سفیر ایسے ہوتے ہیں

سفیر ایسے ہوتے ہیں
سفیر ایسے ہوتے ہیں

  

اس بات کا بہت چرچا ہوتا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اربوں ڈالرز پاکستان بھجوائے اور حکومتوں کو براہ راست اس زرمبادلہ کا فائدہ پہنچا اور پہنچتا رہے گا ، لیکن دیکھا جائے تو ان پاکستانیوں کو اپنے ملک کے ساتھ ساتھ سفارت خانہ کی بدسلوکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔یہ قوم اور ملک کے خدمت گار ہیں جو ملک کو زرمبادلہ بھیج کر معیشت کا بوجھ کم کرتے ہیں۔

جب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل کیلئے ان مماملک میں قائم پاکستانی سفارت خانوں اور ہائی کمیشنز کی کارکردگی کا ذکر آتا ہے تو وہاں زیادہ تر سفارش کی بنیاد پر تعینات سفیر ہائی کمیشنرز کے علاوہ ماتحت عملہ کسی کو خاطر میں نہیں ہوتا۔ کینیڈا کے دارلحکومت اوٹاوہ میں پاکستان ہائی کمیشن موجود ہے۔ کچھ عرصہ پہلے یہاں تعینات عملہ سے واسطہ پڑا اور ٹیلی فون پر خاتون آپریٹر سے نادر ا ڈیسک ملانے کا کہا تو کسی نے وہاں فون اٹھایا ہی نہیں۔ آدھ گھنٹہ انتظار کے بعد دوبارہ ملایا تو آپریٹر خاتون نے کہا کہ اس وقت کھانے کا وقفہ ہے اس لئے بات نہیں ہو سکتی۔ عرض کیا کہ آپ کے ویب پیج پر کہیں کھانے کے وقفہ یا بریک کا ذکر نہیں ہے ورنہ میں آپ کو زحمت نہ دیتا۔ خاتون آپریٹر ناراضی کے عالم میں فرمانے لگیں کہ مجھ سے زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہیں آپ اس سلسلہ میں ای میل کریں ہائی کمیشن کو۔ میں نے ای میل میں ہائی کمیشن کو اپنے دفتری اوقات میں کھانے وقفہ یا بریک کو شامل کرنے کی تجویز دے ڈالی۔ کئی سال گزرنے کے باوجود نہ تجویز کو زیر غور لایا گیا اور نہ ہی ای میل کا جواب دینے کی گوارا کی گئی۔ دیار غیر میں پاکستان کا امیج بلڈ کرنے والے یہ بابو سب ایک سے ہیں۔

اوٹاوہ ہائی کمیشن میں قائم نادرا ڈیسک نے میری فیملی کے NICOPفارمز کی وصولی کی رسید بھجوائی تو لفافہ پر ڈاک ٹکٹ نہیں لگایاتھا۔ اس ’’بیرنگ خط ‘‘ کے لئے ہمیں ڈبل ادائیگی کرنا پڑی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس خط پر صرف 60 سینٹ کی ٹکٹ لگنا تھی ۔ یہ بھول نہیں بلکہ جان بوجھ کر ’’دفتری لاپرواہی ‘‘ کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔ ان سفارتخانوں میں پروفیشنل آفیسر کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ ایسی ہی ایک اورخاتون ڈپٹی ہائی کمشنر اوٹاوہ میں تعینات تھیں۔ ایک ملاقات میں انہوں نے سفارتخانہ میں اپنے اقدامات کا ذکر کیا انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں کو سہولیات کی فراہمی اور مقامی افراد جوا نٹر نیٹ پر اسلام کے بارے میں پڑھنے کے بعد مسلمان ہوئے تھے کی مدد کے بارے میں تفصیل سے بتایا تو بڑی خوشی اور حیرت بھی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نو مسلم خواتین و حضرات جو اسلام کے بارے میں مزید جاننے اور تربیت کیلئے پاکستان جانے کے خواہشمند تھے کہ ہر ممکن مدد کی اور سہولت بھی فراہم کی۔ بعدازاں یہ نو مسلم خواتین و حضرات بڑے مطمئن اور مشکور تھے۔ آجکل اوٹاوہ ہائی کمیشن میں نواز شریف حکومت نے اپنے سابق سنیٹیر طارق عظیم خاں کو ہائی کمشنر تعینات کیا ہوا ہے۔ قطعً نظر ان کی اہلیت کے بس چونکہ ان کی پارٹی کے ہیں اور بزنس مین ہیں،لہذا انہیں یہاں لگا کر نواز دیا گیا ۔ایک کینیڈین لڑکی نے مجھے بتایا کہ وہ پاکستان کے سیاحتی دورہ پر جانے کی خواہشمند تھی اور پشاور سے اس کے دوست نے اسے دعوت نامہ بھی بھیجا تھا۔ وہ ٹکٹ بھی خرید چکی تھی۔ مگر اسے اوٹاوہ ہائی کمیشن نے ویزا نہیں دیا اور طارق عظیم سے فون پر بات کرنے کے باوجود وجہ نہیں بتائی گئی۔یہ ہوتا ہے فرق ایک پروفیشنل اور سفارتی افسران کا۔یہ لوگ خادم کی بجائے حاکم بن کر تارکین پاکستان کے ساتھ ساتھ غیر ملکیوں کو بھی اپنا آپ دیکھانے سے باز نہیں رہتے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