افغانستان اور سوشل میڈیا 

افغانستان اور سوشل میڈیا 

  

اسلامی جمہوریہ پاکستان جنوبی ایشیا کا اہم ترین ملک ہے۔ یہ جنوبی ایشیا کے شمال مغرب وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا کے لیے دفاعی  لحاظ سے اہم ہے اور ایم حصے میں واقع ہے،اس کی آبادی تقریباً 22کروڑ ہے،آبادی کے لحاظ سے پانچواں جبکہ رقبہ کے لحاظ 33واں ملک ہے، پاکستان کے مشرق میں بھارت شمال مشرق میں چین اور مغرب میں افغانستان اور ایران واقع ہے۔

افغانستان ایک اہم اسلامی ملک ہےکہا جاتا ہے کہ اسکا پرانا نام "خراسان" تھا اور احمد شاہ ابدالی نے 1747ء سے 1772ء تک رہا اس میں یہ نام یعنی افغانستان دیا حالانکہ افغانستان کا قدیم نام "اریانا" تھا اور جو موجودہ افغانستان کی جو جغرافیائی حدود ہیں اس سے کہیں زیادہ اور مختلف تھا۔ گزرتے وقت کے ساتھ کچھ علاقے خراسان کے نام سے مشہور ہوئےلیکن جو بات قابل ذکر ہے وہ یہ کہ افغانستان کبھی بھی بحثیت خراسان کبھی مشہور نہیں ہوا اور نا ہی افغانیوں کے لیے سیاسی یا معاشرتی لحاظ سے اس نام سے مشہور ہوا ہے۔

افغانستان پشتونوں کا وہ ملک ہے جو صدیوں سے چین، ہند، فارس اور ماورالالنہری(وسطی ایشیا)  کے درمیان اباد چلا ارہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اسکی حدور اور اشکال گھٹتے بڑھتے رہےاور مختلف ناموں سے مشہور بھی ہوئےمثلاًپکتیکا،پشتونخواہ، گندھارا،رورہ اور افغانستان۔ افغانستان کا پہلانقشہ ساکانیوں کےدورمیں ہوا۔ افغانستان اور پاکستان کےتعلقات میں اتارچڑھاؤ آتا رہا کیونکہ افغانستان نے پاکستان اور افغانستان کے بیچ ڈیورنڈ لائن کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے تو سرد مہری کے تعلقات رہے مختلف ادوار میں۔1979ءمیں روس نے افغانستان پر حملہ کیا کیونکہ افغانستان معدنی ذخائر سے مالا مال ملک ہے۔ افغان آپس میں لڑتے رہتے ہیں لیکن کسی باہر والے کو برداشت نہیں کرتے۔

ان افغان جنگجوؤں نےامریکہ کی مدد سے سویت یونین کو نا صرف ٹکڑوں میں تقسیم کیا بلکہ ملک سے بھاگنے پر بھی  مجبور کیا۔یہ ایسی  جنگجو قوم ہے  جو سوائے اللہ کے کسی کے سامنے نہیں جھکتی۔ آجکل انکو طلباء کے نام سے یاد کیا جارہا ہے جبکہ طالبان کو پشتو میں طلباء کہا جاتا ہے۔ یہ 1994ء میں جنوبی افغان شہر قندھار سے نکلے، یہ سویت یونین کے انخلاء کے بعد ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے لڑنے والے جنگجو گروپوں میں سے ایک تھے۔ ان طلباء میں کثیر تعداد ان جنگجوؤں کی تھی جنہوں نے امریکہ کی مدد سے سویت یونین کو 1980ء کی دہائی میں افغانستان سے بھاگنے پر مجبور کیا۔

طالبان کے بانی ملا عمر تھے جو طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد روپوش ہوگئے تھے۔ 1994ءسے 1996ء  تک صرف دوسال کے اندر نا صرف افغانستان پر کنٹرول مکمل کیا اور اسلامی قوانین کا نفاذ کیا اور  خلافت قائم کی۔اقتدار کی خاطر لڑنے والے دوسرے گروہ ملک کے شمال میں چلے گئے اور پھر وہیں تک محدود رہے۔ اس بننے والی نئی حکومت کو پاکستان سمیت چار ممالک نے تسلیم کیا۔ امریکہ اور اقوام متحدہ نے طالبان پر پابندیاں عائد کیں۔ امریکہ کی وجہ سے اور بہت ممالک نے بھی اسے تسلیم کرنے میں دلچسپی کم لی جبکہ چین نے محتاط انداز میں اشارہ دیا کہ وہ طالبان کو ایک جائز ریاست سمجھتے ہوئے تسلیم کرسکتا ہے۔

اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں طالبان نے سخت قوانین بنائے اور ان پر عمل کروایا جس میں عورت کی تعلیم پرپابندی تھی وہ مرد کے بغیر گھر سے باہر نہیں جا سکتی تھی۔ شرعی سزائیں تھیں جن میں سرعام کوڑے کی سزا بھی شامل تھی اور سرعام پھانسی بھی۔ اس میں کچھ لوگوں کو بہت مشکل ہوئی خاص طور پر جن کے گھروں کے مرد یا تو شہید کردیے گئے یا معذور کردیے گئے۔ پانچ سالہ دور کا خاتمہ ستمبر 2001ء میں امریکہ پر ہونے والے حملے سے ہوا۔ جس میں امریکہ نے طالبان پر الزام لگاتے ہوئے فضائی حملوں سے کابل میں داخل ہوئے۔ اس وقت طالبان دور دراز علاقوں میں روپوش ہوگئے جہاں سے انہوں نے افغان حکومت اور اسکے مغربی اتحادیوں کے خلاف 20سالہ طویل اور صبر آزما جنگ لڑی۔

طالبان کے ٹھکانے اتنے خفیہ تھے کہ امریکہ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود پتہ نا لگا سکا ، یہاں تک کہ ملا عمر کی وفات کی خبر انکے بیٹے نے باپ کےانتقال کے دوسال بعد دی۔ اس جنگ میں امریکہ اور اسکے اتحادیوں کا جانی اور مالی بہت نقصان ہوا۔ امریکہ کو ادراک ہوا کہ وہ ان طالبان کے خلاف جنگ کبھی نہیں جیت سکتے اور پاکستان نے بھی "ڈو مور" کو "نو مور" میں بدل دیا۔

وزیراعظم پاکستان عمران احمد خان نیازی نے سالوں پہلے کہا تھا کہ افغان کے خلاف جنگ جیتنا مشکل نہیں ناممکن ہے۔ اس لیے بہترین حل صرف بات چیت ہے اور 20سال جنگ کے بعد بالاخر امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ رسوا ہوکر نکلا۔ 15اگست 2021ء کو طلباء بغیر کسی مزاحمت اور خون بہائے کنٹرول سنبھال لیا اور افغان حکومت کے صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہوا۔ افغان طالبان نے کنٹرول سنبھالتے ہوئے عام معافی کا اعلان کیا اور اپنے قوانین میں نرمی کی۔ خواتین کو پردہ میں رہتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دینے کی مکمل ازادی دی۔ بچوں اور بچیوں کے سکول کالج کھلے ہیں۔

اس سارے معاملے پر کچھ حلقے اب بھی تنقید کررہے ہیں اور وہ سوشل میڈیا پر پرانی پرتشدد ویڈیوز کے ذریعے افغان طالبان کے خلاف پروپیگنڈہ کررہے ہیں جبکہ اب تک کوئی بھی نا خوشگوار واقعہ طالبان کی وجہ سے نہیں ہوا۔ یہ پرتشدد واقعات ٹی ٹی پی کررہی ہے طالبان کو بدنام کرنے کے لیے جبکہ ان کو نا پہلے افغان طالبان نے تسلیم کیا تھا اور نا ہی اب کریں گے۔

ایک پروپیگنڈہ اور کیا گیا کہ طالبان نے چھوٹی عمر کی بچیوں کے ساتھ جبری شادی کا کہا ہے جبکہ انکی طرف سے اسکی سختی سے تردید آئی ہے۔ دوسرا پروپیگنڈہ حکمت اللہ کے بارے میں ہے کہ اسےامریکہ کے حوالے کیا گیا ہے اس لیے اب وہ بدلہ لے گا لیکن شاید ویڈیو نہیں گزری کسی کی نظر سے جس میں وہ ڈی جی آئی ایس آئی  جنرل فیض حمید سے بغلگیر ہوئے۔ باقی ہمارا اپنا ملک ہے ہماری فوج ہے اور الحمدللہ پورا نظام موجود ہے، ہم افغانستان سے اچھے ہمسایوں کی طرح تعلقات چاہتے ہیں اور اس کا عندیہ بھی افغان طلباء دے چکے کہ افغانستان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری سرحد ان ریشہ دوانیوں سے محفوظ ہوگئی ہے جو پہلے وہاں کٹھ پتلی حکومت کی وجہ جاری تھیں۔ اللہ پاک ہمیں امن و امان سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -