بتیسویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی تاریخ

بتیسویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی ...
بتیسویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی تاریخ

  

علاقہ پشاور:

اس بارے میں سعادت خان بن ہدایت اللہ خان مصنف سعادت نامہ افغانی لکھتا ہے:

’’علاقہ پشاور میں پٹھانوں کے تین گھرانے آباد ہیں یعنی خیخے یا خشے ، غورے اور کرلانی۔ اس کے علاوہ ان کے ساتھ جو لوگ رہتے ہیں وہ ان کے ہمسایہ ہیں لیکن حصہ داری میں انہیں بھائیوں جیسا برابری کا حق دیا گیا ہے کیونکہ وہ ان کے قریب نسب میں نہیں البتہ (مورث اعلیٰ) ’’پخت‘‘ کی نسل سے ہیں۔ خیخے یا خشے اور غورے دونوں سگے بھائی اور کندیا قند کے بیٹے ہیں۔ شجرہ غورے یا غوریا خیل اس طرح ہے کہ اس کے چار بیٹے ہیں۔ اول دولت یار جو مہمند اور داؤد زئی کا باپ ہے۔ دوئم خلیل سوئم چمکنی یا سمکنی۔ چہارم زیرانی۔ واضح رہے کہ سرغلانی جواب سرغانی سے یاد کئے جاتے ہیں اور وہ اپنا نسب ترین سے ملاتے ہیں اور اذاخیل و ملاگوری اور ماندوری یہ چاروں افغان قبائل غوریا خیل کے حمایتی اور ہمسایہ ہیں۔ زیرانی اور چمکنی اول وقتوں میں اپنے بھائیوں سے جدا ہو گئے تھے۔ اس وقت زیرانی ننگر ہار میں تاجیک کے ساتھ آباد ہیں اور چمکنی یا سمکنی مختلف مقامات پر گڈ مڈ اورکہیں الگ الگ منتشر حالت میں رہتے ہیں۔

اکتیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

یوسف زئی، گیگیانی اور ترکانی تینوں بھائی ہیں اور خیخے یا خشے (خاشی) کی اولاد ہیں۔ اور محمد زئی جو کہ اشغر میں رہتے ہیں زمند کی اولاد ہیں۔ زمند خشی کا چچا تھا مگر خشی انے اسے اپنے ساتھ بچیت سگے بھائی کے رکھا اور اسی نسبت سے اسے حصہ بھی دیا۔ گدون یا جدون جو کاکڑ کے ہم نسب ہیں اور اتمان خیل بھی جو یوسف زئی کے ساتھ سمہ، سوات اور باجوڑ میں رہائش پذیر پیں۔ نسب کے لحاظ سے کرلانی ہیں۔ مگر یوسف زئی نے انہیں اپنے ساتھ رکھا اور سگے بھائیوں جیسا سمجھتے ہیں۔‘‘

کرلانی کا شجرہ یہ ہے:

کرلان کی دو بڑی شاخیں ہیں ایک کو دی دویم ککے۔ کودی کے دو شاخیں ہیں ایک اورک اور دوئم دلزاک، اورک زئی اور دلزاک کی اولاد دلزاک کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔ ککی کی چار شاخیں ہیں لقمان، اتمان، عثمان، جدران۔‘‘ خٹک لقمان کی اولاد ہے اور اتمان خیل جو یوسف زئی کے ساتھ آباد ہیں، اتمان کی اولاد ہیں۔ اور قبیلہ افریدی عثمان کی اولاد ہے۔ اور جدران جو ننگر ہار میں سکونت پذیرہیں۔ جد کی اولاد ہے۔‘‘

دوسرے مورخین کی رائے میں بنگش بھی جوان کے ساتھ متصل تیراہ و کوہاٹ میں آباد ہیں کرلانی افغان ہیں۔‘‘

پشار کے علاقہ میں خشی کے ساتھ باجوڑ میں مغرب کی طرف قبائل شنواری، صافی، گریزی، قندھاری وغیرہ افغان قبیلے ابتدا ہی سے آباد ہیں جو ملک احمد کی دعوت سے آئے اور جنگ کاٹلنگ میں شریک ہوئے تھے اور یہاں انہیں شیخ ملی کی تقسیم میں حصہ ملا تھا۔ اسی طرح غوریا خیل کے ساتھ مغرب میں قبیلہ شنواری آباد ہے۔ شنواری انکے ساتھ یہاں آئے تھے۔ قبیلہ شنواری کی یہ دونوں شاخیں ایک ہی اصل سے وابستہ ہیں جو خشی اور غوریا خیل کے چچا کاشی یا کانسی کی اولاد ہیں وہ اپنے قبیلہ سے جدا ہو کر ان میں شامل ہو چکے تھے۔ شجرہ نسب ابراہیم بٹنی کے مطابق یوں ہے خرشبون کے تین بیٹے ہیںَ قند، زمند، کانسی یا کاسی۔ کانسی کے کئی بیٹے ہیں جن کے نام یہ ہیں۔ سام، شنواری، سلت، ہمڑ، کوہسار، کتیر، موسلخ، شیای، مامدزی، گمرانی یا جمرانی یاژمرلانی اور الوزی وغیرہ۔

شنواری بن کانسی کے دو بیٹے سلیمان اور عثمان تھے۔ سلیمان کی اولاد سلیمان خیل ہیں اور عثمان کے دو بیٹے ہدیا خیل اور بارک تھے۔ بارک کے دو بیٹے بدلا اور عبداللہ ہیں۔ بدلا کی اولاد اس کے بیٹے حیدر کی نسبت سے حیدر خیل کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔ عبداللہ کے چھ بیٹے الوزئی، پچی زئی، گوہر زئی، مندے زئی بو سعید اور اجی تھے۔ اور مندے زئی میں الیاس خیل، حسن خیل اور ہمزہ خیل ہیں۔

غوریا خیل کے ساتھ کچھ تھوڑے تھوڑے دیگرافغان خاندان بھی آباد ہیں۔ جن کی تفصیل یہ ہے:

* قبیلہ گمرانی افغان: تپہ داؤدزئی موضع امانکوٹ میں حصہ داری میں ہے۔ اور مواضعات بانڈہ اسمعیل، بانڈہ عجب اور منڈونہ سالم اور نیز تپہ خالصہ کے مواضعات پیر پیائی، پشنگڑی میں مالکانہ حیثیت سے آباد ہیں۔

قبیلہ تیرا ہی افغان، مواضعات تارو، علی بیک، کیندے ناصر، قاسم وغیرہ میں آباد ہے۔

قبیلہ بے سود افغان، نادر خان افغان قوم بے ود کے اہل خاندان موضع ڈاک بے سود میں آباد ہیں اور سالم گاؤں ان کی ملکیت ہے۔

قبیلہ اور مڑافغان، سرنک خان، محسن خان اور مالا خان پسران میر عالم خان قوم اور مڑافغان کی اولاد، ہرسہ مواضعات اور مڑ میں مالکانہ حیثیت سے آباد ہیں۔

قبیلہ کنڈیا کندی افغان ، مواضعات کالہ ، کندی دلاور، ناصر پور، ماضی آباد، لالہ ۔ جبہ ، ہرگونی، گڑھی سردار، بدھائی وغیرہ تپہ خالصہ میں مالکانہ و سکونت پذیر ہیں۔

*قبیلہ اضاخیل افغان، مسمیان الوخان، محمد خان اور ظریف خان کی اولاد موضع اضاخیل بالا و پایان سالم کے مالک ہیں اور انہیں مواضعات میں آباد ہیں۔

*قبیلہ بدرشی افغان، الف خان اور شہاب الدین قوم افغان بدرشی کی اولاد موضع بدرشی اور نوشہرہ ورد کے رہائش پذیر اور مالکان ہیں۔

*آزاد خان افغان کی اولاد موضع جہانگیر آباد ترناب میں آباد ہے۔ اور اسی طرح بارہ خان افغان کی اولاد موضع باپی میں اور ممریز خان ترین کی اولاد موضع چوکی میں اور سر بلند خان افغان اور عبداللہ افغان کی اولاد موضع بچہ غلام میں آباد ہیں۔ اور جمشید خان افغان قبیلہ رانی زئی (یوسفزئی) کی اولاد موضع سواتی سالم کی مالک ہے اور اسی موضع میں آباد ہے۔

*قبیلہ سردانی یا سرگانی افغان، ان کے چند خاندان مواضعات سلیمان خیل، شہاب خیل، گڑھی ملی خیل اور ازاخیل عینی چاروں گاؤں سالم کے مالکان ہیں اور انہیں میں آباد ہیں۔

*اورک زئی افغان موضع بہانہ ماری یا بالا ماڑی پشاور کے مالکان و ساکنان ہیں اور یہ لوگ کا مگار خاں و عالم خاں قوم افغان اورک زئی کی اولاد ہیں اور اسی طرح موضع نو تہیہ سالم ، اولاد صالح محمد خاں اورک زئی کی ملکیت ہے۔(جاری ہے)

تینتیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پٹھانوں کی تاریخ پر لکھی گئی کتب میں سے ’’تذکرہ‘‘ ایک منفرد اور جامع مگر سادہ زبان میں مکمل تحقیق کا درجہ رکھتی ہے۔خان روشن خان نے اسکا پہلا ایڈیشن 1980 میں شائع کیا تھا۔یہ کتاب بعد ازاں پٹھانوں میں بے حد مقبول ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ پٹھان بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے آباو اجداد اسلام پسند تھے ۔ان کی تحقیق کے مطابق امہات المومنین میں سے حضرت صفیہؓ بھی پٹھان قوم سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہودیت سے عیسایت اور پھر دین محمدیﷺ تک ایمان کاسفرکرنے والی اس شجاع ،حریت پسند اور حق گو قوم نے صدیوں تک اپنی شناخت پر آنچ نہیں آنے دی ۔ پٹھانوں کی تاریخ و تمدن پر خان روشن خان کی تحقیقی کتاب تذکرہ کے چیدہ چیدہ ابواب ڈیلی پاکستان آن لائن میں شائع کئے جارہے ہیں تاکہ نئی نسل اور اہل علم کو پٹھانوں کی اصلیت اور انکے مزاج کا ادراک ہوسکے۔

مزید : شجاع قوم پٹھان