شیطان پیروں کے درپر لٹنے والوں کی شرمناک کہانیاں,ستر سالہ پیر اور چودہ سالہ بچی

شیطان پیروں کے درپر لٹنے والوں کی شرمناک کہانیاں,ستر سالہ پیر اور چودہ سالہ ...
شیطان پیروں کے درپر لٹنے والوں کی شرمناک کہانیاں,ستر سالہ پیر اور چودہ سالہ بچی

  

روایت۔حضرت علامہ مفتی پیر محمدعابد رضوی سیفی 

انسانیت کا جامہ اُتارنے والا انسان جنات سے بڑا شیطان بن جاتا ہے۔مذہب کا لبادہ اوڑھ کر پیری مریدی کا ڈرامہ رچانے والا نہ تو سچا عامل ہوسکتا ہے نہ راہبر ۔ وہ لٹیرا اور درندہ ہوتا ہے۔میں جس شیطان پیرکی کہانی آپ کو سنا رہاہوں یہ بالکل سچی ہے ۔وہ لاہور کے ایک پیر خانے کا بزرگ ہے ،لاہور میں بھی اور کراچی میں بھی اسکا بڑا آستانہ ہے ،ستر سال کی عمر ،سفید خشخشی داڑھی میں کوئی ایک نظر اسکے اندر کی خباثت کو نہیں پہچان سکتا۔ہمارے لوگ ایسے صاحبان کوانتہائی محترم جانتے ہیں جو دستار داڑھی اور تسبیح سے مسلح و مرصع ہوتے ہیں لیکن عملاً وہ شریعت سے ناواقف اور تعویذات و عملیات کو دھندہ سمجھتے ہیں ،انکے گھناؤنے اعمال کی وجہ سے صاحبان شریعت کی دستاریں بھی اچھال دی جاتی ہیں۔

ایک روز شاہ عالمی کی ایک خاتون اُس پیر کے پاس گئی اور اپنا مسئلہ بتایا کہ اسکی چودہ سالہ بیٹی پر جنّ قابض ہے جو اسکے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔بیٹی نویں جماعت میں پڑھتی ہے ۔وہ جنّ سے بڑی محبت بھی کرتی ہے ۔پیرنے انہیں کہا کہ وہ انکے گھر آئے گا اور پھر ایک رات وہ انکے گھر پہنچا۔متوسط لوگ تھے۔گھر میں وہ خاتون تھی اور اسکی بیٹی جبکہ شوہر کاروبار کے سلسلہ میں شہر سے باہر گیا ہوا تھا۔

خاتون نے پیر کی بڑی تواضع کی ،کھانے پینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور نقدی بھی پیشگی پیش کردی۔پیر نے کہا’’ میں نے جائزہ لیا ہے کہ یہ جنّ بڑا طاقتور ہے اور آسانی سے قابو میں نہیں آئے گا‘‘

اس نے خاتون سے کہا’’ تم بیٹی سے کہو کہ غسل کرکے کمرے میں آجائے اور جب تک میں نہ کہوں کوئی دوسرا اس کمرے میں نہ آئے‘‘ خاتون کے دل میں پیر کا بہت احترام تھا۔ایسے پیر اپنا دبدبہ قائم رکھنے کے لئے مریدین سے اپنا ادب بھی کراتے ہیں اور شان بے نیازی کے تحت ان سے سیوا بھی کراتے ہیں۔خاتون کے دل میں یہ خیال بھی نہ آیا کہ ایک ستر سالہ بزرگ پیر چودہ سالہ بچی کے ساتھ تنہا کمرے میں ہوگا توکوئی خرابی پیدا ہوسکتی ہے۔وہ اس کے باپ برابر تھا۔اس بچی جتنی تو اسکی پوتیاں نواسیاں تھیں۔

لڑکی غسل خانے میں نہانے چلی گئی اور پیر نے بظاہر کمرے میں پڑھائی کا عمل شروع کردیا۔اس نے دروازے کو کنڈی بھی نہیں لگائی تھی ۔لڑکی نہا کر باہر نکلی تو اسکے بالوں سے پانی بہہ رہا تھا۔اس نے تولئے سے بال خشک کرنا چاہے تو پیر بولا’’ بالوں کو کھلا چھوڑ دو اور ان سے پانی بہنے دو‘‘

لڑکی نے اسکی ہدایت پر عمل کیاتو پیر نے بے حیائی سے اسکو کپڑے اتارنے کا حکم دیا۔لڑکی پریشان ہوگئی ۔

’’کیا تم نہیں چاہتی میں تمہارے جنّ کوتمہارے جسم سے باہر نکال دوں۔اس خبیث کو نکالنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔میں تمہارے بدن پر تعویذ لکھوں گا تو جنّ نکل جائے گا۔ورنہ آج کے بعد وہ تمہیں روزانہ استعمال کرے گااور تم تڑپ تڑپ کر مرجاؤ گی‘‘

