پنجاب میں تاریخ کا بدترین سیلاب اور ریلیف کی حکومتی کاوشیں

پنجاب میں تاریخ کا بدترین سیلاب اور ریلیف کی حکومتی کاوشیں
پنجاب میں تاریخ کا بدترین سیلاب اور ریلیف کی حکومتی کاوشیں

  

ان دنوںصوبہ پنجاب تاریخ کے بدترین سیلاب کی زد میں ہے۔ ستمبر کے آغاز سے شروع ہونے والی طوفانی بارشوں اور سیلاب نے پنجاب کے 21 اضلاع کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پنجاب کے پانچوں دریا بپھرے نظر آتے ہیں اور اپنے راستے میں آنے ولے تمام شہروں، دیہاتوں اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اب تک پنجاب بھر میں ساڑھے 15لاکھ ایکڑ زرعی اراضی سیلاب کی زد میں آچکی ہے۔ سیلاب نے 2800دیہات کو اپنی لپیٹ میں لیا اور674 مویشیوں کو اپنے ساتھ بہا کر لے گیا۔ پنجاب بھرمیں اب تک 209 افراد سیلاب کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 370 افراد زخمی ہوئے جنہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔

حالیہ سیلاب کی شدت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس سے اب تک تقریبا 25لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ 2199 گھر مکمل طور پر جبکہ 30ہزار گھر جزوی طور پر تباہ ہوئے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عوام کو اس قدرتی آفت سے بچانے کیلئے حکومت پنجاب بھی پوری مستعدی سے کام کر رہی ہے۔ صوبے بھر کے تمام متاثرہ علاقوں سے 232266 افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جا چکا ہے۔ اس مشن کیلئے کل 18 ہیلی کاپٹر، سیکڑوں کشتیاں اور ہزاروں افراد کام کر رہے ہیں۔ حکومت پنجاب کے شانہ بشانہ افواج پاکستان بھی متاثرین کی امدا دکیلئے عملی طور پر میدان میں ہیں۔ اب تک 421 فلڈ ریلف کیمپس لگائے گئے جہاں 87092 متاثرین اس وقت بھی موجود ہیں۔ پنجاب بھر میں 709 ہیلتھ کیمپ لگائے گئے جہاں زخمیوں کو بلا امتیاز طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ اس تمام آفت میں بھی اب تک 1.5 کروڑ مویشیوں کی ویکیسی نیشن مکمل کی جا چکی ہے جو حکومت کے بر وقت اقدامات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اس تمام صورتحال میں صف اول پر کھڑے امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرر ہے ہیں۔ ناصرف وزیراعلی بلکہ انکی تمام ٹیم، وزراءاور سیکرٹری صاحبان اس وقت فیلڈ میں موجود ہیں۔ وزیراعلی پنجاب روزانہ کی بنیاد پر 8 سے 10گھنٹے مختلف اضلاع کے سیلاب متاثرین میں گزارتے ہیں۔ انہوں نے راولپنڈی ڈویژن سے بہاولپور ڈویژن تک تمام متاثرہ علاقوں کے لگاتار دورے کیے اور ریلیف ایکٹویٹی کی بذات خودنگرانی کی۔ وزیر اعلی نے سیلاب متاثرہ علاقوں اورنواحی دیہات کے دورے کیے اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متاثرین سے ملاقات کرکے ان کے مسائل دریافت کئے ۔ وزیراعلیٰ نے متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عیدالاضحی سے قبل متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد کی پہلی قسط جاری کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی عملی زندگی میں ایسی تباہی نہیں دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کی آباد کاری تک چین سے نہیں بیٹھوں گا ۔ انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ متاثرہ سڑکوں کی فی الفور تعمیر و مرمت کے کام کا آغاز کیا جائے تاکہ عوام کو آمد و رفت کی سہولت بحال ہو سکے جبکہ صاف پانی کی فراہمی کیلئے بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرےن کو روٹےوں کی فراہمی کے لئے متاثرہ دےہات مےں تندور لگائے جائےں اور روٹی کی فراہمی ہر صورت ےقےنی بنائی جائے۔ مصےبت زدہ بہن بھائےوںکی خدمت عبادت سمجھ کر کی جائے۔

 وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کے زےر انتظام صوبے کے سےلاب متاثرہ علاقوں مےں تارےخ کا سب سے بڑا رےسکےو اےنڈ رےلےف آپرےشن کامےابی سے جاری ہے۔ امدادی کےمپوںمےں مےکےنکل تندور لگائے جا رہے ہیں تاکہ تےن وقت کا کھانا ہر صورت فراہم کےا جائے ۔ مظفرگڑھ کے علاقے ہےڈ محمد والا مےںسےلاب متاثرےن کےلئے قائم خےمہ بستی پہلا مےکےنکل تندور نصب کردےاگیا ہے جس سے انتہائی کم وقت مےں زےادہ روٹےاں تےارہوتی ہےں۔مےکےنکل تندور کے ذرےعے روٹےاں ملنے پر خےمہ بستی مےں موجود مرد اور خواتےن نے انتہائی خوشی کا اظہار کےا ہے ۔کےمپوں مےں ادوےات کی وافر دستےابی بھی ےقےنی بنائی جا رہی ہے۔ پنجاب حکومت نے فصلوں اور املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کیلئے سروے کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔

کابینہ کمیٹی برائے فلڈریلیف کے اجلاس بھی دن میں دو بار منعقد ہو رہے ہیں۔ اجلاس میں پنجاب بھر کے سیلاب زدہ علاقوں کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا جاتاہے۔ کابینہ کمیٹی روزانہ 4اضلاع میں ویڈیو کانفرنس کر کے امدادی سرگرمیوں اور ضروریات کا جائزہ لے رہی ہے اور فوری اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔فیلڈ افسران اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ضروری اشیاءکی عدم دستیابی پر فوری ایکشن لیں ۔ تمام متاثرہ اضلاع کو 10 ، 10کروڑ روپے دئےے گئے ہیں۔ایک ایک پائی شفاف طریقے سے متاثرین کی مدد پر خرچ کی جائے گی۔جو افسر متاثرہ لوگوں کی ضروریات پوری نہیں کرسکتے ان کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ وزیر اعلی نے ہدایت کی ہے کہ سارا سال آپ گھر گزارتے ہےں ےہ 30دن عوام کے ساتھ گزارےںجو کھانا خود کھائیں وہی انہےں کھلائےں۔ےہ امتحان کا وقت ہے جس مےں صرف کامےابی ہی پہلا اورآخری آپشن ہے۔

حالیہ سیلاب کے بارے میں اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 1949 اور 1972 کے بعد یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ہے لیکن حکومت اورتمام متعلقہ ادارے مل کر حفاظتی اقدامات کر رہے ہیں۔ متاثرین کی بحالی کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ متاثرین کو تباہ فصلوں ، گھروں اور مرجانے والے مویشیوں کا معاوضہ دیا جائے گاتاکہ متاثرین کودوبارہ اپنے پاﺅں پر کھڑا کیا جاسکے گا ۔حکومت کی کوشش ہے کہ معاوضہ مہینوں نہیں بلکہ ہفتوں کے اندر ادا کردےاجائے۔

 مختلف مقامات پر شہری آبادی کو سیلاب سے بچانے کی خاطر بند توڑنے پڑے، شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیاگیا اور اس ضمن میں ٹےکنےکل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی انتظامی یا سیاسی دباﺅ کو خاطر میں نہ لایاجائے اور عوام اور ملک کے مفاد میںفیصلے کئے جائیں ۔ سیلاب سے ممکنہ طورپر متاثرہونے والے علاقوں سے لوگوں کا انخلا ءمکمل کرلیاگیا ہے اور متاثرین کےمپ قائم کردیئے گئے ہیں جہاں خوراک ،پینے کا پانی ، ادویات اور جانوروں کےلئے چارہ فراہم کیاجارہا ہے اس مقصد کےلئے سو ل انتظامیہ ،پولیس اور پاک فوج، عوامی نمائندے مل کر سیلاب متاثرین کی مدد کےلئے کوشاں ہیں ۔ حکومت کومتاثرین کی تکلیف کا بخوبی اندازہ ہے اور اس قدرتی آفت سے نمبٹنے کےلئے تما م وسائل بروئے کار لا ئے جا رہے ہیں۔

مشکل کی اس گھڑی میں سندھ اور بلوچستان حکومت کی جانب سے پنجاب کے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے 10,10کروڑ روپے کا چیک پیش کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اس موقع پرسیلاب متاثرین کی مدد پر سندھ اور بلوچستان حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں تاریخ کا ایک بہت بڑا سیلابی ریلہ آیا ہے۔ سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کوالفاظ میںبیان نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت تمام اختلافات کو بھلا کر مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی مدد کرنے کا ہے۔

سیلاب کی تباہ کارےوں کے دکھ الفاظ مےں بےان نہےں ہوسکتے۔ کسی بھی آفت سے بچنے اور نمٹنے کی تین مراحل ہوتے ہیں۔ آفت سے پہلے حفاظتی انتظامات کرنا، آفت کے دوران افراد کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنانا اور بعدازاں بحالی کے کام کو جلد از جلد مکمل کرنا۔ ترقی یافتہ ممالک اپنے بھرپور وسائل سے قدرتی آفات آنے سے پہلے انتظامات مکمل کر لیتے ہیں لیکن بد قسمتی سے ترقی پزیر ممالک میں یہ انتظامات نہیں کیے جاتے۔تمام تر وسائل کو قدرتی آفات آنے کے بعد استعمال میں لایا جاتا ہے جو کہ ناکافی رہتے ہیں۔ پاکستان میں بھی سیلابی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے ڈیم، نہروں ، سیلابی نالوں اور شجر کاری جیسے اقدامات کی ضرورت ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ ہم بار بار آنے والی ان آفتوں سے سبق سیکھ کر ایسے حفاظتی انتظامات کر پائیں کہ ہر سال عوام کوعذاب سے بچایا جا سکے ۔ ٭

مزید :

کالم -