اس پر بھی بحث جاری ہے۔ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ اگر آزادی کا استعمال کسی پیمانے کے بغیر جاری رہے تو وہ طوقِ جان بھی بن سکتا ہے۔اس شعبہ کی کھلی چھٹی کا استعمال کن قیود و ضوابط میں ہونا ضروری ہے، اس کا جائزہ لئے بغیرہماری یہ کاوش بیکار ہوگی۔ پاکستان میں میڈیا کی جو موجودہ صورت حال ہے، اس کا احوال جانے بغیر میڈیا کے ارتقائی منازل کے طے کئے جانے کی کہانی کا ادراک کرنا مشکل ہے۔ آئندہ اس بارے میں تفصیل سے گزارشات پیش کی جائیں گی۔

مزید :

کالم -