لڑکی شرم سے سکڑ گئی،حیا سے دوہری ہوگئی’’ وہ ایسا نہیں ہے پیر صاحب۔۔۔‘‘اس نے ہولے سے کہا۔

’’تم کیا جانو جنّ کتنے برے ہوتے ہیں ۔وہ تمہارا خون پی جائے گا۔جلدی کرو۔۔۔‘‘ پیر کے حکم اور ڈرانے پر وہ مجبور ہوگئی۔پیر نے اسکے بدن پرتعویذ لکھنا شروع کردیااور پھر کچھ ہی دیر بعد اس پر جنسیت غالب آگئی اورپھر پیر کی خباثت کسی جنّ سے زیادہ زورآور ہوگئی۔اس نے لڑکی کی عزت کا دامن تارتار کردیا۔وہ روتی اور چیختی رہی۔پیر خودمجسمۂ شیطان بن گیا،وہ چیختی رہی اور وہ ڈکراتا رہا’’تیراجنّ تومیرے اندر آگیا ہے‘‘۔وحشی پیر کے سفاکانہ جنسی فعل سے معصوم بچی خون میں نہا گئی ۔اس کی ماں جو دروازے سے باہر کھڑی تھی،پہلے تو اسکی چیخیں سن کر سمجھتی رہی کہ جنّّ نکالتے ہوئے عموماً لڑکیاں چیخیں ماراکرتی ہیں لیکن جب کافی وقت گزر گیا تو اسے شک ہوا اور دروازہ کھول کر اندرگئی تواس کے سامنے ستر سالہ شیطان کپڑوں سے بے نیاز کھڑاتھا،اسکے چہرے پر خباثت تھی،شرمندگی کا شائبہ تک نہ تھا۔نیچے فرش پر لڑکی خون بہنے سے تڑپ رہی تھی۔

’’آج کے بعد تیری لڑکی پرکوئی جنّ عاشق نہیں ہوگا،میں نے اس پر مہر لگا دی ہے اور اب ہر کوئی جنّ اسکے سایہ سے بھی بھاگے گا‘‘

خاتون سب کچھ سمجھ چکی تھی۔

اس نے پیر کا گریبان پکڑلیا’’ حرام زادے تونے میری بچی کو برباد کردیا ،تجھے اللہ اور رسول کا کوئی خوف نہیں آیا‘‘

’’ زبان بند کر اپنی گستاخ عورت‘‘ پیر نے اسے تھپڑ مارااور یہ کہتا ہوا چلا گیا’’تم نے زبان کھولی تو ایک نہیں ایک سو جنّ تمہارے اور اور تیری بیٹی کے اوپر عاشق کرادوں گا اور پھر مرتی پھرنا ۔‘‘

خاتون بیٹی کو لیکر ہسپتال گئی اور ایک ہفتہ تک اس کا علاج کراتی رہی۔بچی کی حالت صدمہ سے بہت بگڑ گئی اور اس نے ماں سے کہا’’ ماں تیرے پیر سے تو وہ جّن زیادہ غیرت مند تھا جس نے میری مرضی کے بغیر کچھ نہیں کیاتھا لیکن یہ مجھے لوٹ کر چلاگیا ہے۔میرا تو ایمان بھی لٹ گیا ہے ماں۔۔۔ کیا پیر ایسے ہوتے ہیں‘‘

پھر وہ خاتون کسی کا حوالہ لیکرمیرے پاس جامعہ آئی اور جب یہ واقعہ سنایا تو میرا خون کھولنے لگا’’ بی بی تم غیرت مند ہوتی تو اس جنّ کو لڑکی کے اندر رہنے دیتی لیکن کسی بے غیرت پیر کے پاس نہ لیکر جاتی۔تجھے اس پیر کے خلاف پولیس کے پاس جانا چاہئے تھا‘‘

’’ سرکار ،میں نے سوچا تھا کہ پیر کو پولیس کے پاس لیکر جاؤں لیکن میں پھرخوف آگیا ۔بدنامی سے ڈرتی ہوں ۔پیر نے جو کیا پولیس بھی وہی کرتی اور گلی گلی چرچا ہوتا ،آپ بخوبی جانتے ہیں۔انصاف کے لئے کمزور عورتوں کو بار بار لٹنا پڑتا ہے۔‘‘

اس بچی پر جنّ کا سایہ تھا۔میں نے کلام الٰہی سے اسکا علاج تو کردیا لیکن سوچتا ہوں کہ دین کی آڑ لیکر پیری فقیری کرنے والوں کو کیا واقعی اللہ اور اسکے حبیبﷺ کا کوئی ڈر خوف نہیں رہا۔لوگ توبھروسے پر ان کے پاس جاتے ہیں کہ یہ نیک لوگ ہوں گے مگر انہیں نہیں معلوم ہوتا کہ شریعت پر عمل نہ کرنے والے پیر نہیں خبیث ہوتے ہیں۔(ش،ن ،چ)

مزید :

بلاگ -