”2018 کے انتخاب میں میری فیملی نے ووٹ ڈالا اور واپس آ کر کہا کہ ۔۔“سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطابندیال کے این اے 75 ڈسکہ کے الیکشن سے متعلق کیس میں ریمارکس

”2018 کے انتخاب میں میری فیملی نے ووٹ ڈالا اور واپس آ کر کہا کہ ۔۔“سپریم کورٹ ...
”2018 کے انتخاب میں میری فیملی نے ووٹ ڈالا اور واپس آ کر کہا کہ ۔۔“سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطابندیال کے این اے 75 ڈسکہ کے الیکشن سے متعلق کیس میں ریمارکس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)این اے 75 ڈسکہ میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ میری فیملی نے 2018 کے الیکشن میں ووٹ ڈالا،میری فیملی نے واپس آ کرپولنگ عمل کی تعریف کی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ 2018 کاانتخاب پرامن تھا،الیکشن پرامن ہونےکی وجہ پاک فوج کی تعیناتی تھی،این اے 75 ڈسکہ ضمنی الیکشن میں فوج تعینات نہیں تھی،الیکشن کمیشن نے امن وامان کیلئے پولیس پربھروسہ کیا،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ تصادم کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -