برصغیر کی 72سالہ جنگ!

برصغیر کی 72سالہ جنگ!
برصغیر کی 72سالہ جنگ!

  


جان بولٹن، ٹرمپ انتظامیہ میں قومی سلامتی کے مشیر تھے جن کو صدر ٹرمپ نے اس روز نوکری سے فارغ کر دیا جس روز طالبان سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ دونوں اعلانات غیر متوقع تھے۔ طالبان سے مذاکرات کی کمند تو اس وقت ٹوٹی جب لبِ بام، دوچار ہاتھ نہیں،صرف ایک دو ہاتھ رہ گیا تھا۔ ان مذاکرات کے خاتمے کا جو عذر صدر ٹرمپ کی طرف سے پیش کیا گیا وہ کچھ زیادہ ہی لولا لنگڑا تھا۔ کہا گیا کہ طالبان نے گزشتہ جمعہ کو کابل میں جو خودکش حملہ کروایا اس میں ایک امریکی فوجی اور گیارہ دوسرے افراد مارے گئے، جس کی وجہ سے عرصہ ء دراز سے دوحہ (قطر) وغیرہ میں چلنے والی بات چیت ختم کر دی گئی ہے۔ لیکن عین اسی وقت یہ خبر بھی کسی امریکی نیوز چینل پر بریک کی گئی کہ اس خودکش حملے میں ہلاک والا ”بارہواں کھلاڑی“ ایک عام امریکی سپاہی نہ تھا، میجر جنرل تھا! افغانستان کی جنگ 18 برسوں سے جاری ہے جس میں اب تک ہزاروں امریکی آفیسرز اور جوان مارے جا چکے ہیں لیکن کہا جا رہا ہے کہ اس حالیہ حملے میں جو امریکی مارا گیا وہ پہلا امریکی جنرل آفیسر تھا۔ اب تک کسی بھی طرف سے اس ہلاکت کی توثیق نہیں کی گئی۔ ان 18برسوں میں سینکڑوں ہزاروں نان کمیشنڈ اور جونیئر کمیشنڈ امریکی آفیسرز مارے جاتے رہے ہیں لیکن کمیشنڈ افسروں میں یہ سینئر ترین امریکی فوجی تھا، جو ہلاک ہوا۔ تاہم پینٹاگان کی طرف سے یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ جنرل اگر مارا بھی گیا ہے تو کس منصب پر فائز تھا، اس کا نام کیا تھا اور جس جھڑپ میں مارا گیا اس کی تفصیلات کیا تھیں۔

جب سے یہ جنگ شروع ہوئی، مارے جانے والے وردی پوش امریکی سولجرز کے قریبی رشتہ داروں کو خفیہ طور پر مطلع کیا جاتا رہا کہ ان کا فلاں عزیز (شوہر، بیٹا، باپ،بھائی وغیرہ) ہلاک ہو گیا ہے۔ اس کی تدفین کے کوئی مناظربھی میڈیا پر نہیں دکھائے جاتے۔ امریکی محکمہ ء دفاع کا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے نہ صرف فوج بلکہ قوم کا مورال ڈاؤن ہو جاتا ہے۔ تاہم اس طالبان حملے میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجی کا نام ”دی نیویارک ٹائمز“ میں شائع ہونے والی ایک تفصیلی خبر میں فرسٹ سارجنٹ ایلس (Elis) بتایا گیا ہے۔ لیکن یہ خبر مجھے اس بنا پر مشکوک لگتی ہے کہ اس کو خلافِ معمول میڈیا پر زیادہ تفصیلی کوریج دی گئی ہے۔ اس طویل خبر کا یہ پیراگراف بالخصوص قابلِ توجہ ہے: ”جب طالبان اور دوسرے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ ملاقات کی ساری تیاریاں مکمل ہو چکیں تو ہفتے کی شب اچانک صدر ٹرمپ کا ٹویٹ آیا کہ طالبان کی طرف سے اس خودکش حملے کے بعد انہوں نے اس ملاقات کو منسوخ کر دیا ہے۔ لیکن کچھ ہی گھنٹوں بعد مسٹر پومپیو ریاست ڈیلاور کی ڈوور (Dover) ائر فورس بیس پر پہنچے اور مرنے والے اس فوجی کے تابوت کو وصول کیا جس کا نام آرمی سارجنٹ فرسٹ کلاس Elis Angel Barreto Ortiz تھا اور وہ اس طالبان حملے میں کابل میں مارا گیا تھا۔ مسٹر پومپیو کی یہاں موجودگی غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی کیونکہ ہلاک ہونے والے امریکی سولجرز کے کفن تو صدر امریکہ یا وزیر دفاع وصول کرتے ہیں، وزیرِ خارجہ نہیں۔“…… (دیکھئے صفحہ نمبر6، دی نیویارک ٹائمز مورخہ 10ستمبر 2019ء)

کسی آرمی سارجنٹ کا کفن وصول کرنے کے لئے وزیر خارجہ کی کسی بھی ائر بیس پر حاضری / موجودگی واقعی ”ایک غیر معمولی“ واقعہ ہے۔اس لئے مجھے شک ہے کہ یہ لاش اسی امریکی جنرل کی تھی جو کابل حملے میں مارا گیا تھا۔ اس کا نام صیغہ ء راز میں رکھا جا رہا ہے اور اس کی بجائے ایک سارجنٹ کا نام دے دیا گیا ہے۔ ممکن ہے اس حملے میں جو گیارہ دوسرے افراد مارے گئے ان میں سے کسی ایک کا نام وہی ہو جو اس طویل خبرمیں دیا گیا ہے۔ ایک وقت آئے گا جب یہ راز ضرور فاش ہو گا۔ ویسے تو یہ امریکی سارجنٹ ہر روز کابل اور قندھار وغیرہ میں ہلاک ہوتے رہتے ہیں۔طالبان کے ساتھ یہ مذاکرات جو کئی مہینوں سے جاری تھے اور اب 9ملاقاتوں کے بعد ایک ڈرافٹ معاہدہ بھی تیار ہو چکا تھا، وہ اس طرح اچانک صدر کی طرف سے ایک ٹویٹ کے ذریعے منسوخ نہیں کئے جا سکتے تھے۔ امریکیوں کی یہ دیرینہ عادت ہے کہ وہ ایسے حالات میں سچی بات کبھی منظر عام پر نہیں لاتے۔ ایسی ہزاروں مثالوں سے امریکی تاریخ (اور خاص طور پر عسکری تاریخ) بھری پڑی ہے۔ دوسری طرف طالبان قیادت کو بھی داد دیجئے کہ انہوں نے اتنی بڑی خبر کو بریک کرنا مناسب نہیں سمجھا…… افغانوں کی یہ عادت اور روائت بھی بڑی پرانی ہے اور ان عادات و روایات سے بھی افغان تاریخ بھری پڑی ہے!…… یعنی چوٹ برابر کی ہے۔ 8ستمبر کو یہ مذاکرات اچانک منسوخ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایک اور معنی خیز ٹویٹ بھی جاری کی جو یہ تھی: ”دیکھتے ہیں یہ طالبان کتنے عشرے اور جنگ جاری رکھیں گے؟“…… یہ سوال کرتے ہوئے صدر ٹرمپ شائد افغانوں کی تاریخ بھول گئے ہیں۔ علامہ اقبال نے تو پون صدی پہلے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ افغانستان کی سرزمین روز اول سے عقابوں اور شاہبازوں کا مسکن رہی ہے۔ اس میں لالہ و گل نہیں کھلتے اور نہ ہی بلبلوں کے نعمے سنائی دیتے ہیں۔ جب تک افغانستان کے پہاڑ باقی ہیں، افغان بھی باقی ہیں۔افغانوں کے معمولات و خصائل ان کے کوہستانوں کی طرح اٹل ہیں۔ جب تک یہ فلک بوس کہسار باقی ہیں افغان بھی باقی ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ یہ ملک اللہ کا ہے اور اللہ ہی کے حکم کے مطابق اللہ ہی کا رہے گا، کوئی غیر اللہ اس پر قبضہ نہیں کر سکتا:

افغان باقی، کہسار باقی

الحکم للہ! الملک للہ

حاجت سے مجبور، مردانِ آزاد

کرتی ہے حاجت شیروں کو روباہ

محرم خودی سے جس دم ہوا فقر

تو بھی شہنشاہ، میں بھی شہنشاہ

قوموں کی تقدیر وہ مردِ درویش

جس نے نہ ڈھونڈی سلطاں کی درگاہ

صدر ٹرمپ یہ بھی بھول گئے ہیں کہ طالبان کی قوتِ برداشت (Stamina)کس بلا کی ہے۔ یاد آیا ایسا ہی سوال ویت نام کی جنگ (1978ء……1963ء) میں ایک امریکی نے ویت نام آرمی کے مشہورِ زمانہ سپہ سالار جنرل گیاپ (Giap) سے پوچھا تھا کہ وہ امریکی افواج سے کتنا عرصہ اور لڑتے رہیں گے؟…… جنرل گیاپ نے جواب میں کہا تھا: ”…… مزید 20برس تک…… بلکہ سو برس تک…… ہم اس وقت تک لڑتے رہیں گے جب تک فتح حاصل نہیں ہو جاتی…… اس کے لئے جو قیمت بھی دینی پڑی ہم دیں گے“۔ یورپ میں 20ویں صدی کی دو عالمی جنگوں سے پہلے بھی کئی طویل جنگیں ہوتی رہی ہیں …… مثال کے طور پر یورپ کی تیس سالہ جنگ ہی دیکھ لیں۔ اس جنگ کا ذکر کرتے ہوئے میجر جنرل جے ایف سی فلر(JFC Fuller)نے اپنی ایک مشہور تصنیف ”کنڈکٹ آف وار“ کا آغاز اس پیراگراف سے کیا ہے: ”ہمہ اختیار اور مطلق العنان بادشاہوں کا عہد، مذہبی جنگوں کی راکھ سے ابھرا۔

ان مذہبی جنگوں کا نقطہ ء عروج وہ مشہور و معروف جنگ تھی جسے یورپ کی ’30سالہ جنگ‘ کہا جاتا ہے اور جو 1618ء سے لے کر 1648ء تک لڑی گئی۔اس جنگ کے آخری 15سال ان گھناؤنے اور مکروہ معرکوں پر مشتمل ہیں جن میں فاقہ زدہ عوام کے غول کے غول بھی افواج کے ہمرکاب چلتے تھے۔ ایک مصنف مسٹر گنڈلے (Gindley) نے اپنی کتاب ”تیس سالہ جنگ“ میں لکھا ہے کہ ایک معرکے میں لڑنے والے سپاہیوں کی تعداد صرف 38ہزار تھی جبکہ ان کے پیچھے پیچھے ایک لاکھ 27ہزار افراد پر مشتمل عورتوں اور بچوں کا جم غفیر بھی چلا آ رہا تھا۔ جب 1648ء میں آخر کار اس جنگ کا خاتمہ ہوا تو وسطی یورپ کا بیشتر حصہ کھنڈرات بن چکا تھا اور 80 لاکھ انسان لقمہ ء اجل بن چکے تھے۔ ان میں وہ 8لاکھ سپاہی شامل نہیں تھے جو جنگی معرکوں میں کام آئے“۔ میں اس موضوع پر کل اپنے ایک دوست (کرنل عبید) سے بات کر رہا تھا وہ کئی برس تک افغانستان میں رہے۔ آج کل میری طرح ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں اور راولپنڈی میں رہتے ہیں۔ میں افغانستان کے ان جانی نقصانات کا ذکر رہا تھا جو گزشتہ دو عشروں میں سننے، پڑھنے اور دیکھنے کو ملے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان، دنیا کا واحد ملک ہے جس پر آج تک کوئی غیر افغان زیادہ عرصے تک حکومت نہیں کر سکا۔ امریکیوں کو اگر آج نہیں تو کل جانا پڑے گا۔ صدر ٹرمپ نے طالبان کے بارے میں جو یہ ٹویٹ کیا ہے کہ:

How many more decades are they willing to fight?

تو ان سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی قوم سے یہی سوال پوچھیں کہ وہ کتنے عشروں تک مزید یہ جنگ برداشت کر سکتی ہے؟ قوم کو بتایا جانا چاہیے کہ اس کی افواج (اور ناٹو کی دوسری افواج مل کر) دو عشروں تک تو مار کھاتی رہی اور جانیں گنواتی رہی ہیں، ہزاروں یورپی سولجر اس جنگ میں معذور اور زخمی ہوئے اور اربوں کھربوں ڈالر ضائع کرنے کے بعد بھی نتیجہ صفر رہا ہے۔ اب مزید یہ سلسلہ دراز کرکے دیکھ لیں۔ نتیجہ پھر بھی زیرو رہے گا! ایک مقولہ یہ بھی ہے کہ ہر جنگ کا آخری مقصد بظاہر حصولِ امن قرار دیا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک جنگ کا خاتمہ دوسری کا آغاز ہوتا ہے…… دور کیوں جائیں اپنے برصغیر کو دیکھ لیں۔ گزشتہ 72برسوں کی سات عشروں پر پھیلی جنگی صورتِ حال کو جس میں چار باقاعدہ جنگیں لڑی گئیں بڑی آسانی سے ”برصغیر کی 72سالہ جنگ“ کہا جا سکتا ہے!

مزید : رائے /کالم


loading...